عطا الحق قاسمی اور فرنگی حسینہ

SHOPPING

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے چیئرمین جو کہ اب ایم ڈی کے عہدے پر براجمان ہیں ،جناب عطاالحق قاسمی آج کل خبروں میں کافی چھائے ہوئے ہیں ۔ عطاالحق قاسمی سے میرا تعارف ان کے سفرنامہ”شوقِ آوارگی” سے ہوا۔ مستنصر حسین تارڑ کے سفر نامے کم ناولز میں ہیرو کو قدم قدم پر لڑکیاں ٹکراتی ہیں اور وہ ان سب کی محبت میں یکساں مبتلا ہوتا جاتا ہے۔ اس معاملے میں قاسمی صاحب نے” شوقِ آوارگی” میں تارڑ صاحب کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

“شوقِ آوارگی ” میں نے 15 سال کی عمر میں پڑھی تھی، ان دنوں مجھے سفرنامے پڑھنے کا جنون تھا اور تارڑ صاحب کے تمام سفرنامے “نکلے تیری تلاش میں”،” خانہ بدوش”، ” نانگا پربت ” غرض تمام کتابیں پڑھ ڈالیں، اسی طرح کرنل محمد خاں کا سفرنامہ” بسلامت روی”،” تنگ آمد بجنگ آمد” اور پھر عطاالحق قاسمی کے”شوقِ آوارگی ” کی بڑی شہرت تھی ۔ جسے پڑھ کر میں کئی دن باؤلا باؤلا پھرتا رہا۔

آتش جوان تھا کمبخت چین نہ لینے دیتا تھا۔ رہ رہ کے وہ منظر تخیل میں آکر ٹھنڈی آہیں بھرنے پر اکساتا رہتا ، اور مسامِ جان سے لذت آمیز پسینہ پھوٹنے لگتا۔۔۔عمر کا تقاضہ بھی تھا، کئی دن سفر نامے کی رنگین سنگین واقعات کی سرشاری میں گزرے۔ہم عمر دوستوں کو شوقِ آوارگی کے اقتباسات اپنے الفاظ میں فخریہ بیان کرتا کہ اس میں وہ معلومات تھیں جن سے مجھے اس سے قبل آگاہی نہ تھی، ظالم نے سچ لکھا تھا یا جھوٹ ، جو بھی تھا کمال تھا، اور لازوال تھا۔

آج جب کہ برق رفتار ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لیئےہر قسم کی آگہی کے دروازے کھول دئیے ہیں، وہ رومانس کے نت نئے زاویوں سے آگاہ ہیں، مگر آج سے 15 سال پہلے ایسا ممکن نہیں تھا،تحریر کی صورت میں مواد میسر تھا، بصری ذرائع سب کی دسترس میں نہ تھے۔اسوقت کسی کتاب میں اور وہ بھی عین ادبی معیار کی کتاب میں اس قسم کا واقعہ پڑھنا سنسنی خیز اور حیران کن تجربہ تھا۔پرانی بات ہے اس لیئے کہیں کہیں یاداشت دھوکہ بھی دے سکتی ہے، یہ واقعہ شوقِ آوارگی سے ماخوذ ہے، الفاظ و بیان میرے ہیں اس لیئے کمی بیشی پر پیشگی معذرت چاہوں گا۔

ہوا یوں کہ۔۔۔ عطاالحق قاسمی صاحب بغرضِ تعلیم ولایت میں مقیم تھے، اس دوران وہ لندن کے کسی ریسٹورنٹ میں موجود تھے جب انکے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ ۔بیان کرتے ہیں کہ ایک طرحدار گوری میم میری ٹیبل پر آئی اور بیٹھنے کی اجازت طلب کی۔۔میں اسوقت عنفوانِ شباب کی سیڑھیوں پہ تھا۔۔یوں ایک انگریز لڑکی کا میری طرف متوجہ ہونا خوشگوار حیرت کی بات تھی، اس نے چھوٹتے ہی مجھ سے پوچھا۔۔آر یو انڈین؟ میں نے جواب دیا ! نہیں پاکستانی۔۔۔

اس نے پاکستانی نوجوانوں کی وجاہت کی تعریف کی، اس طرح ہم میں بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا، کھانے پینے کا دور چلا ۔۔مشرقی روایت کے مطابق بل میں نے ادا کیا، جس سے وہ فرنگی حسینہ مزید متاثر ہوئی۔۔ ابھی ہم باہم دلچسپی کے امور پہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ ایک لحیم شحیم ادھیڑ عمر شخص ریسٹورنٹ میں داخل ہوا۔ اسے دیکھتے ہی میری ساتھی لڑکی کا رنگ خوف سے پیلا پڑ گیا۔۔۔۔وہ شخص سیدھا ہماری ٹیبل کی طرف بڑھا اور لڑکی کو اپنے ساتھ چلنے کا کہا، لڑکی نے بڑے احترام سے انکار کیا کہ میں اسوقت نہیں جا سکتی ۔

میری طرف اشارہ کر کے کہاکہ میں اپنے دوست کے ساتھ ہوں اس پہ وہ شخص سیخ پاہو گیا، نہایت بدتمیزی سے اس لڑکی کا بازو تھام کے شدید جھٹکے سے اپنی طرف کھینچنے لگا۔۔۔لڑکی نے مزاحمت کی تو اس نے ایک زوردار طمانچہ اسے جڑ دیا۔۔اب یہ معاملہ میری برداشت سے باہر ہو گیا، میں جھٹکے سے اٹھا اور لڑکی کا بازو چھڑا لیا۔ اس نے کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھا اور مجھے مارنے کی کوشش کی ، اس دوران ریسٹورنٹ کے سٹاف نے بیچ بچاؤ کروا دیا، وہ شخص پیر پٹختا ہوا ریسٹورنٹ سے باہر چلا گیا۔

اب میں نے لڑکی کی طرف استفسار طلب نظروں سے دیکھا۔۔ وہ سخت شرمندگی کے عالم میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔ میرے اصرار پہ اس نے داستان کہہ سنائی۔۔ جسے سن کے میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، کہنے لگی۔۔میں کال گرل ہوں اور جسم فروشی میرا پیشہ ہے۔۔۔ یہ شخص میرا مستقل گاہک ہے، دل کھول کے رقم خرچ کرتا ہے، شروع شروع میں اس وجہ سے اسے زیادہ اہمیت دیتی تھی، اب یہ میری جان کو آگیا ہے اور مجھ پہ اپناحق سمجھنے لگا ہے۔۔میں اس سے سخت الرجک ہوں ۔

یہ شخص میرے لیئے کرب کا باعث بنتا ہے، یہ جسمانی طور پہ فارغ ہو چکا ہے۔۔۔مگر ذہن ہوس سے چُور ہے، بار بار میرے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگاتا ہے اور اپنی وحشت نکالتا ہے۔۔۔مجھے اس عمل سے سخت کوفت ہوتی ہے جسے یہ بار بار دہراتا ہے ۔۔ حالانکہ یہ میرے وقت کی اچھی قیمت ادا کرتا ہےلیکن اب میں اس سے عاجز آ چکی ہوں۔۔اس لڑکی کی باتیں سن کے میں بہت حیران ہوا، کیونکہ وہ شکل و صورت عادات و اطوار نشست و برخاست اور گفتگو سے کال گرل نہیں لگتی تھی۔۔۔

کچھ دیر ہم چپ چاپ بیٹھے رہے۔۔۔گفتگو دوبارہ شروع ہوئی تو وہ ٹیبل پہ کہنی ٹکا کے اس انداز میں بیٹھی جس سے اسکےجسم کے نشیب و فراز واضح ہو گئے۔۔ عجب دعوتِ نظارہ تھا، جس سے میری دھڑکنیں اتھل پتھل ہونے لگیں۔اسکی آنکھوں میں واضح دعوت تھی، وہ ذرا اور جھکتے ہوئے خوابناک لہجے میں بولی۔۔۔ینگ مین ۔۔ تم مجھے بہت اچھے لگے ہو، مشرقی لوگ ویسے ہی مجھے پسند ہیں ان میں مردانگی ہے جوش ہے ولولہ ہے۔۔۔ اور تم نے تو میرا دل جیت لیا ہے۔ کیا تم کچھ لمحات میرے ساتھ گزارنا پسند کرو گے؟ میں حیران پریشان اسے تکتا رہا اور انکار میں سر ہلانے لگا۔۔وہ بولی۔۔۔۔۔ینگ مین ۔۔۔کیا میں خوبصورت نہیں ہوں؟تم کیوں انکار کر رہے ہو؟

میں جانتی ہوں تم لندن میں پڑھنے کے لیئے آئے ہو ،اس لیئے تم یہ عیاشی افورڈ نہیں کر سکتے۔۔۔لہذا میں تمہیں خاص رعایت کرونگی ۔۔میرے انکار پر کہنے لگی۔۔ دیکھو ! اتنی رقم میں مَیں گاہک سے صرف روایتی جسمانی تعلق قائم کرتی ہوں مگر چونکہ تم مجھے اچھے لگے ہو اس لیئے تم جیسے چاہو سکون کشید کرنا ۔۔۔اب انکار مت کرنا ،یہ تمہارے لیئے لاجواب پیشکش ہے، لندن میں اتنی کم رقم میں تمہیں ایسا پیکچ کوئی نہیں دے گا۔۔
میری کان کی لویں سرخ ہو گئیں میں عجب مشکل میں پھنس چکا تھااور چھٹکارے کی کوئی راہ نظر نہ آتی تھی۔۔۔ میری پریشانی کو وہ کسی اور معنوں میں لے رہی تھی۔۔۔اس نے میرے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ دیا، ٹیبل کے نیچے سے میرے پا ؤں کوچُھوا، اسکے شوز میری پنڈلی پہ سرسرانے لگے۔۔میری سانسیں بے قابو ہو رہی تھیں۔۔

اب وہ سرگوشی کے انداز میں بولی۔۔۔ینگ مین ،لِسن (سنو)۔ میرا دل تم پہ آ گیا ہے میں تمہارے ساتھ کچھ لمحات یادگار بنانا چاہتی ہوں، اب جو پیشکش میں کرنے والی ہوں یہ چنیدہ چنیدہ احباب کے لیئے ہے، دیکھو اب انکار مت کرنا۔ یوں ہے کہ جب ہم فارغ ہوں گے تو میں تمھیں ایک ایسے احساس سے روشناس کراؤں گی جو تمھارے لیئے بڑا ہی لذت آگیں تجربہ ہو گا۔۔۔ اب یہ معاملہ میری برداشت سے باہر ہو گیا تھا۔ میں اٹھا۔۔ اسے الوداع کہا اور تیزی سے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

SHOPPING

احباب۔! آپ نے عطاالحق قاسمی کی تحریر کی جولانی طبع ملاحظہ کی۔۔ یہ ہمارے ادب کے درخشاں ستارے ہیں ، عطاالحق قاسمی کا بلاشبہ اردو ادب میں نمایاں مقام ہے۔ یہ اعلی درجے کے مزاح نگار ، کالم نگار اور اچھی نثر لکھنے والے ہیں مگر ایک مخصوص اور سیاسی شخصیت سے منسلک ہو کر ان کی مدح سرائی میں رطب اللسان ہو کر انہوں نے اپنا ادبی و علمی مقام گہنا دیا ہے۔ حق ہے کہ ادیب دانشور معاشرے کے نبض شناس ہوتے ہیں، انہیں غیر جانبدار ر ہ کر سماج کی ذہنی تربیت، تہذیب وتعمیر میں کردار ادا کرنا چاہئیے!

SHOPPING

گل ساج
گل ساج
محمد ساجد قلمی نام "گل ساج" مظفر گڑھ جنوبی پنجاب ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *