فاطمہ بنت احمد ۔۔۔ ایمان شاہ

فاطمہ اب میری بیٹنگ دو ورنہ میں تمہیں ماروں گا اظہر نے غصے سے کہا۔
میں نہیں کھیل رہی اب میں تھک گئی۔
فاطمہ یہ کہتے ہوئے تیزی سے بھاگی اور اظہر اس کے پیچھے۔

دونوں کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر والد نے آواز دی۔
اور اپنے ساتھ کھانے کیلئے بٹھالیا۔
اظہر کو فاطمہ پر شدید غصہ تھا۔
وہ کھانے کے درمیان بھی اسے مسلسل غصے میں گھور رہا تھا۔
جبکہ والد اسکی نظروں کو مسلسل گھور رہے۔
جب اس سے پوچھا تو بتایا۔
ابو اس نے بیٹنگ کرلی اور مجھے نہیں کروائی۔
مجھے اسکی یہ عادت زہر لگتی ہے۔
ابو نے اسے کہا اور مجھے تمہاری یہ غصے میں فاطمہ کو گھورنے والی عادت زہر لگتی ہے۔
ابو کے ان لفظوں نے فاطمہ کو اور بھی مغرور کردیا تھا۔
فاطمہ احمد صاحب کی اکلوتی بیٹی نہیں تھی۔
بلکہ اس کے علاوہ
سعدیہ حنا اقراء اور رابعہ بھی تھیں جبکہ اظہر اکلوتا بیٹا تھا۔

احمد صاحب کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا وہ بہت کم پڑھے لکھے انسان تھے۔
لیکن بچوں کی پرورش میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
اپنی بساط سے بڑھ کر جان توڑ محنت کرتے۔
اکلوتے بیٹے کو کبھی بیٹیوں پر فوقیت نہ دی۔
بلکہ اسے گاہے بگاہے سمجھاتے رہتے
بیٹا
یہ بیٹیاں تو چڑیاں ہوتی ہیں
ایکدم سے اڑ جائیں گی
یہ آبیگنے ہیں نازک ان کا ہمیشہ خیال رکھنا

بیٹیاں اپنے والد کے لفظوں پر مغرور ہوجاتیں۔
اور خود کو بہت اہم مخلوق سمجھنے لگتیں۔
اور خود کو بہتر سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش میں بہت محنت سے پڑھتی تھیں۔
اور اپنی کارکردگی والد کو دکھا کر داد وصول کرتیں۔
فاطمہ اسکول میں تقاریر کرتی اور ہر انعام لاکر احمد صاحب کو دکھاتی۔
احمد صاحب کو اسکا لہجہ بہت ہی بھاتا۔
اور وہ اس کے مستقبل کو بہت ہی محفوظ سمجھ کر خوش ہوتے تھے۔
کہ اس میں معاشرے کے سامنے ڈٹ کر اپنا مؤقف پیش کرنے کی صلاحیت ہے۔
اپنی بیگم (زہرہ) سے کہتے کہ فاطمہ پڑھ لکھ کر تم سب کو سنبھال لے گی۔

اردگرد کے لوگ جب کہتے کہ بیٹیوں کو اتنا پڑھا کر کیا کریں گے۔

اتنی پڑھائی بچیوں کے لئے اچھی نہیں ذہن خراب ہوجائے گا تو فخر سے کہتے کہ مجھے میری بیٹیوں پر مکمل اعتماد ہے۔
فاطمہ اور اس کی بہنیں وقت کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں۔

آج مارچ کی آٹھ تاریخ تھی۔

عورتوں کا عالمی دن منایا جارہا تھا۔

ٹی وی پر عورتوں کی اہمیت پر ایک ڈاکومنٹری دیکھتے ہوئے
جب یہ لفظ آئے
کہ بیٹیوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل زندہ دفن کردیا جاتا تھا
اور قرآن کریم کی آیت
اور قیامت میں اس لڑکی سے پوچھا جو زندہ گاڑی گئی
کہ تو کس جرم میں زندہ دفنادی گئی

احمدصاحب نے بخار میں تپتے ہوئے تھکن سے چور ان لفظوں کو سنتے ہوئے روتے ہوئے
اپنی اہلیہ سے مخاطب ہوکر کہا
زہرہ یہ کیسے لوگ تھے؟؟
جو اس طرح کرتے تھے؟
میں نے تو اپنی ہر بیٹی کی پیدائش پر خوشی منائی ہے۔
ان کی اچھی پررورش کی کوشش کی ہے۔

ابھی زہرہ احمد کو تسلی دے ہی رہی تھیں
کہ فاطمہ کمرے میں ایک شیلڈ لئے آئی

ابو یہ دیکھیں آج عورتوں کے حق میں ایک ریلی نکالی گئی
جس میں معاونت کرنے پر مجھے یہ یادگاری شیلڈ دی گئی۔

احمد صاحب نے فخریہ انداز میں بیٹی کو دیکھا اور خوشی خوشی اپنی بیٹی کی کہانی سنتے ہوئے کہنے لگے
اچھا فاطمہ
بیٹا جلسے میں کیا ہوا؟
کیا مطالبات تھے مجھے تفصیل سے بتاؤ ۔

ابو ایک منٹ اپنا سیل فون آن کرتے ہی فاطمہ نے کچھ تصویریں کھولیں

جس پر پہلا بینر تھا

Happy divorce
فاطمہ اس بینر کو لے کر بہت جذباتی ہوئی
اور روانی سے بتانا شروع کیا۔
ابو کیا وہ عورتیں جنہیں طلاق ہوجائے انہیں خوش رہنے کا حق نہیں
ایسی ایسی عورتیں ہوتی ہیں جنہیں تمام مسائل برداشت کرنے کے بعد بھی طلاق کے تمغے دٰیئے جاتے ہیں اور انہیں معاشرہ طلاق یافتہ سمجھ کر معاشرتی خوشیاں حرام کردیتا ہے ۔۔۔۔۔؟

تو فاطمہ کیا آپ نے قرآن و حدیث کے متعلق لوگوں کو آگاہی دی؟؟؟ جس میں بیوہ اور مطلقہ عورت کو مکمل حقوق دیئے گئے ہیں؟؟

ابو ابھی صرف ہم نے اشوز ہائیلائٹ کئے ہیں
مکمل آگاہی ہم بعد میں دیں گے۔

اور ابو یہ دیکھیں میں ٹائر چینج کرسکتی ہوں؟؟


احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
بیٹا
مرد اور عورت کی جسمانی طاقت میں فرق ہوتا ہے لیکن جن عورتوں پر یہ ذمہ داری پڑھ جاتی ہے وہ نبھا لیتی ہیں
جیسے سوات کی ٹرک ڈرائیور شمیم اختر

تیسرا بینر جیسے ہی اسکرول کیا
اس پر آویزاں تھا
لو بیٹھ گئی صحیح سے

جسے دیکھتے ہی فاطمہ نے نظریں چراتے ہوئے اسکرول کیا کیونکہ کوئی وضاحت سمجھ نہیں آئی۔
احمد صاحب خاموش رہے
چوتھا بینر تھا
اپنا کھانا گرم خود کرلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاطمہ نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔
ابو ایک ٹرانسجینڈر تھا وہاں اس نے عورتوں کو بدنام کرنے کیلئے یہ گھٹیا حرکت کی
اس بار بھی احمد صاحب چپ رہے۔
پانچواں بینر تھا

اکیلی آوارہ آزاد

فاطمہ کہنے لگی ابو جان ہر بینر بامقصد تھا۔
ہر بینر کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی تھی۔

جسے ہماری این جی او کی میم باقاعدہ وضاحت کے ساتھ پیش کریں گی۔

اب کی بار احمد صاحب نے آہستگی سے سر اٹھایا

اور کہا
فاطمہ
قولو قولا سدیدا
لوگوں سے سیدھی بات کہا کرو

ہر وہ بات جس کا مقصد آپ ہزار تاویلیں دے کر بیان کرو گے
بحث و مباحثے کی نظر ہوجائے گی

اگر آسیہ کبھی اسکول نہیں گئی تو بیٹا

ان ذو معنی جملوں کے بعد اس کا اسکول جانا مزید محال ہوجائے گا۔

آسیہ کو اسکول بھیجنا ہی تھا

تو فکر وعمل کے وہ چراغ کیوں روشن نہ کئے گئے
جن کی روشنی کو کسی وضاحت کی ضرورت نہ پڑھتی
کہ میں ہی روشنی ہوں
اگر مجھ جیسے بہت سے باپ اپنی بیٹیوں کو علم و شعور دینا چاہتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ کسی کی بھی اندھی تقلید کرلیں
بلکہ اس لئے کہ اچھے اور برے میں خود فرق کرنا سیکھیں۔
اپنے حق کے لئے مضبوطی سے کھڑی ہوں لیکن
معاشرے کو الجھانے کے بجائے سلجھانے کے عمل میں معاون بنیں۔

ابھی یہ لیکچر جاری ہی تھا کہ اظہر کمرے میں داخل ہوا۔
فاطمہ میرے موزے کہاں ہیں؟؟؟
پھینک دیئے۔
اتنے بدبودار ہوگئے تھے دھلنے کے بعد بھی صاف نہیں ہورہے تھے اور تم کیا ان موزوں سے سب کی جان لو گے؟
فاطمہ نے منہ چڑاتے ہوئے کہا
اور سب کے قہقہے بلند ہوگئے۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *