مکالمہ ایک بچے سے۔۔۔جبران عباسی

کچھ دن گزرتے ہیں کہ ہاسٹل کے کمرے پر دستک ہوتی ہے ، قریباً سات سال کا بچہ پرانی کاپیاں اور اخباریں مانگتا ہے ، میں اس سے پہلے انکار کر دیتا ، معصومیت بھرے دو بول مجھے مجبور کر گئے ، مہینہ بھر کے اخبارات اور پچھلے سمسٹر کے نوٹس ’’پی ٹی آئی ‘‘ کے جھنڈے میں پوٹلی بنا کر دے دیے ۔ صرف شہروز کی ایک موٹی سی کتاب اندازاً تین کلو قیمتاً دو ہزار بچ گئی ۔ ’’آپ کے پاس پرانی کاپیاں اور کتابیں ہیں‘‘؟۔۔۔

اردو معلٰی کا ایسا نستعلیق تلفظ تھا کہ اہلِ زبان بھی اپنا بھرم رکھنے کیلئے خاموش رہیں ۔ وہ بچہ اگر کسی صاحب اختیار کا بچہ ہوتا تو سوسائٹی کا well ٹیلنٹڈ بچہ مانا جاتا ۔ خدا کی ناقابلِ فہم مصلحت ہے کہ اس کے نصیب میں پرانے کاغذ ہی چننا آئے ۔

میں نافرمان ہو جاتا ہوں جب دیکھتا ہوں رنگ برنگے پنسلوں سے کھیلنا اس کا حق تھا ۔ کسی کمیونسٹ کی وال پر پڑھا تھا۔ ’’ میں جب غریب کو روٹی دیتا ہوں تو ولی کہلاتا ہوں اور جب پوچھتا ہوں کہ غریب کو روٹی کیوں میسر نہیں  تو دہریا‘‘۔

اس کی آنکھیں نہیں  دو موتی امید کے تھے جو خدا نے رکھ دیے تھے ، اس بچے کے پاس بہتر مستقبل کے خواب کے علاوہ بھی کچھ تھا؟ ہو سکتا ہے یقین ۔ وہ شاید اس کام سے ناراض نہ تھا کیونکہ جب میں نے اسے کہا! تم کہیال والے گورنمنٹ سکول میں جا سکتے ہو ۔ تو وہ خاموش رہا ، اچھا ہے جتنا عرصہ وہ تعلیم میں ضائع کرے گا اتنے میں کوئی  فن سیکھ لے گا ۔ جب غریب کے بچے کو پورا تعلیم اور محفوظ کیریئر پلان نہیں  دے سکتے تو خدارا آپ انھیں سکولوں میں دھکیل کر ان کے پیٹ پر لات نہ مارا کریں خاص کر بھٹوں کے مزدور بچے جن کی سخت مجبوریاں ہوتی ہیں شوق نہیں  ۔

اکثر لوگوں سے مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے سٹائل ، شکل اور اپنے خیالات سے مجھے مرغوب کرتے ہیں ، اگرچہ میں نے ایسے لوگوں سے احساسِ کمتری کا شکار ہو کر ہمیشہ حسد ہی کیا ۔ مگر اس بچے نے تو مجھے انسپائر کیا جیسے موٹیوشنل سپیکر کرتے ہیں۔ میں نے راویتی NGOs والا گھسا پٹا سوال بھی پوچھا۔۔ یہ کام کیوں کرتے ہو ؟ ۔۔۔

والد ہمارے ساتھ نہیں  رہتے ، صرف امی ہیں اور چھوٹے بہن بھائی  ہیں ۔ مگر اسکی ٹمٹاتی آنکھیں و بے چین لہجہ بتا رہا تھا کہ اسکے یہ بول جھوٹے ہیں ۔ وہ بھکاری بچوں سے بالکل صاف ، کباڑ چننے والوں سے کہیں دلکش تھا ۔ کپڑے صاف ستھرے البتہ چہرے پر کچھ دھول جمی تھی معلوم ہوتا تھا شاید وہ کافی دیر سے گھوم رہا ہے ، بےترتیب میلے بال اسے اور پرکشش بناتے تھے ۔ محسوس ہوتا تھا اسکی والدہ نے اسے بنا سنوار کر بھیجا تھا ، سو مجبوریاں ہوتی ہیں ، اب کیسی باتیں گھڑنی۔ ۔۔۔

وہ چلا گیا ، شاید کہ اب واپس آئے ۔ ایک سوال بطور امانت چھوڑ گیا ، کہ ایسے بچوں کے نصیب میں نئی کتابیں کب تک محض ایک سیاسی نعرہ ہی رِہے   گا۔ خدا نے اسے مکالمہ کا فن دیا مگر نصیب میں پرانے کاغذ چننا ، میرے ہاتھ میں کتابیں مگر شخصیت میں کمی ، ہم دونوں برابر ہیں کہ خدا نے ہمیں کچھ خام صلاحیتیں دے کر ہماری تعمیر میں بہت سی خامیاں چھوڑ دیں کہ باقی شخصیت کی تعمیر اپنے مزاج کے مطابق خود کریں ، ہم میں کون کامیاب ہو گا قبلِ ازوقت ہے البتہ شخصیت کی تکمیل کیلئے مخلصانہ کوشش اور جرت مند انتخاب میری ترجیح ہے ۔

وہ بچہ میرا موضوع یوں بنا کہ وہ ان دنوں آیا ، جب میں اعصاب شکن احساسِ ناکامی کے محض خوف کی سخت نفسیاتی الجھن سے گزر رہا تھا ۔ مجھے کچھ دنوں سے اپنا مسقبل بڑا غیر یقینی سا نظر لگنے لگا کہ میرے پاس پروفیشنلی کوئی  بڑے چانس نہیں  ہیں ۔ بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ ٹراما سے نکلنا آسان اور اچھا لگا ، بالخصوص اس بچے  کے بعد مجھے احساس ہونے لگا ، میرے پاس اس چائلڈ سٹار سے زیادہ چانس ہو سکتے ہیں ، فوکس کا ایک دوسرا فیکٹر ہے جو پروفیشنلی کامیاب بنا سکتا ہے ۔ ہر انسان اپنی منفرد خوبی کا مالک ہے ، اسے پہچاننا ، اس کو حاصل کرنا اور پھر دوسروں کو اس کی پہچان کروانا یہی رمز ہے ۔

ہیگل نے کہا تھا ’’ وہ ایک آئیڈیا تھا جس نے اپنی پہچان کروانے کی خواہش کی اور کائنات کی تخلیق کا بیڑہ اٹھایا‘‘ ۔ انسان کی حقیقی پہچان وہ خود نہیں  اسکی سوچ کرواتی ہے ۔ منفرد خیالات اکثر تنہا رِہ جاتے ہیں ، ہم آہنگی پیدا کرنی پڑتی ہے اکثریت کی سوچ سے ۔ دراصل تیسری دنیا کا آدمی ذہنی غذائیت کی کمی کا شکار ہے ، بازاروں کو نکلو تو لوگ ہی لوگ ، پارکوں میں بے انتہا رش ۔ گھر میں تو پرائیوسی محال۔ کوئی  سوچے تو کیسے ؟ پھر ہر کوئی  دانشور کیوں بنے ۔ اب تو دانشور اور تحزیہ نگار بھی کمرشل مجبوریوں کیلئے کچھ وقت کتاب کیلئے نکال لیتے ہیں ۔ ہم نے ابھی زندگی کے بڑے بڑے کرائسس دیکھنے ہیں بس شکار نہیں  ہونا ۔

یقین مانیے وہ بچہ بہت ٹیلنٹڈ تھا ، کامیاب بھی ہو سکتا تھا مگر شاید وہ ہار جائے میرے پاس اس جیسے ایک دوسرے بچےکی مثال موجود ہے جو کوئی  دو سال پہلے اسی طرح پرانی کاپیاں مانگنے آیا ، بے حد معصوم چہرہ اور نازک ۔۔۔ چھ ماہ بعد دوبارہ آیا ، سپید چہرہ اب زرد ہو چکا تھا ، وہ تیزی سے مرجھا رہا تھا ، سخت گرمی میں جیسے نازک پھول مرجھاتا ہے ، میں وثوق سے کہہ  سکتا ہوں اس نے بچپنے کی خوشی کسی سستے نشے میں تلاش کر ہی لی تھی ، کپکپاتی آواز میں جب اس نے پرانی کاپیاں مانگیں تو میں سمجھ گیا وہ جلدی میں ہے ، اسے دوبارہ اپنی ڈوز لینی ہے ، ابھی اسی وقت!

Avatar
جبران عباسی
میں ایبٹ آباد سے بطور کالم نگار ’’خاموش آواز ‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ مختلف اخبارات کیلئے لکھتا ہوں۔ بی ایس انٹرنیشنل ریلیشن کے دوسرے سمسٹر میں ہوں۔ مذہب ، معاشرت اور سیاست پر اپنے سعی شعور و آگہی کو جانچنا اور پیش کرنا میرا منشورِ قلم ہے ۔ تنقید میرا قلمی ذوق ہے ، اعتقاد سے بڑھ کر منطقی استدلال میری قلمی میراث ہے ۔ انیس سال کا لڑکا محض شوق سے مجبور نہیں بلکہ لکھنا اس کا ایمان ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *