نذرِ غالب، نظمِ آنند— ستیہ پال آنند

(’’ریدکتیو اید ابسردم‘‘ کی تکنیک کیا ہے؟ ایک وضاحتی نوٹ)

یہ نظمیں غالبؔ کے چیدہ فارسی اشعار کو اردو میں آزاد نظم کا جامہ پہناتی ہیں۔ میں نے انہیں علم منطق Logic کی اصطلاح Reductio ad absurdum کے طریق کار سے آزاد نظم کے روپ میں ڈھالنے کا جتن کیا ہے۔ یونانی فلسفی اور نقاد Dionysius of Halicarnassus (پہلی صدی عیسوی) نے اس تکنیک کا اطلاق یونانی ڈرامہ نگار Aristophanes (448 B.C? – 380 B.C) کے متون کے کچھ حصص پر کیا اور اس کے کرداروں کے مکالمات کو نشانہ ٔ مشق بنایا۔ اس اصطلاح کے لفظی معانی تو ’اصل‘ کو ’نقل‘ کی سطح پر مختصر ترین (Reductio) روپ دے کر اسے absurd (لایعنی) بنانا ہے لیکن علم منطق کی رو سے کسی بھی شعری یا ڈرامائی متن پراس کا اطلاق دو طریق ِ ِ کار سے کیا جا سکتا ہے۔

(۱یک) ’’کل‘‘ کو اس کے اجزائے ترکیبی میں بانٹ کر ایک ایک ’جزو‘ کو ’کل‘ کے تناظر میں دیکھا جائے ، اور اس عمل کے لیے بجائے مختصر کرنے کے اس کو ایسے ہی پھیلا دیا جائے جیسے لاش کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے مُردہ جسم کے اعضا کاٹ کاٹ کر، میز پر الگ الگ رکھ دیے جاتے ہیں اور پھر انہیں جوڑ کر باہم باف کر دیا جاتا ہے۔

(دو) کسی بھی مفروضے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے (جیومیٹری کی اصطلاحات : Given/ To prove / Proof ) ، اس کی اپنی نہیں، بلکہ اس کے منافق نظریے کی چیر پھاڑ کی جائے۔ اس طرح منافق نظریہ غلط ثابت ہو گیا تو اصل نظریہ صحیح سمجھا جائے گا۔ یہ ایک منطقی ’’الٹ پھیر ‘‘ہے۔ اور بسا اوقات اس سے غلط نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

 دونوں حالتوں میں تمسخر، تضحیک یا مضحکہ انگیزی کا تاثر بھی پیدا ہو سکتا ہے اور ’نقل برائے اصل‘ سے خاطر خواہ نتیجہ بھی برآمد ہو سکتا ہے، یعنی ’اصل‘ اور ’نقل‘ اپنی سیاہ اور سپید حالتوں میں ایک دوسرے کی ضد کا تاثر دیتے ہوئے وہ پوشیدہ زاویے، کونے، ابھار یا نشیب ، الفاظ کے وہ ’معنی خیز‘‘ زیر آب نکات بھی اجاگر کر دیتے ہیں جو پہلی نظر میں دکھائی نہیں دیتے۔

 ان نظموں کو ان دو مخصوص زاویوں سے دیکھنا صرف ایک حد تک صحیح ہو گا ، کیونکہ غالبؔ کی استعارہ سازی کی پیچیدہ مدوریت اور ملفوفیت مسّلم ہے۔ اور چیر پھاڑ کر ایک استعارے کے حصے بخرے کرنے میں ریزہ خیالی کے متعدد پہلو مانع ہوتے ہیں۔ راقم الحروف نے ان نظموں کو مثالی حکایت Parable کے فارمیٹ میں رکھا ہے اور بصری منظر نگاری Visual imageryکی مدد سے غالب کی استعارہ سازی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی ان کو اس میں محصور نہیں رکھا ۔ بلکہ انہیں ایک آفاقی سچائی کے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ ان میں کچھ نظمیں ان دنوں میں لکھی گئیں جب میں چھہ ماہ تک اسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں داخل رہا تھا، اور عین ممکن ہے کہ ریڈییشن تھیراپی کی تکلیف دہ حالت میں میرے ذاتی اور جسمانی حالات نے بھی ان نظموں پر اپنے قنوطی اثرات کی گلکاری کی ہو، اس لیے ذاتی، وارداتی اور کائناتی ۔۔ تینوں اقسام کے اثرات ان میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ (ستیہ پال آنند)

————img_6095.jpg?ver=1.0

پہلی نظم

شعر خود خواہش ِ آں کرد

ما نبودیم بہ ایں مرتبہ راضی غالبؔ

شعر خود خواہشِ آن کرد کہ گردد فنِ ما

(غالبؔ )

کھڑکی سے باہر دیکھا ، تو

چیری کے پیڑوں پر لاکھوں پھول کھلے تھے

باہر نکلا

چلتا چلتا آگے بڑھ کر

سب سے سُندر

ٹھنڈی ہوا میں جھوم جھوم کر گانے والے

ایک پیڑ سے پوچھ ہی بیٹھا

’’کون ہو بھائی؟ شعر ہو کیا تم؟‘‘

بولا ’’پوچھو، سندرتا کی قیمت کیا ہے؟

اور سوال کا کیا جواب ہے، یہ بھی سن لو

آنکھ کی پتلی پر رخشندہ حسن کی لافانی شوبھا ہے!‘‘

’’آنکھ کی پتلی پر؟‘‘ میں نے دوبارہ پوچھا

’’یعنی سندرتا کیا تم میں نہیں ہے؟ میری آنکھ کی پتلی میں ہے؟‘‘

پیڑ تو پھر اپنے گانے میں مگن ہو گیا

لیکن اک چتکبری تتلی میری ہتھیلی پر آ بیٹھی

چونک گیا میں

نیچے جھک کر پوچھ ہی بیٹھا

’’ان رنگین پروں پر ایسے نقش بنا کر

کیا تم نے کویتا لکھی ہے؟‘‘

بولی ’’مجھ کو تو کچھ پتہ نہیں، پر

میری تسلی کی خاطر اتنا کافی ہے

میرے پروں پر

کویتا جیسے لکھے ہوئے رنگیں گل بوٹے

سب کو ہی اچھے لگتے ہیں!‘‘

شبنم کا قطرہ

آفاق کی ساری دولت

اپنے موتی جیسے ننھے دل میں سمیٹے

پھول کی نازک پتی پر چپ چاپ کھڑا تھا

خود ہی بولا …

’’تم کیا شعر لکھو گے مجھ پر؟

میں تو خود ہی ایک شعر ہوں

لیکن میں یہ کہتا کب ہوں؟

مجھ میں کوئی گھمنڈ نہیں ہے!‘‘

رحمن ؔ ، ہیرا کب کہتا ہے

میں ہیرا ہوں

لاکھ ٹکے ہے میری قیمت

شعر کہاں کہتا ہے، غالبؔ مجھ کو لکھو

وہ تو لکھا لکھایا دل میں آ جاتا ہے

اور شاعر کا منصب یا رُتبہ یا شہرت

لایعنی، ضمنی باتیں ہیں!‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رحیم ؔ کے دوہے کا پہلا مصرع یوں ہے۔ ’’رحمنؔ ہیرا کب کہے، لاکھ ٹکے مرا مول!‘‘

شعر کا آزاد ترجمہ کچھ یوں ہے: ’’اے غالبؔ ، ہم تو اس شاعری کے اعلےٰ منصب یا رتبہ کے طلبگار نہیں تھے، ہاں شعر تو خود ہی ہمارے فن میں ڈھلنے کا خواہشمند ہے۔‘‘

ستیہ پال آنند امریکہ میں مقیم نامور اردو ادیب ہیں۔ آپ پاکستان کو اپنا وطن پکارتے ہیں اور پاکستان اپنے اس بیٹے پہ فخر کرتا ہے۔ ستیہ جی نے غالب کے اشعار پہ مبنی سات نظمیں عنایت کی ہیں۔ یہ اس سلسلے کی پہلی نظم ہے۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *