مسجد حرام میں غیر مسلموں کا داخلہ ۔ حنفی فقہاء کا موقف

سورہ براء ت کی آیت ۲۸ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ حکم دیا ہے کہ”یا ایہا الذین آمنوا انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ہذا”،”مشرک تو بس ناپاک ہیں، اس لیے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں”۔ چنانچہ حکم کے مطابق ۹ ہجری میں حج کے موقع پر یہ عام منادی کرا دی گئی کہ آئندہ سال کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آ سکے گا۔
اس ہدایت کی فقہی تعبیر وتشریح کے حوالے سے فقہا کے مابین اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔اس ضمن میں امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا بنیادی زاویہ نگاہ ایک ہے، یعنی ان سب کے نزدیک اس حکم کی اصل علت، ظاہر آیت کے مطابق، محض اعتقادی نجاست ہے، البتہ اس حکم کے دائرہ کار کی تحدید کے حوالے سے ان میں باہم اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ امام شافعی اس پابندی کو علت اور وقت کے لحاظ سے تو عام مانتے ہیں، لیکن محل کے لحاظ سے خاص۔ علت کے عموم کا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم اگرچہ مشرکین کے لیے بیان ہوا ہے، لیکن اعتقادی نجاست کی علت چونکہ دوسرے غیر مسلموں میں بھی پائی جاتی ہے، اس لیے کوئی بھی غیر مسلم، چاہے وہ مشرک ہو یا کتابی، مسجد حرام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ وقت کے عموم کا مطلب یہ ہے کہ یہ پابندی کسی خاص زمانے کے لیے نہیں ، بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ محل کے خصوص سے مراد یہ ہے کہ امام صاحب اس پابندی کو صرف مسجد حرام کے لیے مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی تمام مساجد میں ان کے نزدیک غیر مسلم داخل ہو سکتے ہیں۔ان کا استدلال یہ ہے کہ قرآن مجید نے یہ پابندی خاص طور پر صرف مسجد حرام کے لیے بیان کی ہے، لہٰذا باقی مساجد پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا۔
امام مالک اور امام احمد کی رائے میں یہ حکم علت، وقت اور محل ، ہر لحاظ سے عام ہے، یعنی ان کے نزدیک تمام غیر مسلموں کا داخلہ مسجد حرام سمیت تمام مساجد میں ہمیشہ کے لیے ممنوع ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ جس طرح اعتقادی نجاست کی علت کی بنا پر یہ حکم مشرکین کے علاوہ دوسرے غیر مسلموں کو بھی شامل ہے، اسی طرح حرمت وتقدس کی علت کی بنا پر مسجد حرام کے علاوہ دیگر تمام مساجد کو بھی شامل ہے۔ اگر غیر مسلم مسجد حرام کی حرمت کی بنا پر اس میں داخل نہیں ہو سکتے، تو اسی علت کی بنا پر دوسری تمام مساجد میں بھی داخل نہیں ہو سکتے۔ (ابن العربی: احکام القران، ۲/۴۷۰)
فقہاے احناف نے اس حکم کی تعبیر ایک بالکل مختلف زاویے سے کی ہے۔ ان کے نزدیک یہ پابندی صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ان مشرکین عرب کے لیے تھی جن کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی معاہدہ نہیں تھا اور جن پر اتمام حجت کے بعد یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں یا مرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ نیز ان کے لیے بھی یہ ممانعت ہر حال میں نہیں ، بلکہ حسب ذیل صورتوں میں تھی”ایک یہ کہ وہ ایام حج میں حج کی غرض سے مسجد حرام میں داخل ہوں۔ گویا عام دنوں میں ان کے داخلہ پر کوئی پابندی نہیں تھی” (ابوبکر الجصاص، احکام القرآن ۳/۱۳۱، ۱/۱۰۴)۔
دوسری یہ کہ وہ عریاں ہو کر یا غلبہ اور استیلا کے ساتھ اس میں داخل ہوں (ابن الہمام، فتح القدیر، ۱۰/۶۳)۔
تیسری یہ کہ وہ مسجد حرام کے امور میں تصرف وتولیت کے اختیار میں شریک ہوں (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/۱۳۵)۔
صاحب ’اعلاءالسنن‘ نے اس ضمن میں حنفی نقطہ نظر کو واضح کرتے ہوئے لکھا ہے”’’مشرکین مسجد حرام اور اس کے متعلقات پر قابض تھے اور اس کو انہوں نے اپنے کفریہ اعمال سے آلودہ کر رکھا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کی صورت میں ان کے اس غلبے کا خاتمہ کر دیا تو مسجد حرام اور اس کی حدود کو ان کے خبیث اعمال سے پاک کرنے کا ارادہ فرمایا۔۔۔۔ چونکہ اس حکم کا اصل مقصد مشرکین کی جسمانی نجاست کو بیان کرنا نہیں بلکہ سرزمین مقدس کو ان کی جانی بوجھی (مشرکانہ) آلودگیوں سے پاک کرنا تھا، اس لیے اس کا تعلق خاص طور پر انہی لوگوں سے تھا جن سے یہ خطرہ ہو سکتا تھا کہ وہ اس کو آلودہ کر دیں گے۔ وہ لوگ جن سے اس قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا، مثلاً غلام، لونڈیاں اور اہل ذمہ جنہوں نے ہمارے احکام کی پابندی کو قبول کر لیا، اس ممانعت کے دائرے میں نہیں آتے۔’’ (۱۷/۴۴۷)۔
گویا جمہور فقہا کی رائے کے برعکس، احناف کے نزدیک مسجد حرام میں داخلے کی یہ پابندی نہ تمام غیر مسلموں کے لیے ہے اور نہ ہر زمانے کے لیے۔ سیاق وسباق کی روشنی میں وہ اس حکم کو تمام مساجد کے لیے کوئی اصولی یا عمومی حکم قرار دینے کے بجائے صرف مسجد حرام اور مشرکین عرب کے ساتھ خاص مانتے ہیں۔ چونکہ مذکورہ مشرکین عرب پر ہر لحاظ سے اتمام حجت کر دیا گیا تھا، اس لیے آخری مرحلے میں ان سے اپنے دین پر قائم رہنے کا حق چھین لینے کے ساتھ ساتھ مسجد حرام کی تولیت اور اس میں عبادت کرنے کا حق بھی سلب کر لیا گیا جس کی ایک لازمی فرع یہ تھی کہ اس میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی جائے۔

عمار خان ناصر
عمار خان ناصر
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *