• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا دینِ اسلام افلاس اور غربت کا داعی ہے؟ ۔۔ حافظ صفوان

کیا دینِ اسلام افلاس اور غربت کا داعی ہے؟ ۔۔ حافظ صفوان

یاد رہنا چاہیے کہ حضور نبیِ کریم علیہ السلام نے اپنے پہلے عوامی خطاب (Townhall Communique) میں اپنی قوم سے معاشی دلدر دور کرنے کا شاندار وعدہ کیا تھا۔ آپ کے الفاظ یہ تھے کہ اگر تم میرا ساتھ دو تو وقت کی دونوں سپر پاورز تمھاری باجگزار بن جائیں گی اور بادشاہوں کی بیٹیاں تمھاری کنیزیں بن جائیں گی۔ اس اعلان کو قومِ قریش کے غریب امیر سب نے توجہ سے سنا اور دلچسپی کا اظہار کیا۔ اعیانِ قوم نے جب نبی کریم سے اس دعوے کی عملی صورت پوچھی اور دریافت کیا کہ دنیا کی سپر پاورز کو غلام بنانے اور ان کے مال و متاع پر قابض ہونے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہوگا تو حضرت محمد علیہ السلام نے اپنا مطالبہ پیش کیا کہ پہلے خدائے واحد پر ایمان لاؤ اور مجھے خدائے واحد کا فرستادہ تسلیم کرو اور سمعنا و اطعنا پر بیعت کرو۔ غربائے قوم تو رفتہ رفتہ آپ کے ساتھ ہوتے گئے لیکن امرائے قریش کپڑے جھاڑ کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اس یتیم زادے کی اطاعت ہم سے نہیں ہوتی (مفہوم از محمد حسین ہیکل)۔

جن سعید لوگوں نے حضرت محمد علیہ السلام کے دعوے کو سچا مانا اور ہر سرد و گرم میں جی جان سے آپ کے ساتھ رہے ان کو صحابہ کہتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر غریب لوگ تھے، اس قدر غریب کہ ان میں سے کیئوں کو تو 70 سے اوپر گنتی بھی نہ آتی تھی اور نہ ان کی کوئی مالی حیثیت داری تھی۔ چند امرا بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ ہوئے جن میں بعضے اتنے امیر کبیر تھے کہ اس وقت میں بڑے بڑے آفشور بزنس رکھتے تھے اور خدا نے اتنا مال دے رکھا تھا کہ ان کے ترکے کا سونا کلھاڑوں سے کاٹ کاٹ کر تقسیم کیا گیا۔

یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ہے کہ اسلام لوگوں کو غریب و بے زر کرنے یا نادار و دست نِگر بنانے کے لیے نہیں آیا بلکہ نبی کریم علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں سے مالی آسودگی اور معاشی تونگری کا وعدہ کیا تھا جو جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ معاشی ترقی کے اس نبوی ہدف کے حصول کے لیے آپ علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں میں جانفشانی کا جوہر توانا رکھا اور ان کو بجائے مانگنے اور چندہ جمع کرنے کے محنت مشقت کا عادی بننے کی مستقل ترغیب دی۔ ایک فقیر سوال کرنے آیا تو اس کا کشکول بکواکر اسے کلھاڑی خریدوا دی اور محنت کرکے کمانے کھانے کی راہ سجھائی۔ آپ کے اس عمل کو سب صحابہ نے دیکھا اور اس پر عمل کیا اور رفتہ رفتہ بیشتر صحابہ مالدار ہوگئے۔ افسوس کہ معاشی کامیابی اور ترقی کے لیے اسلامی تعلیمات کا یہ شاندار پہلو آج بیشتر لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہے۔

یاد رہنا چاہیے کہ رزق میں وسعت کا کوئی وظیفہ ہوتا تو حضرت محمد علیہ السلام اور صحابہ کو پیٹ پر پتھر نہ باندھنا پڑتے اور نہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک یہودی کے ہاں کنویں سے پانی کے ڈول نکالنے جیسی نازل درجے کی ملازمت کرنا پڑتی۔ مال محنت سے آتا ہے نہ کہ وظائف کرنے اور آیات کے نقش لٹکانے سے۔ خدا ہمیں سمجھ دے۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *