توں اپنی نبیڑ پرائی مت چھیڑ

راقم کے الفاظ اور احساسات اکثر جانبدار لوگ موقع پر رد اور درگزر کرجاتے ہیں لیکن ﷲ کی کرنی ایسی ہوتی ہے کہ وہ الفاظ چند ہی روز میں اکثر حقیقت کا روپ دھار کر دنیا پر آشکار ہوجاتے ہیں۔مجھے اکثر احباب بہت ہی سخت گیر اور بعض تو بدتمیز بھی شمار کرتے ہیں۔گزشتہ پورا ماہ اور ہفتہ فیسبک اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر پاکستانیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے فوج مخالف تحریک اور نعروں میں بغیر کسی سیاسی تقسیم کے مکمل اتحادی اور اتفاقی موڈ پر ایکٹو رہتے ہوئے شمولیت اختیار کی۔یہ وہ نوجوان اور پڑھے لکھے جاہل سیاسی کارکنان تھے جو کہ اصول شہریت اور اصول سیاست کے ساتھ ساتھ مذہبی ذمہ داریوں اور علم سے ناواقف تھے۔ان کو فقط یاد تھی تو اپنے جعلی ڈگری ہولڈر اور کھیل کود والے سیاستدانوں کی سیاسی جلسوں میں بیان کردہ باتیں ۔ان کی سیاسی دنیا کا محور صرف جلسے,دھرنے اور ریلیاں اور من پسند لیڈروں کے ساتھ سیلفیاں ہی ہیں ۔
ان کا لیڈر اگر فوج کو محبت اور احترام دے تو یہ بھی بلا شک و شبہ اس کے پیچھے پیچھے فوج کے گن گاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اگر ان کا لیڈر اشاراتاً بھی فوج کے خلاف بولے تو یہ بھیڑ بکریاں اپنے چرواہے کو بھی پیچھے چھوڑ کر بالکل شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار والا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔راقم نے گزشتہ ہفتے ڈان لیکس اور پھر کلبھوشن کے معاملے پر بلاوجہ اور بے دلیل تنقید کرنے والے سبھی سیاسی جمہور کو بلا تفریق اور بلا تخصیص یہ بات مختلف تحاریر کے ذریعے باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ ان باتوں سے کنارہ کشی اختیار کریں اور فوج پر بے جا اور بے سروپا تنقید سے گریز کریں۔فوج ایک ادارہ ہے نا کہ سیاسی جماعت جس کی پالیسی اور اختیارات پر اور اس کے قائدین پر تنقید کرنا آئینی طور پر جائز ہو۔عوام کے پاس تنقید کا حق جمہوریت اور جمہوری جماعتوں اور اداروں کے لیئے ہوتا ہے جبکہ فوج جیسے مقدس اور مقدم ادارے پر تنقید نہیں بلکہ اس کے بارے میں شکایت کی جا سکتی ہے مگر اس کا ایک مربوط نظام اور طریقہ کار ہے جو بذریعہ پارلیمنٹ اور سینٹ سے ہوکر گزرتا ہے۔
سیاسی لیڈر جب خود فوج سے بدظن ہوتے ہیں تب وہ عوام کو تیلی دکھا اور بھڑکا کر سڑکوں,چوراہوں اور فیسبکی چوکوں پر فوج کے خلاف کھڑا کردیتے ہیں۔ اگر فوج میں کوئی مسئلہ ہے تو یہ سبھی لیڈر پارلیمنٹ اور سینٹ میں ہونے کے باوجودشکایات اور اثبات کے ساتھ کوئی قرارداد یا بل کیوں نہیں لاتے ؟فوج اور خفیہ اداروں کے خلاف عوام کے کندھے پر بندوق رکھ کر کیوں چلاتے ہیں ؟وجہ اور مقصدعوام اور فوج کے مابین ان سیاسی لیڈروں کا صرف پریشر بنانا ہوتا ہے،لیکن فوج ایک تحمل مزاج اور مدبر ادارہ ہے جو موقع نکالنا جانتی ہے لیکن فوج موقع بھولتی نہیں۔اب دوہفتے بھی نہیں ہوئے اس بات کو بیان کیئے ہوئے کہ فوج کی نظر میں دو سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر فوج مخالف بیانات اور سازشوں کی بدولت اپنا مقام اور جگہ گنوا چکے ہیں، لہذا کسی اور جماعت کو اب اپنا آپ خراب نہیں کرنا چاہیئے ورنہ فوج پہلی دو کو درگزر کرکے تیسری کی طرف متوجہ ہوجائے گی اور ان کا ردعمل ہلکے سے ہلکابھی ہوا تو وہ تیسری جماعت عین الیکشن سے کچھ قبل ایسی چیزیں ہضم نہیں کر پائے گی اور ان کو فوج مخالفت کی قیمت ہار یا قانونی کارروائی کی صورت برداشت کرنی پڑ سکتی ہے۔
پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ”توں اپنی نبیڑ , پرائی مت چھیڑ”۔۔۔
مطلب کہ تیسری جماعت جس انداز میں حزب اختلاف کا کردار ادا کرہی تھی وہ ایک زبردست پالیسی اور اقدام تھا جس کو درپردہ فوج اور خفیہ اداروں کی بھی سپورٹ تھی اور یہ ایک اچھا شگون تھا تیسری جماعت کی متوقع جیت کے لیئے لیکن تیسری جماعت بھی پہلی دو سے کچھ الگ ثابت نہ ہوئی اور زیادہ عزت اور عوام میں فوج کی محبت انھیں ہضم نہ ہوئی۔قیادت سے لے کر عام کارکن تک نے فوج کا مورال گرانے اور تذلیل کرنے کا موقع صرف بے جا بغض کی وجہ سے جانے نہ دیا۔اب تیسری جماعت والےاپنی تو نبیڑ نہ سکے لیکن پرائی چھیڑ کر فوج کو بھی اپنا دشمن بنا لیا۔اب فوج اور متعلقہ ادارے آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اور اس کی حدود و قیود کے اندر موجود تادیبی قوانین کی بدولت فوج مخالف سرخوں کے گرد گھیرا تنگ کر ہے ہیں تو سیاست دان پریشان ہیں ، اور وہ احتجاجی سیاست کا باب کھولنے والی ایک اور سنگین غلطی کرنے جارہے ہیں۔بس بات صرف اتنی سی ہے کہ شعور بیانوں اور جلسوں سے نہیں علم اور تعلیم سے آتا ہے اور سیاسی شعور کے لیئے متعلقہ مضامین اور علوم کا بنیادی مطالعہ لازم ہے۔بغیر علم اور شعور کے فقط لیڈری محبت کی وجہ سے جو عمل کیئے جائیں ان کا ردعمل ایسا سخت اور شدید ہی ہوتا ہے۔جب پرائی لڑائی میں حصہ ڈالا ہے تو اب سزا بھگت کر نبیڑو۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply