فلاحی معاشرے کا خواب اور ہمارے سماجی رویے

فلاحی معاشرے کا خواب ہم سب دیکھتے ہیں ۔ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ جس معاشرے میں وہ اپنی زندگی بسر کرتا ہے وہ فلاح پر مبنی سماج ہو اور اس کی تمام بنیادی ضروریات اور خواہشات کی تسکین اس کے ذوق کے مطابق پوری ہو ،مگر اس خواب کی تعبیر کے لیے اس کے سماجی رویئے مثبت ہوں تب ہی فلاح کے تصور کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتاہے ۔کوئی بھی معاشرہ اس میں بسنے والے افراد کے رویوں کی عملی تعبیر پیش کرتاہے ،ہمارے رویے اور طرزعمل کا حقیقی عکس معاشرہ دنیا کے سامنے پیش کرے گا،ہم سب کے طرزعمل نے سماج کی تشکیل کرنی ہے،فلاحی معاشرے کے خواب کو حقیقت کے روپ میں لانے کے لیے ہم سب کو خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہوئے تگ و د و کرنی ہوگی جبکہ ہمارے سماج کا ہر شخص اپنے طرزعمل اور رویہ کے احتساب سے بے نیاز دوسرے کی خامیاں تلاش کرنے میں سرگرداں ہے۔ہم اپنے رویے میں رتی برابر تبدیلی کے روادار نہیں مگر معاشرے کی برائیاں بیان کرنے میں رطب اللسان ہیں جبکہ سماج تو افراد سے ہی وجود میں آتا ہے ۔جو بیج ہم بوئیں گے اس کا پھل ہمیں ملے گا،یہی مسلمہ اصول ہے،معاشرہ میں رہنے والے افراد یکسانیت کے حامل تو فطری طور پر بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ انسانی سرشت میں تنوع اور تضادات سے رغبت پائی جاتی ہے اور انسان ازل سے متنوع خیالات کا اسیر ہے مگر کسی بھی سماج یا معاشرے کو فلاحی معاشرے میں تبدیل کرنے کے لیے نیکی بدی کی پہچان تو ازل سے کروائی جا رہی ہے ۔
دنیا کے ہر مذہب نے اخلاقیات کو بہتر بنانے کی ترغیب دی ہے۔خالق کائنات نسل انسانی کے آغاز سے لے کر انجام تک قدم قدم پر رہنمائی کے لیے اپنے پیغمبروں کی صورت اور آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی صورت میں انسان کے لیے موجود ہے مگر ہم نے اپنے طرزعمل اور رویے پر غور کرنے کی کبھی زحمت ہی نہیں کی، سماج کو فلاحی معاشرے میں تبدیل کرنے کے لیے منفی رویے، جن میں اکثریت خود کفیل ہے ،ان کو اپنی روزمرہ زندگی سے منہا کرنا مشکل تو ہے مگر ناممکن ہر گز نہیں ۔ہر سماج میں اختلافات موجود ہوتے ہیں جن کی حدت کو کم رکھنے کے لیے چند مشترکات تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ہم سب اختلافات کو سطحی جذباتیت کی وجہ سے سماج کو جہنم میں تبدیل کرنے کی بجائے اگر مثبت رویے اپنا لیں اور دوسرے کی رائے کا احترام کرلیں تو کیا مضائقہ ہے۔منفی سوچ کو تج دینے میں کیا امر مانع ہے؟ضرورت تو صرف خود احتسابی کی ہے ،رات کو بستر پر سونے سے پہلے دن بھر کا احتساب ہر فرد اپنا معمول بنا لے ۔دن بھر کے طرز عمل پر غور کیاجائے کہ آج کے دن کن مواقع پر منفی رویے شعور پر حاوی رہے اور عہد کر کے سو جائے کہ آنے والی صبح کا آغاز مثبت رویے کے اظہار سے کیا جائے گا تو یقین مانیے فلاحی معاشرے کا خواب خواب نہیں رہے گا بلکہ تعبیر کی صورت ہمارے ساتھ موجود ہو گا،بس منفی رویے ہر سماج میں انگلیوں پر شمار کیے جا سکتے ہیں ، ان کو ترک کر دیں ۔۔۔جیسے حسد، کینہ ،جھوٹ، بددیانتی، عدم برداشت۔فلاحی معاشرے کا خواب تعبیر بننے سے چند قدم کی دوری پر ہے، صرف خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فلاحی معاشرے کا خواب اور ہمارے سماجی رویے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *