• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • شہلا رضا – تکفیری فاشزم اور کمرشل لبرل مافیا کی غلیظ منافقت کا شکار — غیور شاہ ترمذی

شہلا رضا – تکفیری فاشزم اور کمرشل لبرل مافیا کی غلیظ منافقت کا شکار — غیور شاہ ترمذی

صرف ایک سال پہلے ہی صوفی بزرگ بابا غلام فرید گنج شکر کے مزار پر تعظیم کے لئے سجدہ کی طرح سر کو جھکانے پر عمران خاں اور ان کی بیوی کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا- راقم کے پڑھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ راقم کبھی بھی عمران خاں کی سیاست کا حامی نہیں رہا, لیکن عمران خاں کے صوفیانہ اعتقادات کی مخالفت کرنا راقم کے لئے بھی ناقابل قبول ہے- داعش کے منسلکہ گروپوں مثلا” سپاہ صحابہ جیسے گروہ اور ہر وقت فروخت کے لئے تیار پاکستانی لبرل مافیا کےجغادری  اینکرز اور صحافی عرصہ دراز تک عمران خاں اور ان کی صوفی سنی عقائد کی حامل بیوی کی اسی معاملہ پر بھد اڑاتے رہے-

عمران خاں کی سابقہ بیوی ریحام خاں نے جب عمران خاں پر تحریک انصاف میں صوفی سنی العقیدہ اور شیعہ العقیدہ راہنماؤں کی فعالیت اور اثر پذیری پر تنقید کی تو پاکستانیوں کی واضح اکثریت نے ریحام خاں کی اس تنقید کی مخالفت بھی کی اور اسے سخت ناپسندیدہ قرار دیا- اس موقع پر جنہوں نے ریحام خاں کے ان فرقہ وارانہ نظریات کی حمایت کی وہ وہی سپاہ صحابہ جیسے تکفیری اور نون لیگ کے پےرول پر پلنے والے کمرشل لبرل مافیا کے لوگ ہی تھے-

صوفی بریلوی, سنی بریلوی اور شیعہ پاکستان کی اکثریتی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں- ان کی   اکثریت کی عقیدت کے مراکز ملک بھر میں پھیلے ہوئے صوفی بزرگوں کے مزارات ہیں جہاں مسلمانوں کے ان فرقوں کے علاوہ ہندو اور عیسائی فرقوں کے لوگ بھی عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے حاضری دیتے ہیں- امریکی حمایت یافتہ اسٹیبلشمنٹ کی عشروں پر محیط کوششوں, تکفیریوں کے خودکش حملوں, مزارات کی تباہی اور سلفیوں متشدد گروہوں کی تبلیغوں  کے باوجود بھی عوام کی واضح اکثریت کو ان صوفی بزرگوں کے مزارات پر اظہار عقیدت کرنے سے روکا نہیں جا سکا بلکہ الٹا ان مزارات پر حاضری دینے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے-

کچھ دنوں سے پیپلز پارٹی کی سینئر لیڈر شہلا رضا بھی ان تکفیری قوتوں کی شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں جب انہوں نے بنی امیہ کی ملوکیت کو اسلامی نظام  خلافت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا- شہلا رضا پر یہ تنقید اس لئے ہو رہی ہے کیونکہ وہ شیعہ ہیں اور پیپلز پارٹی سے منسلک ہیں- حالانکہ آخری خلیفہ راشد حضرت علی کے بعد کچھ مہینوں تک قائم حضرت امام حسن کی خلافت سے دستبرداری کے بعد قائم ہونے والے نظام حکومت کو 99% سے زیادہ فقہا, علماء اور مؤرخین نے خلافت کی بجائے ملوکیت قرار دیا ہے- اس ضمن میں مولانا ابو الاعلی مودودی کی معروف کتاب خلافت و ملوکیت کا مطالعہ نہایت مفید ہے- اگرچہ اس کا جواب مولانا تقی عثمانی نے دینے کی کوشش کی مگر بعد میں جماعت اسلامی کے راہنما جسٹس ریٹائرڈ غلام علی کے جواب الجواب کے بعد کسی کو اس کتاب کے مزید جواب لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی-

شہلا رضا کے خلاف اس بے بنیاد تنقید کے باوجود بھی پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کے کسی کارنر سے شہلا کی حمایت میں ایک لفظ تک نہیں کہا گیا- حالانکہ کمرشل لبرل مافیا کے تقریباً  تمام لوگ خود کو صوفی اور لبرل خیالات کے چیمئن  قرار دیتے ہیں- حتی کہ ان میں سے کچھ شہلا رضا کی حمایت کرنے کی بجائے اس کے ماضی پر شدید تنقید کرنا شروع ہو گئے- شہلا پر یہ تنقید اس حد تک بڑھی کہ اس کی زندگی کو خطرات لاحق ہو گئے اور معاملات کو نارمل کرنے کے لئے اسے معافی بھی مانگنی پڑی- شہلا کے شیعہ ہونے اور پیپلز پارٹی سے منسلک ہونے کی وجہ سے وہ کمرشل لبرل مافیا کے لئے دو گنا زیادہ ناپسندیدہ رہی ہے- کمرشل لبرل مافیا شیعہ فرقہ سے منسلک لوگوں کی حمایت اور پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کے لئے انسانی ہمدردی کے اظہار سے ہمیشہ گریزاں رہے ہیں۔ان کی حمایت اور انسانی ہمدردی کا محور اہل تشیع کی قاتل داعش اور سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کی گرفتاریوں اور ان کو سزائیں دینے کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے تک ہی محدود ہے یا نون لیگی راہنماؤں کی کرپشن کیسوں میں گرفتاریوں اور نیب پیشیوں کی مخالفت تک مظاہرے کرنے تک ہی محدود رہا- یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ شہلا رضا سمیت ہر اس بڑبولے سیاستدان کی مذمت کی جانی چاہیے  جو اخلاقیات سے عاری گفتگو کرتا ہو مگر اس کو جواز بنا کر قتل کی دھمکیوں اور اسے مذہبی منافرت کے رنگ میں رنگ دینا بھی ویسا ہی قابل نفرین عمل ہے-

سنہ 2014ء کے دھرنوں کی حمایت بھی تب تک یہ راقم کرتا رہا جب تک اس کا مقصد انتخابی نظام کی اصلاح اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کے خلاف مقدمہ کے اندراج اور اس کی مصنفانہ تفتیش تک ہی محدود تھا- جب اس دھرنے کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ اور جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کی بات کی گئی تو لامحالہ دیگر لوگوں کی طرح راقم کو بھی اپنی حمایت سے رجوع کرنا پڑا- انسانی حقوق خصوصاً زندہ رہنے کا حق سب سے اہم ہے اور اسے سیاسی, مذہبی, لسانی یا علاقائی تعصبات کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے – مصطفی کمال اور عشرت العباد اپنی اپنی جگہ و مقام پر سپاہ صحابہ کی تکفیری مہم کی حمایت کرتے رہے ہیں جو کہ شہلا رضا کے بےوقوفانہ بیانات سے کہیں زیادہ بڑا جرم تھا مگر چونکہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کی شکست و ریخت کے لئے اداروں کے منظور نظر تھے اس لئے کبھی کسی کمرشل لبرل مافیا سیکشن سے ان کی کالعدم جماعت کی حمایت بلکہ دہشت گردانہ اور خلاف قانون کاروائیوں کی سرپرستی پر اعتراض نہیں کیا گیا- دوسری طرف شہلا رضا کا تعلق چونکہ پیپلز پارٹی سے تھا, لہذا کمرشل لبرل مافیا کی طرف سے اس کی حمایت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا-

پیپلز پارٹی کے حلقے کہتے ہیں کہ مشہور صحافیوں اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی شخصیات میں سے بعض مثلا” سلیم صافی، ماروی سرمد، حامد میر وغیرہ کی کردار کشی کی مہم چل رہی ہے. پیپلز پارٹی کے کارکنان کی طرف سے ان سب کی حمایت کے لئے اور کمرشل لبرل مافیا کی مخالفت کے لئے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پوسٹ کے بعد پوسٹ لگائی جاتی رہیں لیکن شہلا رضا کی کردار کشی کے خلاف پیپلز پارٹی کارکنان کی طرف سے ان ویب سائٹس پہ کوئی پوسٹ نظر نہیں آئی۔ حتی کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی نفیسہ شاہ نے ان صحافیوں سے اظہار ہمدردی کا ٹویٹ تو کر دیا لیکن ساتھی شہلا رضا کو وہ بھی بھول گئیں- پی پی پی کے آفیشل اکاؤنٹس بھی خاموش رہے- اگر مذہبی منافرت پھیلانے والوں کی ایک گیڈر بھبھکی سے خوف کا یہ عالم ہے تو جب میدان لگا تو پیپلز پارٹی کے ان بزدل راہنماؤں نے تو کہیں نظر ہی نہیں آنا۔راقم کا مشورہ ہے کہ کرائے کے میڈیا مینجر اگر پیپلز پارٹی سے تنخواہ لیتے ہیں تو اسے حلال بھی کریں ورنہ اگر تکفیریوں کی دھمکی سے وہ اتنے خوفزدہ ہو جاتے ہیں تو کوئی اور کام  تلاش کرلیں-

پس تحریر نوٹ:- اس کالم کے لئے ریاض ملک صاحب (لندن) اور محمد عامر حسینی کی تحاریر سے مدد لی گئی ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *