• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شدت پسندانہ رویئے کی عمومی وجوہات اور ان کے تدارکے لئے تجاویز۔۔۔۔عارف کاشمیری/مقابلہ مضمون نویسی

شدت پسندانہ رویئے کی عمومی وجوہات اور ان کے تدارکے لئے تجاویز۔۔۔۔عارف کاشمیری/مقابلہ مضمون نویسی

کسی بھی مسئلے کا حل صرف تب ہوتا ہے جب مسئلے کے اسباب سمجھ میں آ جائیں۔ اس لیئے ضروری ہے کہ ہم ایک نظر ان اسباب کو دیکھ لیں جو انسان کے رویئے کو پرتشدد بنا دیتا ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق انسان بالعموم اس رائے یا نقطہء نظر پر زیادہ متشدد ہوتا ہے جس رائے یا خیال کو وہ قطعی اور آخری سچائی اور حقیقت مانتاہو۔ لیکن ہم اس کی نجی زندگی اور اس خیال میں ربط و تعلق دیکھیں تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ اس متشدد خیال کے پنپنے کی کم از کم یہ چار وجوہات ہیں..

1۔ انسان اس بات پر متشدد ہوتا ہے جس سے اس کے معاشی وسائل میں اضافہ ہو ہو رہا ہو۔
2۔ یا پھر جس سے اس کی جان۔ مال۔ عزت۔ آبرو۔ اور دیگر ضروریات زندگی کو تحفظ حاصل ہوتا ہو
3: یا پھر جس سے اس کو اپنی انا کی تسکین حاصل ہو رہی ہو۔
4: یا پھر جس سے اس کو کسی مادی یا غیر مادی منفعت کی امید ہو (یعنی جنت کی گارنٹی یا کوئی دیگر مالی منفعت) ان کے علاؤہ دیگر اسباب بھی ہو سکتے ہیں۔

شدت پسند اپنے موقف کو علمی بنیادوں کی بجائے معلوماتی بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔ متشدد مسئلے سے متعلق خود کو زیادہ سے زیادہ باخبر ثابت کرتا ہے لیکن علم چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔ بات بات پر تاریخ۔فلسفے۔ جغرافیے۔ لغت۔ یا مذہبی کتب کے حوالے دے گا۔ لیکن رویہ متشدد اور جاہلانہ رکھے گا۔ اس روئیے کی تشکیل میں متشدد فرد کی نجی زندگی کے اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ رویہ ان لوگوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے جن کی مالی حیثیت دگرگوں ہوتی ہے۔ وہ اسی رجحان کے ذریعے بتدریج اپنی معاش اور پوزیشن مستحکم کر لیتے ہیں۔

مذہبی شدت پسند بھی مذکورہ بالا انہی اسباب کی وجہ سے اپنے رویئے میں شدت کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ اولین سبب تو ظاہر ہے معاش ہے ۔ آپ نوٹ کریں گے کہ اجتماعات ، جلسوں اور ریلیوں میں شعلہ بیانی کے ذریعے لوگوں کو اشتعال دلانے والے اکثریت سے مساجد کے پیش امام یا ان کے پہلی صف کے مقتدی ہوتے ہیں ۔ جس شخص کا روزگار  ہی مذہب ہو گا وہ شخص زیادہ متشدد ہوتا ہے  ۔  ہم یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کہ عام طور پر متشدد رویئے کی ایک وجہ کمزور معیشت بھی ہوتی ہے ۔ جب آپ اپنے اخراجات پورے نہ کر سکیں تو رویئے میں درشتگی اور سختی آ جاتی ہے ۔ یہ بھی ایک وجہ ہے متشدد رویئے کی ۔ اور جب اسی متشدد رویئے سے آپ کے معاشی وسائل میں اضافہ ہونا شروع ہو جائے تو پھر اس کو انسان اپنی سرشت مان لیتا ہے ۔ ہم اپنے ماحول میں عام طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ اعتدال پسند مبلغین کو معاشرے میں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے متشدد مبلغین کو ان سے کم مسائل درپیش ہوتے ہیں وجہ صاف ظاہر ہے کہ متشدد مبلغ کا اولین ہدف ہی معتدل  مبلغ بنتا ہے ۔ جب کہ معتدل مبلغ کے پاس ابلاغ کے لیئے اخلاقیات اور نرمی ہوتی ہے وہ متشدد کے خلاف محاذ کھولنے سے بھی اجتناب کرتا ہے ۔  بدعملی اور جنت کے شارٹ کٹ کی نیت سے بھی بہت سے متشدد لوگ دوسروں کی جان کی حرمت خود پر ساقط  فرض کر لیتے ہیں ۔ ایسے میں اگر انہیں کسی متشدد خطیب کے کسی وعظ سے کوئی دلیل مل جائے تو وہ اپنی عاقبت سنوارنے کے چکر میں دوسرے کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے ۔  اس مسئلے کا حل یہی ہے کہ اگر ان اسباب کا تدارک کر لیا جائے  تو ممکن ہے کہ ہم شدت پسندانہ رویوں سے معاشرے کو خالی کر نے میں کامیاب ہو جائیں

بہر کیف یہ طے ہے کہ شدت پسندانہ رویئے کو ختم کرنے کے لیئے اعتدال پسندی کا ابلاغ ، مذہبی تعلیمات کی روشنی میں متشدد اذہان کی کونسلنگ ، اور مذہب سے وابستہ افراد کو معاشی مسائل سے نجات دینے کے ساتھ ساتھ مذہب کا سافٹ امیج اجاگر کرنے اور اس سلسلے میں مکالمے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تب ہی اس مسئلے سے نجات مل سکے گی ۔

عارف کاشمیری
عارف کاشمیری
اصل نام ۔ پیرزادہ عتیق الرحمان شاہ پیشہ ۔ صحافت

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *