ہیجڑے : روایت،نوآبادیات اور لبرل ازم ۔سالار کوکب

ہندوستان کی تاریخ  میں ہیجڑوں کا ذکر ہندوؤں کی مقدس کتابوں مہابھارت اور رامائن دونوں میں ملتا ہے۔ مہابھارت میں پانڈو شرط ہار کر بارہ سال کی جلاوطنی اور تیرہویں  سال کی روپوشی اختیار کرتے ہیں۔ ارجن روپوشی کے لیے ہیجڑے کے بھیس میں بادشاہ کے محل میں خواتین کی  چاکری کا ارادہ  کرتا ہے۔ یوں ایک مقدس مذہبی ہستی کا ہیجڑے کا روپ دھارنا ان کے قابل قبول اور خود ان  کی نظر میں قابل احترام ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ رامائن میں بن باس  سے واپسی پر رام کے عبادت میں مشغول ہیجڑوں کو دعا  دینے کا ذکر ملتا ہے۔ مرد کا ہیجڑہ بننا ہندوستانی معاشرے میں کوئی انوکھی بات  اس لیے دکھائی نہیں دیتی  کیونکہ ہندوؤں کے بعض دیوتا آدھے مرد  آدھی عورت یا جنس بدل کر مرد سے عورت یا عورت سے مرد ہو سکتے ہیں۔ شمالی ہندوستان کے ہیجڑے روایتی طور پر بہوچر دیوی کے پجاری ہوتے ہیں۔ بہوچر چرن ذات  سے تعلق رکھنے والی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ لوگوں کا عقیدہ تھا کہ اگر کوئی کسی چرن کو مارے یا کوئی چرن کسی کے غلبے سے بچنے کے لیے خود کو مار لے اس پر نحوست اور تباہی آجاتی ہے۔ بہوچر ایک قافلے کے ساتھ گجرات کے ایک جنگل سے گزر رہی تھی کہ قافلے  پر ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا۔ بہوچر نے بچنے کی کوئی راہ نہ پا کر خنجر سے اپنے پستان کاٹ لیے اور اپنی دوشیزگی کے عوض ڈاکوؤں کو پیش کر دیے۔ کہتے ہیں کہ  یہ واقعہ ڈاکوؤں پر تباہی لایا اور بہوچر اپنے پستان کی قربانی دینے پر افزائشِ نسل کی دیوی کا روپ اختیار کر گئی۔ بعد میں بہوچر ماتا کے مرد عقیدت مندوں میں ماتا کی خوشنودی کے لئے اپنے جنسی اعضا کو کاٹ کر ہیجڑے بننے کے رواج نے جنم لیا۔
بعض روایات کے مطابق مردانہ اعضا کٹوا کر ہیجڑا بننے کے لیے مردانہ خصائص سے محرومی اور ہیجڑا بننے سے پہلے لمبے عرصے تک جنسی وظائف سے مکمل لاتعلقی بنیادی شرائط ہوتی تھیں۔ بہوچر دیوی سے تعلق کی وجہ سے افزائش نسل کے حوالے سے ہیجڑوں کی دعا اور بد دعا کو پر اثر سمجھا جاتا تھا۔ شادیوں ، بچوں کی پیدائش وغیرہ پر ہیجڑوں کا آنا اور دعا دینا عام زندگی کا ایک حصّہ تھا۔ لوگ ہیجڑے کی بددعا سے ڈرتے تھے اور بعض اوقات اگر ہیجڑے سختی سے بھی کسی چیز کا تقاضا کرتے تو لوگ بد دعا کے ڈر سے اسے پورا کرتے تھے۔ روایتی ہندوستانی معاشرہ اونچ نیچ کے باوجود اپنے تمام ارکان کی خوراک اور دوسری بنیادی مادی ضروریات پوری کرنے کی استعداد رکھتا تھا۔ اس معاشرے میں ہیجڑے بھی ایک تسلیم شدہ معاشرتی حیثیت رکھتے تھے اور اپنا حصّہ وصول کرتے تھے۔ ہندو راجاؤں کے ہاں ہیجڑوں کو خواتین کی حفاظت اورموسیقی کی تعلیم کے لیے ملازم رکھنے کا رواج بھی موجود تھا۔
ہندوستانی ثقافت میں اپنے مردانہ اعضاء کٹوا کر ہیجڑا بننا خالصتاً  ایک روحانی عمل ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل سے ہیجڑا بننے والے کو ‘نروان ‘ کہا جاتا تھا۔ بہوچرا ماتا سے وابستہ رسومات کی ادائیگی کے بعد ہیجڑا بننے کا مطلب اپنی ذات ، گھر بار اور دوسرے دنیاوی امور کو چھوڑ کر گرو کی سربراہی میں ایک نئی دنیا کا حصّہ بننا ہوتا تھا۔  ثقافتی طورپر یہ عمل ‘سنیاس’ لینے کے عمل کے ہم پلہ سمجھا جاتا تھا۔ اپنی نئی دنیا میں ہیجڑے ماں، بہنیں اور دوسرے رشتے بناتے تھے جو کہ اکثر اوقات خون کے رشتوں کی طرح ہی مستحکم ہوتے تھے۔
مسلمانوں کی آمد کے بعد ہیجڑے کے دربار اور سرکار میں کردار کے حوالے سے کافی مثالیں ملتی ہیں ۔ تاہم ان مثالوں میں غلام  ہیجڑے نمایاں ہیں جن کو یا تو ہیجڑوں کے طور پر ہی خریدا یا تحفے میں وصول کیا گیا یا جن کو طاقت ور لوگوں نے ان کے غلام یا کمزور ہونے کی بنا پر ان کے مردانہ اعضا سے محروم کیا۔ ہیجڑوں  کو عموما حرم کے محافظوں کے طور پر متعین کیا جاتا اسی وجہ سے اس دور میں ہیجڑوں کے کئی مستعمل ناموں کے ساتھ نیا نام ‘خواجہ سرا ‘ بھی وجود میں آیا۔ علاؤ  الدین خلجی کے دور تک کئی خواجہ سرا درباری امور میں بہت زیادہ رسوخ حاصل کر چکے تھے۔ مسلم دور میں خواجہ سراؤں کے فوجی عہدیدار ، شاعر ، ماہرین تعمیر اور شاہی مشیر ہونے کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ اسی دور میں ملک کافور جیسے خواجہ سرا اپنی صلاحیتوں کے بل پر جنگوں کے کمان دار بنے۔  بنگال کا ایک فرمان روا ببرک شاہ بھی ایک خواجہ سرا تھا۔
ہیجڑوں کی معاشرتی حیثیت میں منفی تبدیلی انگریزوں کی آمد کے بعد آئی۔ اس دور میں عام ہیجڑوں کا روایتی معاشرتی رتبہ عمومی طور تبدیل نہیں ہوا۔ مسلمان اور ہندو ہیجڑے شادی، بچے کی پیدائش وغیرہ کے موا قع پر لوگوں کے گھروں میں جاتے، رقص کرتے، لوگوں پر آوازے کستے اور ان کے مذاق کا جواب دیتے؛  بچے کو گود میں اٹھا کر اس کے جنسی اعضا کو دیکھتے، بچے کی جنس کے مطابق بچے اور اس کے ماں باپ کو دعائیں دیتے۔ بچے کی جنس غیر واضح ہونے کی صورت میں والدین سے بچہ ہیجڑوں کو سونپ دینے کا تقاضا کرتے یا اس سلسلے میں ان کا ارادہ پوچھتے۔ مخصوص وقفوں کے بعد ہیجڑے بازاروں میں جاتے اور کاروباری لوگوں سے پیسے مانگتے۔ اگر کوئی اپنی خوشی سے ان کو پیسے نہ دیتا تو اس کو بد دعائیں دیتے یا گھاگرا اٹھا کر یا ازار بند کھول کر اپنا جسم دکھاتے۔ لوگ بددعا یا ہیجڑے کے اپنے سامنے ننگے ہونے کی خفت سے بچنے کے لیے ان کو کچھ نہ کچھ دے دیتے۔
برطانویوں نے برصغیر کے لوگوں کے طرز زندگی اور رہن سہن کو اپنے تعصبات اور مفادات کے حوالے سے دیکھا۔ انہوں نے  ہندوستانی معاشرے  میں caste کا تصور تخلیق کرکے پورے ہندوستانی معاشرے کی مستقل درجہ بندی کر دی۔ انہوں نے ایسے تمام گروہوں کو criminal caste   قرار دے دیا جو
١-   ایسی ثقافتی اقدارکےمطابق زندگی بسر کرتے تھے جواس وقت کی برطانوی اشرافیہ کے طے کردہ اخلاقی معیاروں کےمطابق غیر اخلاقی تھیں –
ب- اپنےرہن سہن یاطریقہ معاش کی وجہ سے انگریزی راج کے  نگرانی اور ٹیکس کے  نظام سے باہر تھے
ج-  اپنی بودوباش کی وجہ سے باغیوں کے جاسوسوں کا کردار ادا کر سکتے تھے

د-  براہ راست بغاوتوں میں ملوث تھے۔

ہیجڑے جو کہ ہندوستانی معاشرے میں ایک تسلیم شدہ درجہ رکھتے تھے برطانویوں کے مرد۔عورت کی ثنویت پر مشتمل جنس کے تصور سے باہر تھے۔ اسی طرح ان کا رہن سہن جس کی ثقافتی اور مذہبی جڑیں بہت مضبوط تھیں برطانویوں کے لیے اجنبی اور غیر اخلاقی تھا۔ حکومت نے اس خیال کو فروغ دیا کہ ہیجڑے بچوں کو اغوا کرتے ہیں اور پھر ان کو زبردستی مردانہ خصائل سے محروم کرتے ہیں۔ Criminal Tribes Act 1871  جس  میں  لوگوں کو کسی خاص caste  میں پیدا ہونے کی بنا پر پیدائشی طور پرہی مجرم قرار دےدیا جاتاتھا ہیجڑوں کو بھی شامل کر دیا گیا۔اس بہیمانہ ایکٹ کی دفعہ 26 کے مطابق پولیس کواختیاردیا گیا کہ:

Any eunuch so registered who appears, dressed or ornamented like a woman, in a public street or place, or in any other place, with the intention of being seen from a public street or place, or who dances or plays music, or takes part in any public exhibition, in a public street or place or for hire in a private house, may be arrested without warrant, and shall be punished with imprisonment of either description for a term which may extend to two years, or with fine, or with both.

برطانوی راج سے پہلے ہیجڑوں کو حق ملکیت حاصل تھا اور ہیجڑوں کو امراء، نوابوں اور حکمرانوں کی طرف سے قطعات اراضی بھی دیے  جاتے تھے۔ برطانویوں کے خاندان کے تصور میں خونی رشتوں کے بغیر غیر رسمی طریقے سے خاندان کی تشکیل ممکن نہیں تھی۔ برطانوی دور کے قوانین کے تحت  مالک ہیجڑوں کے مر جانے کے بعد دوسرے ہیجڑوں کے لیے اپنا حق وراثت ثابت کرنا دشوار تھا چنانچہ اس دور میں ہیجڑے بتدریج اپنی جائیدادوں سے محروم کر دیے  گئے۔ برطانوی  حکمرانوں نے خواجہ سراؤں کے درباری کردار کی حوصلہ شکنی کی۔ مثلاً  اودھ کے حکمران پر دباؤ ڈالا کہ وہ خواجہ سراؤں کو انتظامی عہدے نہ دیں۔ فوجداری قوانین بننے کے بعد تعزیرات ہند کی دفعہ 320   کو ہیجڑوں کے خلاف استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے اعضائے تناسل کوکاٹنے اوربعض اوقات اس کے نتیجے میں مرجانے والے کی لاش کو دفنانے کاعمل ایک انتہائی خفیہ رسم کی حیثیت اختیار کر گیا۔

سرکاری سطح پر مجرم قرار دیا جانا ، تھانوں میں اندراج ، کسی بھی وقت سولہ سال سے کم عمر افراد کی تلاش میں ہیجڑوں کے گھروں کی تلاشی اور حق وراثت سے محرومی ان عوامل میں سے کچھ تھے جن کی وجہ سے ہیجڑے رفتہ رفتہ معاشرے میں اپنے روایتی مرتبے سے محروم ہو گئے۔ پاکستان میں جب 1950 میں Criminal Tribes Act ختم کیا گیا تو معاشرے اور اداروں میں ہیجڑوں کے خلاف تعصبات جڑ پکڑ چکے تھے۔ تعلیم کے فروغ نے جہاں ہیجڑوں سے متعلقہ روایات کے اثر کو کم کیا وہیں اپنی مخصوص سماجی حیثیت کی وجہ سے ہیجڑے تعلیمی طور پر پسماندہ ہی رہے۔

تاہم جنرل ضیاء الحق کے مذہبی قوانین کے نفاذ تک ہیجڑوں نے اپنے معاشرتی نظام کو کسی نہ کسی صورت میں قائم رکھا ہوا تھا۔ جنرل ضیاء کے قوانین کی وجہ سے پولیس کے اس روئیے کو جو کہ  Criminal Tribes Act کے خاتمے کے با وجود تبدیل نہیں ہوا تھا کو دوبارہ قانونی جواز مل گیا۔ نئے قوانین کی وجہ سے ہیجڑوں کو جسم فروشی کے الزام میں گرفتار کرنے کی دھمکی دینا، ان سے جبراً  بھتہ لینا اور اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنا پولیس کا معمول بن گیا۔آمدنی کم ہونے ، بدلتی ہوئی سماجی صورتحال میں اپنا پرانا تشخص کھو دینے، پولیس اور جرائم پیشہ افراد کی زیادتیوں اور دوسرے عوامل نے مل کر ستر کی دہائی کے بعد ہیجڑوں کو انتہائی کم آمدنی والے ‘جنسی کارکنوں ‘ کی صف میں دھکیل دیا۔

نوے کی دھائی میں ہیجڑے دو وجوہات کی بنا پر توجہ کا مرکز بنے۔ عالمی سطح پر مرد۔مرد اور عورت۔عورت کے جنسی تعلق کی قبولیت اور حقوق کی تحریک کے نتیجے میں پاکستان میں ہیجڑوں پر بطور مرد۔مرد جنسی تعلق کے نمائندہ گروہ اور ہیجڑوں کے جنسی کام کی وجہ سے HIV / AIDS  کا خوف،  ہیجڑوں پر اس توجہ کی ایک وجہ تحقیق اور فنڈنگ کے مواقع تھے۔ چونکہ معاشرے میں انقلاب کی داعی کسی پارٹی نے ہیجڑوں کے مسائل پر توجہ نہیں دی اس لیے این جی اوز وہ واحد ادارہ تھے جن کو ہیجڑوں کے ساتھ کام کرنے کے موا قع ملے۔ نو آبادیاتی دور میں برطانوی حکمرانوں نے مرد۔عورت کے جنسی تصور کو قوانین کی مدد سے مستحکم کرتے ہوئے ہیجڑوں کی تسلیم  شدہ پہچان کو نقصان پہنچایا۔ موجودہ دور کی  لبرل اقدار میں مرد۔مرد ، عورت۔عورت اور مرد۔عورت تسلیم شدہ جنسی رشتے ہیں۔

لبرل اقدار کے نمائندہ کے طور پر بیشتر این جی اوز نے ہیجڑوں کو مرد۔مرد رشتے میں ڈال کر فنڈ لیے۔ بعض اوقات این جی اوز اس مسئلے  کو Transgender کے حقوق کے حوالے سے بھی پیش کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں اس حقیقت کو فراموش کر دیا جاتا ہے کہ برصغیر میں  نو آبادیت اور جدیدت سے پہلے ہیجڑے ایک تسلیم شدہ معاشرتی گروہ تھے۔ جبکہ مغرب میں ایسی پہچان جدیدیت کے بعد کی پیداوار ہے۔ یوں پاکستان میں ہیجڑوں کا فوری مسئلہ  ثقافت کے منفی اور ظالمانہ پہلوؤں کو نکال کر ان کے معاشرتی اور معاشی رتبے کی بحالی کا ہے نہ کہ مغربی  خطوط پران کو نئی پہچان دینے کا!این جی اوز کے  LGBT / MSM  پروگرام مغرب کے  انفرادی معاشرے میں رہنے والے فرد کی ضروریات کو  لبرل معاشی فلسفے کی حدود کے اندر رکھ کر طے کیے گئے ہیں۔ ان لبرل تصورات کو ‘انسانی حقوق ‘ کی شکل میں معیار بنا کر باقی دنیا پر مسلط کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا ہیجڑا ہزاروں سالوں سے ایک خاندانی اور برادری کے نظام میں رہتا ہے جہاں اس کی معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی  ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ ہیجڑا نو آبادیاتی نظام اور لبرل معاشی فلسفے کا براہ راست نشانہ بنا ہے۔ نو آبادیاتی نظام اور لبرل معاشی فلسفے نے دیگر استحصال زدہ معاشی ، معاشرتی ، جغرافیائی ، ثقافتی ، اور قومی گروہوں کو بھی اتنا ہی نقصان پہنچایا ہے۔  ہیجڑا ہونے کا مطلب ہے کہ ان افراد پر استحصال کی کچھ اضافی تہیں بھی ہیں۔ ہیجڑوں کے مسائل کا اصل حل نو آبادیاتی نظام کے اثرات اور (نیو) لبرلزم سے آزادی میں ہی مضمر ہے۔ این جی اوز کا LGBT /MSM  ماڈل ہیجڑوں کے استحصال میں نو آبادیاتی حکمرانوں کے کردار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے۔

ہیجڑوں کے موجودہ پیشوں میں رقص اور جنسی کام دو نمایاں پیشے ہیں۔ رقص شروع سے ہی بیشتر ہیجڑوں کی زندگی کا حصّہ رہا ہے۔ موجودہ نظام میں دوسروں کے لیے کیے گئے رقص کی ادائیگی کا طریقہ کار تبدیل ہوا ہے۔ تاہم جنسی خدمات کی فراہمی عمومی طور پر ہیجڑوں میں ایک نا پسندیدہ کام رہا ہے۔ ہیجڑوں پر LGBT /MSM  جیسے تصورات جو کہ جنس / صنف سے متعلق ہیں کا اطلاق کرنا ان کے ثقافتی استحصال کے مترادف ہے۔ ان تصورات کا اطلاق ہیجڑوں کے تشخص کو تاریخ سے علیحدہ کرکے ان کو ایک نیا اور بدتر تشخص دیتا ہے۔ ہیجڑے کی اصطلاح ایک متنوع گروہ کی نمائندگی کرتی ہے جس میں نروان / نربان ، کھسرہ ، اور زنانہ بھی شامل ہیں جو کہ مغربی تعریفوں کے اندر نہیں سماتے۔ اس طرح مغربی لیبل اس تنوع کی نفی کرتے ہیں جو کہ ہیجڑوں کی تاریخ اور ثقافت سے وابستہ ہیں۔

ہیجڑوں کے مسائل کا ایک مجوزہ  لبرل حل ‘ مساوی شہریت ‘ ہے جس کا مطلب ہے کہ ہیجڑوں کو پاکستان کے دوسرے استحصال زدہ گروہوں کے برابر کا رتبہ مل جائے۔  لیکن ‘مساوی شہریت ‘ ہیجڑوں کو تھر کے باسیوں یا بلوچستان کے خانہ بدوشوں جتنے ‘حقوق’ تو دلا سکتی ہے لیکن یہ بھی  ان کے مسائل کا پائیدار حل نہیں ہے۔

بشکریہ لالٹین!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ہیجڑے : روایت،نوآبادیات اور لبرل ازم ۔سالار کوکب

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *