جبران عباسی کی تحاریر
Avatar
جبران عباسی
میں ایبٹ آباد سے بطور کالم نگار ’’خاموش آواز ‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ مختلف اخبارات کیلئے لکھتا ہوں۔ بی ایس انٹرنیشنل ریلیشن کے دوسرے سمسٹر میں ہوں۔ مذہب ، معاشرت اور سیاست پر اپنے سعی شعور و آگہی کو جانچنا اور پیش کرنا میرا منشورِ قلم ہے ۔ تنقید میرا قلمی ذوق ہے ، اعتقاد سے بڑھ کر منطقی استدلال میری قلمی میراث ہے ۔ انیس سال کا لڑکا محض شوق سے مجبور نہیں بلکہ لکھنا اس کا ایمان ہے

وقت اور خدا۔۔۔۔جبرا ن عباسی

وقت بھی خداکا ایک روپ ہے ، گھڑی نے اسے اگرچہ منٹ  سیکنڈوں تک قید کر لیا ہے ۔ مگر یہ دن رات ، ہفتہ ، مہینہ ، سال و صدیاں محض ایک انسانی پرسپیشن ہیں ۔ کہہ  لیجیے دھوکہ←  مزید پڑھیے

میرا گاؤں اور بہار۔۔۔۔ایم جبران عباسی

دریائے جہلم کا پانی ہر وقت ایک ہی رفتار اور شونکار سے بہتا رہتا ہے ، اس بپھرے اور ناقابلِ عبور دریا کو بھی چاہنیوں نے قابو کر لیا ہے ، جابجا چھوٹے ڈیم ، بڑی بڑی سرنگیں ، ایک←  مزید پڑھیے

تیسری گرہ۔۔۔۔محمد جبران عباسی

ہر انسان کے پاس ایک رسی ہے ، اس میں تین گرہیں باندھ دی گئیں ہیں ، پہلی گرہ اسکا وجود تسلیم کی جائے ، دوسری گرہ موت جبکہ تیسری گرہ اس کے افکار و خواہشات کی ہے جن کی←  مزید پڑھیے

عدم برداشت ایک ٹریجڈی۔۔۔۔ایم جبران عباسی

جرائم کی ایک تھیوری کہتی ہے ہومو سیپیئن انسان (موجودہ انسان کے جد امجد) دوسرے ارتقاپذیر انسانوں کی مخلوقات سے محفوظ یوں رہا کہ اس نے ہڈی سے بنا ہتھوڑا نما ہتھیار ایجاد کیا ، وہ دوسرے انسانی مخلوقات کے←  مزید پڑھیے

آٹھ اکتوبر کی یاد میں ۔۔۔جبران عباسی

تیرہ برس گزرنے کو ہیں مگر وہ خوف جانے کا نام نہیں لیتا ، آج بھی اس دن کا کوئی  لمحہ بھولتا نہیں  ، بعد میں اور پہلے ہونے والے کئی واقعات یاداشت سے مٹ گئے مگر یہ نوحہ انمٹ←  مزید پڑھیے

میرا حلقہ پی کے چھتیس اور میرا انتخاب۔۔۔۔ جبران عباسی

 میں ایک دن کمپین پر نمبل گاوں میں پیپلز پارٹی کے صوبائی و قومی نشست کے امیدوار منظور ممتاز عباسی کے ساتھ رہا ، وہاں ایک دوسرے امیدوار کا بھائی جو خود بھی کمپین کے سلسلے میں آیا تھا اچانک←  مزید پڑھیے

اکیسویں صدی میں سامراج کا کیا کردار ہے؟۔۔۔جبران عباسی

جب شہری ریاستوں کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں ، انسان کی پولیٹیکل سوچ ارتقا پذیر ہو کر سینٹ جیسے اداروں کے قیام تک پہنچ چکی تھی ، جمہوریہ اور یوٹوپیائی  فلسفہِ حکومت بحث و اختلاف کے قابل بنا دیے←  مزید پڑھیے

مکالمہ ایک بچے سے۔۔۔جبران عباسی

کچھ دن گزرتے ہیں کہ ہاسٹل کے کمرے پر دستک ہوتی ہے ، قریباً سات سال کا بچہ پرانی کاپیاں اور اخباریں مانگتا ہے ، میں اس سے پہلے انکار کر دیتا ، معصومیت بھرے دو بول مجھے مجبور کر←  مزید پڑھیے