اشارے تو واضح ہیں سمجھنے کو ۔۔۔۔مشتاق خان

بھٹو، جونیجو، بینظیر، نواز شریف، شوکت عزیز، چوہدری شجاعت، یہ سب کے سب جب بھی حکمران بنے اس وقت کی فوجی قیادت کی رضا مندی یا ان کی مدد سے ہی بنے ۔
اس لئے خان صاحب کا فوج کی مدد سے حکومت حاصل کرنا پاکستان کے سیاسی حالات کے مطابق کوئی اچھوتا کام نہیں ہے ۔
صرف شوکت عزیز ایسے حکمران تھے جو سیاستدان نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے سیاستدان بننے کی کوشش کی باقی سب کو جونہی فوج نے اقتدار دیا ان لوگوں نے عوام میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش شروع کردی اور جو جو اس میں کامیاب ہوتا محسوس ہوا فوج نے اس کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے ہر کام کیا ۔
خان صاحب کی بابت ہم نہ ان کو شوکت عزیز کی طرح کا ٹیکنوکریٹ کہہ سکتے  ہیں نہ  یہ سیاستدان بننے کی کوشش کر رہے ہیں نہ  ہی ڈکٹیٹر بن سکتے ہیں کہ  ایک نیام میں دو تلواریں کیسے رہ سکتی ہیں۔ دس ماہ کی خان صاحب کی حکومت میں جو عوام دیکھ اور سہہ رہی ہے اس کے تمام اشارے یہ بات سمجھا رہے ہیں کہ  خان صاحب کو اس بات سے کوئی غرض نہیں   ہے کہ  پاکستان کا کیا بنتا ہے، عوام کا کیا بنتا ہے  ان کو تو بس خان صاحب بن کے حکومت حاصل کرنی تھی جو انہوں نے حاصل کرلی ۔
ان کے وزیر مشیر کون ہوں، کیسے ہوں یہ کیا کرتے ہیں اس سے خان صاحب کو کچھ لینا دینا نہیں  ہے ۔
پاکستان کی بگڑتی معاشی صورتحال کو بھول کر اگر ان کی حکومت میں ہونے والے انسانی المیوں پر خان صاحب کا رد عمل ہی دیکھ لیں تو صاف سمجھ آجاتی ہے کہ  خاتون اول  غلط بیانی کرتی  ہیں کہ  خان صاحب کو کتے کی آنکھوں میں آنسو  نظر آجاتے ہیں اور پودوں کی پیاس کو محسوس کرلیتے ہیں ۔
اشارے بھی اتنے واضح ہیں کہ  عام ان پڑھ کم عقل بندہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ  خان صاحب کا واحد مسئلہ ان کا غرور اور تکبر ہے۔ خان صاحب اس تکبر کے نشہ کے اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ  اب ان کو اس کی مقدار بڑھا بڑھا کے ہی کوئی خوش کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ  سمجھدار پجاری خان صاحب کے گرد اکٹھا ہوچکے ہیں ۔
اس کا ایک بہت واضح  اندازہ  ایک وڈیو کلپ دیکھ کے کیا جاسکتا ہے جس میں خان صاحب خاتون اول کا ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ میں پکڑے کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور عقیدت مندوں کے سلام کا جواب بائیں ہاتھ سے دے رہے ہیں ساتھ چلتے عرب شیخ نے اس بات کو نوٹ کرکے خان صاحب کو بتایا کہ  خان صاحب کو داہنے ہاتھ سے سلام کرنا چاہیے اس نے باقاعدہ خود اپنے ہاتھ سے ایسا کرکے خان صاحب کو بتایا تاکہ خان صاحب اپنی غلطی درست کرلیں لیکن خان صاحب نے اس کے باوجود بائیں ہاتھ سے سلام کرنا جاری رکھا یہ وڈیو اکیلی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ  خان صاحب کے لئے سب سے اہم ان کی  ذات کا گھمنڈ ہے اس لئے یہ بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ  نعوذباللہ اگر پاکستان تباہ بھی ہوجائے گا تو خان صاحب کو کوئی پچھتاوا یا غلطی کا احساس تک نہیں  ہونا ۔
بیشک صرف اللّٰہ تعالیٰ کی  ذات ہی  تکبر کے لائق ہے اور اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے  کہ وہ پاکستان کی حالت پر رحم کرے اور پاکستان کو کوئی ایماندار بہادر سچا حکمران عطا فرمائے آمین ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *