ترجمان بنیں ،دشمن نہیں ۔۔مسرت اللہ جان

ترجمان ۔۔جس کی وکی پیڈیا میں تعریف کچھ یوں ہے کہ “ایسا پروفیشنل شخص جوکسی بھی ادارے کی طرف سے نامزد ہو اور وہ اس ادارے کی اچھائیاں  یا ادارے میں ہونے والے کسی غلط اقدام پر میڈیا کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی وضاحت کرے۔ایسا شخص جو کمیونیکشن ،جرنلزم ، پبلک ریلیشن اور پبلک افیئر میں ماہر ہواور اپنے معاملات کو صحیح انداز میں رائے عامہ یا پریس پر پیش کرے”۔۔

ترجمان بننا کسی بھی ادارے کا ، کسی سیاسی پارٹی کا سب کو اچھا لگتا ہے کیونکہ اس میں ایک طرف میڈیا سے تعلق بنتا ہے تو دوسری طرف بڑی واہ واہ بھی ہوتی ہے  اور آج کل کے دور میں  ہر ایک کی خواہش ہے کہ ترجمان بنے،لیکن دوسری طرف یہ کا م مشکل  بھی  ہے، کیونکہ کیمرے کا سامنا کرنا اور اسی کے ساتھ ساتھ کسی ادارے ، شخصیت ، سیاسی پارٹی کی “گند ” کو ” گل قند” ثابت کرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔کیونکہ حالات اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کہ ترجمان یعنی ہمارے ایک صحافی دوست کے “چمچے”کیلئے لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا کہ وہ ٹھیک ہے  قدرے  مشکل اس وقت ہوتا ہے جب اسے اپنے “دیگ”کے بارے میں پتہ بھی نہ ہو ، یا پھر وہ “دیگ”جس کا وہ ترجمان ہو اس میں کسی بھی وقت مختلف چیز ڈال دی جاتی ہے ۔

اس لئے ترجمان کو اپنے سابقہ  بیان کے تناظر میں بیان دینا مشکل ہوتا ہے،کیونکہ پہلے لوگ بھول جایا کرتے تھے اب شکر ہے کہ سوشل میڈیا پرہر چیز مل جاتی ہے  ۔ اخبارات کی کٹنگ اور ٹی وی چینلز کی ریکارڈنگ لینا ہر ایک کی بس کی بات نہیں لیکن شکر یہ “چہرہ کتاب “یعنی فیس بک پر  کسی بھی وقت انسان کو ہر چیز مل جاتی ہے ۔

بات ترجمان سے نکل کر کہیں اور نکل گئی، ترجمانی کا کام سب سے زیادہ اب صحافی ہی کرتے ہیں کیونکہ مختلف لوگوں کیساتھ رابطوں میں رہ کر وہ نہ صرف ماحول کو ہینڈل کرنا جان جاتے ہیں بلکہ لوگوں کے رویے  اور وقت کی نزاکت کو بھی سمجھتے ہیں اس لئے ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں کہ اداروں ،شخصیات اور  سیاسی  پارٹیوں کا “گند” بھی عام شہریوں کو ” گل قند”نظر آنے لگتا ہے۔اسی ترجمانی کے چکر میں صحافیوں کو ٹھیک ٹھاک ” خرچہ پانی ” مل جاتا ہے۔ ان میں تو بعض ایسے ہیں جنہوں نے صرف اپنے اداروں تک اپنے آپ کو محدود کردیا ہے اور دیگر معاملات میں نہیں پڑتے-

لیکن دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ ایسے ترجمان بھی دیکھنے میں آتے ہیں جنہیں آفیشلی طور پر کچھ نہیں ملتا، بس وہ اپنے نظریے  کی  بنیاد پر ان شخصیات ، سیاسی پارٹیوں کیساتھ مل جاتے ہیں لیکن ان میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو متعلقہ شخصیات کی غلط اور منفی سرگرمیوں پر آنکھیں بند کرنے کے بجائے اسے اپنے  ساتھیوں  کو درپردہ رپورٹ کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ان لیڈروں کی سرگرمیوں کا پتہ چل جائے زیادہ تر ایسے ہیں جنہیں آرام سے کھانے کی عادت اس حد تک اندھا کردیتی ہے   کہ وہ بہت کچھ جانتے ہوئے بھی صرف “تنخواہ” اور مراعات کے چکر میں آنکھیں بند کردیتے ہیں او ر ان کی اس غفلت کی وجہ سے عوام کا پیسہ/سرکاری مشینری غلط استعمال ہوتی ہیں –

ہمارے ہاں کچھ ایسے ترجمان بھی ہیں جو سیاسی پارٹیوں کے مخبر کے طور پر کام کرتے ہیں  صحافیوں کے اندر کی خبریں اپنے ” آقاؤں” کو پہنچاتے ہیں اور ان کی طرف سے آنے والے  پریس ریلیزوں کو بڑے فخر سے بھجواتے ہیں کہ جی مجھے صاحب نے بھیجا ہے اور آپ اس کو شائع کردیں- اسی کے بدلے میں اپنے ان آقاؤں  سے  بہت سارے صحافیوں نے پوش علاقوں میں زمینیں خرید لیں بعض جن کی اوقات سائیکل لینے کی بھی نہیں وہ بھی آج کل بیس لاکھ روپے کی گاڑیوں  میں پھر رہے ہیں،کیونکہ آقا ؤں  کی خدمت کرتے کرتے یہی ترجمان اپنے کام نکالنا بھی جانتے ہیں کہ کس کو کہاں پر بھرتی کرانا ہے اور کتنا خرچہ پانی نکالنا ہے.اور اس عمل میں وہی صحافی بڑے کامیاب ہیں جو آنکھیں بند کرکے اپنے اوپر مخصوص چمڑی اوڑھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر بے عزتی بھی اثر نہیں کرتی اور یہ لوگ اپنا کام نکال لیتے ہیں-

ترجمانی کا کام کچھ صحافی ایسے بھی کرتے ہیں کہ وہ اپنے  متعلقہ بیٹس جو وہ انہیں ادارے کی جانب سے دیے  جاتے  ہیں تاکہ وہ ان اداروں کی خبروں کے ذمہ دار ہوں کبھی کبھار ایسے ہو جاتے ہیں کہ پشتو مثل کے بقول “دا خان نہ نہ دا خانہ چمچے بہ یریگی ” یعنی خان اتنا برا نہیں مانتا جتنا خان کی چمچہ گیری کرنے والے برا مانتے ہیں، ایسی صورتحال ہمارے ہاں بعض اوقات زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے ، ہمار ے صحافی بھائیوں کو اپنی  متعلقہ بیٹس کے اداروں کی منفی چیزیں نظر نہیں آتیں ، انہیں صرف “چمچہ یا کف گیر” بننا اچھا لگتا ہے او ر “سب اچھا ہے”کی رپورٹ ہر جگہ پر دیتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا شخص غلطی سے متعلقہ اداروں کی صورتحال دکھانے کی کوشش کرے تو پہلے تو اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی  جاتی ہیں یا پھربعض اوقات صحافی اسے ذاتی طور پرلیکر دشمنیاں تک بنا لیتے ہیں کہ جیسے یہ ادارہ ان کے “ابا جی “کا ہو۔

Advertisements
julia rana solicitors london

بعض اوقات ایسی باتیں سننے کو مل جاتی ہیں کہ فلاں ادارے کا ڈائریکٹر،وزیر،سیکشن آفیسر یا ایم پی اے ،ناظم میرا دوست ہے اس لئے آپ ہاتھ ہولا رکھیں۔اب سمجھنے کی  بات  تو  یہ ہے کہ ان کی دوستیاں صرف اپنے مقصد کیلئے ہوتی ہیں  اور  ایک صحافی کی کیا اوقات کہ پیسے والا بندہ اسے دوست بنائے،لیکن ہمارے ترجمانی کرنے والے صحافیوں کو کون سمجھائے،ویسے گھوڑا اگر گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا۔اور صحافی کا بنیادی طور پر کام “عوام کی ترجمانی”کرنا ہے نہ کہ کسی مخصوص طبقے کا۔ ویسے چلتے چلتے یہ بھی بتا دوں کبھی کبھار یہ ترجمانی مہنگی بھی پڑ جاتی ہے ، کوئی دس سال قبل ایک صاحب سے جو ایک کالعدم تنظیم کے ترجمان تھے ان کے لیڈر کا انٹرویو کرتے کرتے ہمارا بھی تعلق بن گیا۔وہ ترجمان دو مذہبی پارٹیاں جو اس وقت پاکستان کی ٹاپ پارٹیوں میں شمار ہوتی ہیں ۔ لیکن ان سے بدظن ہوا اور پھر اسی کالعدم تنظیم کا ترجمان بن گیا، اس کے دو بیٹے بھی بڑے سرگرم رہے، کچھ عرصہ کام تنظیم کیلئے  چلاتا رہا۔ پھر بعد میں موصوف  کی  اللہ مغفرت کرے۔ انہی کالعدم تنظیم کے لوگوں نے مار دیا ۔۔سومیرے صحافی بھائیوں سمیت تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ ترجمانی کرے لیکن اس ترجمانی کیلئے دشمنی نہ کرے!

Facebook Comments

مسرت اللہ جان
مسرت اللہ جان کا تعلق پشاور شہر سے ہے ، شعبہ صحافت سے گذشتہ 16سالوں سے وابستہ ہیں-پشاور یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد ڈویلپمنٹ جرنلزم میں کورس پشاور کے شعبہ صحافت سے مکمل کی- جس میں صوبہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی- سارک فیلو بھی رہے اور ایشین کالج آف جرنلزم چنائی میں پاکستان کی نمائندگی کی تاہم پاک بھارت تنازعہ کے باعث مسرت اللہ جان )نیو میڈیا( کا کورس ادھورا چھوڑ کر واپس پاکستان آگئے- مختلف اخبارات سے وابستگی رہی- اس وقت دنیا ٹی وی پشاور بیورو کیساتھ بطور سٹاف رپورٹر کے وابستہ ہیں- بین الاقوامی نیوز ایجنسی آرٹی برلن کیساتھ بطور فری لانسر کے بھی کام کیا جبکہ فرانسیسی فوٹوایجنسی کے لئے بھی خیبر پختونخواہ میں کام کرتے رہے- کراچی کی ویب سائٹ ہماری ویب کیلئے بطور بلاگر/کالم نگار لکھ رہے ہیں- مقامی اخبارات میں بھی کالم / بلاگ لکھتے رہے ہیں-کالم نگاروں کی تنظیم ا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply