• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور ان کا تدارک۔۔۔آصف منہاس/مقابلہ مضمون نویسی

پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور ان کا تدارک۔۔۔آصف منہاس/مقابلہ مضمون نویسی

ہمارے معاشرے میں پائے جانے والی شدت پسندی دراصل ہمارے سماجی رویوں میں عدم برداشت کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ شدت پسندی اور عدم برداشت شاید اس خطے کی گھٹی میں ہے۔ یہ کبھی انا کی شکل میں، کبھی حاکمیت کی شکل میں، کبھی مذہبی راہنماؤں کی اندھی عقیدت کے رنگ میں، کبھی ذات برادری، کبھی جھوٹی عزت، شان اور شملے کی شکل میں اس شدت پسندی اور عدم برداشت کو روا رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کی سب سے بھیانک شکل وہ ہے جو مذہب کے نام پر جنونیت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ہماری اس ”کمزوری“ سے ہم پر حکومت کرنے والی اندرونی اور بیرونی طاقتیں اور مذہبی عناصر بخوبی آگاہ ہیں۔ اسی کمزوری کووہ ذاتی، اجتماعی اوروسیع تر مفادات کے نام پر نہ صرف استعمال کرتے رہے ہیں ہیں بلکہ ان میں بڑھاوے کا موجب بنے ہیں۔

ملک کی مسلمان اکثریت ہروہ کام کرنے کو تُلی بیٹھی ہے، جو اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہو۔ صفائی اور پاکیزگی ہو، ایمانداری ہو، جھوٹ ہو، ملاوٹ ہو بلکہ طرز زندگی کے بارے میں جتنے اسلامی احکامات ہیں، اسلام کا نام لینے والے ان کی صریحاً خلاف ورزی کرتے نظر آئیں گے۔قرآن کریم میں جگہ جگہ تحقیق کرلینے کا ارشاد ہوا ہے ہم ہر دوسرے قرآنی حکم کی طرح تحقیق کو اپنے لئے گناہ تصور کرکے اس سے پہلو تہی کرتے ہیں۔بدقسمتی سے اس عدم تحقیق کے رواج نے ہی معاشرے میں شدت پسندی کو رواج دیا ہے۔انگریزی میں ایک قول ہے کہ ”ہم سنتے آدھا، سمجھتے ایک چوتھائی، سوچتے صفر اوررد عمل دگنا دکھاتے ہیں۔“ یہ پیمانہ تو شاید مغربی اقوام کا رہا ہوگا لیکن ہم تو اپنی مرضی کا سنتے، اپنی مرضی کا سمجھتے ہیں، سوچنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کرتے اور ردعمل کئی گنا دکھاتے ہیں۔

بابائے قوم محمد علی جناح نے۱۱/ اگست کو ہی قومی سطح پر مذہبی شدت پسندی کے خلاف اپنی پالیسی نہ صرف بیان کردی بلکہ عملاً بھی ریاستی شکل میں اس کی بنیاد رکھ دی جب آپ نے مختلف فرقہ اور مذہب کے لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر نمائندگی دی۔ قائد کے نزدیک مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں تھی، ہر کوئی اپنے مذہب پر عمل کے لئے آزاد تھا۔پاکستان کے لئے اس کی خدمات اس کے علم اور صلاحیتوں کی وجہ سے تھیں،نہ کہ اس کے مذہب یا عقیدے پر ان کی بنا تھی۔
بدقسمتی سے آپ کی وفات کے بعد شدت پسند قوتوں نے اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کردیں۔ سیاست، سائنس، معاشیات، کھیل،کاروبار یہاں تک کہ روزمرہ دوکانداری تک میں مذہبی شدت پسندی رواج پا گئی۔ضیاء الحق کے دور تک سرکاری سرپرستی میں نحوست کی یہ جڑیں مضبوط اور تناور درخت بن چکی تھیں۔ بعد میں آنے والوں نے بھی اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے حسب توفیق کھاد ڈالی، گوڈی کی اور اسے مضبوط تر کردیا۔ بدقسمتی سے آج آسیب کایہ سایہ ملک کے اوپراس طرح پھیل چکا ہے کہ پہلے اگر کسی فرقے کو کافر قرار دیا جاتا تھا تو اب یہ بات افراد تک آ پہنچی ہے، اوراگر کسی فرد کو غدار قرار دیا جاتا تھا تو اب پوری پوری جماعت، گروہ یا فرقے کو غدار کہنا معمول بن گیا ہے۔ بس یہ کہ جس سے آپ کے خیالات نہیں ملتے، جو دلیل میں آپ سے مضبوط ہے، جس کا مقابلہ آپ صلاحیت سے نہیں کرسکتے، اس پر کفر یا غداری کا فتویٰ لگائیے۔ مومنین تیار بیٹھے ہیں۔ بغیر سنے، بغیر سوچے سمجھے اسے یا تو ”جہنم واصل“ کر دیں گے یا اسی دنیا کو اس کے لئے جہنم سے بدتر بنا دیں گے۔

مجھے انعام سے زیادہ انعام رانا کے ”آسیہ مسیح کے وکیل“ ہونے والے واقعہ نے یہ مضمون لکھنے پر آمادہ کیا۔ انعام رانا کے ساتھ ہونے والا واقعہ نہ ہمارے ملک میں نیا یا اچھوتا تھا اور نہ خاکم بدہن آخری۔ کئی مشعال خان کئی جنید حفیظ، کئی ڈاکٹر مہدی علی، کئی ذہنی معذور، کئی ننکانہ صاحب، کئی یوحنا آباد اس کی بھینٹ چڑھ چکے۔ مذہب اور حب الوطنی کے نام پر غلط سلط باتیں کسی کی طرف منسوب کردیجئے، اگر ”بدقسمتی“ سے وہ بچ گیا تو ساری عمر صفائیاں دیتا رہے گا بخشا نہیں جائے گا۔

سوشل میڈیا پر اکثر اوقات اس عدم برداشت کے مظاہر ملتے ہیں، ایک بندے نے پوری دلیل اور تاریخی حوالوں سے کوئی بات کی۔ بجائے اس کے کہ آپ اس پر غور و فکر کریں آپ نے نیچے لکھا: ”کافر، جہنمی، لنڈے کا لبرل، یہودی، قادیانی یا استعماری ایجنٹ“۔ وجہ صرف ایک ہی کہ طوطے کی طرح جو بات رٹائی گئی ہے ہم اس کے بالمقابل بات کو ماننے کو تیار نہیں، کھوپے چڑھا کر جس پٹری پر چڑھا دیا گیا ہے ہم اس سے اترنے کے روادار نہیں۔اورنہ ہی اس قابل ہیں کہ علمی تحقیق سے لکھنے والے کی بات کا رد کرسکیں۔ہم اپنی سوچ کو ہر حال میں بہترین اور دوسرے کے دلیل کو ہر لحاظ سے کمتر اور ذلیل ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ انا کی اس جنگ میں ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں خواہ اس کے لئے خاندان اجڑیں یا بستی۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ انہی خاندانوں اور بستیوں سے ملک کر ہی ملک بنا کرتے ہیں۔ مہذب اور دلیل پر مشتمل اختلاف ہی قوموں اور معاشروں کو آگے لے جاتے ہیں۔

روزمرہ کے معاملات کو دیکھئے، گاڑی چلاتے وقت ہم کسی کو راستہ دینے، کسی کے آگے آنے سے پہلے اشارہ دینے، اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے ریاست کے قوانین کے مطابق جرمانہ ادا کرنے وغیرہ کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ہاں دوسروں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہر سہولت پیدا کرے کیونکہ یہ ہمارا استحقاق ہے۔ پچاس لاکھ، ایک کروڑ کی گاڑی والے کو تو پولیس ویسے ہی نہیں روکے گی لیکن اگر روک لیا تو وہ ساڑھے تین سو روپیہ جرمانہ ادا کرنے کی بجائے اپنے یا اپنے کسی رشتہ دار، یاردوست کے تعارف کو ذریعہ بنائے گا۔ ائیرپورٹ، بنک اور دوسرے اداروں میں قطار میں کھڑے ہونا ہماری توہین ہے لیکن دوسروں سے توقع کریں گے کہ وہ لائن میں لگ کر کام کیوں نہیں کرواتے۔ اس لئے کہ ہم اپنے آپ کو ہر ایک سے بہتر، افضل اور مراعات یافتہ خیال کرتے ہیں لیکن دوسروں کی معمولی خامیوں بلکہ ان کے حق کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہمارا یہ رویہ ہم سے کم سماجی رتبہ والوں کی برہمی میں اضافہ کرتاہے اور وہ اس کا غصہ کسی دوسرے پر منتقل کرتے ہیں اور اس طرح ایک چین چل پڑتی ہے جو معاشرے کی عدم برداشت میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔

آپ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو دیکھ لیں۔ ٹیسٹ کرکٹ صبر اوربرداشت کا کھیل ہے۔ جن کھلاڑیوں اور ٹیموں میں صبر اور برداشت کرنے کی عادت ہوگی، وہ ٹیسٹ میں بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔ دنیا میں ٹی ٹونٹی کی بہترین ٹیم پاکستان،ٹیسٹ کرکٹ کی رینکنگ میں آخری نمبروں تک پہنچ جاتی ہے۔ کیا یہ رینکنگ ہمارے مجموعی مزاج کی عکاس تونہیں؟
آخر اس بحث کا حل کیا ہے؟ میرے خیال میں قوموں کا مزاج لیڈر بنایا کرتے ہیں اور بدقسمتی سے قائد کے بعد قوم کو صحیح سمت دینے والا لیڈر نہیں ملا جو اپنے عمل اور پالیسیوں سے قوم کے مزاج کی صحیح سمت متعین کرتا۔رومی کی طرف منسوب ایک قول ہے کہ ”اپنی آواز بلند کرنے کی بجائے اپنی دلیل مضبوط کیجئے۔“ دلیل کی مضبوطی کے لئے علم کی ضرورت ہوگی۔ علم صحیح اور غلط کی تفریق کا شعور پیدا کرے گا، آنکھیں بند کرکے کسی مذہبی، سیاسی، قومی مداری کے پیچھے بندر کی طرح ناچنے سے روک دے گا۔مدرسے سے لے کر انٹرنیشنل بیکلوریٹ ٰ(IB)تک دس قسم کا نظام تعلیم ایک عجیب الجھی ہوئی نسل پیدا کررہا ہے، جسے تحقیق سے کوئی علاقہ نہیں، ہاں نمبر حاصل کرنے کی جلدی ہے۔

اندھی عقیدت کی بجائے اعمال کو کتاب، سنت اور اخلاقی و قانونی معیار کے مطابق بنانا ہوگا اس سے ذات میں ٹھہراؤ پیدا ہوگا۔وی آئی پی کلچر ختم ہوگا تو عام لوگ ان خاص لوگوں کو اپنی طرح ہی کے انسان سمجھیں گے کوئی خلائی مخلوق نہیں۔ورنہ جس کا جتنا ہاتھ پڑے گا وہ دوسروں کو روندتاگذر جائے گا۔ ہر بندہ قانون کے آگے جوابدہ ہوگا تو اپنی انانیت پر قابو پائے گا۔محروم طبقہ یا تو اپنے سے نیچے والوں کے حقوق غصب کرے گا یا اس کا غم و غصہ کسی رنگ میں شدت پسندی پر منتج ہوگا۔خدا کرے مری ارض پاک پہ اترے وہ لمحہ، وہ وقت۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *