قلندر کی ہیر۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط5

صوبیدار صاحب کے دوست بابا پٹواری کو سنسکرت، گورمُکھی، فارسی اور اردو سمیت محکمہ مال میں مستعمل ساری زبانیں آتی تھیں ۔ ریکارڈ انیسویں صدی تک کھنگالا گیا، بندوبست کی تفصیل دیکھی گئی، اتوار کی شام تک بابا پٹواری نے مومی کاغذوں پر گاؤں کا لٹھا کاپی کر لیا۔ سارے متعلقہ کوائف بھی ایک رجسٹر میں لکھ لئے، شاملات دیہہ، ہر چہار پتی بنجر قدیم اور ناممکن جنگل کے رقبے  کی تفصیل، زیر کاشت زمین کی گرداوری، رفاہ  عام کی  عامل و منتقل رقبے معہ تتمہ جات،سڑک ،رہگزر، قبرستان، الغرض پچھلی آٹھ دس پُشتوں کی ملکیت، کھیوٹ، خسرہ کی جزئیات سمیت موجود تھی۔
سکنی، چاہی، مسجد تالاب کی نشان دہی بھی تھی۔باوا وڈے شاہ کے مزار کی چاردیواری کے کونے پر ایستاد” ً تین حد”ترے حدے والا پتھر کا نشان بھی دریافت ہو گیا۔
ان اربعہ موضع جات کی ٹریجڈی یہ تھی کہ پچھلی دو نسلوں میں جتنے لوگ ملازمت میں گئے وہ واپس نہیں لوٹے
کسی نہ کسی بڑے شہر میں مقیم ہو گئے۔ پہلے نوکری پھر بچوں کی تعلیم اور صحت و دیگرسہولیات کا نہ ہونا مجبوری بن گئی۔ یہاں تو نمبرداری جیسی اہم پوزیشن بھی معلق تھی، جیسے اس گاؤں میں بابا پٹواری مستعار نمبردار تھے اور مستقل نمبردار شہر میں مقیم تھے۔صوبیدار صاحب کو بھی گھر میں چھوٹے بھائی  کی یہاں رہنے بسنے پر مخالفت درپیش تھی۔ لیکن یہ درویش بندہ اپنی جنم بھومی کے پیار میں مستقل مزاج تھا۔
سب سے بڑی حیرتناک اور ناقابل یقین سچائی یہ سامنے آئی  کہ صوبیدار صاحب کی بیٹھک والا احاطہ کاغذات میں گلاں کے باپ کے پردادا کے نام تھا، شاید اس کے دادا انکے موجودہ مکان میں منتقل ہوئے تھے،ان کے  گاؤں میں اندراج انتقال رجسٹری کا رواج ہی نہ تھا، زمین کی تقسیم ادل بدل بھی موقع محل کی مناسبت سے ہوتے آئے تھے،یونین کونسل آفس، پٹوارخانہ، سکول، تالاب، رورل ہیلتھ سنٹر سمیت ہر جگہ کی پرانی ملکیت میں گلاں کے بڑوں کے نام شامل تھے۔
محکمہ مال والوں کی دعوت تو بے مثال ہوتی ہے صوبیدار صاحب کے ہاں دو تین روز  خوب رونق رہی ،دتہ نائی حلوہ سپیشلسٹ تو مشہور تھا، دیگر کھانے بھی مزیدار پکاتا، سائیں غلام نے بھی متواتر حاضری دی ،بیچ میں گھر جا کے باپ کو دیکھ آتا یا دوائی پلانے جاتا، چار پانچ مُسلی بھی ڈیوٹی پہ تھے۔زمین بارے خبریں باہر آتیں تو تھوڑی دیر میں سارے گاؤں میں پھیل جاتیں۔ لیکن سب سے بڑی خبر گلاں بی بی کا صاحب جائیداد ہونا تھی۔
سائیں غلام تو بجھ سا گیا۔ اسے چُپ لگ گئی۔۔ گلاں کے سوا اس کا رازداں بھی نہ تھا اور اب گلاں خود راز تھی۔
اگلے دن صوبیدار صاحب بذات خود گلاں کے گھر چلے گئے، اس کی ماں سے تفصیل سے بات کی، لیکن جواب میں اس نے یہ کہا” بھائیا جی آپ کا اقبال بلند رہے، میں مطمئن ہوں کچھ نہیں  چاہیے بس عزت سے بیٹی اُٹھ جائے”۔۔
صوبیدار صاحب نے اسے حوصلہ دیا، رشتہ داری کی عزت دی، پروگرام بتایا کہ وہ تیاری رکھے تین چار دن میں وہ اسے اور گلاں کو ساتھ پنڈی لے کے جائیں گے۔بکریاں و سامان وہ اپنی حویلی رکھ جائیں گے۔ چائے پی گئی اور جاتے ہوئے  گلاں کے سر پہ ہاتھ پھیرا، اسے سو روپے دیے۔
گلاں ان کے جاتے ہی  ماں سے لپٹ کے روئی، اسے لگا وہ ابھی دنیا میں آئی ہے۔
یہ بات بھی غلام تک پہنچ گئی۔ وہ کیا کرتا، گلاں جو چار دن پہلے اس پہ جوانی سمیت سب کچھ وارنےکو ترستی تھی، اور وہ پہلو بچاتا تھا یکدم اس کی پہنچ سے باہر ہو گئی۔ وہ بُری طرح ٹوٹ گیا۔۔
رہی سہی کسر اگلے دن صبح سویرے نکل گئی جب اس کا باپ چپکے سے فوت ہو گیا۔ سوتیلی ماں نے رونا ڈالا، عورتیں جمع ہوئیں تو اس نے رونے میں یہ پخ لگانے کی کوشش کی کہ غلام نے اسے غلط دوا دی جس سے  وہ مر  گیا۔
وہ ضرور کوئی گیم کرنا چاہتی تھی۔ گاؤں کی بزرگ خواتین نے اسے اس میراثی پن سے روک دیا، گاؤں میں اطلاع عام ہوئی تو ڈاکٹر نے بھی بلال کے ہمراہ جسے وقتی طور ڈیوٹی پر واپس بلا لیا گیا ، میت چیک کی ۔۔ اور اسے فطری موت قرار دیا۔ تعزیت کرتے جب بلال اور سائیں غلام گلے ملے تو بلال کو عجیب محسوس ہوا جیسے کوئی غیر مرئی شے اس کے بدن میں سرائیت کر رہی ہو۔ شاید گلاں کی محبت نے نیا جسم اختیار کیا ہو۔
گاؤں میں شادی اور مرگ کی شان ہی اور ہوتی ہے سارا گاؤں جمع ہو گیا، کچھ لوگ قبر کی کھدائی کرنے گئے، قبرستان کے گورکن نے ان کو کدال بیلچہ اور قبر کھودنے کے مختص اوزار اپنے گھر سے لا کر دیئے،
جنازہ بعد نماز ظہر ہوا۔ تدفین تک اجتماعی طور  پرکھانا  بھی پک چکا تھا، سائیں غلام کے ملنگ دوست نواحی زیارات سے آ کے جنازے میں شریک ہوئے ،دو قریبی یار اس کے ساتھ رُک گئے۔
شام تک عورتوں اور مردوں کا پھُوڑی پر آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ رش ختم ہوا تو غلام کی سوتیلی ماں نے نیا قضیہ کھول دیا، اس نے یہ رونا شروع کر دیا کہ بیٹیاں جوان ہیں، سائیں غلام بھائی سہی لیکن سوتیلا ہے ،اسے اب رات کو یہاں نہیں رہنا چاہیے۔ بزرگوں نے اسے سمجھایا لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہی، بلکہ بچیوں سے کہہ کے اس کی چارپائی ، بسترا، اور کپڑے صحن میں رکھوا دیئے، ساتھ ہارمونیم بھی چارپائی پر رکھ دیا کہ یہ غلام کی وراثت تھی
غلام تو پے در پے شکست  سے بالکل شکستہ دل تھا، چپکے سے اندر آیا ، ملنگ دوستوں سے چارپائی اٹھوائی ،جیب سے پیسے نکالے ، بہنوں کو پیار کیا اور دونوں کے ہاتھ میں سو سو کے نوٹ پکڑا کے باپ کے گھر سے نکل گیا۔
جب گلاں کے گھر کے سامنے پہنچے تو وہ ملنگوں سے باوا وڈے شاہ کی زیارت کے راستے پر پہنچ کے انتظار کاکہہ کے گھر میں داخل ہوا، گلاں کی ماں بھی اس سے آگے پھُوڑی سے واپس آئی تھی،
بھونگر سے صحن تک جاتے لگا کہ کوئی زندہ لاش گھسٹ کے چل رہی ہے، ماں نے ہاتھ تھامے گلے لگایا، کیوں نہ لگاتی۔۔۔اس نے تو اسے بھی گلاں کے ساتھ بیٹے کی طرح پالا تھا، دونوں شدت سے روئے، ذہنوں میں کہیں ممکنہ جدائی کا ہیولہ ضرور تھا، سائیں کو تھامے گلاں کی ماں نے چارپائی پر بٹھایا۔ گلاں کٹورہ پانی کا بھر لائی، غلام نے اسے نظر بھر دیکھا اور گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگا۔
گلاں پسار سے کالی اونی شال ۔۔ جو غلام نے اسے دی تھی وہ لائی، نظر بچا کے انگلی سے عقیق کی چاندی کی انگوٹھی اس کے کونے میں باندھ دی، یہ بھی غلام نے اسے پہنائی تھی۔ دونوں طبلے لا کے اس شال میں باندھ دیئے ،اسکی ماں رسوئی میں چائے بنانے چلی گئی۔۔۔۔
گلاں کٹورہ پکڑنے لگی تو غلام نے اسے چارپائی پر ساتھ بٹھا لیا، جیسے وہ ہمیشہ بیٹھا کرتے تھے۔ ہاں آج غلام نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں باہم سختی سے پھنسا رکھی تھیں، گلاں نے اس سے تعزیت کرتے کہا۔۔ چاچا وی ٹُر گیا !
غلام نے اسے نیم غنا میں جواب دیا۔ “ ٹُرن والے ٹُر جانڑ گے۔ تساں وی ٹُر جانڑاں “۔۔
پھر سرگوشی میں بولا۔ دس ،بیس ، تیس ، چالیس سال بعد جے کدھرے میرا ناں سُنو تو ملنڑ ضرور آنڑاں ۔۔
جیسے وہ دونوں کو عمر قید کی سزا سنا رہا تھا، یہ سنتے ہی ۔۔گلاں کھٹاک سے چارپائی سے اٹھی، غلام نے طبلے والی شال کی پنڈ اٹھائی ، اماں چائے کا کہتی رہ گئی، غلام سر جھکائے چلتا رہا ، بکریوں نے منمنا کے اسے رخصت کیا،ملنگوں کے ساتھ دربار پہنچا تو اندھیرا ہونے لگا تھا، اس نے دربار کے دیئے جلائے، چارپائی خالی کی ، شال کھول کے لپیٹ لی، چُپ منجی پہ  بیٹھ گیا۔۔
اُس کا بدن ٹوٹ رہا تھا، سارے جسم میں درد کی ٹیس اٹھتی تو وہ تڑپ جاتا۔
ایک ملنگ نے چرس کی سگریٹ بھری، جلائی ،کش لیا اور اس کو دے دی۔۔
جس نے کبھی عام سگریٹ بھی نہیں  پی تھی اس نے چار چھ کش میں وہ چرس سے  بھری سگریٹ ختم کر دی ۔۔
اس سے اسے کچھ سکون ملا، دوسری سگریٹ بھی چرس بھر کے پھونک ڈالی ۔
اس کے اندر کتنے خلا پیدا ہو گئے تھے، وہ کتنا ٹوٹا تھا، یا یہ سارے صاحب مزار بندے کو ساتھ رکھنے سے پہلے اتنا ہی شدید رگڑا لگاتے ہوں گے ۔۔۔
سائیں غلام اب پکا دربار نشین ہو گیا، گردونواح سے ملنگ ملنے آنے لگے، چرس وہ لے آتے، وہ پیتا ، شکر ہے کہ اس کا نام کبھی چرسی نہیں ہوا، شاید وہ چرس نہیں پیتا تھا ۔ چرس اسے پیتی تھی، جیسے گلاں اسے پینے کی تمنا رکھتی تھی۔۔
جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *