اب فرشتہ بھی انصاف انسانوں سے مانگیں گے؟ ۔۔۔ ہما

اب فرشتہ بھی انصاف انسانوں سے انصاف مانگیں گے؟؟

خبر ہے کہ Justice_for_Farishta#

کہتے ہیں لاعلمی ایک نعمت ہے، کیونکہ لاعلم انسان معاملات کی سنگینی سے ناواقف بڑے سے بڑا قدم اٹھانے سے نہیں گھبراتا، جو چاہتا ہے کرجاتا ہے
اسکے برعکس جو شخص معاملات کی حساسیت سے آگاہ ہو ،اسکا ایک قدم ہوا میں معلق ہوگا اور وہ دوسرا قدم اٹھانے کیلئے ایک ایک نکتے کا جائزہ لے گا ۔
مارچ 2019 کو سوشل میڈیا پر ایک خبر وائرل ہوئی۔ میڈیکل کی 21 سالہ طالبہ عروج گھر سے کسی کام سے نکلی اور واپس نہ پہنچ سکی ،اسے اغواء کرلیا گیا۔  
ہر طرف اسے ڈھونڈنے کا شور تھا۔ایک خوف اور تشویش کا عالم تھا کہ کراچی کے ماحول میں لڑکیاں اکیلے غیر محفوظ ہیں ۔ مئی کے چلچلاتی گرمی میں مجھے ہیٹ ویو کے پیش نظر ایک ٹریننگ کورس میں رجسٹر ہونے کا موقع ملا  تاکہ متاثرہ لوگوں کی مدد بروقت ہوسکے۔ میں عموماً گھر سے بہن یا بھائی کے ساتھ نکلتی ہوں، اکیلے نکلنے کی اجازت حفاظتی طور پر ماحول نہیں دیتا۔

اس کورس کی مقررہ تاریخ پر مجھے بھائی اور بہن کوئی دستیاب نہیں ملا تو اپنے
سات سالہ بھانجے شاہ زین کو تیار کیا اور چل پڑی۔ ایک گھنٹے کے سفر کے دوران میرے ذہن میں صرف عروج کا خیال تھا کہ وہ کیسے گھر سے اکیلی نکلی، اور واپس نہ پہنچ سکی، لیکن اپنے ہر خوف کو جھٹکا دیتے ہوئے منزل پر پہنچ گئی۔
وہاں داخل ہوتے ہی انتظامیہ نے میرے ساتھ سات سالہ بچے کو دیکھ کر کہا کہ
سوری بچہ آپ کے ساتھ سیشن میں شامل نہیں ہوسکتا، اجازت نہیں ہے۔
میں نے بہت اصرار کیا کہ تھرڈ فلور پر سیشن ہے اسے میں نیچے نہیں چھوڑ سکتی
لیکن انتظامیہ، مینجر اور سیکیورٹی گارڈز سب نے منع کردیا۔

ایک سیکیورٹی گارڈ نے کہا اسے ہمارے پاس چھوڑ جائیں۔ یہ ہمارے ساتھ کھیلے گا مزے کرے گا کھائے پئیے گا۔
اس کی بات پر مجھے کنفیوژن تو ہوئی لیکن تھوڑی بہت پس و پیش کے بعد میں بھانجے کو تین اہلکاروں کے پاس چھوڑ کر سیشن لینے اوپر چلی گئی۔

لیکن وہاں بیٹھتے ہی میرے ذہن سے عروج کا خوف ختم ہوگیا تھا جبکہ اس کی جگہ اب شاہ زین تھا، وہ تین سیکیورٹی اہلکار اور وہ تازہ خبر تھی جو دو دن پہلے ہی نیوز میں پڑھی تھی۔
ہری پور کے عبداللہ کے ساتھ بارہا جنسی زیادتی اور اس کی خودکشی۔۔۔


اسکے ساتھ ہی بہت سی خبریں۔

میرا وہاں بمشکل پندرہ منٹ بیٹھنا دو بھر  ہوگیا  کیونکہ میں کسی غیر پر اعتبار کرہی نہیں سکتی تھی۔

میں فوراً سیشن ادھورا چھوڑ کر نیچے آئی اور گھر پہنچ کر دم لیا  اور یہی سوچتی رہی کہ یہ خوف صرف مجھ تک محدود نہیں بلکہ ہم ایک social paranoia میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

ہم اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں ریاستی طور پر بالکل لاوارث ہوچکے ہیں۔

ہم ہر چند بعد ایک بچے یا بچی کا زیادتی کیس سنتے ہیں۔
کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، مغلظات سناتے ہیں، اور زیادہ کردیں تو ہیش ٹیگ چلادیتے ہیں۔ یہ ہیش ٹیگ انصاف مانگنے کے لئے جس نام کے ساتھ جڑ جائے وہ نام خوشنصیب ہوتا ہے کیونکہ شاید اس کے ملزم کو سزا ہوجائے ایک آس ایک امید بندھ جاتی ہے ۔

پچھلے سال معصوم زینب کے ساتھ جو درندگی کی گئی پورا پاکستان یک آواز ہوکر
جسٹس فار زینب چلا اٹھا۔

اس قدر چیخ وپکار میں حکومتی مشینری میں تھرتھری مچی ایک مجرم کو گرفتار کیا اور چند ماہ بعد راتوں رات اسے پھانسی دے دی گئی ۔

زینب ایک نام تھا جس پر واویلہ کرنے پر ایک سزا لوگوں کو چپ کروانے کیلئے عمل میں لائی گئی ورنہ اس سے پہلے کتنی ہی گمنام لڑکیاں اور بچیاں اس بربریت کا نشانہ بنیں؟

کوئی حساب کتاب نہیں ۔

اسی سَال ایک گونگی بہری لڑکی شیریں کو حوس کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتارا گیا لیکن کوئی ہیش ٹیگ نہیں چلا کیونکہ اس کی وارث ایک غریب اور بوڑھی ماں تھی اس لئے ہر کوئی ہرکوئی گونگا بہرہ ہوگیا۔


کنب میں منظور وسان کے بھتیجے کے ہاتھوں بربریت کا شکار ہونے والی رمشا کے لیے کون بولا؟


نہ ہیش ٹیگ چلا اور نہ ہی سزا ملی۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر روز 12 بچے جنسی ذیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔


اس میں شہر و دیہات کا ملا جلا تناسب ہے۔

جو کیسز رجسٹر ہوتے ہیں ان کے مطابق 56 فیصد لڑکیوں اور 44 فیصد لڑکے اس مذموم فعل کا شکار ہوتے ہیں ۔ ان تمام رجسٹر کیسز اور جو رجسٹر نہیں ہیں ان کے خلاف سر عام سزا کیوں نہیں دی جاتی؟
کیونکہ ایک دبیز  قالین کے نیچے گند چھپانا مقصود ہے۔
ریاستی اور حکومتی کارکردگی پر کوئی سوالات نہ اٹھ سکیں اس لئے انہیں دبانا ہی بہتر ہے۔

اب کی بار ایک فرشتہ ہیش ٹیگ کے ساتھ دہائی دیتا نظر آرہا ہے۔
#Justice_For_Farishta
فرشتہ 15 مئی کو چیک شہزاد سے لاپتہ ہونے والی زیادتی کا نشانہ بننے والی 11 سالہ بچی ہے۔ فرشتہ کا تعلق قبائلی ضلع مومند سے بتایا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فرشتہ کی تلاش کیلئے ایف آئی آر درج کرنے میں اسقدر لیت و لعل سے کام لیا کہ اس پھول کی مسلی ہوئی لاش کیچڑ سے اندھیرے میں برآمد کی گئی ۔


نہ ہی اس بربریت پر آسمان کو رونا آیا اور نہ ہی زمین پھٹی کیونکہ وہ ہر روز اسی زمین و آسماں کے بیچ معصوم بچوں کے ساتھ یہ مذموم فعل ہوتا دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔

ایک زینب کے قاتل کو رات کے اندھیرے میں سزا دینے سے ہزاروں بچوں کے مجرم جانوروں کا جو کھلے عام پھر رہے ہیں کچھ بھی نہیں بگڑا ۔کسی بھی معاشرے میں سزا کا خوف قائم کئے بغیر جرم کا خاتمہ ناممکن ہے۔

جب تک ان تمام ناسوروں کو سب کے سامنے نشان عبرت نہ بنایا جائے گا کوئی بہتری کی امید نہیں بجز اس کے کہ زینب کے بعد فرشتہ اور پھر خدا نہ خواستی چند دن بعد کوئی اور ہیش ٹیگ آجائے ۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *