کیا شراب پہ قدغن لگانا شرعی تقاضہ ہے؟۔۔۔۔۔۔سلیم جاوید/قسط3

شراب پہ قانون سازی بارے، سیکولرز، مسلم سیکولرز اورروایتی علماء کاموقف پیش خدمت ہے-(شروع میں عرض کیا تھا کہ خاکسارکےنزدیک سیکولرزم کا مبداء حقیقی، اسلام ہے- آپ بھی موازنہ کرلیجئے گا)-

شراب اور سیکولر معاشرے:

سیکولرسماج میں، اپنی پرائیوسی میں شراب پیناجرم نہیں ہوتا- پبلک مقامات پرمخصوص جگہ( پب یا بار) میسرہوتی ہے- کسی نے پی رکھی ہواور بے ضررگھوم پھررہا ہوتو بھی اس پرکوئی  سزا نہیں ہوتی-البتہ ذمہ دارانہ ڈیوٹی کے دوران شراب پینا جرم ہوتا ہے-( مثلا” دفاتر، مدارس میں اور پائلٹ، ڈرائیور، جج وغیرہ کیلئے)- اس پر ہرسیکولرسوسائٹی نے الگ سزامقررکررکھی ہے( جو جرمانہ سے لیکر قید تک ہوسکتی ہے)-

ہمارے اسلامی ملک دبئی میں شراب کے بارمیں داخلے کا ریٹ 30 درہم ہے( وہاں چاہے آپ پانی ہی پئیں)- بارکے باہر پارکنگ میں پولیس تعینات ہوتی ہے- اگرآپ اپنی گاڑی ڈرائیو کرکے جانا چاہتے ہیں مگر بار سے نکلتے ہوئے آپ کی چال سے نشہ ظاہر ہورہا ہے تو پولیس آپ کو چیک کرے گی- (منہ سے ایک آلہ لگا کردیکھا جاتا ہے)- اگر آپ نشے میں ہوئے تو پولیس سٹیشن لے جایا جائے گا ، رات وہاں رکھا جائے گا- صبح جب نشہ اتر جائے گا تو آپ آزاد ہیں-

چونکہ سیکولرمعاشرے کسی ایک مسلک کے پیروکار نہیں ہوتے، لہذا، ہرملک کی پارلیمنٹ، اپنے مقامی ماحول کے زیرنظرقانون سازی کیا کرتی ہے-

شراب اورمسلم سیکولرز:

ہم لوگ، حدود یا تعزیزبارے کوئی  دلیل، یا توقرآن پاک سے لیا کرتے ہیں یا پھرایسی حدیث سے جوسب مسلمانوں کے ہاں قرآن ہی طرح متفقہ ہو-

قرآن پاک میں شراب نوشی پرسزامذکور نہیں ہے- خاکسار کی رائے میں وجہ وہی ہے کہ خدا نے اسکوگندگی قراردیا ہے اور”گندگی” کی مقداروماہیت یکساں نہیں ہواکرتی- (چائے ،کپڑے پرگرجائے تو بھی گندگی ہے جبکہ خود بندہ ہی گٹر میں گرجائے تو بھی گندگی ہے- دونوں صورتوں میں گندگی کی کیفیت اور اسکا حکم ایک جیسا نہیں ہوسکتا)-

قرآن میں زنا بارے لفظ استعمال ہوا ہے”لاتقربوالزنا”- زنا ممنوع ہے یعنی زنا کرنا جرم ہے- یہی لفظ “لاتقربو”، قرآن میں” مے نوشی بحالتِ نماز” کیلئے بھی استعمال کیا گیا -یعنی ذمہ دارانہ ڈیوٹی کے دوران شراب پینا جرم ہے- تاہم اس حالتِ جرم میں بھی قرآن میں متعین سزا مذکور نہیں ہے(جسکا فیصلہ ہمارے خیال میں ہرزمانے کے اہلِ  دانش پرچھوڑ دیا گیا)-

مختصراً  ،ہمیں قرآن سے یہی سمجھ میں آیا کہ بحالت نماز( ڈیوٹی) شراب نوشی جرم ہے جبکہ اسکے علاوہ مے نوشی کرنا، بھلے گناہ ہومگرجرم نہیں ہوتا- مسلم سیکولرز کا موقف ہے کہ اپنی پرائیوٹ جگہ کے علاوہ ممنوع جگہوں پرمے نوشی کرنے پر، ملکی پارلیمنٹ ہی سزامقرر کرے گی-

شراب اور روایتی علماء کا موقف:

مولوی صاحبان کا موقف ہے کہ شراب کا قطرہ بھی پینا جرم ہے کیونکہ اس پرشرعی سزا مقرر ہے- یہ شرعی سزا کتنی ہے؟-آئمہ اربعہ میں سے دواماموں کے نزدیک شراب نوشی کی سزا 80 کوڑے ہیں جبکہ دو کے نزدیک 40 کوڑے ہیں-(ان میں سے اصلی شرعی سزا خود ڈھونڈیں)-

شرعی سزا جو بھی ہو، مگر قاضی صاحب تب لاگو کرے گا جب شراب خور خودقاضی کے پاس آکر اقرارکرے یا پھر دوعینی شاہد، گواہی دیں- دورجدید میں آلات کی مدد سے نشہ کا تعین کیا جاتا ہے- ایسےعلماء جو زنا میں ڈی این اے ٹیسٹ کو اوررویت ہلال میں سائنسی کیلنڈر کوشہادت تسلیم نہیں کرتے، انکے ہوتے ہوئے مشکل ہے کہ کسی شرابی پرحدجاری ہو-

ہم مگراس پہ غورکرلیتے ہیں کہ جب خدا نے قرآن میں شراب نوشی پرسزا مقررنہیں کی توہمارےعلماء نے شراب کی”شرعی سزا” کہاں سے برآمدکرلی؟-

اس بارے، طویل بحث سے دامن بچاتے ہوئے، فی الحال مندرجہ ذیل”چھ پوائنٹ  ” نوٹ فرمائیں-

1-حدیث میں آتا ہے کہ ایک شرابی کو رسول اکرم کے پاس لایا گیا تو نبی کریم نے اسکوکھجور کی  شاخ سے چالیس ضربیں لگائیں اورصحابہ سے فرمایا کہ اسکی پٹائی  کرو-

2- حضرت عمر نے اپنے بیٹے ابوشمحہ کو شراب پینے پر70 کوڑے مارے تھے جس دوران وہ جاں بحق ہوگیا تھا-

3- حضرت عمر نے محاذ جنگ پرکمانڈروں کو خط لکھا تھا کہ مے نوش کو80 کوڑے مارے جائیں- چونکہ سب صحابہ نے اسکی تائید کی تو یہ اجماع امت ہوگیا اور یہ سزا شرعی سزا ہوگئی( احناف کا موقف)-

4- رات گئے دورانِ گشت ایک گھر سے گانے بجانے کی آواز آئی  تو جلالی حضرت عمرنے حویلی کی دیوار پھاند لی- کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بزرگ اپنی لونڈی کے ساتھ شراب وشباب کا لطف اٹھا رہے ہیں- موصوف نے مگرالٹا حضرت عمر کو ڈانٹ دیا کہ پرائیوسی میں مداخلت کیوں کی؟ اور وہ خاموش  واپس چلے گئے تھے-

5- حضرت علی کے دورِخلافت میں ایک بندے نے بحالت نشہ، امامت کرواتے ہوئے نمازغلط پڑھا دی توانہوں نے اسکو چالیس کوڑے مروائے اور فرمایا کہ میں نے رسول اکرم سے یہی سنا ہے- پس یہ سزا، شرعی سزا ہے( حنابلہ کا موقف)-

6- حضرت ابن عباس کو اس امت کا سب سے بڑا عالم کہا جاتا ہے- مدینہ میں ایک نوجوان نے شراب پی تو کچھ لوگ اسکوپکڑنے اسکے پیچھے دوڑ پڑے- یہ نوجوان بھاگ کرابن عباس کی حویلی میں گھس آیا- لوگ اسکے پیچھے آئے تو ابن عباس نے فرمایا کہ اسکو چھوڑ دو- میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ جب کوئی  شرابی لایا جاتا تھا تو اسکو ایک طرف بٹھا دیتے حتی کہ اسکا نشہ اتر جاتا تو اسکو گھر جانے دیتے تھے-( دبئی والے یہی کرتے ہیں)-

مذکورہ بالا واقعات پر مندرجہ ذیل سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں-

1- جب رسول کریم نے کھجور کی چھڑی استعمال کی تو اب کوڑے مارنا کیونکر شرعی سزا قراردی جاسکتی ہے؟-

2- حضور نے شرابی کو کیا سزادی تھی؟ حضرت انس کہتے ہیں 40 چھڑی اور صحابہ کی جوتا ماری- ابن عباس کہتے ہیں کہ کچھ نہیں بولا اور خالی نشہ اترنے تک بٹھا دیا- حضرت علی کہتے ہیں40 کوڑے مارنے کا حکم دیا-ان تینوں میں سے شرعی سزا کون سی ہوئی ؟-

3- خدا نے نہ سہی مگررسول نے اگر ایک جرم کی سزامتعین کردی تھی تو حضرت عمر کو اس میں ردوبدل کا اختیار کیسے مل گیا؟-

4- حضرت عمر نے اگر 80 کوڑے مے نوش کی سزا مقررکی تھی توپھراس بوڑھے شرابی کوکیوں چھوڑ دیا تھا جسکا عینی شاہد خود خلیفہ وقت تھا( جوکہ اس وقت چیف جسٹس بھی تھا)؟-

5- اگر حضرت عمر کامکتوب صحابہ کی طرف سےمتفقہ تھا تو اس واقعہ کے پندرہ برس بعد حضرت علی نے 40 کوڑے سزا دے کراس سے اختلاف کیوں کیا؟- پھراجماع امت کیسے ہوگیا؟-

آپ پریشان نہ ہوں- خاکساران سارے واقعات کی تطبیق کرنے کی کوشش کرتا ہے- ملاحظہ فرمایئے-

پہلے اس واقعہ کو لیتے ہیں جس میں حضرت عمر نے مسجد نبوی میں صحابہ کے سامنے اپنے بیٹے کوکوڑے مار کر قتل کردیا تھا-

کہا جاتا ہے کہ ایک عورت نے مسجد نبوی کے دروازے پرآکردہائی  دی کہ کسی نے اس پردست درازی کی کوشش کی ہے- تفتیش سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرکے بیٹے ابوشمحہ نے ایک یہودی دوست کے بہکاوے میں آکرشراب پی لی تھی اوران سے یہ فعل سرزد ہوا- پس اپنے بیٹے کو گریبان سے پکڑ کرمسجد میں لائے اورکوڑے مارنے شروع کیے- ابوشمحہ کی کمزورصحت کے پیش نظر، ابن عباس نے سزامعطلی کی سفارش کی مگرحضرت عمر نے جاری رکھی اور وہ 70 کوڑوں کے بعد کسی وقت جاں بحق ہوگئے-

اس روایت پر یہ کلام بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب کفار کو مدینہ میں داخلے کی اجازت نہیں تھی توابوشمحہ کا یہودی دوست کیسے مدینہ میں آگیا تھا؟- ( اوریہ کہ کفار سے دوستی کیونکرہوتی تھی)- بہرکیف، اس پہ ہمارا موقف یہ ہے کہ ابوشمحہ کو سزا، شراب نوشی پرنہیں بلکہ ایک عورت کی ہراسمنٹ پر ملی تھی-( ورنہ تو یہودی کو بھی یہی سزا ملتی-مگریہودی بارے توکوئی  تذکرہ ہی نہیں)-

اب اس روایت کی طرف آیئے جس میں حضرت عمر کے خط کا ذکر ہے جو فوجی کمانڈروں کو لکھا گیا ہے- اس سے معلوم ہوا کہ یہ”سولین آرڈر” نہیں تھا بلکہ”ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ” تھا- کیونکہ اگر سویلنز کیلئے یہ آرڈر ہوتا تو شہروں کے گورنرزکوخط لکھا جاتا نہ کہ محاذ جنگ کے کمانڈروں کو- پس صحابہ بشمول حضرت علی نے اس لیے  اسکو” اپروو”کیا کیونکہ یہ بطور آرمی پروٹوکول تھا – فوج کے رولز تو ویسے بھی سول رولز سے مختلف ہواکرتے ہیں اور پھر عین حالت جنگ میں آرمی کیلئے جو پروٹوکول وضع کیا گیا، اسکو عام حالات میں سولینز پر کیسے لاگو مانا جائے گا؟-

اسی روایت کے ضمن میں ایک واقعہ اور بھی سن لیجئے-

جنگ قادسیہ، ایک مشہور جنگ ہے جسکی کمانڈ حضرت سعد ابن وقاص جیسے بزرگ صحابی کے ہاتھ میں تھی- چونکہ وہ خود جوڑوں کےدرد کےمریض تھے تو میدان جنگ کے پاس موجود ایک پرانی حویلی کی چھت پر بیٹھ کرمحاذ پہ نظررکھاکرتے تھے اوروہیں سے ایمرجنسی آرڈر جاری کیا کرتے ( جسکونقیب حضرات آگے سالاروں تک پہنچاتے تھے) – ابومجن ایک صحابی تھے جو اسی حویلی کی نچلی منزل کے ایک کمرے میں شراب نوشی کے جرم میں قید کئے گئے تھے اوروہ بھی کھڑکی سے میدانَ جنگ کا نظارہ کررہے تھے- مسلمانوں کومشکل میں دیکھ کر جوش سے بے تاب تھے مگرانکو بیڑیاں پڑی ہوئ تھیں- حضرت سعد کی بیوی سلمی اس طرف گذریں تو ان سے درخواست کی کہ ذرا دیر کومجھے کھول دیں تاکہ لڑائ میں شریک ہوسکوں ، زندہ رہا تو واپس خود آجاؤں گا- حضرت سلمی نے انکے جذبے سے متاثر ہوکر نہ صرف انہیں کھول دیا بلکہ اپنے شوہر، حضرت سعد کا گھوڑا، تلواراورخود بھی عطا کردیا- یہ میدان جنگ میں داد شجاعت دیتے تھے اور حضرت سعد اپنا گھوڑا پہچان کر کنفیوز تھے کہ کون جری جوان میدان میں آیا ہے؟- شام کو یہ واپس آکرخود بیڑیاں پہن لیتے ہیں- حضرت سعد کو سارا قصہ معلوم ہوتا ہے تو انکورہا کردیتے ہیں-

اب یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ اگر حضرت عمرنے سارے فوجی کمانڈرز کو خط لکھا تھا توایک بڑے کمانڈر یعنی حضرت سعد نے شرابی کوکوڑے مارنے کی بجائے قید میں کیوں ڈالا؟-

اسکا ایک جواب یہ ہوسکتا ہے کہ ابھی وہ خط نہ لکھا گیا ہو یا پھر حضرت سعد تک نہ پہنچا ہو- اگر ایسا فرض کرلیا جائے تب بھی ایک صحابی رسول نے شرابی کو قید کی سزا کیوں دی اور حدیث میں مذکور40 چھڑی یا کوڑے والی سزا کیوں نہیں دی حالانکہ لشکر میں کئی دیگر صحابہ بھی موجود تھے جو شرعی سزا جانتے ہونگے- معلوم ہوا کہ شراب کی سزا” کیس ٹوکیس” طے کی جاسکتی ہے-

ہماری اس بات کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت سلمی نے ابومجن کوآزادکرکے میدان جنگ میں بھیج دیا تھا- اگرجناب ابومجن ، شراب پینے پرایک”شرعی سزا” پارہے تھے تو سپہ سالار کی بیوی کو کیا اتھارٹی حاصل تھی کہ وہ شرعی سزا موقوف کرتی؟- معلوم ہوا کہ وہ بھی سمجھتی تھیں کہ اصل مطلوب فقط متنبہ کرنا ہے-

اب اس واقعہ کی طرف آیئے جب حضرت عمر نے کسی کی دیوار پھاندی تو بزرگوں نے فرمایا کہ آپ نے قرآن کی روسے تین جرم کیے ہیں- قرآن کہتا ہے جاسوسی مت کرو( آپ نے کی)-قرآن کہتا کہ گھروں میں سیدھے راستہ سے آؤ( آپ دیوار پھاند کرآئے)- قرآن کہتا ہے کسی مجلس میں آؤ توپہلے سلام کرو( آپ نے آتے ہی ڈانٹا)- حضرت عمر نے اس پرمعذرت کی- اس سے ثابت ہوا کہ پرائیوٹ جگہ پرایسی برائی  ہورہی ہوجس سے سوسائٹی کو ضررنہیں ہوتا تو اس پرچھاپے مارنے کی اجازت بھی نہیں چہ جائیکہ پکڑ کرکوڑے لگائیں-

اب حضرت علی کی  روایت کی طرف آیئے جس میں ہے کہ ایک معروف صحابی نے کوفہ کی مسجد میں جماعت کی نماز کرائی مگر وہ چونکہ شراب کے نشہ میں تھے تو قرات میں( یا تعداد رکعات ) میں فرق آیا- حضرت علی نے انکو 40 کوڑوں کی سزا دی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ سے یہی سنا ہے-

چالیس کوڑے والی بات ایک طرف، مگر اسی سے ہمارا موقف ثابت ہوتا ہے کہ ذمہ داری کے منصب پرمے نوشی کرنا جرم ہے مگر پرائیوٹ جگہ پہ نہیں- آخر یہ امام صاحب، آگے پیچھے بھی تو پیتے ہونگے تبھی تودلیرانہ امامت کرانے آگئے- پہلے سزا کیوں نہیں ملی؟-(حضرت عمر کا ہی قول ہے کہ خدا پہلی بار جرم کرنے پر پردہ رکھتا ہے)- یہ مفروضہ بھی کیا جاسکتا ہے ابوشمحہ کی طرح، کسی نے انکو عین نماز سے پہلے پلا دی ہو-مگرایک توایسی کوئی  روایت نہیں دوسرے یہ کہ شراب کی شرعی حد کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ دھوکے یا غلطی سے نہیں بلکہ شراب کو شراب سمجھ کرپیا ہو توحد لگائی  جائے گی-

اگلی بات یہ کہ حضرت علی نے چالیس کوڑوں والی سزا کا رفرنس حضورپاک سے لیا- حضرت انس نے اپنا رفرنس حضور سے لیا اور ابن عباس نے بھی حضور سے ہی لیا- تینوں رپورٹوں کی مکمل تفصیل مہیا نہیں کہ مجرم کا نام کیا تھا اورجرم کی شدت کیا تھی؟-( ہوسکتا ہے کہ ایک صحابی نے دروان ڈیوٹی پی ہو- دوسرا وہ ہو، جو نشہ میں کسی کے گھرگھس گیا ہو-جبکہ تیسرا بے ضرر پھررہا ہو)- روایات کے اس اختلاف سے اتنا ضرور ثابت ہوجاتا ہےکہ شراب کی سزا بارے “کیس ٹو کیس” فیصلہ ہوگا-

چنانچہ مندرجہ بالا رویات سے ہمیں یہی سمجھ آیاکہ اگرشراب پینے کے بعد، چال ڈھال میں فرق محسوس ہو مگربے ضرر پھرتا ہو تواسکو نشہ اترنے تک ایک طرف بٹھا دیا جائے گا( ابن عباس کیس)- کوئ عادی شرابی غل غپاڑہ کرتا پھرتا ہے تواسکی پٹائی  کی جائے گی( حضرت انس کیس)- کسی نے دوران ڈیوٹی شراب پی تو 40 کوڑے کی سزا ہے( حضرت علی کیس)- البتہ فوجیوں کیلئے الگ قانون ہوگا- دورانِ جنگ اگر شراب پی تو80 کوڑے(حضرت عمرکیس) اورابھی جنگ نہیں ہوئی ، بلکہ کینٹ میں رہتے ہوئے پی تو قیدکی سزا( حضرت سعد کیس)-

خلاصہ کلام:

مولوی صاحبان ہی بتاتے ہیں کہ کسی بھی شرعی قانون سازی کیلئے، درجہ بدرجہ مجاز اتھارٹی مندرجہ ذیل ہے-
قرآن، حدیث، اجماع امت اور فردی اجتہاد۔

ترتیب یہ ہے کہ مثلاً  اگر قرآن میں شراب نوشی کی سزامذکور ہے تو اسکوحدیث نہیں بدل سکتی- حدیثِ رسول میں ایک سزا مذکور ہے تو اسکواجماع نہیں بدل سکتا- اگرایک سزا، اجماع امت نے کسی عہد میں مقرر کرلی تو اسکو دوبارہ ایک اجماع امت ہی بدل سکتا ہے مگر فرد نہیں-

اوپر کی بحث کا خلاصہ یہ ہے پرائیویسی میں شراب نوشی کرنے پر نہ کوئی  سزا ہے اور نہ اسکی ٹوہ لگانے کی اجازت ہے اوریہ اس وقت تک شرعی جرم نہیں بنتا جب تک کہ خود ہی قاضی کے پاس جاکراقرارنہ کرلے-

دیکھیے، کوئی  پاگل ہی ہوگا کہ نشے میں دھت ایسے شرابی کو بھی سزا سے مستثنی قرار دے جوسوسائٹی کیلئے خطرے کی علامت بن چکا ہو- اسلام جیسا منطقی مذہب بھلا کیسے شرابیوں کی نشوونما میں ممد ثابت ہوسکتا ہے؟-تاہم، ایسے شرابیوں کی سزا بھی”کیس ٹوکیس” مقرر ہوگی- یہی شریعت کا بھی منشا ہے اورسیکولرحکومت کا وطیرہ بھی-( سزا کی حد بندی میں اختلاف رائے ہوسکتا ہے-(روایتی مولویوں میں بھی یہ اختلاف موجود ہے اورجدید سیکولرقوانین میں بھی) -نکتے کی بات یہ ہے کہ سزا جوبھی دی جائے گی، وہ شراب”پینے” پر نہیں، بلکہ شراب”چڑھ جانے” پرہی لاگوہوگی-

میں احباب کی ناراضگی محسوس کررہا ہوں-(ایسے احباب جن کے حسین تصورمیں ہر طرف لوگوں کے ہاتھ کاٹے جارہے ہیں، سنگسار کیا جارہا ہے اورکوڑے مارے جارہے ہیں)- پس خیال خاطراحباب کیلئے، ہم یہ مان لیتے ہیں کہ شراب کا قطرہ پینا بھی جرم ہے- اگلا سوال یہ ہے کہ کیا شراب پہ پابندی لگانا بھی ضروری ہے؟-

ہونا تو یہی چاہیے کہ جرم کے اسباب پربھی پابندی لگائے جائے-

بالاخر ہم اصلی موضوع پرآگئے ہیں- یعنی کیا شراب پہ قدغن لگانا شرعی تقاضا ہے؟-پیچھے ہم دیکھ آئے ہیں کہ قرآن وحدیث میں شراب کی حرمت وسزا کو بھی بوجوہ مبہم رکھا گیا ہے تواس پرپابندی کی دلیل لانے کیلئےاب ہمیں ماضی کی اسلامی ریاستوں کا تعامل دیکھنا پڑے گا-

اس سے پہلے مگر ہمیں یہ تعین کرنا ہوگا کہ “ریاستِ اسلامی” نامی چیزکہاں اورکب پائی  جاتی تھی؟-

ہم چونکہ “پدرم سلطان بود” سینڈروم کا شکارہیں چنانچہ ہرطاقتورمسلمان حکمران کےزمانے کو فخریہ طورپر”اسلامی ریاست”قراردیاکرتے ہیں- (یہ بھی طاقت کی پوجاکا نفسیاتی نتیجہ ہے کہ ہم میں سے ہر پانچواں شخص”پیچھے سےپٹھان” اور ہردسواں آدمی، “پیچھے سےعربی” کہلانا پسند کرتا ہے)- دوسروں پردھاک بٹھاناہوتو”مسلمانوں کا شاندارماضی”، خلیفہ ابوبکرصدیق سے لیکرترکی خلیفہ عبدالمجید تک شمارکیا جاتاہے- مگرجب شرعی قانون سازی کی بات ہوتوپھرہم چودہ سو سال کو بائی  پاس کرکے صرف خلافت راشدہ کے زمانے کو اسلامی ریاست قراردیا کرتےہیں- حیران ہیں کہ کس دورکوریفرنس بناکرآگے بڑھیں؟-

ایک حدیث میں آتا ہے کہ بہترین زمانہ میرا ہے، پھر تابعین کااوراسکے بعد تبع تابعین کا- چنانچہ، وسطی زمانے سے ہی مثال لیتے ہیں یعنی امام ابوحنیفہ کے دور سے( چونکہ امام صاحب خود ایک تابعی تھے)-

خاکسار کے خیال میں امام ابوحنیفہ، عہدِ صحابہ کے بعداس امت کے سب سے بڑے عالم تھے-انکے دورمیں اسلامی سلطنت،دنیا کی سپریم پاوربن چکی تھی- دیکھنا چاہیے کہ ایسے ذی وجاہت عالم کے دورمیں، اسلامی ریاست کے کیپٹل میں کون سا قانون نافذ تھا؟-

بغداد میں امام ابوحنیفہ کاایک نوجوان پڑوسی، روزانہ رات کوشراب پی کربآواز بلند شعر پڑھا کرتا کہ افسوس! لوگوں نے مجھ جیسے جری جوان کوضائع کردیا- ایک رات امام صاحب کو اسکی آوازسنائی  نہ دی تواہل مجلس سے اس بابت دریافت کیا( یعنی اسکا شور، فقہی مجلس میں بھی مخل ہوتا رہتا تھا)- پتہ چلاکہ اہل محلہ نے اسکے غل غپاڑے کی شکایت کی توپولیس نے گرفتارکرلیا ہے- امام صاحب بنفس نفیس تھانہ میں گئے، فرمایا ہمارے پڑوسی کا ہم پرحق ہے-اسکی ضمانت لی اور رہا کروا کرگھر لائے-

غورکیجئے کہ یہ تابعین کی اسلامی ریاست ہے جس میں خلیفہ کی ناک کے نیچے شراب عام دستیاب ہے-(شراب عام دستیاب تھی تبھی تو وہ نوجوان دھڑلے سےروزانہ پیاکرتا تھا)- اسکے پینے پرنہیں بلکہ شورمچانے پرپڑوسی منقبض ہوئے اور اسی بات کی شکایت لگائی گئی- اگرچہ متاکدنہیں ہے مگر دستوراس زمانے کا یہی تھا کہ پولیس پکڑ کرقاضی کے سامنے پیش کیا کرتی تھی- بہرحال، قاضی صاحب نے یا پولیس نے، شرابی کوجیل میں کیوں ڈال دیا؟ کوڑے شوڑے کیوں نہیں لگائے؟ اس پر توسارا محلہ ہی شاہد تھا- پھر یہ کہ اسی رات کو ہی امام ابوحنیفہ جیسا فقیہہ ، خود جاکراسے رہا کرواتاہے-یعنی ایک امام جو ہمارے لئے یہ فقہ بناتا ہے کہ شرابی کو 80 کوڑے مارے جائیں، وہ بذات ِخود ایک شرابی کی ضمانت کرتا پھرتا ہے-(سیکولرسوسائٹی اورکسے کہتے ہیں؟)- اسی روایت سے ایک بارپھریہ ثابت ہوگیا کہ اسلام میں شراب نوشی پرسزانہیں بلکہ حالتِ شراب میں جرم کرنے پرسزا ہے-اور یہ کہ ریاست اسلامی میں شراب پہ کوئی  بندش نہیں ہواکرتی تھی-

امام ابوحنیفہ کے بعد کےادوارتومزید سیکولرہوتے گئے تھے-تاہم خیرالقرون والی حدیث کے ضمن میں تبع تابعین کے دور پربھی طائرانہ نگاہ ڈال لیتے ہیں-

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ جناب محمد بن قاسم موضوع بحث بنے رہے جو کہ ہندوستان کو اسلام کا قلعہ بنانے تشریف لائے تھے- ابن قاسم کو سندھ کی مہم پربھیجنے والا مشہوراموی خلیفہ ولید بن عبدالملک ہے جسکے دور میں اسلام سپین تک پہنچ گیا تھا- ہمارے زمانے کے ایک مشہور داعی وخطیب کی روایت یہ ہے کہ ولید وہ بدبخت تھا جس نے خانہ کعبہ کہ چھت پربیٹھ کرشراب نوشی کی تھی- تاریخ اگرچہ رطب ویابس سے بھری پڑی ہے مگراس میں دورائے نہیں ہیں کہ بنوامیہ کے دور میں شراب نوشی عام تھی-(اس دور کی سوسائٹی کی تصویرکشی کرتے ہوئے فضائل اعمال میں واقعہ درج ہے کہ ایک”ہاشمی” رئیس، ہمہ وقت شراب کے نشہ میں اورلڑکے لڑکیوں میں مشغول رہتا تھا- خاکسا حیران ہے کہ مذکورہ شخص کی شراب نوشی بارے جتنی پکی شہادت ہمارے شیخ الحدیث زکریا صاحب ہزارسال بعد دے رہے ہیں، کیا اس وقت اسکی شراب نوشی کے عینی شاہدین میسرنہیں تھے یا انکی ایمانی حمیت کم تھی کہ اسکو کوڑے نہیں لگوائے؟)- میں نے مضمون کے شروع میں عرض کیا تھا کہ شراب کوہندی مولویوں نے اعصاب پر سوار کردیا ورنہ عالم عرب میں یہ اتنا حساس ایشو نہیں تھا اورنہیں ہے-

اس سے انکار نہیں کہ ہماری ڈیڑھ ہزارسالہ تاریخ میں شراب توکیا موسیقی پرپابندی لگانے والے ادوار بھی آئے جو”خیرخواہوں” کے نزدیک بادشاہ کے” تقوی” اور”بدخواہوں” کے نزدیک بادشاہ کی “سیاست” کا مظہرتھے- اس بارے دودلچسپ مثالیں،مغل شہنشاہ جہانگیراورپاکستانی وزیراعظم بھٹوکی دی جاسکتی ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دورمیں شراب پہ پابندی لگائی تھی- بھٹو مرحوم کی شراب نوشی بارے آپ جانتے ہی ہیں-نورالدین جہانگیرکے بارےیہ شعر کہا گیا تھا کہ اس نے نورجہاں کے تل اور پیمانہ بادہ پہ مملکت ہند گروی رکھ چھوڑی ہے-(اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کیلئے)-

اب آجاتے ہیں عہدِ خلافتِ راشدہ کی طرف جس پرہماری شرعی قانون سازی کامدار ہوتا ہے-

اوپر  واقعہ عرض کیا کہ دورفاروقی میں ایک آدمی اپنے گھر میں شراب پی رہا تھا جسے حضرت عمر نےکوئی سزا نہیں دی تھی- اگر مدینہ میں کوئ شراب کی فیکٹری نہیں تھی توپھر اسے شراب کہاں سے دستیاب ہوئی؟- یا پھرخود حضرت عمر کے بیٹے کوشراب کہاں سے میسرآئی تھی اگر اسکی سپلائی  پہ قدغن تھا؟- کہا جاسکتا ہے کہ گھروں میں بنائی  جاتی ہوگی مگریہ چیز، دن کے دن نہیں تیار ہواکرتی- اس پر زمانے لگتے ہیں- مدینہ شہرمیں اتنی سیکریسی ممکن نہیں معلوم ہوتی-یہی فرض کرلیں تو بھی ثابت یہ ہواکہ شراب پہ قطعی پابندی نہیں تھی-

دراصل وہ زمانہ ریگولربازاروں کا نہیں تھا- بیرونی دنیا سے تجار کے قافلے مدینہ آتے تھے تو منڈی لگاکرتی تھی جہاں دیگراجناس کی طرح شراب بھی بیچی جاتی تھی اوراگر یہ ممنوع ہوتی توحضرت عمر کے مقرر کردہ نگرانوں کی نظروں سے چھپ کراسکی ترسیل ممکن نہیں تھی- (سبحان اللہ، کفار کومدینہ میں تجارت کی کس قدرآزادی میسر تھی؟ اس پرایک واقعہ سنتے جایئے- ابوجہل کو قتل کرنے والے صحابی کی بیٹی کے گھر ایک کافرتاجرعورت عطربیچنے آئی  جونہ صرف حضرت اسماء سے جھگڑا کرگئی بلکہ “توہین صحابہ” بھی کرگئی تھی مگراس عورت کو قتل کرنا تو کجا، کسی نے اسکے کاروبار پرپابندی بھی نہیں لگائی  تھی- یہ واقعہ ہرتبلیغی ساتھی، حکایات صحابہ میں پڑھا کرتا ہے)-

آگے چلیئے! ہم اس زمانے کے سویلئن معاشرے کے ساتھ ساتھ ملٹری ماحول کا بھی جائزہ لے لیں-

اوپر یہ بھی  عرض کیا تھا کہ حضرت عمر نے جنگی کمانڈروں کوخط لکھا تھاکہ شراب نوشی پر80 کوڑے مارے جائیں- سوال اٹھتا ہے کہ کیا اسلامی لشکروں میں شراب دستیاب ہوتی تھی؟- سفرمیں اورپھرایک لشکرکے ساتھ سفرمیں، کسی آدمی کااپنے ہمراہیوں سے چھپ کرسامان لے جانا سمجھ میں نہیں آتا- چنانچہ، پوچھا جانا چاہیے کہ قادسیہ کے لشکرمیں شراب کیونکر میسرہوگئی  تھی جبکہ نہ تووہاں پاس کوئی  شہرموجود تھا اورنہ ہی اس زمانے میں لوگوں کے پاس سفرمیں بکس ہوتے تھے جنہیں تالہ لگایا جاتا ہو؟-صحرامیں یہ پڑاؤ مہینے سے زیادہ عرصہ تک رہا تھا- میراقیاس یہ ہے کہ جنگ قادسیہ میں چونکہ مسلمانوں کے ساتھ قومی بنیاد پریہودی اورعیسائی  عرب دستے بھی شریک جنگ تھے ،تووہ لوگ اپنے ساتھ شراب لائے ہونگے- لیکن اگر شراب پہ شرعی پابندی عائد ہوتی توانکو بھی اجازت نہ ملتی کیونکہ وہ حضرت سعد کی ہی کمانڈ میں تھے- ان غیرمسلم عربوں کے ساتھ ،چند مسلمان بھی پی پلالیتے ہونگے(کہ یہ انکے کلچرمیں ایک پرانی اورعام عادت تھی)-ابومجن نے شاید زیادہ پی لی ہوگی- پینے کے بعدان سے کوئی  دوسرا جرم یا کوئی  نقصان سرزد نہیں ہواہوگا( ورنہ اس جرم کی سزا ضروردی جاتی) مگرزیادہ مے نوشی کو یونٹ کمانڈر نے ڈسپلن کے خلاف سمجھا ہوگا تو اپنے صوابدیدی اختیارکے تحت ان کوقید کی سزا دی-

خلافت راشدہ کی بات کرتے ہوئے، حضرت علی کے دورکا مشہورواقعہ لے لیتے ہیں-

چونکہ ہمارے ہاں شراب اورتوہین اکابر، بہت حساس ایشوز ہیں، اسی وجہ سے میں نے اس معروف صحابی کا نام نہیں لکھا جنہوں نے کوفہ میں حالت نشہ میں نماز پڑھا دی تھی-اور یہ سرکاردوعالم کی رحلت کے 25 سال بعد کا واقعہ ہے-(یعنی وہ” پرانے ساتھی” تھے- دراصل، شراب ویسے ہی عربوں کی گھٹی میں پڑی ہوئی  تھی جیسا کہ پختونوں کے ہاں چائے)- شراب کی ممانعت قرآن میں آئی  توعمومی طورپر صحابہ نے شراب چھوڑ کرواقعی کمال کیا مگراس بارے خطیبوں نے بھی خوب افسانہ سازی کی ہے- مثلا” یہ کہ”مدینہ کی گلیوں میں شراب کا سیلاب بہتا نظرآتا تھا” فقط خطیبانہ رنگ آمیزی ہے-(اس سے قطع نظر کہ مدینہ کی مٹی میں کتنی بوتل شراب جذب ہوسکتی ہے، مگر شہرکی گلیوں میں دوانچ گہرے شراب کے”فلڈ” کیلئے بھی فی گھر کئی  بیرل شراب کا موجود ہونا لازمی ہے)-

بے شک صحابہ نے شراب چھوڑ دی تھی تاہم شراب نوشی کے اکادکا واقعات رونما ہوجایا کرتے تھے کیونکہ شراب کی موجودگی پہ کوئی  قانونی قدغن موجود نہیں تھی- اوریہ پابندی اس لئے نہیں لگائی گئی تھی کیونکہ ایسا کوئی  شرعی تقاضا تھا ہی نہیں-

قارئین کرام!

اوپردئے گئے دلائل، فقط ان احباب کی تسلی کیلئے ہیں جن کے دین کی سند”اکابر” ہواکرتے ہیں- ہمارے لئے مگر خدا کا قرآن بہت واضح ہے- قرآن یہ بتاتا ہے کہ شراب میں فائدہ بھی ہے مگراسکا نقصان زیادہ ہے تو اس سے پرہیز کیا جائے- قرآن ہی سے واضح ہوتا ہے کہ شراب پینا برائی ہے مگر یہ کسی خاص جگہ، وقت اور مقدار میں ہی جرم کی حد میں آتا ہے ورنہ نہیں- قرآن ہی سے ہم نے سمجھا کہ شراب بارے قانون سازی، ہرزمانے کے سماج کے باہمی مشورے پرچھوڑ دی گئی ہے- ہمارے اسلاف نے اپنے زمانے کے سماج مطابق جو فیصلے کیے ہوں ، وہ ہمارے لئے مشعل راہ ضرور ہوسکتے ہیں مگرہم انکے تقفہ کو قرآن کی طرح کا شرعی ماخذ نہیں مان سکتے-

خلافت راشدہ کے مطالعہ سے ہمیں یہی سمجھ میں آیا ہے کہ اسلامی سماج میں ہرقسم کا نشہ کرنا ایک برائی  جانی جاتی تھی تاہم اس بارے سزا کا فیصلہ، نقشہ کی مقدار کے مطابق کیا جاتا تھا- مزید یہ کہ اس زمانے میں بھی شراب کی عمومی ترسیل پر حکومت کی طرف سے کہیں پابندی نہیں لگائی گئی تھی- میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فردی آزادیوں پرمشتمل ایک پرامن سماج قائم کرنے کیلئے، انسانی دانش جہاں تک آج پہنچی ہے اوراسکے لئے جوسیکولرمنطقی قوانین تشکیل دیئے گئے ہیں، وہی قوانین ابتدائی  اسلامی معاشرے میں چودہ صدی پہلے رائج تھے-

اس بحث کو سمیٹتے ہوئے عرض ہے کہ ایک جمہوری ریاست کی پارلیمنٹ کو بہرحال یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی پراڈکٹ پر پابندی عائد کردے- تاہم ایسی قانون سازی کی کوئی  نہ کوئی  منطقی بنیاد ضرور ہونا چاہیے- یہ سوال ضرورپیش نظر رہنا چاہیے کہ کیا شراب پر مکمل پابندی لگانے سے پاکستانی سماج اور دینِ اسلام کو کوئی  خاص فائدہ پہنچتا ہے؟-

جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *