ریاستی مفاد اور ایران سعودی چپقلش

ٹرمپ ان دنوں سعودی حکومت کا مہمان تھا۔ چونکہ سعودی عرب سے محبت و نفرت کرنے والوں کی مملکت الباکستان میں بہتات ہے لہٰذاپچھلے ایک ہفتے سے مومنین و صالحین بارش کے بعد جیسے نکلے سے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر آپ بغض کی دو مثالیں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں تو اپنی ٹائم لائن کا رخ کیجئے۔ آپ کو نظر آئے گا کہ ہمارے کچھ بھائی کیسے بدلتے ہوئے سعودیہ کو ماننے سے خاموش انکاری ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پنجاب یونیورسٹی میں علاقائی ناچ گانے پہ غدر مچا دیتے ہیں مگر سعودی عرب کی تعظیم میں خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ دوسری جانب میڈ بائی یورپ ایرانی انقلاب کے حامی بھائی ہیں جو آج سعودی امریکی رومانس پہ بھرپور طعنہ زن ہیں۔ فیس بک کی ٹائم لائن آج کل رنگین ہے۔ ہر دوسرا شخص “امت مسلمہ” کی آبروریزی کے غصے میں امت مسلمہ ہی کی مزید آبروریزی میں مصروف ہے۔
امت مسلمہ کا ذکر حقیقتاً اب امت اخبار کی حد تک محدود ہوچکا ہے۔ یہ خواب کم از کم ہمارے نزدیک اسی دن چکناچور ہو چلا تھا جس دن پہلی سے دوسری اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ اس کے بعد بین الاقوامی سیاست یا فرد واحد کے ذاتی نفع نقصان کی بنیاد پر مزید حصے بخرے ہی جاری رہے۔ ایسی صورت میں یہ طے ہے کہ امت مسلمہ کے نام پہ کسی ایک فریق پہ طعنہ زنی دراصل اندر کی گندگی باہر لانے کے سوا کچھ نہیں۔ امت کا چورن ایک جانب رکھیں اور سنجیدگی سے سوچیں تو واضح ہو گا کہ ریاست اپنے مفاد کی بنیاد پر تعلقات بناتی یا بگاڑتی ہے۔ آئیے سعودیہ ایران مسائل پہ ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ریاست پاکستان کے مفاد کہاں پنہاں ہیں۔
ایرانی انقلاب سے پہلے تک ایران اور سعودی عرب کے معاملات اتنے بدتر نہ تھے۔ پھر یوں ہوا کہ خمینی و ہمنواؤں نے انقلاب برآمد کرنے کی پالیسی شروع کر دی اور اس طرح علاقائی”انگلی” کا آغاز کیا۔ اگر آپ کو اس ایران پر فخر ہے جس نے انقلاب کے بعد اسرائیل کو شیطان قرار دے کر تمام سفارتی تعلقات ترک کئے تو آپ لے لئیے خاموشی کا مقام ہے وہ عراق ایران جنگ جس میں اسرائیلی امداد کے سبب صدام حسین کو خاک چٹائی گئی۔ سوال عین جائز ہے کہ یہ دو دشمن بھلا کرن ارجن کیسے بن گئے؟ کیا یہ ریاست کے”وسیع تر مفاد”کی عمدہ ترین مثالوں میں سے ایک نہیں؟ یاددہانی کے لئیے یہ بھی جان رکھیے کہ (روزنامہ ٹیلیگراف کے) صحافی John Bulloch کے مطابق دوران جنگ ایرانی نماز جمعہ کے بعد جس وقت اسرائیل پر تبرہ کر رہے تھے عین اسی وقت سو سے اوپر اسرائیلی معاونین اور انجینئیر ایران میں رہتے ہوئے عراق کے خلاف مدد کر رہے تھے۔ قتل، کرامت یا ریاستی مفاد: فیصلہ پڑھنے والوں پر۔
افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد جو ہوا اسے بہت گہرائی سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ افغان جہاد کی اصطلاح سے مراد وہ جنگ ہے جو مختلف افغان کمانڈروں نے مشترکہ یا انفرادی حیثیت میں روس کے ساتھ لڑی اور اسے واپس بھگایا۔ اس جنگ میں بحیثیت ریاست ،پاکستان سمیت کئی مسلم اور عرب ممالک نے امریکہ کا ساتھ دیا۔ وجہ”امت مسلمہ” کے مفاد سے کہیں زیادہ ہر ملک کا ریاستی مفاد تھی۔ اس جنگ کے بعد افغانی بجائے یکجا ہونے کے، ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مساجد بنا کر بیٹھ گئے۔ خانہ جنگی اور علاقائی غنڈہ گردی کی شدت کے ردعمل کے طور پر قندھار سے تحریک طالبان افغانستان کا آغاز ہوا جسے ایک بار پھر پاکستان اور دیگر گئی مسلم ممالک کی امداد حاصل رہی۔ پرکھا جائے تو ہمسایہ ملک میں وفاق کاعدم ہماری جانب سے ملا عمر کا ساتھ دینے کے لئے جائز دلیل تھی خاص کر اس وقت جب ہماری افغان سرحد کا سو فیصد تعین بذات خود عدم میں ہو۔ یہ وہ وقت ہے جب تک طالبان پہ”دہشت گردی”کا الزام نہیں لگایا گیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں کابل کی فتح تک افغان اسلامی امارت کے ساتھ تعاون کو”دہشت گردوں کی مدد”کہنا بھارت کا بیانیہ ہے جس سے حتی الامکان گریز لازم ہے لیکن افسوس کہ آل سعود سے بغض اور برآمد شدہ ایرانی انقلاب سے عشق ایک فیشن کی طرح رائج ہے جس کے تحت جو جتنی بڑی جگت ایرانی مخالفین پہ مارے گا اتنی ہی تالیاں بجیں گی۔
یمن میں سعودیہ، امارات اور دیگر حلیفوں کی جانب سے حملے کا معاملہ بھی کم و بیش افغانستان والا ہی ہے۔ کوئی ریاست اپنے پڑوس میں اپنی پسندیدہ حکومت کا تختہ پلٹنے کا خیرمقدم نہیں کرے گی خاص طور پہ اس وقت جب باغیوں کو امریکہ کی آشیرباد بھی حاصل نہ ہو، اور علاقے کے دیگر تمام سٹیک ہولڈر اس بغاوت کے خلاف ہوں۔ خلیج تعاون کونسل ایک انتہائی مضبوط پلیٹ فارم ہے جس میں عمان کے علاوہ تمام ممبران یمن میں ایرانی مداخلت کے خلاف ہیں۔ عمان بہت حد تک معتدل اور دونوں بلاکس کے درمیان مذاکرات کا دروازہ ہے لہٰذا اکثر غیرجانبدار ہی رہتا ہے۔ ایران، یمن کا ہمسایہ نہیں البتہ سعودیہ کی یمن کے ساتھ چودہ سو کلومیٹر سرحد لگتی ہے۔ ایسے میں ایران کا دور یمن میں جا کر سعودیہ نواز حکومت کے خلاف باغیوں کی سرپرستی کرنا مکمل طور خطے میں امن کے خلاف ایک قدم ہے۔ اسی طرح شام کے مسئلے میں سعودیہ اور ایران دونوں کا کردار ایک سوالیہ نشان ہے۔
جہاں تک بات مذہبی جنونیت کی بات ہے تو وہابیت ایک مذہبی ڈاکٹرائین ہے جس کے مروجہ اصول و ضوابط ہیں۔ ہمیں اس ڈاکٹرائین سے اختلاف ہوسکتا ہے اس کی شدت پہ تحفظات ہو سکتے ہیں لیکن ایک ریاست سے اس کے مذہبی عقائد کی بنیاد پہ اس سے نفرت کرنا اتنا ہی غلط ہے جتنا کسی کو رنگ یا نسل کی بنیاد پہ قابل نفرت جاننا۔ یہ بات ایران اور سعودیہ دونوں پہ لاگو ہوتی ہے۔ اس بات کو ایک اور مثال کے ساتھ واضح کیا جائے تو سعودی وزیر دفاع اور نائب ولی عہد کا وہ بیان زیادتی ہے جس کے تحت وہ ایران دشمنی کی وجہ امام مہدی ؑ کے ظہور کو بتاتے ہیں۔ یہ ایک عقیدہ ہے۔ آپ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن نفرت نہیں۔ آپ یہودی مسیحا کے تصور سے بھی اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس بنیاد پہ یہود سے نفرت بھی اتنی ہی غلط ہے۔ کچھ کارنامے البتہ سعودی حکومت نے ایسے ضرور سرانجام دیے جن کے باعث دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔ ان میں مقدس مقامات و مزارات کا انہدام سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ کئی سعودی قوانین بھی ایسے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہیں، مثلاً خواتین کی ڈرائیونگ پہ پابندی۔ ایسے قوانین پہ تنقید اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ اسلام کی غلط منظرکشی کرتے ہیں۔
لیکن سعودیہ بدل رہا ہے۔ اور یہی وہ عمل ہے جو ہمیں بہتری کی امید دلاتا ہے۔ شاہ عبد اللہ کے آخری دور اور شاہ سلیمان کی سربراہی میں سلطنت کسی حد تک معتدل معاشرے کی جانب گامزن ہوچکی ہے۔ مذہبی پولیس (جنہیں متوے بھی کہا جاتا ہے) کے اختیارات میں کمی، خواتین کی ڈرائیونگ پہ پابندی کو مشروط کرنے پہ غور، میڈیا پہ خواتین کی رپورٹنگ، پبلک مقامات پہ خواتین کے حجاب کی پابندی کا ہٹنا، فیملی کے لیے پارک اور کورنیش مہیا کیا جانا، خواتین کے اکیلے شاپنگ پہ (کم از کم جدہ اور ریاض میں) پابندی کا ہٹنا وغیرہ یہ سب اشارے ہیں کہ شاہ سلیمان کی قیادت میں سعودیہ جدت پسندی کی جانب چل نکلا ہے۔ بہت سے دوستوں کے نزدیک اس پیش قدمی کی رفتار سست ہے مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ کم از کم اس جدت پسندی کے سفر کا آغاز تو ہوا۔
مذہبی اعتبار سے ایران اور سعودیہ دونوں برادر ممالک ہیں البتہ اولاً مذہبی لحاظ سے امت مسلمہ کسی کام کی نہیں اور دوم بحیثیت پاکستانی مجھے اپنی ریاست کے مفاد میں سوچنا ضروری ہے۔ خطے کی صورتحال بہت واضح ہے۔ ایران کے ساتھ بہت کم اور ایران کے خلاف سعودیہ کے ساتھ بہت سے ممالک کھڑے ہیں۔ ہمارے پاس عمان کی طرح تیل نہیں کہ ہم خود پر انحصار کرتے ہوئے غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں۔ ایسے میں سعودیہ کا ساتھ دینا ایران کے ساتھ سے کہیں بہتر انتخاب ثابت ہوتا ہے۔ افواہوں پہ کان دھریں تو ایران اور بھارت ہمیں بلوچستان میں امتحان سے گزار رہے ہیں۔ حقیقت پہ بات کریں تو کلبھوشن یادیو کے لئے ایران ہی میں حالات سازگار تھے۔ کسی کے پاس پاکستان کے خلاف سعودی جاسوسی یا مداخلت کے کوئی ثبوت ہیں تو پیش کرے بصورت دیگر سعودی حکومت کی جانب سے فنڈنگ ملا عمر کی حکومت کے خاتمے کے بعد ثابت نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے ملک میں چہروں پہ دھول اڑانے کا رواج سا بن گیا ہے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *