ڈاکٹر خالد سہیل اور صائمہ نسیم بانو کے ادب نامے۔۔

بانو کا پہلا ادب نامہ
طبیبِ من!
آداب! آپ کا ہدیہ خلوص ”درویشوں کا ڈیرہ“ موصول ہوا۔ ہمارے ایک ساتھی کا کہنا ہے کہ ”کتاب، کسی شعور کی برتی ہوئی مصفا اطلاع ہے۔ “ میں ممنون ہوں کہ آپ نے اپنے شعور کے اس سفر کی کیفیات اور مناظر کو میرے سنگ بانٹنا پسند فرمایا اور مجھ ناچیز کو اس کتاب کے حوالے سے اظہار رائے کی دعوت دی۔ میرے نزدیک خاموشی عبادت ہے تو اظہار مکرم ہے، سچ کہیے  تو اظہار پر کائنات کی نیو رکھی گئی ہے، یہ مناظر اور مظاہر اپنے خالق کے اظہار پر گواہ ہیں اور ان کی خامشی بندگی و ریاضت کی ایک شکل ہے۔
واپس کتاب کی طرف لوٹتے ہیں، یہ کتاب ہے یا ایک طلسم کدہ، خیال کی ایک بارہ دری ہے جو اپنے ہی جیسی کئی اور بارہ دریوں سے متصل ہے، اظہار کی انگلی تھامے آپ اور رابعہ الربا جب ایک در سے دوجے در میں داخل ہوتے ہیں تو ایک نئی کہانی داستان کے پردے پر جنم لیتی ہے۔ میرا بھائی اظہر وقار کہتا ہے کہ گفتگو، شعور کا باہمی تبادلہ ہے، دورانِ گفتگو ہم اپنے ساتھی سے اپنے شعور کے کچھ حصے بانٹتے ہیں اور واپسی میں اس کے شعور کے کچھ حصے ہماری جھولی میں آ جاتے ہیں۔

اس کتاب میں لکھے گئے خطوط کے ذریعے آپ نے محض شعور و آگہی کا باہمی تبادلہ ہی نہیں کیا بلکہ آپ دونوں اک دوجے کی مدد سے اپنے اپنے لا شعور کی سرحدوں تک چلتے چلے گئے۔ یہ تخلیقی سرور و انبساط کے کیف اور کیفیت میں لکھا کلام ہے جو اپنے ایک ایک حرف سے قاری کے دل و دماغ پر سحر پھونکتا ہے۔ کتاب میں موجود تمام خطوط پر ایک ہی نشست میں سب کچھ کہہ دینا تو میرے لئے ممکن نہ ہو گا البتہ ایک واقعے نے مجھے بری طرح جکڑ لیا کہ جب  رابعہ الربا کے بابا دوجے ملک بسلسلہ روزگار تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کس بری طرح سے اپنے بابا کو مِس کرتی ہیں اور یہ ذہنی کرب ان پر فزیکلی بھی برے اثرات مرتب کرتا ہے، الربا کے اس کرب کو میں بہت خوبی سے ریلیٹ کر پاتی ہوں کہ اپنے والدین کی سپریشن کے سبب مجھے بھی اپنے بابا سے ملاقات کے لئے ترسنا پڑتا تھا اور اس دوری نے مجھے ایک حساس اور دردمند انسان بنا دیا۔

شاید یہ زندگی ہم سے صبر اور جہد کی متقاضی ہے اور ہم اس کے معین کردہ دائروں میں طوافِ بندگی پر مامور۔ الربا اپنی تحاریر کے آئینے میں ایک بہادر خاتون دکھائی دیتی ہیں جبکہ ان کے بر عکس بانو خود کو ایک مہین اور قدرے ڈری ہوئی عورت کے روپ میں نظر آتی ہے، الربا نے تنہائی اور خاموشی سے دوستی کر رکھی ہے تو بانو اکلاپے و سناٹے سے گھبراتی ہے، الربا دوستی کے پاؤ نڈ  کیک پر اکتفا کرتی ہے تو بانو رومان کی آئسنگ کی شوقین ہے، الربا اپنے بھائیوں کی لاڈلی ہے تو بانو اپنے چار سوتیلے بھائیوں کا پیار پا کر بھی عمر بھر ان سے دوری کا درد جھیلتی رہی۔

الربا روایتی مرد کے متشدد رویوں پر دلگیر ہے تو بانو ایک روایتی مرد ابریشم کی آغوش میں خود کو محفوظ سمجھتی ہے، الربا حقیقت کی دنیا میں رہنے والی ایک پریکٹیکل اور مضبوط عورت ہے جبکہ بانو ایک روایتی عورت ہے، وہ مشرقی عورت کا استعارہ ہے جو مکمل مرد اور بھر پور دسترس کی خواہاں ہوا کرتی ہے، وہ اختیار مانگتی ہے، وہ تمنا دہکاتی ہے اور نصیبے سے بے نیاز اپنے خواب سے جڑی رہتی ہے جہاں ایک یکسو اور یک جہت ساتھی اس کا ہم سفر ہے۔

وہ خوابوں کی دنیا میں رہتی ہے اور اپنی سوچ کے چاک پر اپنا من پسند محب تراشتی ہے، اس کی مٹی جذبوں سے گوندھتی ہے اور اس میں احساس کی روح پھونکتی ہے، وہ تصوف، فلسفے اور نفسیات سے رچی گفتگو کرتا ہے اور بانو کے لیے نغمے بُنتا ہے، وہ بانو کو ملکہ بناتا ہے اور خود ایک غلام بن جاتا ہے، وہ محبت کا ایک عظیم طلسمی محل تعمیر کرتا ہے اور در و دیوار میں فسوں پھونک دیتا ہے، وہ خرمن ہستی پر کبھی رم جھم سا برستا ہے تو کبھی موسلا دھار بارش کی شکل دھار لیتا ہے، وہ اپنی محبت سے کچھ ایسی طلسمی گانٹھیں گانٹھتا ہے کہ اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

بانو اس کے سنگ جنگلوں تک جانا چاہتی ہے، عین اس جگہ کہ جہاں پہاڑی کی کوکھ سے ایک چشمہ پھوٹتا ہے اور ندی کی شکل میں جنگل کے کناروں پر بہتا ہے، بس وہیں جنگلی پھولوں نے ماحول معطر کر رکھا ہے، وہاں املتاس کے درختوں کے تنوں میں گلہریاں چھپی ہیں اور ڈالیوں پر کوئلیں نغمے گنگنا رہی ہیں۔ بس وہیں وہ بانو کے لیے اپنے ہاتھ سے لکڑی کی کٹیا بناتا ہے، درختوں کی چھال سے ایک تخت نما جھولا بناتا ہے اور جھولے اور کٹیا کو جنگلی پھولوں سے سجا دیتا ہے، وہ بانو کی پوشاک پر چنبیلی ترپ دیتا ہے، اسے چندن کا گلال ملتا ہے اور عرقِ گلاب چھڑکتا ہے۔ وہ آبخورے میں انار کا رس، ایک کٹوری میں جنگلی بیریاں اور رکابی میں ہرن کا بھنا ہوا پارچہ لاتا ہے اور اپنے ہاتھ سے بانو کی سیوا کرتا ہے کہ وہ سیوک ہے، محب ہے، پریمی ہے اور عاشقِ صادق ہے۔

طبِیبِ مہرباں!
آپ کی ترغیب پر، آج بانو نے آپ ہی کی بخشی ہوئی ہمت کو بروئے کار لاتے ہوئے بانو کی ڈائری سے ایک صفحہ آپ کے حوالے کیا، قبول فرمائیے۔
سپاس گزار
بانو
18 مئی 2019

سہیل کا دوسرا ادب نامہ
محترمہ صائمہ نسیم بانو صاحبہ۔
’درویشوں کے ڈیرے‘ کو پڑھنے اور اس پر اپنی رائے دینے کا شکریہ۔ وہ پچاس خطوط درویش اور رابعہ الربا شعور اور لاشعور کی رو میں لکھتے چلے گئے اور دو مہینوں میں کتاب مکمل ہو گئی۔ وہ تبادلہ دو دوستوں کا تخلیقی تبادلہ تھا اس لیے اس سفر میں میرا اپنی شخصیت کے چند نہاں خانوں سے تعارف ہوا۔
آپ نے رابعہ الربا کی اپنے والد سے جدائی کا ذکر کیا ہے وہ ان کا ایک ادیبہ بننے کے لیے کلیدی تجربہ تھا کیونکہ اس دوران انہوں نے خط لکھنے شروع کیے جو بعد میں ڈائری اور افسانے لکھنے کا پیش خیمہ ہوئے۔ جدائی کا نفسیاتی تجربہ بعض دفعہ تخلیقی تجربے میں ڈھل جاتا ہے۔
درویش کی ہجرت بھی جدائی کا۔ اپنی ماں اور دھرتی ماں سے جدائی کا،ایک اہم تجربہ ہے۔ جب مہاجر دو زبانوں ’دو مذاہب اور دو ثقافتوں میں زندہ رہنا سیکھتے ہیں تو ان کے اندر کی تیسری آنکھ کھل جاتی ہے۔ اسی لیے بیسویں صدی کے عالمی ادب میں مہاجر ادیبوں کے بہت سے ادبی تحفے شامل ہیں۔

مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ’درویشوں کے ڈیرے‘ کو پڑھنے کے بعد آپ کے قلم کو تحریک ملی اور آپ نے ادبی محبت نامے کے حوالے سے ایک فن پارہ تخلیق کیا۔
آپ نے اپنے ادبی محبت نامے میں اپنا اور رابعہ الربا کو جو تقابل کیا ہے وہ دلچسپ بھی ہے دل گیر بھی اور دلفگار بھی۔ آپ کے خواب میں بہت سی اور مشرقی عورتوں کے خواب پوشیدہ ہیں۔
میں نے آپ کا خط ایک سے زیادہ بار پڑھا اس میں خیالی محبوب کی ایک خواہش ہے،ایک آس ہے،ایک امید ہے،ایک آرزو ہے۔۔۔
کیا آپ آرزو کا مقدر جانتی ہیں

آرزو اور آرزو کے بعد خونِ آرزو
ایک مصرعہ میں ہے ساری داستانِ زندگی

آپ کی آرزو ایک فینٹسی ہے ایسی فینٹسی جس کی کوکھ سے کوئی نظم یا افسانہ یا ناول تو پیدا ہو سکتا ہے کوئی حقیقت جنم نہیں لے سکتی۔
میں ایک حقیقت پسند انسان ہوں صرف ایسے خواب دیکھتا ہوں جو شرمندہِ تعبیر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے میں عورت سے دوستی کا رشتہ استوار کرتا ہوں کیونکہ دوستی ایک پائیدار اور پرسکون رشتے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
آج کل رشتوں کا یہ عالم ہے ۔۔
۔۔جو بھی نبھ جائے بھلا لگتا ہے

یونانی دیو مالا کی ایک کہانی ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا جب انسان آدھا عورت اور آدھا مرد ہوتا تھا پھر اس پر خداوندِ زیوس کا عتاب اور عذاب نازل ہوا اور وہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ ایک حصہ مرد بن گیا ایک عورت اور وہ اب ایک دوسرے کی تلاش میں حیراں پریشاں اور سرگرداں ہیں۔

میرا موقف یہ ہے کہ ہر انسان مکمل ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت اور اگر وہ چاہے تو اکیلا پرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔ میں زندگی کے بیس سال اکیلا رہا ہوں اور خوش رہا ہوں۔
میں شریکِ حیات کے خلاف نہیں لیکن میری نگاہ میں وہ ضروری نہیں اضافی ہے۔ دوستوں کا حلقہ ضروری ہے جسے میں فیملی آف دی ہارٹ کہتا ہوں۔
میرے دوستوں کے حلقے میں عورتیں بھی شامل ہیں مرد بھی۔ مشرقی بھی ہیں اور مغربی بھی۔ میں دوستوں کے حوالے سے بہت خوش قسمت واقع ہوا ہوں۔
آپ بھی خوش قسمت ہیں کہ آپ ایک شاعرہ ہیں ادیبہ بھی اور دانشور بھی۔ آپ اپنے خیالات اور جذبات کو الفاظ کا روپ دینا جانتی ہیں۔ اگر آپ اپنے خواب اور آدرش رقم کرتی رہیں تو آپ کے الفاظ آپ کے زخموں کا مرہم بن جائیں گے اور آپ خود اپنی مسیحا بن جائیں گی۔ اور کسی دوسرے طبیب یا مسیحا سے بے نیاز ہو جائیں گی۔

میری نگاہ میں کسی بھی مشرقی عورت کے آزاد اور خود مختار ہونے کے لیے اہم ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر خود کھڑی ہو۔ تعلیم حاصل کرے۔ ملازمت کرے۔ اپنے دوست بنائے۔ اس کے بعد وہ ایسا شریکِ سفر چنے جو اس کی عزت کرتا ہو اس کا احترام کرتا ہو اور اسے انسان ہونے کے ناطے برابر سمجھتا ہو۔ محبت کا ایک صحتمند رشتہ دو برابر کے انسانوں کے درمیان ہی ممکن ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
آپ کا دوست جو ایک ادیب بھی ہے اور ایک طبیب بھی
خالد سہیل!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ڈاکٹر خالد سہیل اور صائمہ نسیم بانو کے ادب نامے۔۔

  1. بہت دلچسپ مکالمہ ہے۔ خودکلامی کی خوبناک فضا میں لکھے گئے خط کے جواب میں اچانک جگاتا ہوا خط۔ پڑھ کر لطف آیا

    1. فیصل عظیم۔۔۔آپ صاحبِ نظر بھی ہیں۔۔۔صاحبِ ذوق بھی اور صاحب الرائے بھی۔۔۔خطوط پڑھنے اور رائے دینے کا شکریہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *