خود کلامیاں—- محمد حنیف ڈار

انسانی فطرت اپنے آپ میں خالی زمین کی طرح ھے جو ھر عمارت کو قبول کرنے کو تیار بیٹھی ھے ،دیکھنا یہ ھے کہ کون اس کو اپروچ کرتا ھے،، مسجد والا ،یا میکدے والا – اسپتال والا یا فیکٹری والا۔

یہ فطرت کچھ یوں نہیں ھے کہ جیسے آم کے ساتھ آم کا پھل لگتا ھے ،مالٹے کا پودا مالٹا پیدا کرتا ھے – گندم بوؤ تو گندم اگتی ھے ، جو بیجو تو جو اگتا ھے – یہاں آدم کے گھر قابیل پیدا ھوتا ھے تو نوح کے گھر حام پیدا ھوتا ھے — آزر کے گھر ابراھیم پیدا ھوتے ھیں – یہاں چور کے گھر قطب اور قطب کا بیٹا چور نکل آتا ھے ، گویا معاملہ بہت خطرناک ھے ،، ھمارے گھروں میں ھماری شکل سے مشابہ بچے پیدا ھوتے ھیں ،مگر عمل مشابہ نہیں ھوتے – کل مولودۤ یولد علی فطرہ ” کا یہی مطلب ھے کہ بچے کا کوئی مذھب نہیں ھوتا ،البتہ وہ ھر مذھب قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ھے، والدین مسلمان ھوں تو مسلمان بن جاتا ھے ،عیسائی ،اور یہودی ھوں تو ان کا مذھب قبول کرتا ھے، ھندو ھو تو ھندو ،مجوسی ھو تو مجوسی بن جاتا ھے ،، وہ کسی فقہ کا حامل نہیں ھوتا باپ کو کاپی کرتا ھے ، باپ اس طریقے سے نماز کیوں پڑھتا ھے اسے اس کی دلیل پتہ نہیں مگر چونکہ اس کا باپ اس طرح پڑھتا ھے لہذا وہ اس کے باپ کی نماز ھے ، صرف نماز نہیں بلکہ وہ ھر عمل میں مان باپ کو کاپی کرتا ھے !! یوں پہلے چار سالوں میں ھی ھم والدین کے اسٹور سے ساری Apps بچے میں ڈاؤن لؤڈ کر دیتے ھیں۔

حسد و رشک ایک جبلی جذبہ ھے ، جس کو کنٹرول تو کیا جا سکتا ھے ، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا اس کا رخ تبدیل کیا جا سکتا ھے ! بچہ دوسرے بچے کے پاس چیز دیکھ کر لینے کی ضد کرتا ھے ،یہ رشک کا جذبہ ھے ،مگر جب وہ دوسرے کے ھاتھ سے کھلونا لے کر توڑ دیتا ھے تو یہ حسد ھے ،، اسے اس وقت نہ گناۃ کا پتہ ھوتا ھے اور نہ ثواب کا ،، نہ تو جنت کی طلب اور نہ آگ کا ڈر۔

ھر مذھب کوشش کرتا ھے کہ انسان کی بری عادات کو ختم کیا جائے ، اس کے مذموم جبلی جذبات کو کنٹرول کیا جائے ، اور اس میں مثبت صلاحیتوں کو نشو و نما دی جائے ! کوئی مذھب برائی کی تعلیم نہیں دیتا ،ھر مذھب والدین کی خدمت ، سچ بولنے اور جھوٹ سے اجتناب کا حکم دیتا ھے ،، تکبر کی مذمت اور عاجزی کی تعریف کرتا ھے ، بڑوں کے ادب اور بچوں پہ شفقت کا حکم دیتا ھے ، شراب نوشی کی مذمت کرتا ھے فضول خرچی سے منع کرتا ھے، بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کرنے کو کہتا ھے، ھمارا ایک ایدھی ھے ان کے گلی گلی ایدھی بیٹھے ھیں، اناتھ اشرم یعنی یتیم خانے ان میں بہت ھیں، اسپتال اور تالاب ھندو اور سکھ مسلمانوں سے زیادہ بناتے ھیں ، ھم مسلمانوں نے تو ھندوؤں کے بنائے ھوئے تالابوں کی اینٹیں تک اکھاڑ لی ھیں ،ھندؤں کے جانے کے بعد کوئی تالاب پکا بنایا نہیں ھے ،، گنگا رام اسپتال ،میو اسپتال ، ھولی فیملی اسپتال سسٹم ،، الغرض ھر وہ فلاحی کام جس کی ترغیب دینِ اسلام دیتا ھے وہ ھم میں شاید صرف مدرسوں میں پڑھائی جاتی ھے ،مگر دوسرے مذاھب میں وہ سماج میں نظر بھی آتی ھے۔

جو خرابیاں ایک مذھب کے مذھبی راھنماؤں میں ھیں وہ انیس بیس کے فرق کے ساتھ ،سارے مذاھب کے مولویوں ، پادریوں ، سادھوؤں ،اور ربیوں میں پائی جاتی ھے ،، ھندو سادھو” مُسلے” کے ساتھ ایک برتن میں کھانے کو بھرشٹ یا ناپاک ھونا کہتا ھے ،تو مسلمان مولوی بھی ( علماء نہیں ) ھندو کے ساتھ کھانے کو برا کہتا ھے۔ الغرض معاشرے میں موجود برائیاں کسی مذھب نے نہیں پھیلائیں بلکہ ھر مذھب کے باغیوں نے پھیلائی ھیں وہ ھندو شرابی ھو یا مسلمان ، عیسائی زانی ھو یا یہودی ،، وہ صرف باغی ھیں ان کا کوئی مذھب نہیں ، وہ سماج کے باغیوں کا ایک کلب ھے جس میں ھر مذھب اور رنگ و نسل کے لوگ موجود ھیں،، البتہ ایک فرق ھے اور وھی فرق شرمناک ھے ۔ دین کے ان باغیوں میں آپس میں محبت ھوتی ھے ، تعاون ھوتا ھے اور یکجہتی ھے، کوئی فقہی یا مذھبی تعصب نہیں ھوتا !

یہ ھے میکدہ یہاں رند ھیں یہاں سب کا ساقی امام ھے !

یہ حرم نہیں ھے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ھے !

مگر یہ یکجہتی ھمیں بین المذاھب نظر نہیں آتی کہ گاؤں اور شہروں میں بے حیائی ، شراب نوشی یا جوئے کے اڈوں کے خلاف مسلم ، ھندو ، سکھ ، عیسائی مذاھب کی قیادت نے مل کر کوئی جلوس نکالا ھو یا مل کر انتظامیہ کے پاس گئے ھوں کہ یہ سب کچھ بند کیا جائے ،مذھبی قیادت کا سماجی برائیوں کے خلاف ھاتھ میں ھاتھ ڈال کر جدوجہد کرنا وقت کی ضرورت ھے ، برائی صرف برائی ھے ، اس کا کسی مذھب سے کوئی تعلق نہیں وہ ھر مذھب کی مجرم ھے ، اور ھر مذھب کے نیک لوگوں اور ان کی اولادوں کے لئے مشترکہ طور پر نقصان دہ ،، نیکی آکسیجن کی طرح ھے جس کا کوئی مذھب نہیں ، جو بھی اس نیکی کی مشترکہ فضا میں Pollution پھیلانا چاھتے ھیں ان کا مل کر مقابلہ کیا جائے ، نہ کہ مذھبی طبقات ایک دوسرے کے مذھبی شعائر پر حملہ آور ھونے کی ترغیب دیں یا ان حملوں کا دفاع کریں۔

محمد حنیف ڈار ابوظہبی میں مقیم عالم دین اور خطیب ہیں۔ آپ نئی نسل تک دین کا پیغام موجودہ نسل کی زبان اور انداز میں پہنچاتے ہیں۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *