سویرے والی گاڑی۔۔۔محمد افضل حیدر

شادی کے محض چار سال بعد ہی دونوں میاں بیوی کے درمیان نوبت طلاق تک پہنچ گئی تھی۔ تلخ کلامی اور رویوں میں سرد مہری اب آئے روز کا معمول تھا۔ارشد نے اسی برس چھوٹی عید کے دوسرے روز ایک معمولی سی بات پر بگڑ کر عابدہ کو ماں بہن کہہ دیا تھا۔وہ تو بھلا ہو خالہ ثریا کا جنہوں نے محلے کی مسجد کے امام سے فتویٰ لے کر ایک آدھ چاولوں کی دیگ تقسیم کروائی اور معاملے کو رفع دفع کیا۔ارشد اور عابدہ کے درمیان فطری عدم مطابقت تھی۔ارشد اونچا،لمبا،گورا ،چٹا کڑیل جوان تھا۔کوئی ایک بار دیکھے تو نظر ٹھہر جا ئے۔دوسری طرف عابدہ،زردی مائل سیاہ رنگت،ٹھگنا قد،چھوٹی چھوٹی اندر کو دھنسی ہوئی زندگی کی چمک سے عاری آنکھوں والی ایک ادنیٰ سی لڑکی۔کوئی ایک باربھول چونک کر دیکھے تو دوسری جانب منہ پھیر لے۔دونوں کا آپس میں رشتہ محلے کی ایک بزرگ خاتون ثریا نے کروایا تھا۔اس کا عابدہ کی ماں کے ساتھ پرانی عا سلام تھی۔دونوں بزرگ خواتین کا تعلق عمرے کی ادائیگی کے دوران بنا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ یہ تعلق مزید گہرا ہوا اور دونوں خواتین تمام رسمی تکلفات سے بے نیاز ہو گئیں۔۔عابدہ سے بڑے دو بہن بھائی تھے جن کی شادی ہو چکی تھی۔عابدہ پچیس سال  کی ہوچلی تھی مگر اس کی شادی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا۔اس کی شادی نہ ہونے کی پریشانی اس کی ماں سکینہ کو اندر ہی اندر   کھائے جا رہی تھی۔قریبی رشتہ داروں میں سے کسی نے بھی عابدہ کا ہاتھ مانگنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ معمولی شکل و صورت کی وجہ سے اسے خود لگتا کہ شاید وہ کبھی دلہن نہ بن پائے،اس کا اظہار اس نے ایک سے زیادہ بار اپنی ماں کے سامنے بھی کیا۔سر سے باپ کا سایہ اٹھ جانے کے بعد گھر کی تمام تر ذمہ داری بھائی اسلم پر تھی۔جو کہ قریب ہی ایک آٹے کی مل میں معمولی ملازم تھا۔عابد کی بیوی بشریٰ گھر میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ہنگامہ کھڑا کئے رکھتی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ساس اور نند کے ساتھ کوئی نہ کوئی پھڈا ڈالے رکھتی اور شام کو میاں کے آنے کے بعد اس کے کان بھرتی ”تمہاری ماں اور بہن مجھے جینے نہیں دے رہیں۔۔“اس کی ان باتوں کا وہ ٹھیک ٹھاک رد عمل دیتا۔ایک روز ثریا شام والی ٹرین سے سکینہ کو ملنے اس کے گاؤں مرضی پورہ گئی۔رسمی دعا سلام اور خاطر مدارت کے بعد سکینہ نے اپنے دل کی تمام باتیں ثریا کے سامنے کھل کر بیان کر دیں۔

”دیکھو بہن!تمہیں تو پتہ ہے میں ایک بیوہ عورت ہوں۔یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے لطیف کے چلے جانے کے بعد میں نے تین بچوں کو کیسے پالا اورکفالت کی۔مشکلات اور دکھوں کا ایک سمندر تھا جس کو عبور کرکے میں اس منزل تک پہنچی ہوں۔۔لوگوں کے گھروں کے کام کئے،اپنے پرایوں کے طعنے سنے،بد چلنی کے الزام بھی برداشت کئے مگر گھر سے نکل کر کام کیا اور بچوں کو پالا۔۔لوگوں کے بچوں کے پرانے کپڑے اور ان کا بچا ہو اکھانا کھلا کھلا کر ان کو بڑا کیا۔جن رشتے داروں نے اٹھ کر گلے لگانا تھا اور بچوں کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھنا تھا،انہوں نے ہی طعنے دئیے اور جینا حرام کئے رکھا۔خیر! جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔اب اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ بچے بڑے ہو گئے۔دو کی شادی بھی ہوگئی۔بڑی بیٹی شگفتہ کی زندگی سے کافی خوش اور مطمئن ہوں۔بیٹے کی شادی میری مرضی سے نہیں ہوئی مگر پھر بھی اللہ کی رضا میں راضی ہوں۔۔بہن!اصل پریشانی عابدہ کی ہے۔۔گھر بیٹھے بیٹھے اس کے سر میں چاندی اتر آئی ہے۔جب اس کو پریشان دیکھتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے۔نہ  جیتی ہوں نہ مرتی ہوں۔وہ جب کہتی ہے کہ اماں!“”مجھ بدصورت سے بھلا کو ن شادی کرے گا۔۔“”قسم خدا کی۔میں وہیں پہ مر جاتی ہوں۔میں کہتی ہوں میرا بچہ میرے دل سے پوچھ اللہ نے تجھے کتنا حسین بنایا ہے۔۔اصل خوبصورتی سے تو انسان کے گُن ہوتے ہیں جو تم میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔۔سارا دن ایک دوسرے کو جھوٹی تسلیاں دیتے دیتے گزر جاتا ہے۔اوپر سے بشریٰ ہر وقت کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے،اسے لگتا ہے ہم دونوں ماں بیٹی اس کے شوہر پر بوجھ ہیں۔مجھ سے اب لوگوں کے گھروں کے کام نہیں ہوتے،نہیں تو اپنا کرکے خود کھاتے کبھی کسی پہ بوجھ نہ بنتے۔عابدہ نے کئی بار کہا اماں! میں گھر سے نکل کر کوئی نہ کوئی کام کر لیتی ہوں مگر بن بیاہی لڑکی کو گھر سے باہر بھیجنے کو میرا دل نہیں مانتا۔۔میری اپنی طبیعت پل بھر میں تولہ پل بھر میں ماشہ۔۔ہر وقت دل درد سے جکڑا رہتا ہے۔ڈاکٹر کہتا ہے مائی! تمہیں کسی وقت بھی دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔سرکاری ہسپتال میں گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے کے بعد دوائی ملتی ہے۔مگر میری بیماری پر تو لگتا ہے کسی دوا کا اب کوئی اثر نہیں رہا۔کہتے ہیں اس بیماری کا علاج  آپریشن میں ہے۔پر وہ ہسپتال والے  آپریشن بھی نہیں کرتے شہر والے بڑے ہسپتال میں  آپریشن کے لئے نام لکھوایا تھا جب باری آئی انہوں نے کہا اماں! تیرا آپریشن نہیں ہو سکتا۔عمر زیادہ ہے اور خون کی بھی کمی ہے۔اب صرف موت کا انتظار ہے۔۔کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔۔مگر میں ابھی مرنا نہیں چاہتی۔۔عابدہ کو اکیلے چھوڑ کر بھلا کیسے چین سے مر سکتی ہوں۔۔لگتا ہے اللہ نے مجھے عابدہ کی شادی تک کے لئے زندہ رکھا ہوا ہے۔۔دیکھ میری بہن! میرے یہ بندھے ہاتھ تم سے میری بیٹی کا نصیب مانگ رہے ہیں۔۔مجھے تیرے علاوہ کوئی آسرا کوئی سہارا نظر نہیں آتا۔۔میری اگر کوئی ماں جائی بہن ہوتی تو وہ بھی تیرے جیسی نہ  ہوتی۔۔مجھے تجھ پہ بڑا مان ہے۔۔خدا کے لئے اپنے آس پاس میں میری اس نیمانی دھی کا گھر بنا۔۔تمہیں دعائیں دیتے ہوئے اس دنیا سے جاؤں گی اور روز محشر میں بھی تیری اس نیکی کا اللہ کے سامنے تذکرہ کروں گی۔۔“”ہاتھ نہ جوڑ میری بہن۔عابدہ میری بھی بیٹی جیسی ہے۔اگر میرا کوئی بیٹا عابدہ کی عمر کو آتا تو میں خود اس کو بڑے مان کے ساتھ بیاہ کر لے جاتی۔میں تمہارے دل کی تمام باتوں کو جان گئی ہوں۔تم بالکل سچی ہو میری بہن۔عابدہ کا دکھ تمہیں اندر ہی اندر کھا رہا ہے۔۔مجھے شک ہے یہ دکھ کہیں تمہاری جان نہ لے لے۔میں تمہارے سر بوجھ ضرور اتاروں گی۔۔میں عابدہ کا گھر بنانے کے لئے ایک ماں کی طرح کوشش کروں گی جو کہ وہ اپنی بیٹی کے لئے کرتی ہے۔۔میری نظر میں ایک دو گھر ہیں۔تم اطمینان رکھو،جلد ہی تمہیں خوشخبری دوں گی۔“۔ثریا کی یقین سے لبریز گفتگو سن کر سکینہ نے فرطِ جذبات میں آکر اس کے ہاتھوں کو چوم لیا اور دلان سے باہر جھانکتی عابدہ کی طرف مسکرا کر دیکھا۔عابدہ سپاٹ چہرے کے ساتھ کسی بت کی مانند بے حس و حرکت ثریا خالہ کی طرف دیکھتی رہ گئی۔۔عابدہ کے لئے ایسی تمام باتیں اب طمانیت کے بجائے مایوسی کا سبب بنتی تھیں کیونکہ اس سے پہلے دو تین بار محلے کی عورتوں نے شادی کی بات ضرور کی مگر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔!!

ثریا نے سویرے والی گاڑی سے اپنے گاؤں واپس لوٹ جانے کے بعد عابدہ کے لئے ایک اچھے گھر کی تلاش شروع کر دی۔تھوڑی سی تگ و دو کے بعد وہ ارشد کے گھر پہنچ گئی جس کا گھر ثریا کے گھر سے چند فرلانگ کے فاصلے پر تھا۔ارشد والد کی وفات کے بعد اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ اپنے ذاتی گھر میں بڑے اطمینان کے ساتھ رہ رہا تھا۔گاؤں کے مین بازار میں والد کی کریانے کی ایک ٹھیک ٹھاک چلتی ہوئی دکان اس کے مرفع الحال ہونے کی ضامن تھی۔شام کو کام سے فراغت کے بعد وہ جب گھر جاتا تو بوڑھی ماں ہمیشہ ایک ہی بات کرتی۔۔”ارشد بوڑھی ماں سے کب تک روٹیاں پکوائے گا۔۔میں چاہتی ہوں اس آنگن میں بچے کھیلیں۔۔سارا دن اس گھر کی تنہائی میری جان کو آتی ہے۔۔میرے مرنے سے پہلے تیرے ماتھے پر سہرہ ا ور ہاتھوں پر مہندی دیکھنا چاہتی ہوں۔“ارشد ماں کی بات پر مسکرا دیتا اور اس کے ہاتھوں کو چوم کر کہتا۔۔”مجھے تو انہی بوڑھے ہاتھوں کی روٹیاں اچھی لگتی ہیں۔۔“
ثریا نے پوری تمہید باندھ کر ارشد کی ماں رضیہ کے سامنے عابدہ کی بات کی اور اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔۔ایک جگہ یہ بھی کہہ دیا کہ”شکل و صورت کا اچھا ہونا کوئی بڑی بات نہیں،اصل خوبصورتی تو کردار اور دل کی خوبصورتی ہے“۔۔ثریا کی باتیں ارشد کی ماں کے سیدھے دل کو لگیں اور اس نے ثریا کے سامنے رشتہ پکا کرنے کی حامی بھر لی۔۔ارشد جب شام کو گھر آیا تو ماں نے اپنی زبان میں ثریا کی تمام باتیں ارشد کے گوش گزار کر دیں۔۔اور آخر میں یہ بھی کہہ دیا۔۔”دیکھ بیٹا!شکل و صورت کا خوبصورت ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔۔اصل خوبصورتی تو دل کی خوبصورتی ہے۔۔۔“ارشد نے نیم دلی سے حامی تو بھر لی مگر ماں کے سامنے یہ شرط بھی رکھی کہ ”اماں!شادی سے پہلے لڑکی کو ایک بار ضرور دیکھ لینا چاہیے۔۔آخر زندگی گزارنی ہے“ماں نے بیٹے کو یقین دلایا کہ وہ جلد ثریا کے ساتھ شام والی ٹرین پہ بیٹھ کر عابدہ کے گھر جائے گی اسے دیکھنے۔۔ثریا کے ساتھ وقت تہہ کرنے کے بعد جمعے کے روز دونوں خواتین شام والی گاڑی پر بیٹھ کر مرضی پورہ کے لئے روانہ ہو گئیں۔۔عابدہ کے گھر پہنچنے کے بعد سکینہ نے دونوں خواتین کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ہتھیلی کے چھالے کی طرح ان کی آؤ بھگت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔۔عابدہ سر پر پیار لینے جب ارشد کی والدہ کے سامنے گئی تو وہ خاتون اس کو دیکھ کر تھوڑا جھینپ گئی اور اپنے تاثرات پربڑی مشکل سے قابو پایا۔۔خیر!عابدہ کے ہاتھ سے بنا ہوا کھانا۔۔سکینہ کی مہمان نوازی اور حسن سلوک۔۔ثریا کی دل لبھانے والی باتیں۔۔یہ سب عابدہ کی بد ہیئتی پر سلیقہ شعاری کی چادر اوڑھا دیتی ہیں۔۔ گھر واپس آنے کے بعد رضیہ نے بیٹے کے سامنے عابدہ کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔۔جس پر ارشد کوئی رد عمل دئیے بغیر بس مسکرا کر رہ گیا۔۔چند ہی دن میں شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ارشد چند دوستوں اور کچھ رشتہ داروں کے ساتھ بارات لے کر مرضی پورہ پہنچ گیا۔۔شادی کی تقریب انتہائی سادگی سے انجام پائی۔مختصرگھریلو سامان اور چند جوڑے کپڑوں کے ساتھ عابدہ ارشد کے گھر پہنچ گئی۔۔شادی کے چند دن ہی عابدہ شوہر کی وجاہت اور خوبصورتی کے سامنے خود کو بہت ہیچ تصور کرنے لگی اور اس امتیاز کو وہ ہر وقت اپنے ذہن پر سوار رکئے رکھتی۔۔ وہ شوہر اور ساس کی تابع داری کو اپنا نصب العین بنا نے لگی۔۔رضیہ بہو کی سلیقہ شعاری سے ایک طرف خوش بھی ہوتی اور دوسری طرف اس کی بد صورتی کو دیکھ کر غمزدہ بھی۔۔رہی سہی کمی گھر میں آئے روز آنے والی کوئی نہ کوئی محلے کی خاتون پوری کر نے لگی۔جو عابدہ کی طرف دیکھتے ہی منہ بسورنے لگتی۔۔اور جاتے جاتے کوئی دل جلانے والا جملہ اچھالے جاتی۔ارشد بھی بیوی سے بیزار ی محسوس کرنے لگا۔

شادی کے ٹھیک ایک مہینے بعد سکینہ اور آٹھ ماہ بعد رضیہ کا انتقال ہو گیا۔۔ماں کی جدائی نے ارشد کو کافی غمگین کیا۔اور وہ   گھر میں خاموش رہنے لگا۔۔شادی کے ایک سال بعد گھر میں بیٹی کے رونے کی آوازیں خاموشی کے طویل ہوتے سلسلے کو توڑ نے میں معاون بنیں۔۔بیٹی مناہل کی آمد اس کے لئے ماں سے جدائی کا مداوا ثابت ہوئی،مگر تھوڑے وقت کے لئے۔۔ جلد ہی اس کا دل بیوی کے ساتھ ساتھ بیٹی سے بھی بھر گیا۔ وقت بڑی سرعت کے ساتھ گزرنے لگا۔۔ گھر دیر سے آنا اور بیوی کو دیکھتے ہی منہ پھیر لینا اس کا روز کا معمول بن گیا۔۔پورے دن کی طویل خاموشی اور گھر کے بے جان در و دیوار اور شام کے ڈھلتے سایوں کی وحشت اس کے لئے زہر قاتل بننے لگے، اوپر سے شوہر کی بے اعتنائی جینے کی رہی سہی امید بھی چھیننے لگی۔

تین سال بعد ان کے گھر میں ایک اور بچی پیدا ہوئی۔۔قدرت کی ستم ظریفی سے بچی کے ہاتھ پاؤں تیڑھے تھے۔ارشد ایک کے بعد دوسری اور اوپر سے معذوربیٹی کی پیدائش پر دکھی سا ہو گیا۔۔وہ بچی عابدہ کی خانگی زندگی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔۔مہینے میں ایک آدھ بار بیوی پر ایک آدھ بات کرنے کا احسان چڑھانے والا ارشد اب کی بار ایسا بدلا کہ بات کرنے کا تکلف کئی مہنیوں تک چلا گیا۔۔ بچیوں سے پیار کرنا تو درکنار ان کی طرف دیکھنا بھی وہ گوارا نہ کرتا۔۔عابدہ نے اس کے لئے اب کھانا بنانا بھی چھوڑ دیا کیونکہ اسے معلوم پڑ گیا کہ وہ اس کے ہاتھ سے بنے ہوئے کھانے کو حلق سے اتارنے کا روادار بھی نہیں رہا۔۔کئی بار سوچتی اس ذلت آمیز زندگی کو چھوڑ کر کہیں دور بھاگ جائے،مگر دو بچیوں کی پرورش اور ان کے مستقبل کی فکر اس کے  پاؤں کی بیڑی بن جاتی۔۔بھائی کے پاس جانے کا سوچتی تو اس کی غربت اور کم طاقتی کا خیال اس کے دامن کو جکڑ لیتا۔۔جیسے تیسے کرکے زندگی کے بوجھ کو اٹھانے کا فیصلہ کرتی اور ایک جیسے ذلت آمیز اور کٹھن احساس والے دن کو گزار کر ایک نئے ویسے ہی دن کو گزارنے کی بھونڈی سی نقل اتارنے لگتی۔۔

ایک دن محلے کی ایک عورت شبانہ کسی بہانے سے عابدہ کے پاس اس کے گھر آئی۔وہ بڑی عجیب نظروں سے عابدہ اور بچیوں کو تکتی رہی اور منہ ہی منہ میں مارے تاسف کے چچ چچ۔۔چ۔۔چ۔۔چچ چچ۔۔کی آوازیں نکالنے لگی۔واپسی پہ گھر جانے کے بجائے وہ سیدھی ارشد کی دکان پر پہنچی اور ہمدردانہ لہجے میں گویا ہوئی۔۔”واہ رے ارشد! تیری قسمت۔۔۔تمہیں کونسی ایسی مجبور ی تھی جو تم بنگال کی حبشن اپنے لئے بیاہ لائے۔۔خد ا کی قسم مجھے رو نا آ رہا ہے تمہارے نصیب پہ۔۔کہاں تم اور کہاں وہ۔۔مخمل کی چادر میں ٹاٹ کا پیوند۔۔۔تمہارے پاؤں کی جوتی کے برابر بھی نہیں وہ۔۔اوپر سے اللہ کی پناہ۔۔بیٹیاں ایسی پیدا کیں۔۔جو نہ کہیں دیکھی نہ سنی۔۔نہ  ہاتھ نہ پاؤں۔۔جیسی خود منحوس ویسی بیٹیاں منحوس۔۔مجھے شمیم تمہاری ہمسائی نے بتایا تھا۔۔تم بہت پریشان رہتے ہو۔۔گھر بھی دیر سے جاتے ہو اور بیوی بچوں سے بے زار رہتے ہو۔بہت اچھا کرتے ہو۔وہ ہے ہی اسی لائق۔۔۔پتہ نہیں تمہاری ماں نے اس منحوس میں کیا دیکھا جو تجھ جیسے سوہنے گھبرو کے لئے وہ یہ جنموں جلی بیاہ کر لے آئی۔۔میری مان۔۔چھوڑ دے اسے یا پھر نئی شادی کرلے۔اِ سے تمہاری ماں بیاہ کر لائی تھی نا۔۔تم تو نہیں نا۔۔۔وہ اب مر گئی۔رشتہ کرنے والے نہیں رہے تو رشتہ بھی نہیں رہنا چاہیے۔میری مانو شادی کرلو۔اپنے جیسی کوئی خوبصورت بیاہ کر لے آنا۔تمہارا لاکھوں کا کاروبار ہے۔اپنا گھر ہے تمہیں کس نے انکار کرنا ہے۔ابھی کل ہی کی بات ہے۔میرے دیور اشرف نے دوسری شادی کی ہے۔قسم خدا کی لڑکی چاند کا ٹکڑا ہے۔اگر اس بھیک منگے کو اتنی اچھی دلہن مل سکتی ہے تو تمہیں کیوں نہیں۔تمہیں زیادہ پریشانی ہے تو تیرے رشتے کی ساری ذمہ داری میرے اوپر۔میری بڑی بہن کی بیٹیاں جنت کی حوریں ہیں قسم سے۔تم کہو تو میں بات کر سکتی ہوں اس سے“۔۔۔کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ باچھیں کھول کر کہتا ہے۔۔”ایسا بھی ہو سکتا ہے کیا؟“ ”کیوں نہیں ہو سکتا بھئی۔ساری دنیا دوسری شادیاں کر رہی ہے تم میں کیا کمی ہے“۔”پر بچیاں؟“ ”تم ان کی فکر کیوں کرتے ہو۔۔عابدہ کو طلاق دینے کے بعد بچیوں کو خود رکھ لینا۔یا پھر عابدہ کو دے دینا۔تم نے معذور لڑکیوں کو بڑا کرکے ان کا اچار ڈالنا ہے۔“ ایسی باتیں نہ کرو شبانہ۔ بیٹیاں ہیں وہ میری۔۔تم جاؤ۔مجھے سوچنے کا کچھ وقت دو۔۔“
”ٹھیک ہے ارشد ٹھنڈے دماغ سے سوچ لو جتنا سوچنا ہے۔۔یاد رکھنا زیادہ سوچنے سے بندہ گمراہ ہو جاتا ہے،تم کل تیاری پکڑو میں تمہیں لڑکیاں دکھا لاتی ہوں جس پر ہاتھ رکھو گے اسی کو تمہارے ساتھ نکاح کے بعد بھیج دیں گے۔“ارشد کے چہرے پر چھائی ہر وقت کی سنجیدگی خفیف سی مسکراہٹ میں بدل جاتی ہے۔”اوئے چھوٹے! شبانہ کے لئے ٹھنڈی بوتل کھول۔“ارشد یہ بات کہہ کر گاہک کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہو جاتا ہے۔۔

رات معمول کے بر عکس گھر تاخیر سے جانے کے بجائے وہ تھوڑا جلدی چلا گیا۔عابدہ نے اب اس کا انتظار کرنا چھوڑ دیا تھا۔۔وہ بچیوں کو سلانے کے بعد گھر کے دروازے کے اندرونی جانب دو اینٹیں رکھ کر خود بھی جلد سو جاتی تھی۔ارشد رات تاخیر سے گھر آتا۔دروازے کو زور سے اندر کی جانب دھکیلتا تو اینٹیں اندر کی جانب گر جاتیں اور دروازہ کھل جاتا۔وہ دبے پاؤں گھر میں داخل ہوتا اور ساتھ والے کمرے میں پڑی اکلوتی چارپائی پر جا کر لیٹ جاتا”۔کیا پکایا ہے آج۔؟“ آج وقت پر گھر آنا اور اوپر سے کھانے کے متعلق دریافت کرنا۔عابدہ کے لئے یہ سب حیران کن تھا۔اس ایک جملے کو سننے کے لئے اس کے کانوں نے ڈیڑھ سال انتظار کیا تھا۔
”جی۔۔۔جج۔۔۔جج۔۔جی۔۔سبزی پکائی ہے۔۔۔آپ کھانا کھائیں گے؟ہاں کھاؤں گا۔ لے آؤ“۔۔شوہر کا جواب سن کر عابدہ کو جیسے پر لگ گئے۔۔اس نے جلدی جلدی رو ٹیاں لگائیں۔۔کھانا گرم کیا اور بڑے سلیقے کے ساتھ اس کے سامنے رکھ دیا۔۔ارشد نے شوق سے کھانا کھایااور عابدہ سے کہا اس کی چارپائی دوسرے کمرے سے نکال کر اپنے کمرے میں لے آئے۔عابدہ خود کے سامنے ہونے والے واقعات پر یقین کرنے سے قاصر تھی۔اس نے ایک دو بار خود کو چٹکی کاٹی کہ کہیں وہ کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔مگر یہ خواب نہیں ایک حقیقت تھی۔ایک غیر متوقع حقیقت۔جس کا شاید اس نے آنے والے چند برسوں میں تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔عا بدہ کو اپنے سامنے بٹھا کر ارشد نے سنجیدگی سے بات شروع کی۔”دیکھ عابدہ! میں آج کھل کر تیرے سامنے تمام باتیں کرنا چاہتا ہوں،بغیر کسی لگی لپٹی کے۔
ہماری شادی کو چار سال ہونے کو ہیں۔مجھے اندازہ ہے ان چار سالوں میں ہمارے درمیان کچھ بھی نارمل نہیں رہا۔اللہ نے تمہارے بطن سے مجھے دو بیٹیاں دینی تھیں وہ دے دیں،اس کے علاوہ میاں بیوی والا کوئی تعلق ہمارے درمیاں نہیں رہا۔۔مجھے اندازہ ہے ان چار سالوں میں ہم نے ایک دوسرے سے بہت کم بات کی۔ مہینوں ہم ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے،اس کی وجہ جو میرے ذہن میں آتی ہے وہ ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ برابر کا جوڑ نہ ہونا ہے۔شادی والے دن تمہیں دیکھتے ہی میں نے بھانپ لیا تھا کہ ہماری کبھی نہیں بن پائے گی۔۔اس کی ایک بڑی وجہ میری ماں کا مجھ سے بہت ساری باتوں کا چھپانا تھا۔اماں مر گئی۔اس کے چلے جانے کے بعد میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔مگر سچ یہ ہے۔۔اماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ بڑی زیادتی کی۔۔مجھے مامتا کے جذبات میں الجھا کر مجھ سے میری مرضی نہیں پوچھی۔مجھے میری ہونے والی دلہن کو شادی سے پہلے دیکھنے سے محروم کیا۔ مجھ سے تمہاری عمر چھپائی گئی۔
کیا تمہیں ایک نظر دیکھ لینا میرا حق نہیں تھا۔۔۔؟آخر پوری زندگی کا سوال تھا۔۔ہم کوئی جانور تھے جسے ایک کھونٹی سے کھول کر دوسری سے باندھ دیا جانا تھا۔۔لوگوں کی باتیں میرا دل چیرتی ہیں۔۔لوگ کہتے ہیں ارشد تم اندھے تھے یا پاگل۔۔۔کچھ تو دیکھ لیتے شادی سے پہلے!! لوگ بچیوں کے حوالے سے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔میں اس میں تمہیں قصور وار نہیں سمجھتا۔قصور سارا نصیبوں کا ہے۔شاید قسمت نے ہمیں ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔بہت لمبی زندگی ہے۔ا س طرح کبھی بھی نہیں گزاری جا سکتی، جس طرح ہم گزار رہے ہیں۔کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں یہ رشتہ ٹوٹ جائے گا۔تناؤ کو لمبے عرصے تک کے لئے روکا نہیں جا سکتا۔ایک نہ ایک دن ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔مختصر یہ کہ میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔تمہارا رشتہ میری ماں نے کیا تھا اس لئے میں تم پر طلاق کی صورت میں ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ہاں!اگر تم مجھ سے خود علیحدگی لینا چاہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔اور اگر اس گھر میں رہنا بھی چاہو تو رہ سکتی ہو،مگر میری دوسری شادی کو قبول کرنا ہوگا۔“عابدہ خاموشی کے ساتھ ارشد کی تمام باتیں سنتی آرہی تھی مگر اس کی آنکھیں بول رہی تھیں۔آنسوؤں کی ایک جھڑی تھی جو اس کی آنکھوں سے جاری تھی، گالوں سے ہوتے ہوئے گردن پر آکر رک جاتی تھی۔ وہ ہونٹ اور ہتھیلیاں بھینچ رہی تھی۔وہ آج بہت کچھ بولنا چاہتی تھی۔۔ مشکل سے کاپنے ہونٹوں اورلرزتے ہاتھوں کے سہارے وہ گویا ہوئی۔۔”آپ مجھ پر اتنا ظلم کیسے کر سکتے ہیں۔۔میں نے آپ کی نفرت اور بے اعتنائی کو رب کی رضا میں قبول کر لیا اور ہر معاملے میں خاموشی اختیار کی۔آپ نے ایک دو بار مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا۔ برابھلا بھی کہا۔مگر منہ سے کچھ نہیں بولی۔میری بچیاں میرے پاؤں کی بیڑیاں بن گئیں۔جنہوں نے مجھے کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے روکے رکھا۔مجھ جیسی مظلوم اور بے اختیار عورت پر آپ ظلم کا اتنا بڑا پہاڑ کیسے گرا سکتے ہیں۔آپ مجھے اور میری بچیوں سے گھر کی چھت چھیننا چاہتے ہیں۔“ ”ایسا کون کر رہا ہے عابدہ!تما م باتیں میں نے تیرے سامنے رکھ دی  ہیں۔اب فیصلہ میں نے نہیں تم نے کرنا ہے۔۔ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔۔تم مجھ سے کسی چیز کا تقاضا نہیں کرتی۔یہی تو سب سے بڑا مسلہ ہے۔کیا میں اپنی تمام زندگی اسی جبری خاموشی میں گزار دوں؟۔مجھے ہنسنے کا،کھل کر جینے کا کوئی حق نہیں؟میں کھل کر جینا چاہتا ہوں۔گھٹ گھٹ کر مرنا نہیں چاہتا۔آج کی رات تمہارے پا س ہے۔کوئی نہ کوئی فیصلہ ضرور کرلو۔اگر تم کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو فیصلہ کرنے کا حق پھر میرے پاس ہوگا،اور پھر میں شائد مرحوم ماں کی طرف بھی نہ دیکھوں“۔ارشد تلخ لہجے میں بات کرکے گھر سے باہر چلا گیا۔۔

عابدہ کے لئے وہ رات قیامت سے کم نہیں تھی۔تمام شب وہ بلک بلک کر روتی رہی۔اسے کوئی سبیل نظر نہیں آ رہی تھی۔شوہر کی بے اعتنائی پر تکیہ اب مزید قربانی کا متقاضی تھا مگر اور کتنا ضبط۔؟کتنی قربانی۔؟اس سب کی تو شاید اس میں ہمت بھی نہیں تھی۔قیامت خیز رات کیسے گزری۔یہ کہانی اس کی آنکھوں میں جھانک کر محسوس کی جا سکتی تھی۔وہ صبح منہ اندھیرے ثریا خالہ کے گھر چلی گئی۔جس نے مارے ناتوانی کے اب اس کی خبر گیری بھی چھوڑ دی تھی۔اس نے تمام معاملہ ثریا خالہ کے گوش گزار کیا۔عابدہ کی باتیں ختم ہوتے ہی خالہ گویا ہوئیں۔۔”دیکھ بیٹی!شادی شدہ زندگی بہت قربانیاں مانگتی ہے۔تم دل چھوٹا نہ کر ا پنے رب پر بھروسہ کر۔ اللہ سب اچھا کرے گا۔جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا میرا رب ہوتا ہ۔۔لگتا ہے ارشد کے کسی نے کان بھرے ہیں۔کسی بدبخت نے تیرا گھر خراب کرنے کی کوشش کی ۔مجھ بد بخت سے اب چلا نہیں جاتا، نہیں تو خود اس کی دکان پر جا کر اس کو سمجھاتی کہ ایک یتیم بچی کے ساتھ ایسا ظلم کیوں کرتے ہو۔تم کچھ دن میکے بھائی کے پاس چلی جاؤ۔اسے معلوم پڑے تیرا بھی کوئی آگے پیچھے ہے۔گھر سے جاؤ گی تو ہو سکتا ہے اس کے دل میں کوئی رحم پیدا ہو جائے۔“ ”گھر سے نکلنا حل نہیں ہے خالہ! ا س نے کہا ہے کہ آج کوئی ایک فیصلہ کرکے بتاؤ۔طلاق لینی ہے یا سوتن کو قبول کرنا ہے۔۔اب تم ہی بتاؤ ان معصوم بچیوں کے ساتھ میں کیا فیصلہ کروں۔آگے آگ اور پیچھے کھائی دکھائی دیتی ہے۔نئی عورت آئے گی تو مجھے بچیوں سمیت کیسے برداشت کرے گی۔طلاق لوں تو ان کو کہاں سے کھلاؤ پلاؤں گی۔بھائی کی بیوی ایک دن کے لئے مجھے اپنے گھر برداشت نہیں کرے گی۔“
”تو پریشان نہ ہو میری بچی!اللہ کوئی حل ضرور نکالے گا۔تو گھر جا اور رب کے سامنے سجدہ ریز ہو۔وہ تیری مشکل آسانی میں تبدیل کرے گا اور اس بدبخت کے دل میں رحم ڈالے گا۔“ثریا کی باتوں سے عابدہ کے دل کا بوجھ تھوڑا ہلکا ضرور ہوا،مگر ختم نہیں۔ابھی بھی اس کے سر پرمتوقع اندیشوں کی تلوار لٹک رہی تھی۔وہ گھر آئی۔با وضو ہوکر رب کے سامنے سجدہ ریز ہوئی اور رب سے رحم کی اپیل کی۔ایک ایک لمحہ اس کے لئے صدیوں پر بھاری تھا۔خدشات، اور اندیشے کسی زہریلی ناگن کی طرح اسے ڈس رہے تھے۔کمرے میں جاتی تو جی گھبراتا۔کمرے سے صحن میں آتی تو ایسے لگتا آسمان ٹوٹ کر اس کے اوپر گرنے والا ہے۔سہ پہر کے وقت دل جب سینے سے باہر آنے  لگا تو اس نے بچیوں کو اٹھایا اور ریلوے اسٹیشن کی جانب چل نکلی۔شام کی ٹرین آنے میں ابھی کچھ وقت تھا۔وہ اس جھوٹے مصنوعی اور ترس سے لبریز رشتے سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتی تھی۔وہ شوہر کی طرف بھیک میں ملنے والی سسکتی بلکتی زندگی سے بھاگنا چا ہتی تھی۔وہ دو روٹیوں کی آڑ میں اپنی بچیوں اور خود کو کسی طالع آزما کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔وہ سوچ رہی تھی کہ دو روٹیوں کا ہی تو سارا جھگڑا ہے۔یہ تو اُسے کہیں سے بھی کھانے کو مل جائیں گی۔شاید اس کے بھائی کے گھر بھی۔۔آخر اس کا سگا بھائی تھا۔اس کی ماں کا اکلوتا بیٹا!!

ٹرین میں سوار ہوئی تو بھانت بھانت کے لوگ رش کی وجہ سے ایک دوسرے کے اوپر گر رہے تھے۔وہ بچیوں کو لیکر ٹرین کے دروازے کے پاس لیٹرین کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔جہاں سے بدبو کے بھبھوکے اڑ اڑ کر اس کی ناک کے نتھنوں کو جلا رہے تھے۔اس نے دوپٹے کے ایک پلو کا رومال سا بنا کر اپنی ناک پر رکھ لیا۔ایک گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ریل گاڑی نے مرضی پورہ کے اسٹیشن پر بریک لگائی۔عابدہ چنگ چی رکشے پر بیٹھی رات گئے تھکی ہاری بھائی کے دروازے پر پہنچی۔دونوں بیٹیوں اور کپڑوں کی ایک گھٹڑی کو تھام کر اس نے دروازہ اندر کی جانب دھکیلا تو دروازہ اندر سے بند نکلا۔دروازہ کافی دیر بجانے کے بعد کھلا تو اس کی بھابھی بشری اس کو سامنے دیکھتے ہی جھینپ گئی۔اس کاحال پوچھنا تو درکنار اس نے اسے اندر آنے کا بھی نہ کہا۔سفر کی تھکن اور شوہر کی بے وفائی کے چھینٹوں کے آثار اس کے چہرے پر منڈلا رہے تھے۔مناہل کے رونے کے بعد وہ گھڑونجی پر پڑے پانی کے گھڑے سے پانی بھر کر واپس پلٹی تو اس کے دوپٹے کا پلو گھڑونجی کے ایک پائے میں پھنس گیا۔اس نے زور لگا کر دوپٹہ کھینچا تو گھڑا دھڑام سے نیچے گر کر کرچی کرچی ہو گیا۔بشریٰ بھاگے بھاگے عابدہ کی طرف لپکتی۔ اور اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس چھین لیا۔۔”بی بی کونسا حل چلا کر آئی ہے جو آتے ہی پانی پر گر گئی۔۔منحوس قدموں کے گھر پر پڑتے ہی نقصان ہونا شروع ہو گئے۔ دو سو کا گھڑا منٹوں میں توڑ کر راکھ کر دیا۔کم بخت!جب تمہاری ماں مر کھپ گئی اور یہ گھر چھوڑ گئی تو کیوں آتی ہے یہاں۔۔تمہارے بھائی نے کبھی ذکر تک نہیں کیا تمہارا۔۔دو تین سو کا دیہاڑی دار ہے بیچارہ!اپنے بچے مشکل سے پال رہا ہے اب تمہاری لوہلی بیٹیوں کے لئے زہر کہاں سے لائے گا۔“عابدہ کے لئے بشریٰ کا یہ رد عمل نیا نہیں تھا،مگر وہ اتنی جلدی اس کے بھڑک اٹھنے کی توقع نہیں کر رہی تھی۔کچھ دیر بعد اسلم گھر آیا تو بشرٰ ی اس کو بازو سے کھینچ کر ساتھ والے کمرے میں لے گئی۔”دیکھ اسلم! تمہیں اچھی طرح پتہ ہے میری طبیعت کا۔مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔یہ منحوس اپنی اپاہج لڑکیوں کولے کر یہاں آن ٹپکی ہے۔مجھے تو لگتا ہے خاوند سے لڑ کر آئی ہے۔اگر ایسا ہے تو اس کی یہاں پر کوئی جگہ نہیں۔ہماری بلا سے جہاں مرضی جائے۔میرے پیٹ والے بچے پر اس کی منحوس بچیوں کا سایہ پڑے گا۔میں نہیں چاہتی یہ زیادہ دن ادھر رہے۔“
”ایسا نہ کہہ بشریٰ انسان کو اللہ کے قہر سے ڈرنا چاہیے۔۔عابدہ کئی سالوں بعد ادھر آئی ہے چند دن یہاں رہ کر واپس چلی جائے گی۔تم اب مزید کوئی بات نہ کرنا۔“ اسلم بشری سے ڈرتے ڈرتے بات کرتا ہے۔ ”کیوں نہ کروں بات۔ میں کروں گی بات۔تم کونسا لاکھوں کماتے ہو جو تین جیؤں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاؤ اور تمہیں کوئی پرواہ نہ ہو۔بس مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔“
”چپ رہو خداکے لئے۔وہ یہیں آس پاس ہے سن لے گی۔۔میری سگی بہن ہے لوگ پرایوں کے ساتھ بھی ایسا نہیں کرتے۔۔بس مجھے نہیں پتہ۔۔ہاں!ایک شرط پر یہ یہاں چند دن رہ سکتی ہے، اگر روزانہ ہمارے ساتھ گندم کی کٹائی پر جائے تو۔جتنی کاٹے گی اتنی کھائے گی۔“ ”چلو ٹھیک ہے۔ کل سے عابدہ کو بھی ساتھ کنکوں پہ لے جائیں گے۔“ عابدہ باہر صحن میں کھڑی یہ تمام باتیں سن رہی ہوتی ہے۔ایک سرد آہ اس کے گلوگیر ہوئی۔کچھ دیر آسمان کی طرف تکنے کے بعد وہ کمرے کی جانب چل پڑی۔رات کی گھنی سیاہی، گھر کے بوسیدہ در و دیوار کوبھیانک کھنڈر بنا رہی تھی۔چھوٹی چھوٹی دیواروں سے اندھیرا اور وحشت اندر صحن میں جھانک رہا تھا۔”کیسی ہو عابدہ؟“ وہ بھائی کے سوال پر کوئی رد عمل نہیں دے پاتی۔اسلم بچیوں کے سر پر ہاتھ پھیر کر باہر کی جانب سرک گیا۔”دیکھ تو اسلم مناہل کو تیز بخار ہے۔“عابدہ مناہل کی گردن اور پیٹ پر ہاتھ رکھے صحن میں کھانا کھاتے بھائی سے مخاطب ہوتی ہے۔”ہاں بخار تو ہے۔پر اس وقت سرکاری ہسپتال بند ہوتا ہے گاؤں والا۔کل دکھا لیں گے ِاسے۔تم اس کے ماتھے پر پانی کی پٹیاں کرو۔بخار اتر جائے گا“عابدہ نے غصیلی اور التجائیہ نظریں بھائی کے چہرے پر گاڑھ دیں۔ اس نے ایک بار نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر کھانا کھانے میں جت گیا۔رات گئے بیٹی کو گود میں لئے وہ روتی رہی۔رات کے آخری پہر وہ بغیر پنکھے کے کمرے میں پسینے سے شرابور اور بخار سے تپتی ننھی مناہل کو اٹھا کر باہر صحن میں آئی جہاں اسلم خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔”اسلم۔۔۔ہو۔۔۔اسلم۔۔۔“ہوں۔۔۔کیا ہے عابدہ؟اسلم نیند کی ہڑ بڑاہٹ میں عابدہ کی آواز پربس اتنا سا رد عمل دے سکا۔۔”یہاں سے سویرے والی ریل گاڑی کتنے بجے نکلتی ہے۔۔“ ”کیوں کیا کرنا ہے گاڑی کا؟“ وہ ابھی بھی نیند میں ہوتا ہے۔
”میں نے اپنے گھر واپس جانا ہے“۔۔سات بجے۔۔اسلم کافی حد تک نیند سے بیدار ہو چکا تھا۔

محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر
محمد افضل حیدر شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں.عرصہ دراز سے کالم , اور افسانہ نگاری میں اپنے قلم کے جوہر دکھا رہے ہیں..معاشرے کی نا ہمواریوں اور ریشہ دوانیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں.. جب گھٹن کا احساس بڑھ جائے تو پھر لکھتے ہیں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *