تاریخ میں خاتون “انبیاء” کا تذکرہ۔۔۔شاہد محمود ایڈوکیٹ

برصغیر پاک و ہند اور پھر پاکستان میں ہماری معاشرتی پسماندگی، بے سکونی و معاشرتی عدم توازن کی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ معاشرے میں مرد کا عورت پر بے جا فوقیت، اختیار اور مرد ذات کو عقل کل سمجھنا ہے۔ ہر صورت مرد کی برتری قائم رکھنے کی شعوری و لاشعوری کوشش میں ہمارے معاشرے میں مرد نے عمومی طور  پر  عورت کو محکوم و کمتر ہی سمجھا ہے، گھر میں بھی اور گھر سے باہر بھی۔ مرد کی نسل در نسل چلتی اس سوچ و عمل کے باعث ہمارے معاشرے کی آدھی  سے زیادہ آبادی (عورتیں) جبر، استحصال اور دوسرے درجے کے سلوک کا بالعموم شکار ہیں۔ اور یہ سلوک ہم اس “ہستی” یعنی “عورت” سے روا رکھتے ہیں جو نسل انسانی کی بقاء کے ساتھ ساتھ انسان کی نسل کو پالتی پوستی ہے اور بچے کی پہلی تربیت گاہ ہے۔ عورت کی محکومی کی اس سوچ کا اثر ہماری نسلوں پر پڑا اور جس طرح مرد نے عورتوں کو محکوم سمجھا، اسی طرح ہماری نسلیں بھی ذہنی ، طبعاً اور اخلاقی لحاظ سے محکوم ہوتی گئیں۔ اسی سوچ کی عینک لگا کر تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمارے معاشرے میں خواتین کے کبھی نبی ہونے کی نفی کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں بائبل میں خواتین انبیاء کا تذکرہ ملتا ہے۔ بائبل کی مذہبی تعلیمات کی یہاں بالکل بات نہیں ہو رہی۔ بائبل میں بیان “تاریخ کے واقعات” کو دیکھتے ہوئے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ تاریخ میں عورت بھی نبوت کی ذمہ داریاں ادا کرتی رہی ہے۔ اس بات کے تذکرے کی ضرورت صرف اس لئے محسوس ہوئی تا کہ ہم عورت سے رکھا جانے والا اپنا معاندانہ سلوک اور سوچ بدلیں اور عورت معاشرے کے سکون و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکے۔ ذیل میں چند حوالہ جات بائبل سے؛

1- ہارون کی بہن مریم نبیہ (خروج 20:25)
نوٹ: ہارون کی بہن مریم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بہن تھیں۔
2- خلدہ نبیہ(2- سلاطین 14:22) ۔ (2- تواریخ 22:24)
3- دبورہ نبیہ (قضاۃ 5-2:4) – (مطالعاتی اشاعت: ص؛ 2419 – 443)
4- حناہ نبیہ (لوقا: 36)

مختصر یہ کہ تاریخ میں عورت کا مقام محفوظ ہے لیکن حال کے معاشرے میں عورت کو شعوری و لاشعوری دونوں سطحوں پر عزت و مقام کے جو دعوے ہم کرتے ہیں عملی طور پر وہ مقام دینے کی ضرورت ہے۔ عورت کی عزت نفس بحال ہو گی تو معاشرے میں مرد کی اپنی محکومی بھی ختم ہو گی۔ مرد و عورت کی معاشرتی و ذہنی ہم آہنگی بھی تبھی ممکن ہے جب عورت کو اس کا باوقار مقام ملے ورنہ محکوم کے ساتھ کیا ذہنی ہم آہنگی ہونی اور کیا معاشرتی ترقی ۔۔۔۔۔ غور و فکر کے ساتھ اس پیغام پر دل و جان سے عمل کی ضرورت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *