عالمی اجارہ داری کا بگڑتا ہوا توازن۔بلال شوکت آزاد

21 دسمبر تاریخ ساز دن تھا اس میں دورائے نہیں لیکن یہ  دن بہت سے نادیدہ خطرات کا ترجمان بھی ہے جو بہرحال اقوام عالم خاص کر اسلامی بلاک کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے۔کل اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس امریکہ اور اسرائیل کی خواہش پر بلایا گیا جہاں پوری دنیا کے مستقل مندوببن نے شرکت کی اور اپنے ممالک کی نمائندگی کی۔اس ہنگامی اجلاس کو بلانے کا مقصد صرف اور صرف ہٹ دھرمی اور جمہوری بدمعاشی تھی۔کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جو چند دن پہلے اپنا اسرائیل میں موجود امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس ٹرانسفر کرکے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ سنایا اور بزور بدمعاشی دنیا کو دعوت دی کہ وہ بھی ایسا ہی کرے۔لیکن بھلا ہو گلوبل ویلیج کا کہ اس فیصلے پر چند ہی ثانیوں میں پوری دنیا سے شدید ردعمل آیا ماسوائے امریکہ اور اسرائیل نواز ممالک کے۔صرف اسلامک بلاک ہی نہیں بلکہ غیر مسلم خودمختار ممالک نے بھی امریکہ کی اس بدمعاشی کو اور اسرائیل کی چالاکی کو قبول نہیں کیا۔پھر فرانس جاکر امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان جاری کیا کہ اول تو امریکہ کا فی الفور کوئی ارادہ نہیں سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس ٹرانسفر کرنے کا اور دوم ایسا دو تین سال تک ممکن بھی نہیں، مطلب بغلیں جھانک کر امریکہ نے ایک طرح سے اس فیصلے سے دستبرداری دکھائی۔

لیکن ہمارے ہاں ایک کہاوت مشہور ہے کہ چوڑے والی  اکڑ جاتی نہیں، کے  مصداق جب امریکی صدر کے مسلم امیگریشن ریفارمز بل کو عدلیہ سے کلیئرنس ملی تو وہ پھر شیر ہوگیا اور لگا دھمکی آمیز بیان دینے۔دوسری طرف ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلاکر ماحول بنایا اور پاکستان, یمن اور ترکی نے ایک فیصلے پر اتفاق کیا بشمول دیگر اسلامی ممالک کی منشاء سے کہ یہ تینوں ممالک اقوام متحدہ میں ایک متفقہ قرارداد پیش کریں گے کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت بنانا اور تسلیم کرنا اور  کروانا ایک غیر قانونی اور غیر جمہوری عمل ہے جس کو فوری رد کیا جائے اور فلسطین و کشمیر جیسے حل طلب عالمی مسائل کو اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے مطابق فوری حل کیا جائے یعنی انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اسی سلسلے میں 21دسمبر کو  اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ترکی, یمن اور پاکستان نے مل کر قرارداد  مخالفت جمع کروائی جس پر 128 ممالک نے حمایت جبکہ 9 نے مخالفت اور 35 نے لاتعلقی کا مظاہرہ کیا۔اس سارے ضمن میں پاکستان کی مستقل مندوب اور بہادر خاتون ملیحہ لودھی نے بہت کھل کر اپنے ملک اور امت مسلمہ کا موقف اقوام متحدہ میں ببانگ دہل باور کروایا۔نک ہیری جو کہ امریکہ کی مندوب ہیں اقوام متحدہ میں, ان کا اپنے جارہانہ بیان میں کہنا تھا کہ

“آج کا دن امریکہ کے لیے  بہت برا اور یادگار دن ہے جب دنیا نے امریکہ کو یکسر تنہا کردیا حالانکہ ان حمایتی ممالک میں بہت سے ممالک امریکہ کی امداد پر پل رہے ہیں اور بہت سے ممالک نے اپنے مفادات کی خاطر امریکہ کا استعمال کیا ہے جوکہ اب امریکہ یاد رکھے گا آج کے دن ان ممالک کی بے رخی کو اور یہی نہیں کہ امریکہ بہت سے ممالک کو امداد دیتا ہے بلکہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کو بھی سب سے زیادہ کنٹری بیوشن دینے والا ملک امریکہ  ہے،   جہاں آج امریکہ تنہا کھڑا ہے, بہرحال امریکہ ہر حال میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس میں ٹرانسفر کرے گا کہ یہ امریکہ کی خودمختاری کا سوال ہے۔”

دوسری طرف جب پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی کو بولنے کی دعوت دی گئی تو اس عظیم خاتون نے سب امریکی بیانات کو یکسر مسترد کیا اور کہا کہ “پاکستان اپنے ہم عصر ممالک کی معاونت سے فلسطین اور کشمیر کی تحریک آزادی کو زندہ رکھے گا اور جہاں جہاں شدید موقف اپنانے کی ضرورت پیش آئی وہاں شدید موقف اپنائے گا۔ ہم امریکہ کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو, امریکہ کا اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کھڑے ہوکر اپنے غلط فیصلے پر ڈٹے رہنا عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کی  کھلی خلاف ورزی ہے ۔ پاکستان کا موقف وہی رہے گا جو پہلے تھا کہ اقوام متحدہ فلسطین اور کشمیر جیسے حل طلب مسائل کا حل فوری کرے اقوام متحدہ کی منظور قراردادوں اور چارٹرڈ کے مطابق۔”

اس سارے قضیے میں غور طلب بات یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار امریکہ کو کسی فورم پر اتنی شدید حزیمت اٹھانی پڑی اور یکسر تنہائی کا سامنا کرکے اقوام عالم میں شرمندگی دیکھنی پڑی۔اسی اقوام متحدہ میں امریکہ کی عزت کا فالودہ نکلا جہاں کبھی امریکہ دھونس اور دبدبے سے پاکستان کو اکیلا کرکے عالمی تماشہ سجاتا تھا۔اب وہ وقت   قریب  ہے جس کی پیشن گوئیاں موجود ہیں کہ پاکستان کی ہاں میں ہاں ملائی جائیگی اور طاقت کا پلڑا اللہ مسلمانوں کے اس پشتبان کے ہاتھ دے گا۔

آرمی چیف اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا دو ٹوک موقف بلکہ اعلان پہلے ہی امریکہ کے لیے  سردردی بنا ہوا تھا کہ اب دنیا خاص کر امریکہ کی باری ہے ڈو مور کی۔ پاکستان نے بہت ڈومور کرلیا اب پاکستان کی طرف سے صرف نومور ہی ملے گا۔ اور ساتھ ہی پاکستان نے امریکی امداد سے دستبرداری کا عندیہ بھی دیا جس نے امریکہ کو مزید خجالت میں مبتلا کیا۔یہی نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل نے شدید پراپیگنڈے سے سعودیہ  عرب کو بھی تنہا کرنے کا   قصد کیا جوکہ اس وقت ان پر الٹا پڑگیا جب سعودی سفیر نے آفیشلی دو ٹوک بیان  دے  کر اسلامی بلاک کو تسلی کروائی کہ بیت المقدس پر سعودیہ کا وہی ردعمل ہے جو ساری امت مسلمہ کا ہے اور یہ کہ کوئی درپردہ اتحاد یا کھلا اتحاد اسرائل سے نہیں ہورہا۔

اب گزشتہ چند ماہ بلکہ سال کے آغاز سے اب تک سال کے آخر میں امریکہ کا جو حال دنیا میں ہوا ہے خاص کر ٹرمپ کی صدارت میں۔ وہ بہت حیران کن اور توجہ طلب ہے کہ دنیا میں عالمی اجارہ داری کا توازن  بری طرح بگڑ رہا ہے۔چین, روس, ترکی, سعودی عرب, مصر اور یمن جیسے ممالک کا پاکستان کی پشت پر ہونا اور پاکستان کا خودمختار چہرہ امریکہ بھارت اور اسرائیل سمیت کافی یورپی ممالک کے لیے  پریشان کن ہے۔

تحریر کے آغاز میں میں نے کہا تھا کہ   21 دسمبر کا  دن ایک تاریخ ساز دن تھا بلا شک و شبہ لیکن ساتھ ہی اس دن کی مناسبت سے بہت سے نادیدہ خطرات کا جنم ہوا ہے کہ امریکہ اسرائیل اور بھارت اب اس حزیمت  کا بدلہ لینے کو بہت سے غلط اقدامات کریں گے۔دہشت گردی اور پراکسی وار کی ایک شدید لہر پاکستان میں شروع ہونے جارہی ہے۔ اس ضمن میں ان گرتی ہوئی طاقتوں نے فورتھ اور ففتھ جنریشن ڈاکٹرائن کا سہارہ لینا ہے جس سے عام مسلمان ناواقف ہیں۔فرقہ واریت اور انتشار پیدا کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے گا, شدید سیاسی دباؤ اور بحران پیدا کیا جائے گا اور حتمی قدم پاکستان کو دیوالیہ کرکے اس کی ایٹمی تنصیبات کو ہتھیا کر پاکستان کو کمزور کیا جائے گا۔

لیکن ہم پرامید ہیں کہ پاکستان اسلام کاقلعہ ہے اور اس قلعے کی محافظ فوج چوکنا ہے جو اس کٹھن وقت میں بھی اہم کردار اداکرے گی ہمیشہ کی طرح۔اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان کو اپنی  حفظ و امان میں رکھے اور ان مشکلات سے نکلنے کا راستہ دے۔ان شاءا للہ   21 دسمبر  جیسے دن اب اور دیکھنے کو ملیں گے جب اقوام عالم کو پاکستان کی بات نہ صرف سننا ہوگی بلکہ ماننی بھی ہوگی۔21 دسمبر کو سب پاکستانیوں کو ہرسال مخصوص کرکے “امت مسلمہ ڈے” منانا چاہیے  کہ جب اس دن امت مسلمہ کی رہنمائی پاکستان نے اقوام عالم کے سامنے ایسے کی جیسے کرنے کا حق تھا۔

میں آخری الفاظ پاکستان کی اس بہادر بیٹی اس خاتون ملیحہ لودھی کو ٹریبیوٹ   پیش کرنا چاہوں گا جو ہر طرح کے سیاسی اور سفارتی دباؤ سے مبراء پاکستان کی بہتربن نمائندگی کررہی  ہیں۔ہمیں ایسے بے باک اور بہادر حکمرانوں کی بھی ضرورت ہے جو لیٹنے کے بجائے کھڑے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *