• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • نگارشات
  • /
  • انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط2

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط2

1-سٹیون ہاکنگ اور کائنات کا ارتقا!

سٹیون ہاکنگ اکیسویں صدی کے معزز اور محترم سائنسدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان  کی سائنسی پیشین گوئی کہ بلیک ہول ایک خاص طرح کی ریڈئیشن خارج کرتی ہے، اب درست ثابت ہو گئی ہے اور ہاکنگ ریڈئیشن کہلاتی ہے۔ ہاکنگ ایک طویل عرصے تک کیمبرج کی معتبر یونیورسٹی کے شعبہِ تحقیق کے  ڈائریکٹر رہے۔ وہ اپنی جسمانی معذوری اور ویل چیر کی پابندی کے باوجود سماجی’ سیاسی اور پیشہ ورانہ طور پر فعال زندگی گزارتے تھے۔ یوں لگتا ہے کہ ان کے ذہن میں گلیلیو’ نیوٹن اور آئن سٹائن یکجا ہو گئے تھے۔ انہیں ساری دنیا کی یونیورسٹیوں سے دعوت نامے آتے تھے۔ لوگ ان کی تقاریر بڑے شوق سے سنتے تھے۔ وہ   سنجیدہ گفتگو سے مسحور بھی ہوتے تھے اور ان کے طنز و مزاح سے محظوظ بھی ہوتے تھے۔

ہاکنگ ۱۹۴۲ میں  انگلستان کے شہر آکسفورڈ میں ایک پڑھے لکھے دانشور گھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کو طِب اور ان کی والدہ کو فلسفے سے گہرا لگاؤ  تھا۔کالج اور یونیورسٹی میں بہت سے مضامین کا مطالعہ کرنے کے بعد ہاکنگ نے فیصلہ کیا کہ وہ تھیوریٹیکل فزکس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے۔

۱۹۶۳ میں جب وہ 21 برس کے تھے تو ان پر لوگیرک بیماری کا حملہ ہوا۔(یہ بیماری MOTOR NEURON DISEASE بھی کہلاتی ہے جس میں انسان کا جسم آہستہ آہستہ مفلوج و معذور ہو جاتا ہے)۔ اب ڈاکٹروں نے اس بیماری کی تشخیص کی اور ہاکنگ کو بتایا کہ وہ صرف دو سال زندہ رہ سکیں گے تو یہ خبر سن کر ہاکنگ بہت اداس ہو گئے۔ لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ ان کی بیماری بہت ہی آہستہ آہستہ آگے بڑھے گی اور وہ ایک طویل عرصے تک زندہ رہ سکیں گے تو ان کے  ڈیپریشن میں کمی آئی۔اگرچہ ان کی بیماری کے اثرات نے انہیں آہستہ آہستہ مفلوج و معذور بنا کر جسمانی طور پر ویل چیر  تک محدود کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ ذہنی طور پر اپنا تحقیقی اور تخلیقی کام کرتے رہے۔ ان کی دو کتابیں
A BRIEF HISTORY OF TIME
A GRAND DESIGN
بہت مقبول ہوئیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے پچھلے تین ہزار برس کے سائنسی ارتقا کا خلاصہ اور تجزیہ پیش کیا۔

ہاکنگ نے اپنی کتابوں میں بتایا کہ یونانی فلاسفروں  نے انسانیت کو منطق اور سائنسی فکر سے روشناس کرایا۔THALES OF MELLITUS 624….546 BC تھیلز آف میلیٹس ،وہ پہلے فلاسفر تھے جنہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ کائنات خدا کی مرضی سے نہیں بلکہ چند قوانینِ فطرت کی وجہ سے چلتی ہے۔ اگر ہم وہ قوانین جان لیں تو کائنات کے بارے میں صحیح پیشین گوئیاں کر سکیں گے۔ وہ پہلے ماہرِ فلکیات تھے جنہوں نے ۵۸۵ قبل مسیح میں سورج گرہن کی پیشین گوئی کی تھی۔ اسی لیے وہ پہلے مغربی سائنسدان مانے جاتے ہیں۔ تھیلز ان فلاسفروں او ر سائنسدانوں کے گروہ کے ممبر تھے جو ایونا کے شہر میں جمع ہوتے تھے اور IONIANS کہلاتے تھے۔اس دور میں ERATOSTHENES نامی ایک اور فلاسفر بھی تھے جنہوں نے سورج کی روشنی میں مختلف چیزوں کے سائے سے کرہِ ارخ کی گولائی اور رقبہ معلوم کر لیے تھے۔

یونانی فلاسفروں میں ایک فیثاغورث بھی تھے جنہوں نے تکونوں کا تجزیہ کر کے ریاضی کے راز جانے تھے۔ارسطو کو بھی افلاکیات میں کافی دلچسپی تھی۔ انہوں نے ہی یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ زمین گول ہے اور کائنات کا محور ہے۔ ان کا خیال تھا کہ سورج ،چاند ،ستارے سب زمین کے گرد گھومتے ہیں۔ ارسطو کے نظریے کو کلوڈیس پٹالومی CLAUDIUS PTOLEMY 100 …170 AD نے اتنا مقبول بنایا کہ عیسائیوں نے اسے تسلیم کر لیا اور عیسائی پادری بائبل سے ثابت کرنے لگے کہ زمین کائنات کا محور ہے۔ پٹالومی کے چند صدیوں کے بعد نکولس کاپرنیکس
1473….1543 NICOLAUS COPERNICUSنے ارسطو اور پٹولومی کے نظریات کو چیلنج کیا اور ان کو غلط ثابت کیا۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ سورج مرکز ہے اور زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔

کوپرنیکس نے اپنے نظریات چھپائے رکھے کیونکہ وہ عیسائی پادریوں کے جارحانہ اقدام سے ڈرتے تھے۔انہیں خطرہ تھا کہ پادری ان کی زندگی مشکل بنا دیں گے۔ کوپرنیکس کے نظریے کو گلیلیو GALILEO 1564…1642 AD نے اپنی دوربین کی تحقیق سے سچ ثابت کیا اور اسے عوام تک پہنچایا لیکن ان کے ساتھ وہی سلوک ہوا جس کا کوپرنیکس کو خطرہ تھا۔گلیلیو پر گرجے اور پادریوں نے دائرہِ حیات تنگ کر دیا اور انہیں بقیہ زندگی کے لیے اپنے ہی گھر میں نظربند ہونا پڑا۔ [ یہ علیحدہ بات کہ بیسویں صدی میں کیتھولک چرچ نے گلیلیو سے معافی مانگی]۔
گلیلیو کی دوربین ایک سادہ اور عام سی دوربین تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دوربینیں بڑی اور پیچیدہ ہوتی گئیں۔ آخر ۱۹۲۹ میں ایڈون ہوبل EDWIN HUBBLE 1889….1953 نے دو سو انچ لمبی دوربین بنائی اور اسے کیلیفورنیا کی ایک پہاڑی پر نصب کیا۔ اس دوربین کے مشاہدات نے افلاکیات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔

جب سائنسدانوں نے ہوبل کی دوربین سے اپنے ارد گرد پھیلی کائنات کا مشاہدہ کیا تو انہیں پتہ چلا کہ کائنات میں وہ افلاکی چیزیں جو نیبولائی NEBULAEکہلاتی تھیں کیونکہ وہ غیر واضح تھیں دراصل ہماری کہکشاں کی طرح اور اور کہکشائیں اور کائناتیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ وہ کہکشائیں زمین سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ جب  انہوں نے دور ہونے کی رفتار کا تعین کر لیا تو انہیں یہ جاننے میں دیر نہ لگی کہ ہماری کائنات کا آغاز ۷۔۱۳ بلین سال پہلے ایک بگ بینگ سے ہوا تھا۔ ہماری کائنات پہلے ایک سیال گرم مادہ تھی ۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ ٹھنڈی ہوتی گئی۔ اس کے نتیجے میں ۵۔۴ بلین سال پہلے زمین بنی۔ہوبل کے اعزاز میں اب وہ دوربین ہوبل دوربین کے نام سے جانی جاتی ہے۔

ہاکنگ کے نظریات سے بہت پہلے آئزک نیوٹن ISAAC NEWTON 1642…1726AD نے کششِ ثقل اور حرکت کے نظریات دریافت کیے تھے۔ بیسویں صدی میں البرٹ آئن سٹائن ALBERT EINSTEIN 1879….1726 AD نے نظریہ اضافت پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ روشنی ایک ذرہ بھی ہے اور ایک لہر بھی۔
LIGHT BEHAVES AS BOTH PARTICLE AND WAVE
ان کا فارمولا E=mc2 بہت مشہور ہوا جس میں انہوں نے مادہ’ رفتار اور توانائی کا رشتہ بتایا۔

ہاکنگ کی تحقیق سے پہلے انسان سمجھتے تھے کہ وہ ایک کائنات میں رہتے ہیں۔ ہاکنگ اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمارے ارد گرد صرف ایک کائنات نہیں بہت سی کائناتیں ہیں۔ ہم uni-verse میں نہیں multi-verse میں رہتے ہیں۔یہ کائناتیں پانی کے بلبلوں کی طرح پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں سے بعض کی عمر مختصر اور بعض کی عمر طویل ہوتی ہے۔ وہ کائناتیں جو ہماری کائنات کی طرح بڑھتی اور پھیلتی ہیں ان میں  سورج ،چاند، ستارے بنتے ہیں۔آخر ایک دن وہ کائنات پھیلنا بند کر کے سکڑنا شروع کر دیتی ہے اور سکڑتے سکڑتے کسی بلیک ہول میں مر جاتی ہے۔ پھر اس بلیک ہول سے ایک اور کائنات پیدا ہوتی ہے۔اپنی تحقیق کی بنیاد پر ہاکنگ اس نتیجے پر پہنچے کہ انسانوں کا وقت اور خالق ، خدا کا تصور صرف ہماری کائنات سے تعلق رکھتا ہے۔ جب ہماری کائنات ختم ہو جائے گی تب بھی اور کائناتیں موجود ہوں گی۔ہاکنگ فرماتے ہیں کہ یہ کائناتیں خود ہی بنتی بگڑتی اور  پیدا ہوتی ، مرتی رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ نجانے کب سے چل رہا ہے اور کب تک چلتا رہے گا۔ نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا ،نہ کوئی ازل ہے نہ ابد۔اس لیے کائناتوں کے اس دائروں کے سفر کے لیے کسی خدا کے تصور کی ضرورت نہیں ہے۔۲۰۱۴ سے پہلے ہاکنگ اپنے سیکولر نظریات کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرتے تھے لیکن ستمبر ۲۰۱۴ کی ایک تقریر میں ہاکنگ نے کھل کر اعتراف کر لیاکہ وہ دہریہ ہیں اور ان کا موقف ہے کہ انسانوں کے لیے اپنے ارد گرد پھیلی کائناتوں کے رازوں کو جاننے کے لیے کسی خدا کے تصور کی  ضرورت نہیں ہے۔

ہاکنگ نے زندگی میں دو شادیاں کیں۔ ان کی پہلی بیوی نے ۲۰۰۷ میں جو سوانح عمری چھاپی اس کا نام TRAVELING TO INFINITY:MY LIFE WITH STEPHEN ہے۔ اس کتاب پر جو ۲۰۱۴ میں فلم بنی اس کا نام THE THEORY OF EVERYTHING ہے۔ ہاکنگ کی انسانیت کے لیے ایک بڑی خدمت یہ ہے کہ اس نے سائنس کے علم کو مقبولِ عام بنایا۔ہاکنگ ان نابغہِ روزگار سائنسدانوں میں سے ایک تھے جو ہر صدی میں چند ایک ہی پیدا ہوتے ہیں۔ان کی موت نے سائنس کی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے۔

جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *