نوجوانوں کی ذمہ داریاں

ایک ملک کا بادشاہ وفات پا گیا۔ اس کے خاندان میں ایسا کوئی نہ تھا جس کو تاج پہنایا جاتا، اس لیے عوام نے فیصلہ کیا کہ فلاں دن شہر کے مرکزی دروازے سے جو بھی سب سے پہلے شہر میں داخل ہو گا اسے بادشاہ بنا دیا جاۓ گا، تمام شہر والے رات سے ہی مرکزی دروازے کےپاس جمع ہو گئے اور شدت سے صبح ہونے کا انتظار کرنے لگے، جیسے ہی سورج کی پہلی کرن نے زمین کو چھوا لوگوں نے دیکھا کہ ایک شخص گدھے پر کچھ سامان لادے اس کی رسی پکڑے شہر کی طرف آ رہا ہے ، جیسے ہی وہ دروازے سے اندر داخل ہوا، تمام شہر مبارک مبارک کے نعروں سے گونج اٹھا، فورا ًہی عمائدین ملک آگے بڑھے اور انہوں نے نئے بادشاہ کا استقبال پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے کیا۔
ایک غریب اور بھوک کا مارا کمہار پریشان ہو گیا کہ نا جانے اس سے کیا غلطی ہو گئی جو شہر کا شہر اس کو دیکھنے کے لیے امڈ آیا ہے، فوراً شاہی سواری کا اہتمام ہوا اور بادشاہ کو محل لے جایا گیا، تاج پوشی کی رسم کے بعد جب کمہار کو یقین ہو گیا کہ وہ حقیقت میں بادشاہ ہے تو اس نے پہلا حکم دیا کھانا لایا جاۓ، فورا ًحکم کی تعمیل ہوئی اور شاہی دسترخوان قسم قسم کے کھانوں سے بھر گیا ۔بادشاہ کو حلوہ پوری بہت پسند آئی اور فورا ًدوسرا اعلان کیا کہ تین دن تک عوام کو حلوہ پوری کھلائی جاۓ۔ حکم کی تعمیل شروع ہوگئی، ایک دن بادشاہ شام کو چہل قدمی کر رہا تھا کہ ایک سپاہی نے جان کی ایمان پاتے ہوئے عرض کی کہ عالم پنا ہ فوج کو کھانے میں کچھ تنگی ہے۔ بس سننے کی دیر تھی کہ فورا ًفوج کےکھانے کی مقدار بڑھا دی ۔سپہ سالار نے عرض کی کہ بادشاہ سلامت اس طرح کے کھانوں سے فوج سست اور کاہل ہو جاۓ گی لیکن کمہار کے کان پر جوں تک نا رینگی ۔
چند ماہ کے اندر اندر نتیجہ یہ نکلا کہ فوج سست و کاہل ہونے کے باعث لڑنے کے قابل نہ رہی، انہی حالات میں ہمسایہ ملک نے موقع غنیمت جانا اور حملہ کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہمسایہ ملک کی فوج شہر کے دروازوں تک پہنچ گئی، بادشاہ تک جب خبر پہنچی تو فرمانے لگے کوئی مسئلہ نہیں خود بھی کھاؤ اور ان کو بھی کھانا کھلاؤ، اگلے دن دشمن شہر کے اندر پہنچ گیا اور قریب تھا کہ شاہی محل میں داخل ہوتا، ایک افسر بھاگم بھاگ بادشاہ کے پاس پہنچا اور بتانے لگا کہ دشمن کسی بھی وقت محل میں داخل ہو سکتا ہے، یہ سن کر بادشاہ سلامت نے پیڑوں والی لسی کا ایک انتہائی بڑا گلاس منہ سے لگایا ۔۔۔ختم کرکے بڑی سی ڈکار لی اور مونچھیں صاف کرتے ہوئے بولے میرا گدھا اور جُلی لے کر آؤ، لوگ سمجھے کے بادشاہ دشمن کا مقابلہ کرنے جا رہا ہے،سو فوراً حاضر کر دیا گیا ،بادشاہ نے جُلی کھولی اپنے پرانے کپڑے پہنے اور گدھے کی رسی پکڑ کر محل سے باہر جاتے ہوے بولا، ” روٹی شوٹی دا شکریہ ،ہن چلیا ں،تسی جانو تے تہاڈے کم جانن، ایہہ ملک ہن تہاڈے حوالے تسی جانو تے تہاڈا ملک جانو،تسی ایہنوں سانبھو”۔
اتنی لمبی بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کا حال بھی بالکل اسی ملک جیسا ہے اور ہمارے تمام ادارے جو کہ ملک کو چلانے ،پالیسیاں بنانے قانون سازی کرنے الغرض جن کے ہاتھوں میں ملک کی باگ دوڑ ہوتی ہے وہاں پر ہمیشہ سے ایسے ہی کردار ملتے ہیں۔چند دن پہلے ایک محفل میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں پر ایک گرما گرم بحث چل رہی تھی کہ باقی صوبوں نے تو اپنی زبان مثلا ًسندھی، بلوچی اور پشتو کو ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ میٹرک تک لازم کر دیا لیکن پنجاب میں ایسا کچھ نا ہوسکا جس کے باعث پنجابی زبان بہت پیچھے رہ گئی اور باقی زبانوں نے ترقی کر لی۔ اس گفتگو میں ہمارے چند بزرگ ایسے بھی شامل تھے جو محکمہ تعلیم میں انتہائی اونچی سیٹوں سے ریٹائرمنٹ لے چکے تھے اور چند ایسے بھی تھے جو بیوروکریسی سے ریٹائرڈ تھے اور سب کے سب اس بات پر نوحہ خواں تھے کہ ہائے ہائے پنجابی زبان کا کیا بنے گا، اور ساتھ ساتھ اس بات پر زور ڈال رہے تھے کہ بس اب نوجوان نسل کو چاہیے آگے بڑھے اور اس مسئلے کے حل کے لیے جدوجہد کرے، اس کے ساتھ ساتھ حکومتوں پر کڑی تنقید کی کہ انہوں نے پنجابی زبان کے لیے کچھ نہیں کیا اور انڈین پنجاب کی مثالیں دے دے کر بتایا کے کس طرح اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے، بلکہ ایک مقرر نے تو جذبات میں آکر کہا کہ اگر پنجابیوں کو اپنی زبان کے مرنے کا ذرا بھی دکھ ہوتا تو بنگلہ دیش کا سانحہ نہ ہوتا، ان کی یہ منطق سن کر تو میں بالکل ہی بوکھلا گیا۔
ان کے بعد ایک ریٹائرڈ پروفیسر صاحب گویا ہوئے کہ نوجوان نسل کو آگے بڑھنا چاہے اور اس سلسلے میں عملی کام کرے، کیونکہ اب امیدوں کا محور نوجوان نسل ہی ہے۔ لیکن ایک بات جو کہ نوجوانوں کوبہت تنگ کر رہی تھی اور بار بار کہنا چا رہے تھے مگر محفل کا رنگ خراب ہونے کا ڈر اور بزرگوں کی عزت آڑے آرہی تھی وہ یہ کہ جب وہ لوگ جو ہر بات کرنے کے بعد سارا ملبہ نوجوانوں پر ڈال رہے تھے کیا وہ اس وقت اس عمر سے نہیں گزرے جس عمر میں ہم لوگ ہیں؟، آپ لوگوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ،کیا اس وقت وہ پنجابی زبان میں تعلیم لے کر آگے آئے؟ آپ میں سے بیشتر اعلیٰ حکومتی اداروں میں کام کرتے رہے، دوران سروس آپ نے اپنی ماں بولی کے لیے کتنا کام کیا؟ آپ میں سے اکثر پاکستان کے اس طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور رکھتے ہیں جو کہ پاکستان میں قوانین بنانے اور ان کو نافذ کروانے کے عمل میں شریک ہوتے ہیں، آپ نے پنجابی زبان کے لیے قانون سازی کیوں نہ کی؟ اس وقت اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے تو سب سے زیادہ پریشانی اسی ایک طبقے کو کیوں ہو رہی ہے کہ جناب سی ایس ایس کے پیپر اردو میں نہیں ہو سکتے کیوں؟ عدالتوں کے فیصلے اردو میں نہیں ہو سکتے کیوں؟ ۔۔۔جناب ہم لوگوں کا حال بھی اسی کمہار کی مانند ہے جو کہ اختیار ملنے پر بس اپنا آپ سوچتا اور وقت گزرنے پر دوسروں کے سر ڈال دیتا ہے۔1947 سے اب تک سیاست کے میدان میں کوئی مسئلہ ہے تو نوجوان نسل ٹھیک کرے، معاشرتی یا معاشی میدان میں مسئلہ ہے تو نوجوان نسل تدارک کرے، اخلاقی و تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ مذہبی، مسلکی یا صوبائیت کا مسئلہ ہے تو نوجوان نسل آگے آئے ، جناب ہم آپ لوگوں کا کیا کچھ ٹھیک کریں آپ نے اپنا وقت گزارا پھر جُلی کاندھے پر رکھی اور کہا”حالات بہت نازک ہیں نوجوان نسل کو آگے آنا چاہئے”

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *