تضادات سے بھرپور معاشرہ خود اپنے منہ پر تھپڑ ہے

احمق ہیں وہ جو سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے اقتدار میں آنے سے انقلاب آجائے گا اور اس سے بھی بڑے احمق وہ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے آنے سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ جیسی جماعتوں کے رہتے عمران خان کا اقتدار میں آ جانا ہی بڑی تبدیلی ہوگا۔ جب آپ جعلی وکلا تحریک میں افتخار چوہدری جیسے آمر اور متنازعہ جج سے مشرف کو گرا کر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو نیچا دکھا سکتے ہیں تو پھر سٹیٹسکو جماعتوں کی بوسیدہ سیاسی دیوار کو عمران سے گرانے میں کیا حرج اور گناہ ہے؟ عمران پر آپ جتنی بھی تنقید کر لیں ، اسے جتنا مرضی برا بھلا کہہ لیں ،وہ افتخار چوہدری سے تو بہتر ہی ہے۔ ایک طرف محض احمقانہ بیانات ہیں، مفروضے ہیں، اور دوسری طرف اسٹیبلش فیلئیر قیادت اپنے تمام تر ثابت شدہ جرائم اور نا اہلیوں کیساتھ موجود ہے۔ لوگ قیادتوں کا تقابل کرنے بیٹھتے ہیں تو مچھلی کی طرح پھسل کر سیدھے ان لوٹوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹوں تک پہنچ جاتے ہیں جو محض سٹیٹس کو کے چھوٹے چھوٹے مہرے ہیں اور بہر حال نواز لیگ اور تحریک انصاف دونوں میں موجود ہیں۔

قیادت کا تقابل قیادت سے کریں گے تو ہی وہ درست تجزیہ کہلائے گا۔ مگر اکثر لوگ یہ کہہ کر وہاں سے راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں کہ خالی ایک عمران خان سے کیا ہوتا ہے، باقی تو وہی ہیں۔ ارے بھائی اپنے غلامانہ ذہنوں کے گرد اونچی کھڑی دورِ جاہلیت کی بوسیدہ دیواروں کو ایک بار گرنے تو دو، شاید کوئی ایک تازہ ہوا کا جھونکا، کوئی روشنی کی کرن تبدیلی کی اگلی منزل کا پتہ بتا دے۔ یعنی عمران خان اپنے فالوورز کے ساتھ کوئی آخری منزل تھوڑی ہے۔ یہ تو ایک بلڈوزر ہے جو دیوار گرانے کے کام آئے گا۔ اور جب یہ دیوار ایک بار گر جائے تو نہ عمران حرف آخر بن سکے گا نہ اس کے فالوورز۔ جمہوریت میں بہتری محض نظام کے تسلسل سے ممکن نہیں، اس کے لیے قیادتوں کا بدلتے رہنا بھی ضروری ہے۔ اور یہ جملے صرف ان کے لیے ہیں جو عمرانو فوبیا کا شکار ہیں اور اس کی کسی بھی خوبی کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

ورنہ اگر کوئی اپنی آنکھوں سے تعصب کی پٹیاں اتار کر اسے دیکھے تو جہاں وہ طالبان کو دفتر کھول کر دینے جیسی سوچ سے بہتری کی توقع رکھتا ہے، وہیں وہ بارہا ثابت کرتا ہے کہ وہ نہ مفاد پرست ہے نہ موقع پرست اور نہ ہی مذہبی انتہا پسند۔ وہ چاہتا تو ممتاز قادری کی پھانسی پر ذرا سی سیاست کر کے بہت بڑا سیاسی فائدہ حاصل کر سکتا تھا۔ مگر اس نے اس کی حمایت میں ایک جملہ نہ کہا، اُلٹا بیان دے کر پھنس گیا کہ معافی مانگنی پڑی۔ ذرا یہ چھٹانک بھر دانش والی نوازی ہوئی لبرل اشرافیہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ اگر یہی پھانسی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہوتی یا عمران ہی اقتدار میں ہوتا تو ’’کیا میمو گیٹ جیسےنظر آنے والے دو نمبر سکینڈل پر کالا کوٹ پہن کر عدالت جانے والے میاں نواز شریف ایسا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیتے؟‘‘ میرا جواب ہے، ہرگز نہیں۔ تاہم اگر ان عمران مخالف نوازے ہوئے لبرل صحافیوں میں ضمیر نام کی کوئی شے باقی ہے تو کوئی ایک مثال پیش کر دیں جہاں میاں صاحب نے خود کو موقع پرست ثابت نہ کیا ہو؟

سیاسی مفادات کے لیے ضیا جیسے آمر کی خوشنودی کی خاطر شہید محترمہ کو جانے کیسے کیسے گندے القابات سے مخاطب کرتے رہے، اذیتیں دیتے رہے۔
ضیا مر گیا اور جلا وطن ہوئے تو محترمہ کے ساتھ میثاق جمہوریت سائن کر لیا۔ اور آج کل بھٹو خاندان کی قربانیاں کیش کروا کر خود کو مظلوم ثابت کرنے نکلے ہیں۔ بہر حال یہ غلام معاشرے میں طاقتور سے طاقتور ترین کی جنگ ہے لہذا بلا شبہ مردہ جنرل ضیا الحق سے لے کر مشرف، پاشا، کیانی اور راحیل شریف سمیت تمام فوجی جرنیلوں کا بھی اسی انداز میں اوپن ٹرائل ہونا چاہیے جیسے شریفوں کا ہور رہا ہے۔ مگر لیگی اہل بیت سے مریم کی مماثلت کے گناہ کو ایک طرف رکھ کر صرف اپنے یزید کا نام بتادیں؟ فیصلہ سپریم کورٹ کے ہاتھ اور جے آئی ٹی بھی اُس کی۔ نہ توہین اہلبیت پر شور، نہ کوئی توہین عدالت کا نوٹس۔ پھر بھی سازش، پھر بھی مظلوم۔ نون لیگ کے علاوہ کسی دوسری جماعت کے بندے نے یہی بات کی ہوتی تو اسے اب تک توہین عدالت کا نوٹس مل بھی چُکا ہوتا اور دوسری طرف چوہدری نثار کی سربراہی میں ایف آئی اے کی ٹیم اسے سائبر کرائم لا میں دھر چکی ہوتی یا پھر وہ مفتیان کے فتوؤں کے بعد کسی ہجوم کے گھیرے میں آ چکا ہوتا، کسی ممتاز قدری کی گولی کا نشانہ بن چکا ہوتا۔

شرفیوں کو اس ریاست میں اور کتنی گنجائش چاہیے جہاں وزیر اعظم سات سیکنڈ کی سزا پر گھر جاتا ہے اور دوسرا ایسے کیس میں پھانسی کے پھندے پر جھول جاتا ہے جس کا حوالہ بھی کسی عدالت میں قبول نہیں ہوتا؟ تضادات اور عدم مساوات سے بھرپور ہمارا معاشرہ خود اپنے منہ پر تھپڑ ہے۔ مذہبی سے لبرل تک ہر کوئی ایک ہی جیسے معاملات پر متضاد رائے رکھتا ہے۔ ایک خاص مکتب فکر کے لوگوں میں سے کوئی توہین کرے تو معافی کی گنجائش نکالنے جید علما میدان میں اتر آتے ہیں، لیکن کسی کسی کمزور اقلیت کی صورت انھیں سانپ سونگھا رہتا ہے۔ نواز لیگ کے حامی لبرل صحافی مریم نواز کو جھک کر پین پکڑانے اور سلوٹ کرنے والی ایس پی صاحبہ کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں مگر ان کی زبانوں پر منہاج القرآن کی تنزیلہ شازیہ کا نام کبھی نہیں آتا۔ انھیں حاملہ خواتین پر تشدد کرتی پولیس بھی نظر نہیں آتی۔ چھت پر چلتی سالگرہ کی تقریب میں پولیس بلا اجازت گھس کر نہ صرف وہاں موجود پڑھے لکھے نوجوان لڑکوں کو ہاتھ باندھ کر فرش پر الٹا لٹاتی ہے بلکہ خواتین کے ہاتھ بھی پشت پر باندھ کر وڈیوز بناتی ہے۔ ایک لڑکی اپنے بالوں سے چہرہ چھپانے لگتی ہے تو ایک ہاتھ زبردستی اس کا چہرہ کیمرے کے سامنے کرتا ہے۔

اس ساری بد تہذیبی پر ٹویٹر پر بیٹھے عمران خان کو طالبان خان کہنے والے نواز لیگ کے لبرلز اور صحافیوں کا دھڑا خاموش رہتا ہے۔ انھیں تکلیف ہوتی ہے تو مریم کی پیشی پر سلوٹ مارنے والی پولیس آفیسر کے خلاف درخواست دینے پر۔ اگر پیشی پر آئی کسی غریب عورت کا پین ایسے ایس پی صاحبہ کے قدموں میں گر جاتا تو شاید اس کو خود اٹھانے کی اجازت بھی نہ ملتی۔ دوسری طرف نواز لیگ ہی میں شامل مذہبی اور بنیاد پرست لوگوں کو ڈاکٹرز ہاسٹل میں بلا اجازت لڑکیوں کے کمرے میں داخل ہونے، ان کے بیڈز پر بیٹھنے، اسسٹنٹ کمشنر پر مشرقی روایات یاد نہیں آتیں۔ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ نے عجب تھیٹر لگا رکھا ہے۔ کسی کا بھی کوئی واضع نظریہ نہیں۔ سب نے مخالفین کے لیے ہر نظریہ اور فکر کے الگ الگ سنگل ٹریک وکیل بھرتی کر رکھے ہیں۔ آج اکثر لوگ جمہوریت کے تسلسل کی آڑ میں گلی سڑی روایتی جمہوریت کو سہارا دینے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن شاید برائی محض حکومتوں کے وقت سے پہلے جانے میں نہیں تھی، برائی فوج کے اقتدار میں آنے سے تھی۔
اگر فوج ہر حال میں اقتدار سے باہر رہے اور شہید محترمہ کی ویژنری سوچ کے مطابق قانون ساز اسمبلیوں کی مدت پانچ کی بجائے ساڑھے تین سال کر دی جائے تو بیشتر مسائل تو اتنی سی تبدیلی سے بھی حل ہو سکتے ہیں!

عمار کاظمی
عمار کاظمی
عمار کاظمی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ سماجی مسائل پر شعور و آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *