رنگ و نسل اور ذات پات کی وبا ۔۔۔ قرأۃ العین

معاشرہ افراد کے میل ملاپ سے تشکیل پاتا ہے۔ معاشرے میں ہمیں اچھے یا برے ہر طرح کے افراد ملتے ہیں جو اپنا مثبت یا منفی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں مگر ایک اچھے معاشرے کی بنیادی اچھے افراد پر مشتمل افراد سے ہی رکھی جاسکتی ہے۔ اللّہ تعالیٰ نے ہمیں ایک آدم علیہ السلام سے پیدا فرمایا اس لحاظ سے ہم سب کا حسب و نسب اور خاندان آدمیت ہے مگر پھر ہمیں مختلف گروہوں اور نسلوں میں شامل کردیا تاکہ پہچان ممکن ہوسکے۔ جس کا جو پیشہ تھا وہ اسی مناسبت سے جانا جانے لگا۔ لوگ مختلف قوموں اور قبیلوں میں بٹ گے۔ یوں یہ قومیں اور قبیلے ہی افراد کی پہچان اور تعارف کا ذریعہ بنتے چلے گئے مگر یہ معاملہ فقط پہچان اور تعارف تک رہتا تو درست تھا لوگوں نے اپنے سے کم حیثیت کے لوگوں کو حقیر قوم اور قبیلہ سمجھ کر ان سے نسلی امتیاز برتنا شروع کردیا۔ یہ قومیں اور قبیلے آہستہ آہستہ تذلیل اور تحقیر کا باعث بنتے چلے گئے۔

اللّہ کے نزدیک معیار رنگ ونسل ذات پات نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ اگر وہ عزتیں دینے پہ آئے تو ایک حبشی غلام کے زمین پر چلنے کی آواز عرش پر سنوا دے اور اگر ذلیل کرنے پہ آئے تو ابو جہل ابو لہب جیسے نسلی تفاخر کرنے والوں کو قیامت تک کے لیے نشان عبرت بنا دے۔ تقویٰ ہی انسان کی کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہے۔ خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ ﷺنے فرمایا تھا ’’اصل معیار تقویٰ ہے‘‘۔ موجودہ معاشرے میں ہمارے اردگرد بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں زیادہ تر جھگڑوں کی بنیاد ذات پات ہوتی ہے۔ ہر کوئی اپنے آپ کو بہتر اور اعلیٰ سمجھتا ہے صورتحال یہ ہے کہ اچھے خاصے دین دار لوگ بھی اس تفرقے بازی اور نسل امتیاز کا شکار ہیں۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ بیٹی یا بیٹے کا رشتہ کرنا ہو تب بھی دین کے بجائے ذات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بطور مسلمان ہمیں تمام معاملات میں ذات پات اور رنگ نسل کو بالائے طاق رکھنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اگر رشتہ داری کے شرعی اصول دیکھے جائیں تو واضح معلوم ہوتا ہے وہاں پر بھی تقویٰ سب سے مقدم تھا۔ آپ ﷺنے فرمایا ’’ایک آدمی چار باتوں کی بنا پر عورت سے نکاح کرتا ہے حسب ونسب، مالداری، خوبصورتی اور دینداری، تو تم دین دار عورت کو ہی معیار بناؤ‘‘۔ اصل معیار ہے تو دین اور تقویٰ ہے۔ مومن کا اصل معیار رنگ نسل کی بجائے تقویٰ ہی ہونا چاہیے۔ہم نے معیار حسب ونسب مالداری اور خوبصورتی کو بنا لیا ہے جبکہ دین کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اسی وجہ سے مسائل جنم لیتے ہیں ہر گھر لڑائیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ اس سب کی وجہ دین سے دوری، فضول رسم رواج اور ذات پات کی جکڑ بندیاں ہیں۔ والدین ایسی چاند سی بہو لانا چاہتے ہیں جو اپنے ساتھ جہیز بھی خوب لائے۔ لڑکے بھی خوبصورت بیوی کے چکر میں دین کو بھول جاتے ہیں پھر شکوے شکایتیں کرتے ہیں۔ جب دین کے بجائے اپنی من مانیاں کی جائیں گی پھر پریشانیاں تو مسلط ہوں گی لیکن اگر تمام معاملات اللّہ کے احکامات کے مطابق ہوں گے تو پھر زندگیوں میں بھی سکون آ جائے گا۔ ہمارے خاندانی اور سماجی رویے بھی بہترین ہوجائیں گے اور یقیناًہماری آخرت بھی بہتر ہوجائے گی۔

Qurat ul ain
Qurat ul ain
Journalist, writer, author, poet

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *