یہ جذبے

یہ رمضان کے آخری عشرے کی بات ہے ۔۔۔ اعتکاف کے لیے مسجد میں تھا۔افطاری کے ساتھ گھر سے اکثر بھتیجا حسنین بھی آ جاتا تھا۔ اور پھر نماز مغرب تک کچھ ہنسی مذاق کر لیا کرتا تھا۔بھتیجے حسنین کی خوبی ہے کہ سنجیدہ گفتگو بھی بہت زبردست کرتا ہے۔ گو کہ عمر ابھی چار سال ہے ۔ مگر بعض اوقات اس کی منطق میری دلیل پر بھاری ہوتی ہے،ایک دن افطاری سے کچھ پہلے میرے ساتھ بحث شروع کر دی کہ مسجد کے محراب پر کشمیر لکھا ہے۔ میں نے دیکھ کر انکار کر دیا کہ نہیں لکھا آپ کو پڑھنا نہیں آتا۔ مگر وہ بضد تھا کہ کشمیر لکھا ہے۔مجھے پکڑ کر محراب کے قریب لے گیا اور اشارہ کرتے ہوئے اردو سے پنجابی زبان میں آ کر بولا۔”اے کیہہ لکھیا ہویا اے “(یہ کیا لکھا ہوا ہے)۔میں نے کہا ……کوئی حال نہیں اے تے کلمہ لکھیا ہویا اے بھیا۔۔۔! (یہ تو کلمہ لکھا ہے)
بھیا ہم سب حسنین علی کو پیار سے کہتے ہیں۔
میرا جواب سن کہ بولا ۔۔تو کشمیریوں سے رشتہ کیا؟۔۔میں بولا” لا اله الا الله” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ حسنین علی مزید کچھ بولتا میں نے پیار سے حسنین علی کو چوما۔ اور تعریف کی۔۔۔کشمیر سے محبت تو ہر پاکستانی کی رگوں میں لہو کی مانند دوڑ رہی ہے۔ یہ دب تو سکتی ہے مٹ نہیں سکتی۔ کشمیر پاکستانیوں کی رگوں میں اس دن سے شامل ہوتا ہے جب مائیں بچوں کو دودھ پلا رہی ہوتی ہیں۔ہمیں پاکستان نے سب کچھ دیا۔ مگر اپنے مہاجر کارڈ کی تجدید صرف اس لیے کرواتے ہیں کہ ہمیں یاد رہے کہ اس کشمیر سے ہمیں ایک نسبت ہے۔ وہی نسبت جو ہمارے بڑوں کو 47 اور 65 میں پاکستان لائی تھی۔۔۔بھتیجے کی مزید سنجیدہ اور منطقی باتیں پھر کبھی شامل کریں گے۔ اب ذرا آپ کو ایک جھلک کشمیریوں کی پاکستان سے محبت کی دکھاتے ہیں۔

آئے روز سوشل میڈیا پر سرحد پار سے شئیر ہوئی ویڈیوز اور تصاویر دیکھتا ہوں اور دیکھ کر خود پر شرمندگی ہوتی ہے کہ ہم نے پاکستان کی قدر نہیں جانی۔وادی کے ایک نوجوان نے بتایا کہ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ پاکستان کا پرچم اٹھانے کے جرم میں گولی کھانی پڑتی ہے مگر کشمیری سینوں پر پاکستانی پرچم اور ماتھے پر کفن سجا کر انڈین آرمی کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔میں نے برہان ، ابو القاسم، ماجد اور ان جیسے کئی شہدا کے جنازے دیکھے ہیں جن میں سفید کفن پر سبز پرچم کو ترجیح دی جاتی ہے۔ابو القاسم ایک پاکستانی مجاہد تھا جسے کشمیری ماؤں نے اپنا لعل کہا تھا. جس کا جنازہ کشمیر کے کئی شہروں قصبوں اور دیہاتوں میں پڑھا گیا تھا۔ جس کی میت کو اپنے علاقے کی زمین دینا کشمیری اپنا فخر سمجھتے تھے ۔میں نے لال چوک میں غیرت مند بہن آسیہ اندرابی کے ہاتھوں پاکستان کی محبت میں گائے کو ذبح ہوتے دیکھا ہے.میں نے ڈاکٹر قاسم کو 25 سال سے زیادہ عرصہ پاکستان سے محبت کے جرم میں پابند سلاسل دیکھا ہے۔میں نے پاکستان سے لازوال محبت میں سید علی گیلانی کو یہ کہتے سنا ہے کہ” تیری جان میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان پاکستان ،تیری منڈی میری منڈی ۔۔۔۔۔راولپنڈی راولپنڈی “۔
میں نے یاسین ملک کو ایک مدت تک ظلم سہتے ہوئے دیکھا ہے۔

میں نے ان کے جلسوں میں حافظ سعید سے محبت کے نعرے سنے ہیں،میں نے کشمیر کے بیٹوں کو پاکستانی پرچم ہاتھوں میں تھامے جلسوں میں لہراتے دیکھا ہے۔ میں نے لال چوک میں یوم پاکستان پر پاکستانی پرچم دیکھا ہے۔میں نے 23 مارچ کی تقریب میں پاکستان کا قومی ترانہ سیدہ آسیہ اندرابی کی زبانی سنا ہے۔
اگر یہ کہوں کہ میں نے پاکستان کی محبت کا جذبہ پاکستانیوں سے زیادہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں میں دیکھا ہے تو بالکل غلط نہ ہو گا۔سوشل میڈیا پر ایک کشمیری نے مجھے بتایا کہ پاکستان انڈیا کے کرکٹ میچ کے بعد جب گھروں سے پاکستان زندہ باد کی صدا بلند ہوئی تو بھارتی درندے گھروں میں گھس کر ہماری زباں بندی کرنے لگے۔ ماریں کھا کر بھی زبان سے پاکستان زندہ باد نکلا۔۔۔۔۔۔۔ ایک میچ جیتنے سے کشمیری اتنے خوش ہوتے ہیں کہ دس لاکھ بھارتی فورسز کے سامنے پاکستان کا پرچم لیے پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ باہر نکل آتے ہیں۔

گزشتہ میچ کے دوران میں اعتکاف میں تھا۔ کچھ دوست مجھے میچ کی جیت کی خوشخبری دینے آئے۔ میں نے پہلا سوال پوچھا بھائی کشمیریوں کا کیا حال ہے۔ میں جانتا تھا کہ اس خوشی میں بھی کشمیریوں نے کئی جانیں پیشکی ہوں گی،اور جشن منایا ہوگا۔ کیسی قوم ہے اور کیسی پاکستان سے محبت ہے کہ خوشی میں بھی قربانیاں اور پاکستان پر مشکل وقت آئے پھر بھی قربانیاں۔عید کے دن ایک کشمیری نے مجھے گھر پکے ہوئے میٹھے چاولوں کی تصویر وٹس ایپ کی جن میں سبز رنگ ڈالا گیا تھا۔میں نے اکثر کشمیریوں کی ڈی پیز کو سبز دیکھا ۔سوچتا ہوں کہ جانے کون سی طاقت ہے جو جبر کے اس پہرے میں انہیں شدت سے پاکستان کی محبت پر اکساتی ہے۔ پھر ذہن بھتیجے کی اس بات پر جاتا ہے کہ چاچو وہ دیکھو محراب پر کشمیر لکھا ہے۔اور وہاں لکھا کلمہ طیبہ مجھے حوصلہ دیتا ہے۔۔اے پاکستانی تیرا ایمان لا اله الا الله پر کچا ہو سکتا ہے۔ تیرے کشمیری بھائی کا ہرگز نہیں۔ میرے کشمیری بھائیوں کے جذبے ہر دور میں اسی لا اله الا الله نے جوان رکھے ہیں۔ اور یہ جوان رہیں گے.
ان شاء الله ۔

Avatar
نعمان علی ہاشم
کالم نگار بننے کی مسلسل کشمکش میں ہیں۔ امی ڈاکٹر اور ابو انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ ہم نے کالج سے راہ فرار لی اور فیس بک سے باقاعدہ دانشوری شروع کر دی۔ اب تک چند اخباروں میں مہمان کالم چھپ چکا ہے۔ مگر کسی نے مستقل قبول نہیں کیا. قبول سے یاد آیا کسی نے ابھی تک قبول ہے قبول ہے قبول ہے بھی نہیں کیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *