سچ خونی درندہ ہے۔۔۔ رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے اقتباس

ہر روز یہاں قتل ہوتا ہے۔ہر روز ارضِ وطن ماتم کناں ہوتی ہے۔۔ہر روز زمین کی آبیاری کسی نہ کسی کے خون سے کی جاتی ہے۔۔قاتل بھی سچا ,مقتول بھی سچا۔۔ قاتل کا سچ اور ہے مقتول کا سچ اور ہے۔۔۔

ہم سب انسان ہیں،سمجھدار ہیں۔ دنیا میں رہتے ہوئے اچھا برا جانتے ہیں۔سب اپنے حساب سے علم رکھتے ہیں۔صحیح ,غلط کی بحث ہی نہیں۔سب کا اپنا تجربہ, اپنا علم, اپنے پیمانے, اپناسچ اور اپنا جھوٹ۔ میرا “سچ” کچھ اور ہےتمہارا “سچ” کچھ اور۔۔تمہارا “سچ” میرے “سچ” کو نگل کر ہی بقاء حاصل کر سکتا ہے  اور میرا “سچ” تمہارے “سچ” کو نگل کر جاوداں ہو سکتا ہے۔۔

میرے لئے گناہ کچھ اور ہے, تمہارے لئے گناہ کچھ اور ہے۔تمہارے لئے منافقت کا پیمانہ اور ہے, میرے لئے منافقت کا پیمانہ اور ہے۔پھر یہ لوگ دوسرے کے “سچ” کا اپنے “سچ” کے ساتھ موازنہ بھی کرتے ہیں اور اپنے بنائے گئے پیمانے پر جانچتے بھی ہیں۔دوسروں کے “سچ” کو نگلنا چاہتے ہیں اور اپنا “سچ” مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ تو پھر “سچ” ہی قاتل ہے نا۔

درحقیقت “سچ” ہی قاتل بھی ہے, مقتول بھی, ملزم بھی, مظلوم بھی, مجرم بھی اور استغاثہ بھی۔سارا فساد تو اسی “سچ” کا ہے۔ یہ “سچ” بے رنگ ہے مگر سب کے لئے الگ الگ رنگ رکھتا ہے۔ سچ بےضرر ہے  مگر سب کو تکلیف پہنچاتا ہے۔”سچ” تو سچ ہے مگر پھر بھی “سچ” نہیں۔

“سچ” تو یہ ہے کہ  کچھ بھی “سچ” نہیں ہوتا۔جب حقیقت  سب کی الگ ہے تو “سچ” کیا اور جھوٹ کیا؟۔تمہارا “سچ” اور ہے میرا “سچ” اور ہے۔صرف حقیقت ہی حقیقت ہوتی ہے۔۔اور حقیقت میں اکثر ہی کوئی حقیقت نہیں ہوتی صرف سراب ہوتا ہے ۔ اور سراب بھی بھلا کبھی حقیقت ہوا کرتا ہے۔

لہذا “سچ” تو درحقیقت “سچ” ہے ہی نہبں یہ ایک فریب ہے, ایک فتنہ ہے, ایک فساد ہے, ایک بے رنگ سا رنگین تماشا ہے۔میں چاہوں تو تمہارے “سچ” کو اپنا لوں اور چاہوں تو تمہارے “سچ” کو نگل جاؤں۔تم چاہو تو میرے “سچ” کو داغدار کردو۔۔چاہو تو میرے “سچ” میں اپنا “سچ” ملا کر اسکا رنگ گہرا کردو۔”سچ” تو “سچ” ہو کر بھی سچا نہیں رہا۔تو پھر یوں بھی تو کہا جا سکتا ہے نا کہ “سچ” ایک وحشت ہے, دیوانگی ہے, ویرانی ہے, فرزانگی ہے ,خود ستائی ہے, دشت ہے, ایک تپتا سلگتا ریگستان ہے۔ پھر ہمیں “سچ” سے ہی تو خطرہ ہے۔ اس کے بے رنگ ہونے سے ہی تو وحشت ہے۔ “سچ” کا رنگ پہچان میں نہیں آتا اور اس کے بے رنگ ہونے سے ہم ایک دوسرے کو نگل رہے ہیں۔

تم میرے “سچ” کو نگل جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کے میرا “سچ” تمہاری رگوں کو چیر کر تمہیں اتنا تڑپائے کہ تمہاری رگوں سے بہتا خون چیخ چیخ کر تمہیں اور تمہارے “سچ” کو بد دعائیں دے۔تمہارے بہتے خون کا ایک ایک قطرہ اتنا چیخیں گا کہ  تم پھر اس “سچ” کو ناسور بنا کر پالنے پر مجبور ہو جاؤ گے۔اس لیے  نگل جاؤ میرے اس “سچ” کو جو تمہارے “سچ” کو ناسور بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔نہیں تو میرا سچ تمہیں نگل جائے گا۔۔
“سچ” کا کھیل بھی بڑا ظالم ہے۔۔۔
“سچ “دو حروف کا ایسا مجموعہ ہے کہ  “س” اور “چ” کے درمیان صرف ایک “و” آ جائے تو “سوچ” بن جاتی ہے۔۔۔یہ “سچ” جب “سوچ” کا روپ دھار لے تو سمجھو تیرا “سچ” اور ہے میرا “سچ” اور ہے۔

پھر یہ “سوچ” کسی اور کے “سچ” کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔پھر یہ “و” اس “سچ” کے درمیان ایسی “بد گمانی” بن کر جُڑ جاتی ہے کہ  یا تو پھر میں اپنا “سچ” مسلط کردوں یا تمہارا سچ نگل جاوں۔ “و” جب سچ کے درمیان آ جائے تو بدگمانی کا جنم ہوتے ہی سب کے سچ جھوٹ الگ ہوتے ہیں ۔۔ یہی “سچ” “و” کی آمد سے “سوچ” بن جاتا ہےاور پھر سوچنا پڑتا ہے کہ  کیا سوچا جائے۔۔ “سوچ” کی آمد ہوتی نہیں کروائی جاتی ہے۔۔سوچ من مرضی کے سودے ہیں۔۔چاہو تو ویرانے میں آباد ہونا سوچو یا خوشحالی میں ویرانی کی اذیت جی لو۔پھر منحصر کرتا ہے کہ  کیا سوچا جائے۔عین اسی وقت میں اپنی “بدگمانی” میں تمہارے “سچ” کو نگلنے کی کوشش کروں گی۔اور تم اپنی “بدگمانی” میں میرے “سچ” کو نگلنے کی کوشش کرو گے۔۔تم میرے “سچ” کو جھوٹ سوچو گے ,میں تمہارے “سچ” کو فریب سمجھوں گی۔

تم میرے سچ کو نگلنے کی کوشش کرو گے میں تمہارے سچ کی بربادی سوچوں گی اور نگل جانا ہی بہتر ہے۔ناسور بننے سے , ناسور بنا دینا بہتر ہے۔۔تم نگل سکتے ہو میرے “سچ” کو ,یا پھر میرا “سچ” اپنی “و” کی گرج چمک کے ساتھ ایسے حملہ آور ہو کہ  تمہیں تمہارے “سچ” سمیت برباد کردے۔۔۔
یونہی تو روز قتل ہوتے ہیں۔یونہی تو کسی کا “سچ” کسی دوسرے کے “سچ” پر حملہ آور ہو کر اسکے خون سے زمین کی آبیاری کرتا ہے۔.۔۔

افسوس ! ہم اس زمانے میں جی رہے جہاں سب کا اپنا اپنا “سچ” ہے اور کسی ایک کا “سچ” کسی دوسرے کو اس کے “سچ” سمیت قتل کر کے پروان چڑھتا ہے۔یہی اب بقاء ہے یا تو میں میرے “سچ” سے تمہیں تمہارے “سچ” سمیت نیست و نابود کر دوں اور زندہ رہ جاؤں, یا تم اپنے “سچ” سے مجھے قتل کر کے اپنی بقاء حاصل کر لو۔زندہ صرف ایک ہی کا “سچ” رہے گا۔ کیونکہ تمہارا “سچ” اور ہے میرا “سچ” اور ہے۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”سچ خونی درندہ ہے۔۔۔ رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے اقتباس

  1. ،بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اسلام علیکم!
    رمشا جی !تکلیف دہ بات یہ ہے کہ سچ زبان زد عام نہیں ہوتا۔۔۔ اور اگر کوئی بلال خان یا مشعال خان سچ کو نوک زباں پہ لے آئے ۔۔۔ تو قتل عام ہوتا ہے پر سچ پھر بھی منہ چھپائے پھرتا ہے ۔۔۔ زبان زد عام نہیں ہوتا۔۔
    بلال خان کہا تھا کہ میرا پیغام اس ریاست کےلیے ہے جو شہریوں کو اپنے بچے سمجھتی ہے ۔۔۔۔ کیا واقعی ریاست صرف ماں ہے ۔۔۔۔ یا وہ مادہ سانپ ہے جو اپنے ہی بچوں کو نگل جاتی ہے ۔۔۔۔ اللہ رب العزت ملک پاکستان اور اس میں رہنے والے ہر پاکستانی کو سدا حفظ و امان میں رکھے اور ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو خاک کر دے آمین یا ارحم الراحمین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *