• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چین پاکستان تعلقات، بھاری سرمایہ کاری اور خود مختاری۔گُل ساج

چین پاکستان تعلقات، بھاری سرمایہ کاری اور خود مختاری۔گُل ساج

آج اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری کہ چائنا نے پاکستان سےچند مطالبے کیے،ایک یہ کہ اسے گوادر میں چینی کرنسی یوآن استعمال کرنے کی اجازت دی جائے(صد شکر کہ پاکستان نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا)
اور دوسرا مطالبہ اقتصادی راہداری کے راستوں پہ کسٹم کلئیرنس کے لیے کسٹم چیک پوسٹس بنائی جائیں یہ جائز بات تھی جو قبول کرلی گئی۔

چینی کرنسی والی خبر دیکھ کے میں چونک سا گیا اور کئی خدشات میں گِھر گیا۔ایک مُحب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے سی پیک اور چائنا کی سرمایہ کاری کے حوالے سے جہاں مجھے وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی سےخوشی ہے وہیں میرا دل چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ سے کسی حد تک خائف بھی ہے۔یہ خبر یوں بھی تشویش کا باعث ہے کہ پہلے ہی چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے،سرمایہ کاری کا ابھی آغاز ہے انویسٹمنٹ بورڈ کی ویب سائٹ کے مطابق سال2015 اور2016میں پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں سے 46 فیصد صرف چین نے کی ہے اگلے برسوں میں شاید 60 فیصد سے بھی تجاوز کر جائے۔

دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک کے اعدادوشُمار بتاتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں کسی بھی ایک ملک کی سرمایہ کاری 15 فیصد سے  زیادہ نہیں،کسی تنہا ایک ملک کی اتنی بلند شرح سرمایہ کاری خطرے کی علامت ہے،زیادہ پرانی بات نہیں، چین نے تاجکستان میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی نتیجہ یہ نکلا کہ 2009 میں جب تاجکستان ڈیفالٹ کر گیا تو سرمایہ واپس کرنے کے لیےتاجکستان کو اپنی گیارہ سو مربع کلو میٹر اراضی چین کو دینا پڑی، چین کے کم و بیش ایک لاکھ باشندے بھی اس ملک میں ملازمت کر رہے ہیں۔ظاہر ہے اتنی بلند سرمایہ کاری کے بعد پاکستان کی داخلہ سے خارجہ تمام پالیسیوں میں ڈکٹیشن کا سامنا ہوگا اور پاکستان ماننے پہ مجبور،

اقتصادی راہداری کی سیکیورٹی  اب  فی الحال پاکستانی انتظامیہ ،پاکستانی اداروں اور افواج کے پاس ہے،خدانخواستہ کسی بڑے سکیورٹی نقصان کی صورت میں چین پاکستان سے اپنے سکیورٹی اداروں کی تعیناتی کی درخواست بھی کر سکتا ہےتب صورتحال کیا ہوگی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔حال ہی میں چینی فوجی دستوں نے پاکستانی افواج کے ساتھ مشترکہ پریڈ بھی کی ہے،ہماری گوادر بندرگاہ عملی طور پر چین کے زیرِ کنٹرول ہے،مُعاہدے کے مطابق چینی باشندے بغیر ویزے کے پاکستان آ سکیں گے تاہم پاکستانیوں کو چائنا میں داخلے کے لیے یہ سہولت میسر نہیں ہوگی،چائنیز کمپنیوں کو پاکستان میں ہزاروں ایکڑ زمین لیز پہ دی جائے گی۔

مزید یہ کہ چائنا نہ صرف سی پیک کے حوالے سے پاکستان میں دلچسپی رکھتا ہے بلکہ ہر طرح سے ملک میں اپنے اثر و نفوذ میں اضافہ کرتا جا رہا ہے پاکستان کے مرکزی اسٹاک مارکیٹ کے چالیس فیصد حصص ایک چینی کنسورشیم کو فروختگی کے تمام معاملات طے پا چکے ہیں۔اسی طرح کے الیکٹرک بھی چائنا خرید رہا ہے۔جہاں جہاں چینی منصوبوں کا آغاز ہوا ہے وہاں ملازمین بھی چائنا سے متعلق ہیں یہاں تک کہ نچلے لیول پہ پاکستان کے بڑے شہروں کے بازاروں میں چینی باشندے تجارت کرتے نظر آرہے ہیں،

یہ بھی حقیقت ہے کہ سی پیک ملک میں تعمیر و ترقی کی نئی راہیں کھولے گا صحیح معنوں میں ملک و قوم کی تقدیر بدلنے والا ہمہ جہت منصوبہ ہے اسی لیے دشمنوں کی نظر میں کھٹک رہا ہے اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کئی طاقتیں متحرک ہیں۔پاکستان کو اندرون بیرون سازشوں کا سامنا ہے۔سی پیک کے منفی پہلو ڈھونڈنے اور انہیں اجاگر کرنے کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے
یہ سب محل نظر ہونے کے باوجود پاکستان کو نہایت دوراندیشی سے مستقبل کی پلاننگ کرنی چاہیے،چائنا بلاشبہ ہمارا آزمودہ مخلص دوست ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستوں کی دوستی باہمی مفادات کے تابع ہوتی ہے۔پاکستان کو اپنی خودمختاری کا دھیان رکھتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے!

گل ساج
گل ساج
محمد ساجد قلمی نام "گل ساج" مظفر گڑھ جنوبی پنجاب ۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *