جمعیت علمائے اسلام ہی کیوں؟ وقاص خان

 ملک میں جب سے کہا جانے لگا ہے کہ پاکستان کے عوام سیاسی اعتبار سے قدرے با شعور ہو گئے ہیں تب سے سیاسی کارکن کی اخلاقی گراوٹ اور بدتمیزی کا شکوہ بھی سننے میں آ رہا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس سلسلے میں کسی ایک جماعت کے کارکن کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا بلکہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے کارکن اس مرض میں مبتلا ہیں۔ کوئی کم بیمار ہے تو کوئی زیادہ۔ لیکن جیسے عمدہ اخلاق کے مظاہر کسی ایک جماعت کا طرہ امتیاز نہیں ہیں بالکل ایسے ہی بد اخلاقی بھی کسی ایک کی میراث نہیں۔ ملک و قوم کا درد رکھنے والے احباب پارٹی رہنماؤں کو اس ناروا رویے کا ذمہ دار مانتے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ ایک سمجھدار سیاسی رہنما اپنے کارکن کی اخلاقی تربیت کی طرف بھرپور توجہ دیتا ہے، لیکن میرے خیال میں اخلاقی تربیت کا ذمہ دارپارٹی رہنما نہیں بلکہ وہ سماج ہوتا ہے جو سیاسی کارکن کی پرورش کرتا ہے۔ اگر خود سماج ہی اخلاقی پستی اور زوال کا شکار ہو تو کسی بھی عوامی، جمہوری اور سیاسی پارٹی کے کارکن سے خوش اخلاقی کی امید رکھنا کار بے کار ہے، خواہ اس پارٹی کا دستور اور منشور قرآن و سنت پر مبنی ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ سیاسی جماعتیں سماج کے عام افراد سے مل کر بنتی ہیں اور جب تک سماج کے ہر فرد کی بہترین تعلیم و تربیت کا انتظام نہ ہو گا تب تک ہر سیاسی جماعت کا کارکن پارٹی منشور اور اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بدتمیزی کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔

وطن عزیز میں بہت ساری دیگر سیاسی جماعتوں میں ایک جمعیت علمائے اسلام بھی ہے۔ جس کا مقصد خدا کی زمین پر خدا کا نظام قائم کرنا ہے۔ اس وقت جمعیت کے لاکھوں کارکن سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے کئی بار دیکھا کہ سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک کی دنیا میں جب کبھی جمعیت کا کارکن بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے پایا جاتا ہے تو پڑھا لکھا اور سنجیدہ طبقہ بھی گلہ کرتا ہے کہ دیکھو اسلام کا نام لینے والے کس قدر بد اخلاق ہیں۔ معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا کہ میں اس منطق کودرست نہیں مانتا۔ ٹھیک ہے کہ اسلام کے نام لیواؤں کو پیغمبرانہ اخلاق کا مالک ہونا چاہیے۔ لیکن اس حقیقت سے نظریں چرانا بھی نا انصافی ہے کہ جے یو آئی کا کارکن آخر تو اسی سماج کا کل پرزہ ہے۔ ہمارا سماج ہی تو ہے جو اس کی تربیت کرتا ہے اس لیے اس کے رویے میں اگرہمارے زوال پذیر سماج کا عکس نظر آتا ہے تو اچنبھے کی بات کیوں؟ قصہ کوتاہ جہاں ہم “جے یو آئی” کے ہمدردوں سے خوش اخلاقی کی امید رکھتے ہیں وہیں ان میں کسی ایک کی بداخلاقی کو جماعت نہیں بلکہ سماج کی کمزوری مانتے ہیں۔ ہاں اگر بد اخلاقی و تلخ گوئی کے واقعات پارٹی لیڈر یا جماعت کے مرکزی رہنماؤں کا شیوہ ہوتا تو یقیناً افسوسناک صورتحال ہو تی لیکن ایسا ہے نہیں۔ یہ پہلی وجہ ہے کہ مجھے جے یو آئی کا ہمدرد ہونے پر کوئی تردد نہیں ہے۔

جمعیت علمائے اسلام سے ہمدردی کی دوسری وجہ اس کی بے مثال قیادت ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو لاکھوں علمائے کرام کا اعتماد تو حاصل ہے ہی لیکن یہ بھی صرف انہی کا کمال ہے کہ مرکزی سطح کے تمام سیاستدان مولانا کی طلسماتی شخصیت کے اسیر نظر آتے ہیں۔ بہت سے دوستوں کا خیال ہے کہ مولانا کرپٹ انسان ہیں کیونکہ وہ ہر حکومت کا حصہ بننے کے لیے سیاست کرتے ہیں۔ ہماری گزارش ہے کہ سیاست کرنے کا اور مقصد ہی کیا ہوتا ہے؟ یا ہمیں اس سیاستدان کا نام بتا دیں جو حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن کا حصہ بننے کے لیے سیاست کرتا ہو؟ تفنن برطرف اصل بات یہ ہے کہ اکثر سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں اور ملکی و غیر ملکی رہنماؤں کے ہاں اگر مولانا کو اتنی عزت حاصل ہے کہ وہ اپنی حکومت میں انہیں خوشی خوشی شریک کرتے ہیں تومنہ کیوں بسورنا؟ بلکہ مولانا کی یہ حیثیت عیاں کرتی ہے کہ وہ ایک باوقار ، سنجیدہ اور قومی و بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاستدان ہیں۔ ورنہ اگر کرپٹ اور نا اہل ہوتے تو کون انہیں منہ لگاتا؟ سیاسی اتحاد تو چلیں وقتی مفاد پر مبنی ہوتے ہیں لیکن مولانا مذہبی و مسلکی حیثیت میں بھی خود کو کئی بار منوا چکے ہیں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایساعالم دین ہو گا(یاد رہے عالم دین کہا ہے، گنبد نشین مولوی نہیں) جو مولانا کے ساتھ محبت اورعقیدت کا دم نہیں بھرتا،خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتب فکر کے ساتھ ہو۔ جواب میں مولانا بھی مذہبی طبقے کی ہر پریشانی کو اپنی پریشانی، ہر مسئلے کو اپنا مسئلہ اور ہر دکھ کو اپنا دکھ مانتے ہیں۔ مذہبی طبقہ مولانا کو جب بھی جہاں کہیں رہنمائی کے لیے یا کسی بھی طرح کی سیاسی، سماجی اور اخلاقی مدد کے لیے پکارتا ہے تو وہ فورا لبیک کہتے ہیں۔ مذہب اور مذہبی طبقے کی خدمت کے لیے مولانا کی ترجیحات جماعتی، مسلکی یا سیاسی اختلاف کی وجہ سے تبدیل نہیں ہوتیں۔ اور تو اور ان لوگوں کے ساتھ بھی مولانا کا رویہ مفاہمت اور اپنائیت پر مبنی ہوتا ہے جو پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں اور ان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔

کئی بار تو ایسا بھی ہوا ہے کہ جماعت کے دیگر رہنماؤں نے مولانا کو روکنے کی کوشش کی کہ دیکھیں فلاں صاحب آپ کے بارے میں نفرت انگیز مہم کا حصہ ہیں لیکن آپ انہیں کچھ نہیں کہتے، میں نے خود دیکھا ہے کہ ایسے موقع پرمولانا مسکرا کر بات کو ٹال دیتے ہیں۔

یہاں ایک سوال کی گنجائش بنتی ہے، سو لگے ہاتھوں اس سے بھی نپٹ لیتے ہیں اور وہ یہ کہ مولانا فضل الرحمن کی پارلیمانی و سیاسی کارکردگی کے حوالے سے اگر کوئی پوچھے کہ مولانا جو ہر ایک کے ساتھ بنا کر رکھتے ہیں تو اس کا مقصد کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مذہبی طبقے کو استعمال کر کے اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف ہوں؟ تومیں جواب میں پورے اعتماد کے ساتھ کہوں گا کہ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ مانتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن فرشتہ نہیں بلکہ ہماری طرح گوشت پوست کے انسان ہیں۔ یقیناً وہ کوئی مقدس ہستی بھی نہیں کہ ان سے خطا کا صدور محال ہو۔ لیکن پچیس تیس برس کے سیاسی سفر میں ایسا کوئی موقع نہیں آیا جب انہوں نے جان بوجھ کر غلط پالیسی اختیار کی ہو، مالی و اخلاقی بدعنوانی کی بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھوئے ہوں یا ماورائے آئین کسی عہدے کی خواہش کی ہو۔ انحطاط کے اس دور میں جمعیت علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمن ہی وہ لوگ ہیں جن میں اتنی صفات یکجا ہیں۔ اور یہی وہ سبب ہے جس نے مجھ جیسے انسان کو بھی جمعیت علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمن کی محبت کا اسیر بنا دیا ہے۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *