عاصمہ جہانگیر: کل اور آج۔۔عامر حسینی

مجھے ایک دوست نے  کسی پیج سے نقل کردہ ایک  تحریر انباکس کی ہے ۔اس تحریر میں عاصمہ جہانگیر کے والد بارے جماعت اسلامی پریس کے پروپیگنڈے اور مجیب الرحمان شامی کے ہفت روزہ زندگی’ میں شائع جعلی خطوط کا ذکر ہے۔میں تاریخ مسخ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے اور تاریخی ریکارڈ درست کرنے کے لئے کچھ تفصیل درج کررہا ہوں۔

عاصمہ جہانگیر کے نواز شریف اینڈ کمپنی اور ملٹری کیپٹل  کا کارپوریٹ کیپٹل سے موازانہ کرتے ہوئے ملٹری کلنگ کو زیادہ وجہ قرار دینے بارے ان کے خیالات اور پاکستان میں شیعہ کلنگ بارے ان کے خیالات سے مجھے کافی اختلافات تھے لیکن میں نے ایک لمحے کے لئے بھی عاصمہ جہانگیر کے خلاف ضیاءالحق کی باقیات کی چارج شیٹ کو ٹھیک نہیں سمجھا۔

جو لوگ عاصمہ جہانگیر کی ناگہانی موت پہ اپنی ضیاءالحقی کینہ پروری اور بغض کی تصدیق مجھ جیسے آدمی سے چاہتے ہیں،ان کو میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تم لوگ کس منہ سے اخلاقیات کی بات کرتے ہو۔تم تو اس کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہو۔

ملک غلام جیلانی کو 1971ء میں ڈی ڈیفنس آف پاکستان رولز 1971 کے رول 213 اور رول 32 کی ذیلی شق الف کے تحت بائیس دسمبر 1971ء کو گرفتار کرلیا گیا۔اور پھر اس آدر کو مارشل لاء کے ضابطہ نمبر 78 کے تحت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر زون سی نے بدل ڈالا۔اور اس حوالے سے عاصمہ جہانگیر نے ایک رٹ پٹیشن 15 جنوری 1972ء کو داخل کی تو ان کی عمر محض 18 سال تھی۔

ملک غلام جیلانی کو مارشل لاء حکومت نے غداری کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔مارشل لاء حکومت نے اس زمانے میں جعلی خطوط بھی تیار کیے تھے جو مارشل لاء حکام کے مطابق غلام جیلانی ایڈوکیٹ نے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو مغربی پاکستان پہ حملہ کرنے کے لئے لکھے تھے اور اس زمانے میں جماعت اسلامی سمیت دائیں بازو کے حامی پریس نے ان مبینہ خطوط کی نقل بھی شائع کی تھی۔اس زمانے میں ہفت روزہ ‘زندگی’ جس کے ناشر و مدیر مجیب الرحمان شامی تھے نے ان جعلی خطوط کو شائع کیا تھا۔عدالت میں حکومت اس بارے ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہی۔اور 1972ء میں یحیٰی خان کے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے غلام جیلانی ایڈووکیٹ کے خلاف دعوے کو جھوٹ قرار دے کر ان کی نظربندی کے آڈرختم کردیے  تھے۔

کون سا جھوٹ ہے جو غلام جیلانی کے شیخ مجیب الرحمان،مکتی باہنی اور اندرا گاندھی سے تعلقات بارے نہیں بولا گیا تھا۔مجیب الرحمان شامی سمیت کسی دائیں بازو کے صحافی و مالک نے آج تک اپنے اس شرمناک کردار کی معافی نہیں مانگی۔حال ہی میں سپریم کورٹ میں عاصمہ جہانگیر کو ایک کیس میں جو انہوں نے ضیاء شاہد اور ان کے اخبار کے خلاف ریلیف ملا جس میں سپریم کورٹ نے ضیاء شاہد اور اس کے اخبار کو عاصمہ جہانگیر کے خلاف جھوٹی خبر شائع  کرنے اور کردار کشی کرنے پہ اعلانیہ معافی مانگنے کا حکم دیا تھا۔1996ء میں روزنامہ خبریں لاہور میں عاصمہ جہانگیر کے خلاف ایک خبر شائع  ہوئی تھی جس میں ان پہ ہندوستان کی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔عاصمہ نے اس زرد صحافت کے خلاف کیس لڑا اور 22 سال مسلسل لڑکر یہ کیس جیتا۔آج پھر  انہیں ٹوئٹر اور فیس بک پہ غدار،قادیانی اور فوج مخالف قرار دے کر ان کی موت پہ جشن منانے والی ایک اقلیت نے طوفان بدتمیزی مچا رکھا ہے۔

ان پہ بے ہودہ الزامات لگانے والے اور ان کی موت کے بعد ان   کی کردار کشی کرنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو شاید اپنے ماں باپ کے جنتی ہونے بارے تو یقین سے کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہ ہوں مگر ضیاءالحق کو جنتی خیال کرتے ہیں اور ان میں سے کئی ایک تو یزید کے بہت بڑے مداح ہیں۔آج ان کی طرف سے عاصمہ جہانگیر کی اخروی زندگی میں انجام بارے پیشن گوئی کرنے کا شوق چرایا ہے۔

یہ وہی ٹولہ ہے جس نے جناح،فاطمہ جناح،حسین شہید سہروردی اور اس سے آگے ذوالفقار علی بھٹو اور پھر بے نظیر بھٹو کی موت کا جشن منایا تھا۔فیض احمد فیض کی موت پہ جماعتی لونڈوں نے کہا تھا’خس کم جہاں پاک’ ۔یہی آج عاصمہ جہانگیر کی موت پہ اپنے منہ پہ کالک مل رہا ہے۔تاریخ میں ایسا گروہ کل بھی شرمندہ ہوا،آج بھی شرمندہ ہوگا۔

عامر حسینی
عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *