کل کا عاشق رسالت اور آج کا ۔؟سید عارف مصطفیٰ

 ناموس رسالت کے خلاف توہین آمیز بلاگز لکھنے والے بلاگرزکے خلاف انتہائی سخت ایکشن لے کر  مذہبی و عوامی حلقوں ‌سے عاشق رسالت کا اعزاز پانے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب شوکت عزیز صدیقی آج کل سخت مشکل میں ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے گزشتہ  دنوں لبیک یا رسول اللہ تنظیم کے دھرنے کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران یہ حسب ذیل سخت ریمارکس دیے ہیں اور کوئی ان کے ان ریمارکس کی شدت کے باوجودانہیں کسی مغربی ذہنیت کے جج ہونے کا طعنہ بھی نہیں دے سکتا اور ان کے ریمارکس میں بہت وزن بھی ہے- تاہم ان عملی حقائق سے وہ قطعی ناآشنا معلوم ہوتے ہیں کہ سیاسی و سول انتظامیہ اور بیوروکریسی کس حد تک نالائق ہے ۔

پھراگر فوج مداخلت نہ کرتی تو کیا کرتی ، کیا سب کچھ یونہی دھرنا بازوں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہنے دیا جاتا ،تین ہفتے سے زائد کا وقت تو گزر چکا تھا اور عوام سخت اذیت میں تھے’ تاہم ہم جج صاحب کو رعایتی نمبر دیتے ہوئے انہیں سسٹم کی ناکامی کا نوحہ خواں قرار دینے پہ اکتفا کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے   جج موصوف آج کل اس تنظیم کے لیے نہایت قابل نفرت قرار پا چکے ہیں حتٰی کہ ابھی چند ماہ قبل جسے عاشق رسول کی خلعت پہنائی تھی اب اسے ہی واجب القتل قرار دے رہے ہیں- اس پہ مجھے آپ قارئین کا تبصرہ مطلوب ہے یہاں پڑھیے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے دھرنا کیس سماعت کے دوران اہم ریمارکس ۔۔

“آئین پاکستان کے تحت کسی آرمی افسر کا ثالثی بننا کیسا ہے، کیا قمر جاوید باجوہ آئین سے باہر ہیں،وہ ثالث کیسے بن سکتے ہیں، یہ تو لگ رہا ہے کہ ان کے کہنے پر ہوا، ریاست کے ساتھ کب تک ایسے چلتا رہے گا، آرمی اپنے آئینی  کردار میں رہے، آرمی چیف کون ہوتے ہیں ثالث بننے والے، جن فوجیوں کو سیاست کرنے کا شوق ہے وہ فوج کو چھوڑیں اور سیاست میں جائیں، فوجی کیوں خواہ مخواہ ہیرو بنے پھرتے ہیں، جس شخص کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا اس کو ثالث کیوں بنایا گیا، مجھے معلوم ہے کہ میری جان کو بھی خطرہ ہے، الحمد للہ! میں عاشق رسول ﷺ ہوں، عدلیہ کے خلاف باتیں کی گئیں، کیا دھرنے والوں نے معافی مانگی، یہ کیسا معاہدہ ہے، میرے بارے میں باتیں کی گئیں، میں نے آئین کے مطابق حکم جاری کیا اور اس پر قائم ہوں، آپ کی امید کے تو نو ماہ پورے ہی نہیں ہو رہے، آپ تحریک والوں سے معافی مانگ رہے ہیں، انہوں  نے آپ سے ہر بات منوائی، خود میرے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ جو اس کو مارے گا اس کو انعام ملے گا، پولیس کو آپ نے بے رحمی کے ساتھ ذلیل کرایا، جسٹس یہ تاثر ہے کہ ہر مرض کی دوا فوج ہے،حمزہ کیمپ کی جگہ اگر جی ایچ کیو ہوتا تو کیا دھرنا ہوتا؟  قوم کے ساتھ کب تک تماشا لگا رہے گا؟ فوج نے قانون توڑنے اور قانون نافذ کرنے والوں میں معاہدہ کرایا، اب تک کیا گیا نقصان ریاست کیوں برداشت کرے گی؟ یہاں ردالفساد اور ضرب عضب کہاں گیا؟ مجھے پتہ ہے اس کے بعد میں لاپتہ افراد کی فہرست میں بھی آ سکتا ہوں”۔

رونا تو اسی بات کا ہے کہ ایسے المیوں کی نوبت آنے ہی کیوں دی جاتی ہے۔۔۔ اس حقیقت سے کون واقف نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے جب نواز شریف کو ہر قیمت پہ سزا دینے کا تہیہ کر ہی لیا ہے اور جب عدالتی فیصلوں کو للکارنے کے لیے نواز شریف سڑکوں پہ آگیا تو پھر تگڑی اسٹیبلشمنٹ نے بھی سڑکوں پہ کیے گئے قؤت کے مظاہرے کے جواب میں سڑک سڑک ہی کھیلنی تھی کیونکہ ججوں کی جانب سے سسلین مافیا اور گاڈ فادر جیسے الفاظ کے استعمال کے بعد دیے گئے فیصلے نے ان کی ساکھ کو قابل اعتراض بنا دیا تھا- اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف نے اور ان کےاہلخانہ نے بہت ناجائز اثاثے بنائے ہیں اور ہر دم وطن کی محبت کے گانے گانے والے اس خاندان کے فرزند اپنے ہی وطن میں سرمایہ کاری کرنے اور رہنے کے بھی روادار نہیں ہیں ۔

لیکن اس کے مقابل اس سے کہیں بڑے چور اور ڈاکو آصف زرداری کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کا خصوصی رعایتی حسن سلوک بھی بھلا کس کو نظر نہیں آرہا ۔عزیر بلوچ کے آصف زرداری کے ایماء پہ کیے گئے بھتہ خوری و خونریزی کی کارروائیوں پہ مبنی انکشافات بھی دریا برد ہوئے ، ذوالفقار مرزا نے حلف اٹھا کے زرداری کو اپنی چچا زاد بہن نگہت کے قتل سمیت سات پاکستانی ہموطنوں کو قتل کرانے کا جو بیان کھلی پریس کانفرنس میں دیا تھا وہ بھی ہوا میں اڑا دیا گیا اورعدلیہ کے کان پہ جوں بھی نہ رینگی اور اب تو شرجیل میمن سے لے کر ڈاکٹر عاصم ، سبھی اصلی تے وڈی سرکار کی خصوصی مہربانیوں کے مزے اٹھارہے ہیں اورزرادری کے اٹھائے گئے فرنٹ مین بھی واپس آبیٹھے۔

 یوں صاف لگ رہا ہے کہ تحریک لبیک اور ایم ایم اے کی مدد سے پی ٹی آئی اور نواز لیگ کو بہت بڑا ڈینٹ ڈالنے کی منزل بھی اب دور نہیں   اور اگلے الیکشن کے ممکنہ معلق نتائج آنے پہ تو اسٹیبلشمنٹ کا پوبارہ ہوگا اور اصل حاکم آبپارہ ہوگا جہاں ممکن ہے کہ وزیراعظم کا حلف دلائے گئے زرداری اکثر ویٹنگ روم میں پڑے دکھائی دیں آخر میں ایک بار پھر اس المیے کے حوالے سے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بلاشبہ سول اور عسکری تعلقات اس وقت آقا و مالک کی نسبت پہ استوار ہوتے دکھائی  دے رہے ہیں ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صورتحال نہایت تشویشناک اور حد درجہ بھیانک ہے کہ جب قومی اخبارات میں کسی سینئر فوجی افسر کی ایسی تصویر شائع ہو کہ وہ باغیوں میں کھلے عام رقم تقسیم کر رہا ہو اور اس کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کرنے کی کسی میں ہمت بھی نہ ہو جبکہ ایسی تصویر تو کبھی مارشل لا میں بھی نہیں دیکھی جاسکی ۔ لیکن یہ بات بھی سچ اور حق ہے کہ صرف فوج کو مطعون کرنے سے کیا ہوگا کچھ ہمارے سیاستدانوں کو بھی تو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے نا !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *