انسانی دماغ کا ارتقائی سفر

ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر غور کریں تو بہت سی ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں. وہ اپنا بہت بڑا اثر چھوڑ جاتی ہیں. بعینہ، nature میں یہی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک بہت بڑی biodivesity کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں. مثال کے طور پر TAGCACGC اور TAGC–CGC محض دو SEQUENCE میں تبدیلی مطلب ACکا غائب ہونا…. یہ کہانی پرانی ہے جو ابھی نا تمام ہے شاید…. کچھ منچلوں کا دعوی' ہے 2.4 سے 5.3 ملین سال پہلے جب ہر جاندار اپنی بقا کی تگ و دو میں خود کو بہتر سے بہترین کی دوڑ میں تھا تب ایک معمولی سی تبدیلی جسے mutation کہتے ہیں. آج کی اس مخلوق کا نقطی آغاز بنی جو مادہ کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے سے قیامت پرپا کرنے پر قادر اور ستاروں میں گھر بسانے والی ہو گی. جی ہاں سائنس کہتی انسان کو عقل سلیم کا تحفہ اسی دو سیکوینس AC کی مرحون منت ہے

(آپکی معلومات کیلئے یہ سیکوینسز انسانی DNA سے ایک خاص جین کی ہیں. انسانی DNA چار بیس پیئرز جنکو A, T,C,G کے نام دئے گئے ہیں سے بنا ہے اور ان بیس پئرز کی مختلف تراکیب کے مجمعوعے سے مختلف جین تشکیل پاتے ہیں جو ساخت یا کسی فنکشن کو کنٹرول کرتے ہیں. )
2004 نیچر جرنل میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی جو مسلز MUSCLES کو بنانے والے مختلف جین پر Hansell Stedman اور انکی ٹیم کی تھی. جنہوں نے Muscular dystrophy کے جینیاتی پہلوں کا مطا لعہ کیا اور اتفاقیہ انہیں انسانی DNA میں ایک خاص قسم کے muscle کے جین میں ان سیکوینس کو غائب پایا اور اسکے برعکس چیمپینزی میں پوری کی پوری سیکوینس موجود تھی. مزید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ جین جبڑے کے مسلز بنانے میں کام آتے ہیں. اس چھوٹی سی تبدیلی سے انسانی جبڑے کی مسلز چیمپنزی سے آٹھ گنا کم حجم میں ہوتے ہیں. اب آپ سوچ رہے ہوں گے تو پھر؟ تو پھر کا سائنسی جواب یہی ہے کہ مسلز کی مقدار میں کمی کا مطلب ہے کہ انسانی کھوپڑی پر کم دباءو جسکے نتیجے میں اسکی growth میں واضح فرق جو آگے ultimatly دماغ کی بڑھوتری ہے…
اسکی سادہ سی مثال آپ دولے شاہ کے چوہے لے لیں ایسے بچے جنکو منت کی آگ میں ماں باپ وہاں چھوڑ جاتے ہیں یا تھے اور انکی دماغی پرورش کو کیسے روکتے ہیں وہ آپ سب جانتے ہیں ورنہ گوگل سرچ کا بٹن دبائیں سب مل جائے گا. اسی طرح مزید دیکھیں آپکو بہت سے جواب مل جائیں گے ہمارا DNA مجموئی طور پر صرف %2 بندر یا اسکی دوسری برادری سے مختلف ہے اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انسانی نظام اتنا پیچیدہ ہونے باوجود انسانی جین کی تعداد اکثر پودوں کے جین سے کم ہے. اسمیں عزت نفس مجروح ہونے کا پہلو مت ڈھونڈیں یہ بہت سادہ ہے جین کم یا زیادہ ہونا برتری نہیں بلکہ اصل انکا کب اور کیسے استعمال ہی سب کچھ طے کرتا ہے. چارلس ڈارون نے جب مچھلی سانپ اور انسانی EMBRYO کا مشاہدہ کیا تو ابتدائی مراحل میں سب کو ایک جیسا پایا. ڈارون جانتا تھا کہ سب کا ماخز ایک ہے لیکن کیسے اسکا جواب اسکے پاس نہیں تھا آج جدید سائنس اور خصوصا" DNA ٹیکنالوجی ان سب کالوجکل جواب دیتی ہے…. ہمارے مزہبی نظریات جو بھی لیکن سائنس میں پیچھے نہیں رہنا چاھئے سائنس سوالیہ نشان کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی.

مزید عرض ہےہمارے رویوں میں بھی ایسی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں معاشروں پر اثر انداز ہوتی ہیں. ہم تشدد کو دوسروں کے گھر جھونک کر بڑی بڑی منگھڑت تاویلوں کے برج تعمیر کر تو سکتے ہیں لیکن وہ خود ہمیں ہی کھوکھلا بناتی ہیں. دوسروں کی آگ میں کودنے سے بہتر، اپنا گھر بچانا ہے. ورنہ یہی چھوٹی نفرتیں ایک بڑی تباہی بن کر آتی ہیں. آج جو عرب و فارس کی جنگ کا ایندھن ہمیں آب زم زم اور خاک شفاء بنا کر بیچا جا رہا ہے اس سے ہم اپنی ہی جھونپڑی خود ہی جلا بیٹھیں گے. ورنہ شام آپکے سامنے ہے……….

Avatar
توفیق احمد
تعارف ضروری نہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *