پرایا دھن/فرزانہ افضل

ڈرامہ کابلی پلاؤ کی کہانی تمام کرداروں کے خوشگوار انجام پر ختم ہوئی۔ گرین انٹرٹینمنٹ جو ایک نیا اور پروگریسو چینل ہے جس کے ہر ڈرامے میں سماجی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے بے دھڑک پیغامات دیے جاتے ہیں۔ اور معاشرے کے تلخ مسائل اور سٹیریو ٹائپ نقطہ نظر اور رویوں کو دکھایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے یہ گرین انٹرٹینمنٹ کا ہر ڈرامہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے دل کی آواز ہو۔ ہو سکتا ہے لاکھوں کروڑوں دلوں کی بھی آواز ہو مگر کہنے کا حوصلہ نہ ہو۔ ڈرامہ کابلی پلاؤ کی آخری قسط میں ایک سین ایسا تھا جسے دیکھ کر دل بھر آیا جس خوبصورت طریقے سے ڈرامہ رائٹر ظفر معراج اور ڈائریکٹر کاشف نذیر نے ایک نئی سوچ کو زبان دی اور کیمرے کے ذریعے منظر دے کر میڈیا کے ذریعے دنیا کو دکھایا۔ کہانی کی ایک کردار چھمو جو حاجی صاحب کی چھوٹی بہن ہے ، اپنے آوارہ ، بد قماش اور لالچی شوہر کے ظلم و ستم برداشت کرتے ہوئے زندگی گزار رہی ہے۔ چونکہ چھمو اب تک ماں نہیں بن پائی ہے لہٰذا اس کا شوہر غفور طلاق کی بلیک میلنگ کے ذریعے اپنی بیوی اور سسرال سے رقم اینٹھنے کے مطالبات کرتا رہتا ہے۔ چھمو کے بھائی بادل نخواستہ اسکے ہر لالچ کو پورا کرتے رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی بہن اپنے شوہر سے جدا نہیں ہونا چاہتی۔ آخری قسط میں چھمو اپنے بڑے بھائی حاجی صاحب کو بتا دیتی ہے کہ غفور اس کے جہیز میں دیے گئے مکان کا سودا کر رہا ہے۔ ایک روز غفور چھموں کے میکے آ کر اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ گھر کی رجسٹری پر دستخط کرنے چلے کیونکہ وہ مکان بیچ رہا ہے۔ چھمو اس کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیتی ہے۔ وہ غصے میں آ کر چھمو کو ایک طلاق دیتا ہے پھر دھمکاتا ہے کہ وہ سائن کرے۔ چھمو کو دوسری طلاق دیتا ہے۔ چھمو زندگی میں پہلی بار اس کی بات ماننے سے انکار کرتی ہے۔ اور غفور کے منہ پر تھپڑ مار کر کہتی ہے “میرے اختیار میں ہوتا تو تیسری طلاق میں تجھے دیتی۔” اور دھکے مار کر اس کو گھر سے باہر نکال دیتی ہے ۔ اور جب پیچھے مڑتی ہے تو اس کے بڑے بھائی حاجی صاحب چہرے پر فخریہ مسکراہٹ کے ساتھ کھڑے اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

یہ ایک بالکل نیا مائنڈ سیٹ ہے ۔ جسے ہماری سوسائٹی کو اپنانے کی ضرورت ہے کہ اپنی بیٹی ، بہن کا اس کے فیصلوں میں ساتھ دیا جائے اس کی رہنمائی اور مدد ضرور کی جائے مگر اس کو اپنے شوہر اور سسرال کے ظلم اور رسوائی بھری زندگی جینے پر مجبور نہ کیا جائے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہماری سوسائٹی میں عموماً عورت کا خاندان اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر حالات میں اپنے شوہر کے ساتھ گزارا کرے نہ کہ طلاق لے کر ان کے لیے بدنامی کا باعث بنے ،آج بھی ایسے گھرانے موجود ہیں جو اس نصیحت کے ساتھ بیٹی کو رخصت کرتے ہیں کہ اس گھر سے ڈولی اٹھی ہے تو دوسرے گھر سے اسکی میت ہی اٹھنی چاہیے۔ طلاق کو بدنامی اور رسوائی کا سبب سمجھا جاتا ہے، اور طلاق کو کلنک کا ٹیکہ جیسے گھٹیا الفاظ سے پکارا جاتا ہے ۔ حالانکہ مذہبی نقطہ نظر سے تو طلاق اور خلع جائز ہے اور طلاق یافتہ اور بیوہ عورت کو دوبارہ شادی کرنے کا حق حاصل ہے ۔ کس قدر ظالمانہ اور فرسودہ سوچ ہے ، بیٹی پیدا ہوتے ہی اس کو یہ قاعدہ پڑھایا جاتا ہے کہ وہ پرائے گھر کی ہے اور اس کو ایک دن پرائے گھر جانا ہے۔ بہت سے تعلیم یافتہ گھرانے بھی بیٹیوں سے اسی طرح کا سلوک کرتے ہیں ۔ تمہارا جینا مرنا اسی گھر میں جہاں بیاہ کر گئی ہو۔ کیوں کر بھول جاتے ہیں کہ بیٹی بیاہ دینے کے بعد والدین پر اس کی ذمہ داری اور حقوق ختم نہیں ہو جاتے۔ بیٹیوں اور بہنوں کے پیچھے مضبوط دیوار بن کر کھڑے رہیے، مگر غیر ضروری مداخلت اس کی زندگی میں اور اس کے سسرال میں نہ کیجیے اپنے بچیوں سے مسلسل رابطے میں رہیے اور بچوں کو شروع سے ہی ایسا گھریلو ماحول مہیا کریں، کہ آپ کے بچے آپ سے اپنے دکھ سکھ بانٹنے میں جھجک محسوس نہ کریں ۔ اولاد کے ساتھ ایک انڈرسٹینڈنگ اور اعتماد کا رشتہ بنائیں۔ بیٹیوں کے زندگی کے فیصلوں میں ان کی رہنمائی کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ کبھی اپنی بچیوں کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ شادی کے بعد اکیلی ہیں اور آپ نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply