سونے کا زرد رنگ اور ملا صدرا کی حرکتِ جوہری۔۔حمزہ ابراہیم

سونے کا زرد ہونا وقت اور حرکت کی حقیقت کے بارے میں آئن سٹائن کے بیان کردہ کلی علم کے لاکھوں مصادیق میں سے ایک ہے۔ اگر آئن سٹائن کا نظریۂ نسبیت صحیح نہ ہوتا تو سونے اور چاندی کے رنگ میں فرق نہ ہوتا، اگرچہ کثافت الگ ہوتی جسے آج بھی ارشمیدس صاحب (متوفیٰ 212 قبل مسیح) کے اصول کو استعمال کر کے ماپا جا تا ہے۔

علوم کا بچپن فلسفہ کہلاتا ہے۔ علم جب پختہ اور دقیق ہوتا ہے تو وہ فلسفے سے نکل کر حقیقت سے قریب تر ہو جاتا ہے۔ اب جبکہ علم کا دور ہے تو اکثر علوم فلسفے کے بچپنے سے نکل چکے ہیں لیکن ان کے موضوعات پر باقاعدہ تحقیق کا آغاز یونانی فلاسفہ نے ہی کیا تھا۔ چنانچہ فلسفہ پڑھنے والوں کو جدید علم سے آگاہ رہنا ضروری ہے تاکہ وہ حقائق کی دنیا سے کٹ نہ جائیں۔ قدیم فلاسفہ کے لکھے ہوئے ہزاروں صفحات میں اکثر باتیں غلط ثابت ہو چکی ہیں، ان کو تاریخ کےایک باب یا ادب کے طور پر دیکھنے میں حرج نہیں لیکن ان میں الجھ کر گم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص آج کے دور میں بھی ان بچگانہ غلط فہمیوں کو علم سمجھے تو یہ بدقسمتی کی بات ہو گی، اور ممکن ہے کہ اسے جہلِ مرکب میں مبتلا کر کے متکبر بنادے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

فلاسفہ دو ہزار سال تک حرکت کے بارے میں پریشان رہے۔ وہ حرکت کی دو اقسام بیان کرتے تھے: مکانی حرکت اور عرضی حرکت۔ مکانی حرکت کا مطلب کسی چیز کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا اور عرضی حرکت سے مراد ایک ہی جگہ پڑی چیز کے اعراض میں تبدیلی آنا، جیسے درخت کی ٹہنی پر لٹکے ہوئے سیب کا کچھ مہینوں میں سبز سے سرخ ہو جانا، لیا جاتا تھا۔ وہ وقت کو مطلق اور قدیم سمجھتے تھے، ایسا خیال جو جدید شواہد کی روشنی میں باطل ثابت ہو چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اپنے ارد گرد کی دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنا ماضی بعید میں مشکل تھا لہٰذا وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ اشیاء کے اعراض میں حرکت اصل میں ان کے اجزاء کی مکانی حرکت ہے۔ اس کائنات میں حرکت ایک ہی قسم کی ہے اور وہ ہے مکانی حرکت، یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، اور یہ مادے اور توانائی کے تعامل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

پرانے زمانے میں نفسیات کے معالج نہیں ہوتے تھے نہ نفسیاتی امراض کا شعور اور مریضوں کے حقوق کا کوئی تصور، لہذا ذہنی مسائل کے شکارافراد کو ان کی زندگی میں اذیتیں پہنچائی جاتیں لیکن اگر وہ کچھ ثقیل تحریریں لکھ جاتے تو وفات کے بعد ان کی غلط فہمیوں کو بھی فلسفہ سمجھا جاتا۔ ایسے ہی ایک بزرگ ملا صدرا شیرازی (متوفیٰ 1640ء) بھی تھے، جیسا کہ ان کے مکاشفات سے ظاہر ہے۔ انہوں نے حرکت کے بارے میں فلاسفہ کی بحثوں سے پریشان ہو کر یہ خیال پیش کیا کہ سب چیزیں اپنی اصل میں حرکت ہیں، اور اس کا نام انہوں نے رکھا حرکت جوہری، یعنی اشیاء کا باطن حرکت ہے۔ ان کے مفروضے میں کوئی دقیق پیش گوئی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے جسے آزما کر اسکی تائید یا تردید کی جا سکے۔ یہ ایک ادیبانہ یا شاعرانہ خیال سے زیادہ کچھ نہ تھا اور اس کی وجہ وقت کے بارے میں ان کے ذہن میں پایا جانے والا الجھاؤ تھا۔ اب جبکہ زمان و مکان کا مشاہدہ کرنے والے کی نسبت سے متاثر ہونا ثابت ہو چکا ہے تو یہ تصور حقیقت کے ساتھ ذرا بھی سازگار نہیں ہے۔ اگر کوئی ادیب کہے کہ وجود عینِ غم ہے (غمِ جوہری)، یا ٹھنڈے پانی سے نہا کر یہ کہنےلگے کہ کائنات کا جوہر سردی اور ذرہ ذرہ ٹھٹھر رہا ہے (سرمائے جوہری) تو جملہ بندی اور فلسفہ بافی پر اسے داد تو دی جا سکتی ہے لیکن ان خیالات کی علمی حیثیت کچھ نہ ہو گی کیونکہ یہ کوئی مشخص پیش گوئی کرنے اور دقیق معلومات دینےسے قاصر ہیں۔ چیزیں مالیکیولز سے مل کر بنی ہیں اور وہ ایٹموں میں ایک خاص ترتیب کے ظہور کا نام ہیں۔ ایٹم جب سے وجود میں آئے ہیں، ایسے ہی ہیں اور کھربوں سالوں سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صرف تابکار ایٹموں میں بعض اوقات نہایت مختصر وقت میں تبدیلی آتی ہے جب ان کا کچھ حصہ جدا ہو کر ان کی تابکاری ختم کرتا ہے۔ ایٹموں کی 118 اقسام دریافت ہو چکی ہیں جنہیں عناصر کہا جاتا ہے۔ ان کی مختلف تراتیب اور زاویوں سے جڑکر بننے والے مالیکیولز کی اقسام کروڑوں میں ہیں۔ وقت اور تبدیلی لازم و ملزوم نہیں ہیں۔

وقت کا احساس ہمارے ذہن میں تب پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے سامنے تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتے دیکھتے ہیں۔ ماضی میں بھی لوگ درختوں کو بڑا ہوتے، انسانوں کو ضعیف ہوتے، سورج کے طلوع و غروب ہوتے، پانی میں لہروں کے پیدا ہوتے اور ختم ہوتے، شیر کو شکار کرتے دیکھتے تھے۔ آپس میں تبدیلیوں کے بارے میں بات کرنے کیلئے وقت کا مفہوم ایجاد ہوا۔ انہیں فصلیں بونے، تہوار منانے، عبادت کرنے اور مختلف سماجی فیصلے کرنے کیلئے وقت کی پیمائش کرنا پڑی تو اسے اپنے ماحول میں پائی جانے والی ایک ایسی تبدیلی سے جوڑا جو نسبتاً یکساں تھی، یعنی سورج کی حرکت کی مناسبت سے سال، مہینے اور دن گنے جانے لگے۔ یہ سورج کا وقت نہ تھا، بلکہ سورج کی حرکت کو وقت کی پیمائش کا ایک درست ذریعہ سمجھا گیا تھا۔ اب گھڑیوں کی صورت میں دقیق تر پیمانے بنا لئے گئے ہیں۔ زمان و مکان مشاہدہ کرنے والوں کےمشاہدے سے تعلق رکھتے ہیں (اور دماغ کے کیمیائی تعاملات فوٹانز کے انجذاب و تخلیق سے انجام پاتے ہیں)، لہذا مشاہدہ کرنے والے کی حرکت ان کی پیمائش کو متاثر کرتی ہے۔ زمانہ قبل از مسیح سے ہی زمان کی طرح مکان کی پیمائش کے پیمانے بھی بنا لئے گئے تھے اور اقلیدس صاحب کی جیومیٹری کی مدد سےنقشے بنائے جا رہے تھے اور جائیداد وغیرہ کا حساب کتاب لگایا جا رہا تھا۔ جناب بطلیموس نے اختر شناسی کی بنیاد رکھ دی تھی۔ مسلمان سائنس دانوں نے یونانی فلاسفہ کے کام کو آگے بڑھایا اور عظیم عالم خواجہ نصیر الدین طوسی(متوفیٰ 1274ء) نے بطلیموس کے جدول میں مزید بہتری پیدا کی۔ جناب شمس الدین خفری (متوفیٰ 1550ء) نے بطلیموسی نظریۂ کائنات پر خواجہ طوسی کے کام کو مزید آگے بڑھایا، یہ آخری قابلِ ذکر شیعہ سائنس دان ہیں۔ [1]

سنہ 1571ء میں ملا صدرا کی پیدائش تک جدول بن چکے تھے اور کیلنڈر استعمال ہو رہے تھے۔ انہوں نے فلسفے کی تعلیم کے دوران یہ کام دیکھا مگر صحیح طرح سے سمجھ نہ سکے اور بجائے اس کے کہ وقت کی مناسبت سے حرکت کی فہم حاصل کرتے، ہرچیز کو علیحدہ اور مخصوص وقت کی حامل قرار دیا کہ گویا وقت اشیاء کی صفت ہے۔ اس سے ان کا ذہن منتشر ہو گیا، نہ حرکت سمجھ آئی نہ ہی وقت۔ اسی وجہ سے وہ حرکت کے بارے میں انسانی علمی سرمایے میں کوئی اضافہ کرنے سے قاصر رہے۔ ایسے زمانے میں جب کاغذ نایاب اور تعلیم ایک خاص طبقے تک محدود تھی، ملا صدرا نے چالیس کے قریب کتابیں لکھ کر اپنے ابہام کو خوب پھیلایا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے امام غزالی (متوفیٰ 1111ء)کے بعد اہل سنت میں سائنسی کام کیلئے درکار افرادی قوت بہت کم ہو کر تصوف عام ہو گیا، ایسے ہی ملا صدرا کے بعد اہل تشیع میں سائنس دان پیدا ہونا کم ہو گئے اور سوائے برصغیر کے علامہ تفضل حسین کشمیری (متوفیٰ 1801ء) کے، شیعہ علمی مراکز سے کوئی سائنس دان پیدا نہ ہو سکا، اور صوفی بزرگوں کی تعداد بڑھی۔یاد رہے ملا صدرا شاہ عباس صفوی کے دور سے تعلق رکھتے ہیں جو سیاسی اور معاشی وسائل کے اعتبار سے عروج کا زمانہ تھا اور اگر خواجہ طوسی کی روایت پر کام آگے بڑھتا رہتا اور سائنس کی کتابوں کےبروقت تراجم ہوتے تو مسلم دنیا سائنسی زوال سے بچ سکتی تھی۔

حرکت کی سمجھ میں بڑی پیشرفت ملا صدرا(متوفیٰ 1640ء) کے معاصرین، فرانس کے ڈیکارٹ (متوفیٰ 1650ء)، اٹلی کے گلیلیو (متوفیٰ 1642ء )اور جرمنی کے کپلر( متوفیٰ 1630ء) کے کام سے ہوئی۔ڈیکارٹ نے اقلیدس(متوفیٰ 300 قبل مسیح )کےجیومیٹری کو شکلوں سے بیان کرنے کے طریقے کو چھوڑ کر مساواتوں کی شکل میں بیان کرنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ گلیلیو نے جہاں پہلی بار آسمان کا مشاہدہ کرنے کیلئے دوربین کا استعمال کر کے زحل کے چاند دریافت کئے اور دوسرے بڑے کام کئے، وہیں یہ بھی بتایا کہ حرکت نسبی ہے، یعنی اس کی پیمائش مشاہدہ کرنے والے کی حرکت سے متاثر ہوتی ہے۔ کپلر نے سیاروں کی حرکت کے اصول دریافت کئے۔ اگر ملا صدرا کے وقت کے بارے میں پیدا کئے گئے مغالطےکی رو سے دیکھا جائے تو حرکت کی نسبیت کا سوال پیدا نہیں ہو گا کیوں کہ وہ ہر چیز کے اپنے جداگانہ وقت کے قائل ہو گئے تھے، گویا ناک سے مکھی اڑاتے اڑاتے ناک ہی توڑ بیٹھے تھے۔ حرکت کی فہم میں انقلاب نیوٹن (متوفیٰ1727ء) کی تحقیق سے آیا۔ انہوں نے حرکت کی مساواتیں اور قوانین پیش کئے۔ آج سائنس پڑھنے والے بچے میٹرک میں جو مساواتیں آسانی سے استعمال کر لیتے ہیں وہ ملا صدرا وغیرہ کو معلوم نہ تھیں، جیسے:۔

آج آسانی سے میسر اس علم کی قدر کرنی چاہئیے جو ہمارے محترم بزرگوں کی قسمت میں نہ تھا۔ نیوٹن اور ان کے ہم عصر سائنسدانوں کے کام کی بدولت حرکت کا علم فلسفیانہ بچپنے سے نکل کر جوانی میں قدم رکھ چکا تھا۔ لفظی جملہ بندی کے بجائے ریاضیاتی زبان میں تیزی سے پیشرفت کر رہا تھا۔ نیوٹن نے ایک اور تحفہ کالکولس کی ریاضی (عربی: حسبان) کی ایجاد کی صورت میں دیا کہ جس پر آج ٹیکنالوجی استوار ہے۔ اس ریاضی کی مدد سے نیوٹن کی مساواتوں کو استعمال کر کے انجن بنا لیا گیا۔ توپوں کے کام کو سمجھ کر ان میں بہتری لائی گئی۔ بندوق ایجاد ہوئی۔ پانی کی حرکیات سمجھ کر بحری جہازوں کی تعمیر میں بہتری آئی۔ کپڑا بننے کیلئے کارخانے لگے۔ سفر کیلئے ریل گاڑی بنا لی گئی۔ بڑی عمارات کی تعمیر میں ان کے اجزا کے وزن اور مضبوطی کا دقیق حساب لگا کر بہتری پیدا کی جانے لگی۔ راکٹ بنا کر خلا تک رسائی ممکن ہوئی۔ یہیں سے توانائی، مومینٹم، حرارت اور دوسری طبیعی مقداروں کی پیمائش ممکن ہوئی۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برقی چارج، مقناطیس اور روشنی کے ریاضیاتی قوانین دریافت ہوئے۔ ان انکشافات کوملا ہادی سبزواری (متوفیٰ 1873ء) کے ہم عصر جیمز میکسویل (متوفیٰ 1879ء) صاحب نے اپنی معروف مساواتوں کی شکل میں جمع کیا کہ جن سے روشنی کی رفتار کا فارمولا معلوم ہوا:

یہاں رک کر اس بات سے عبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ ملا صدرا کے اوہام کی دلدل ایسی تھی کہ اگرچہ علامہ تفضل حسین کشمیری (متوفیٰ 1801ء) نیوٹن کی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کر چکے تھے لیکن مدارس میں ان کے کام کو آگے بڑھانے کیلئے افرادی قوت میسر نہ ہوئی، الٹا ملا ہادی سبزواری کی شکل میں ملا صدرا کے ناولوں کے سب سے بڑے شارح پیدا ہو گئے۔

روشنی کی رفتار کے فارمولے سے یہ معلوم ہوا کہ یہ رفتار لامتناہی نہیں۔ دوسرا یہ کہ روشنی کی حرکت کی پیمائش مشاہدہ کرنے والے کی حرکت کی نسبت سے متاثر نہیں ہوتی۔ جبکہ باقی چیزوں کا معاملہ ایسا نہ تھا۔ مثال کے طور پر اگر ایک بس سو کلومیٹر کی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہی ہو اور اس سے ایک گیند دوسری بس میں پھینکی جائے جو نوے کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہی ہو تو دوسری بس میں بیٹھے فرد کے جسم پر اس گیند کی ضرب کا اثر ایسے ہو گا جیسے گیند دس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرتے ہوئے لگی ہو۔ لیکن روشنی کی رفتار پر اس کے منبع کی رفتار کا کوئی اثر نہ ہو گا۔ اب حرکت کے علم میں ارتقاء کا وقت آن پہنچا تھا۔ عقلاء کے حلقوں میں اس استثنیٰ پر تحقیق ہونے لگی۔ 1905ء میں آئن سٹائن (متوفیٰ 1955ء) نے گلیلیو کے حرکت کی نسبیت کے نظرئیے میں بہتری پیدا کرتے ہوئے نئی مساواتیں تجویز کیں جن کی پیش گوئیاں جلد ہی پایۂ ثبوت کو پہنچ گئیں۔ (دقت کیجئے، رد نہیں کیا، بہتری لائے)۔ انہوں نے زمان و مکان کا روشنی سے تعلق دریافت کر لیا۔

آئن سٹائن کے کام سے ہی مادے اور توانائی میں تعلق معلوم ہوا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں ہی سائنس ایٹم کی ساخت اور بنیادی ذرات کو سمجھنے میں کامیاب ہوئی جس سے کوانٹم فزکس نے جنم لیا اوراس علم نے کیمسٹری کے اصولوں کی ریاضیاتی بنیاد بھی فراہم کی۔ اسکی بنیاد نیوٹن کے نظریۂ حرکت پر تھی اور اسے نیوٹن کے ایجاد کردہ کالکولس کی مدد سے سمجھا گیا تھا۔ یہاں بھی یہ سمجھنا چاہئیے کہ یہ علم نیوٹن کی مساواتوں کو رد نہیں کرتا بلکہ ایک نئے افق کا اضافہ یا تکملہ ہے۔ جب اس علم کا اطلاق سونے کے ایٹم کو سمجھنے کیلئے کیا جائے تو سونے کے آخری مدار کا الیکٹران سنار کی دکان کے باہر کھڑے ہو کر مشاہدہ کرنے والے شخص کی نسبت سے بہت تیز رفتار ہے، کیونکہ سونے کا ایٹم چاندی سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کی حرکت کو سمجھنے کیلئے نیوٹن کے بجائے آئن سٹائن کے تصحیح شدہ نظریۂ حرکت کا استعمال کیا جائے تو 5d مدار سے فرمی سطح پر جانے کیلئے اسے جو دو اعشاریہ تین الیکٹران وولٹ کی توانائی چاہئیے وہ سفید روشنی پڑنے پر نیلے اور سبز طیف کے جذب ہونے اور باقی کے منعکس ہونے کا سبب بنتی ہے۔ اس وجہ سے ہمیں سونا زرد دکھائی دیتا ہے۔ چاندی کے الیکٹران کی حرکت پر نسبیت کا اثر بہت بڑانہیں ہے لہذا وہ ساری سفید روشنی کو منعکس کر دیتی ہے۔ اس کی تفصیل سائنسی مجلات میں دیکھی جا سکتی ہے۔[2]

انیسویں صدی میں جناب ڈارون( متوفیٰ 1882ء )نے اپنا معروف نظریۂ ارتقاء پیش کر کے بیالوجی کی دنیا میں ویسا ہی مقام حاصل کر لیا جو فزکس میں نیوٹن کو حاصل ہے۔ ڈی این اے کی دریافت کے بعد ہونے والی تحقیقات نے حیاتیاتی ارتقاء کا کوانٹم فزکس سے ربط دریافت کر لیا ہے۔ حرکتِ جوہری سے جڑا ایک اور جاہلانہ خیال جو ملا صدرا کی کتب میں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان پیدا ہونے سے پہلے جمادات، نباتات اور حیوانات کے مرحلے سے گزرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حمل ٹھہرنے کے لمحے سے ہی انسان کا ڈی این اے مکمل ہوتا ہے اور یک خلوی جنین بھی زندہ ہوتا ہے اور انسانی نوع سے تعلق رکھتا ہے۔ جس نطفے اور بیضے سے مل کر بنا ہوتا ہے وہ بھی زندہ ہوتے ہیں، جماد نہیں۔ جنین کی زندگی اپنے اجداد کی حیات کا تسلسل ہوتی ہے، کہ جیسے ایک چراغ سے اگلا چراغ جلایا جاتا ہے۔ جہاں تک ارتقاء کی بات ہے تو جانور اور پودے یک خلوی مرحلے سے ہی الگ ہو گئے تھے اور انکا ارتقاء جداگانہ ہوا ہے۔ اسکی تفصیلات انٹرنیٹ پر نباتی خلئے اور حیوانی خلئے میں فرق تلاش کر کے دیکھی جا سکتی ہیں۔نیزارتقاءمیں جو تبدیلی ہے وہ عرضی حرکت ، یعنی اجزاء کی مکانی حرکت، ہوتی ہے۔

(نوٹ: ملا صدرا کا معروف ناول ”اسفارِ اربعہ“ دیوبندی مسلک کے عالم مولانا مناظر احسن گیلانی (متوفی 1956ء) نے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ اسے لاہور سے حق پبلی کیشنز نے”فلسفہء ملا صدرا“ کے عنوان سے 2018ء میں ایک بار پھر شائع کر دیا ہے۔ کافی ضخیم ناول ہے اور ریاضی سے بالکل پاک ہے۔ اگر کوئی قاری موصوف کے تخیلات کا مختصر تعارف حاصل کرنا چاہتا ہو تو طاہر اصغر زادہ صاحب کی کتاب کا مطالعہ کر لے جس کا اردو ترجمہ ”برہان سے عرفان تک“کے عنوان سے کراچی سے سبیلِ سکینہ پبلشرز نے شائع کر دیاہے۔ پڑھتے ہوئے ہنسنا منع ہے۔ پرانے لوگوں کے خیالات کی علمی حیثیت جدید شواہد کی روشنی میں متعین کرنی چاہیئے لیکن انکا شخصی احترام ان کے عہد کے مطابق کرنا چاہیئے۔ سچ یہ ہے کہ ملا صدرا عربی کےایک ادیب ہیں جو اپنی جگہ ایک ہنر ہے، اگرچہ عقلی علوم کی دنیا میں وہ اپنے معاصرین کی صف میں کھڑے ہونے کے قابل نہیں ہیں۔افسوس کی بات ہے کہ ملا صدرا کی کتابوں میں قرآنی آیات و احادیث بطورِ ڈھال استعمال کی گئی ہیں، جیسے نجومی اپنی جنتریوں میں کرتے ہیں۔بے شک ملا صدرا کو مقدس متن کی الگ تفسیر کا حق تھا لیکن جدید دور میں ان کےغیر علمی خیالات کی تبلیغ نوجوان نسل کا قیمتی وقت ضائع کرنا ہے(و من الناس من یشتری لہو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم [لقمان:6])۔ ملا صدرا اور دوسرے صوفی ادیبوں پر شیعہ متکلمین کے موقف کو جاننے کیلئےعلامہ محمد حسین نجفی کی کتاب ”اقامتہ البرہان“ دیکھی جا سکتی ہے۔)

Advertisements
julia rana solicitors

 

حوالہ جات

  1. George Saliba, “A Sixteenth-Century Arabic Critique of Ptolemaic Astronomy: The Work of Shams al-Din al-Khafri,” Journal for the History of Astronomy 25, 1994, pp. 15-38.
  2. Pyykkö, Pekka; Desclaux, Jean Paul, “Relativity and the Periodic System of Elements”. Accounts of Chemical Research. 12 (8): 276, (1979).
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply