پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے

اپنے ایک دوست کے ساتھ اس بات پہ بحث ہوئی کہ یار پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے ۔اس نے بتایا کالم نگار یاسر پیرزادہ لکھتے ہیں کہ پاکستانی سہولتوں کا مطالبہ تو کرتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے۔ یہ بیورو کریٹ لوگ ہیں ہمارے ٹیکس کے پیسوں پہ عیاشیاں کرتے ہیں مراعات لیتے ہیں جن مزدور پاکستانیوں کا خون چوستے ہیں انھیں پہ الزا م بھی لگاتے ہیں کہ تم ٹیکس نہیں دیتے ہو۔ میں نے یہ کالم لکھنے سے پہلے دوست کو کہا اسے ای میل کر کے میرے کچھ سوالات کے جوابات مانگو۔ موصوف نے جواب تو کسی ایک سوال کا بھی نہیں دیا الٹا کہنے لگے کہ اپنا نیشنل ٹیکس نمبر بتاؤ ۔ خیر وہ بھی بتا دیااور پھر کوئی جواب نہیں آیا۔ جواب دینے کیلئے اخلا قی جرات کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے جو ان میں نہیں ہوتی۔سچ کا سامنا کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ جو کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیکس نہیں دیتے وہ ذرا ان سوالات کے جوابات دیں۔
ہم سو رپے کا موبائل ریچارج کرتے ہیں۔ اس پہ ہمیں 75 روپے ملتے ہیں پھر ہم جو بھی کالز کرتے ہیں ہر کال پہ بیس فیصد پیسے کٹتے ہیں، مجموعی طور پر سو رپے کے ریچارج کے بعد ساٹھ روپے کی کال کرتے ہیں اور چالیس روپے کٹ جاتے ہیں یہ ٹیکس نہیں ہے تو کیا میری جیب میں جاتے ہیں؟
کیا ود ہولڈنگ ٹیکس،سیل ٹیکس،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی جو ہرپاکستانی ادا کرتا ہے یہ ٹیکس نہیں ہوتا تو کیا ہوتا ہے؟؟
گھریلو استعمال کی تمام چیزیں آٹا،دال، چینی ، پتی،سرف،صابن غرضیکہ ہر چیز پہ سترہ فیصد رقم جو ادا کی جاتی ہے وہ ٹیکس نہیں ہوتا تو کیا ہوتا ہے؟
ہم کوئی بھی چیز خریدیں اس پہ سترہ فیصد ٹیکس دیتے ہیں؟ یہ پیسے کہا ں جاتے ہے۔۔؟
اگر کسی کو شک ہے کہ ہم ٹیکس نہیں دیتے تو کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی مثال کے طور پر ایک دس روپے والا سرف کا پیکٹ یا ایک دود ھ کا ڈبہ مارکیٹ سے خریدیں اورا سکے اوپر دیکھ لیں جنرل سیلز ٹیکس الگ سے لکھا ہوتا ہے اور ہم سے وصول کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں کروڑوں لوگ تو تنخواہ دار ہیں اور تنخواہوں میں سے انکم ٹیکس خودکار طریقے سے بینک سے کٹ جاتا ہے۔اگرکسی کو شک ہو تو میں پے سلپ دکھا سکتا ہوں۔
آپ کہتے ہیں تاجر برادری ٹیکس نہیں دیتی ۔آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ آ ج کل ٹیکس فائلر کا ٹیکس بینک سٹیٹمنٹ دیکھ کر لگا یا جاتا ہے جس میں آپ ایک روپے کی بھی اونچ نیچ نہیں کر سکتے؟
دوسری بات یہ کہ یہ جو 0.3% فیصد ود ہولڈنگ لگایا ہے آ پ کے پیارے اسحاق ڈار نے ۔یہ پاکستان کا ہر تاجر پے کرتا ہے کیونکہ تمام تر رقم کا لین دین بینک کے ذریعے ہوتا ہے۔
نان فائلر تو چھ فیصد پہ کرتا ہے کیا یہ ٹیکس نہیں ہے؟؟ ۔۔ اسکو ٹیکس نہیں کہتے۔؟؟
میں خود ایک ٹرانزکشن پہ سات ہزار آٹھ سو روپے ٹیکس ادا کر چکا ہوں۔ صرف ایک ٹرانزکشن پہ ۔۔۔
اسکے علاوہ ایکسائز کی بات کر لیں، میں ایک طالبعلم ہوں اور پھر پھی اپنی موٹرسائیکل کا سالانہ ٹوکن ٹیکس پےکرتا ہوں ۔باون روپے ٹیکس دیتا ہوں ۔۔۔
ہم اگر بڑی چیزوں کی بات کریں جیسے پراپرٹی ہے یا گا ڑیا ں تو انکا بھی ٹیکس پےکرتے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں نے تو جائیداد پہ مزید ٹیکس لگادیئے ہیں۔
گاڑیوں پہ دو سو فیصد ڈیوٹی دیتے ہیں۔ دو لاکھ کی گاڑی ہمیں چھ لاکھ میں پڑتی ہے۔؟
اس کے علاہ اگر ہم ٹیکس نہیں دیتے تو یہ حکمرانوں کی عیاشیا ں انکی گاڑیاں،تنخواہیں، بجلی گیس کے بل،پی ایم ہاوس،پارلیمنٹ وغیرہ کے اخراجات یہ سب کہا ں سے پورے ہوتے ہیں؟؟
سب سے بڑھ کے اس ملک کا کھربوں کے بجٹ ہے اس میں اربوں روپیہ تو ٹیکسوں کا ہوتا ہے؟
آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ پیسہ حکمرا ن اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔؟؟
کیا ایم این ایز کی عیاشیاں نواز شریف کی جیب سے ہوتی ہیں۔؟؟
کیا وہ ساری دنیا کے دورے اپنی جیب کے پیسے سے کرتا ہے؟؟؟
یہ ساے بیورو کریٹ اور دیگر سرکاری افسرا ن کی مراعات اور عیاشیا ں کیا حکمرانوں کی جیب سے دی جاتی ہیں۔
ہم تو موبائل کا بیلنس بھی چیک کریں تو چوبیس پیسے کٹ جاتے ہیں۔۔۔ بھائی جان یہ ٹیکس نہیں ہوتا تو پھر ہوتاکیا ہے۔۔؟؟
کروڑوں لوگ موبائل استعمال کرتے ہیں اوراربوں کا ٹیکس حکومت کے کھاتے میں جاتا ہے ۔ ذرا کسی ڈکشنری میں ٹیکس کے لفظ کا مطلب دیکھ لیں یا گوگل سے ٹیکس کی تعریف پڑھ لیں۔
یہاں پہ ایک اور بات بھی ضروری ہے کہ اگر آپ کہیں کے یہ ادارے ہم سے تو ٹیکس لے لیتے ہیں مگر حکومت کو نہیں دیتے۔تو جناب یہ ایف بی ار کا ادارہ کس مرض کی دوا ہے۔
اسکے ملازمین کو بھاری تنخواہیں کیا بھینس چرانے کے لئے دی جاتی ہیں؟؟ اگر یہ ٹیکس وصول نہیں کر سکتے تواسکا مطلب ہے کہ آپ کی حکومت کی رٹ ہی قائم نہیں۔کہ ایک ادارہ اربوں کا کاروبار کرے اور حکومت کو ٹیکس نہ دے، کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟اگر ہوتا ہے تواسکا مطلب ہے آپ کے سارے ادارے اور حکومت نا اہل ہے یا پھر یہ پرلے درجے کے کرپٹ لوگ ہیں۔ یہ اداروں کی ناکامی ہے اور جب بات اداروں پہ آتی ہے تو افراد کے ہاتھ سے بات نکل جاتی ہے۔
آپ بیورو کریٹ ہیں آپ ٹیکس دیں یا نہ دیں، باقی پوری قوم ٹیکس دیتی ہے اگر حکومت تک ٹیکس نہیں پہنچتا تو پھر اپنے ادارے ٹھیک کریں۔
دوسری بات کہ سہولتوں کے لئے ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جتنا ٹیکس دیا گیا اسکو حکومت نے کونسا درست استعمال کیا۔۔ اربو ں کی میٹرو بس بنا دی اور اورنج لائن جیسے منصوبے شروع کردئیے۔ مجھے بتائیں بھوکے ننگے غریب کے لئے روٹی زیادہ اہم ہے یا میٹرو بس؟؟ اس ملک میں بجلی کی کمی کی وجہ سے کرو ڑوں لوگ متاثر ہوتے ہیں اور یہ چند لاکھ افراد کی سہولت کیلئے میٹرو بنا ڈالتے ہیں۔جس لاہور میں میٹرو بنی ہے اسی لاہور میں بیس بچے ہسپتال میں وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے مر گئے ۔۔ میرے خیال میں پر آسائش سفر سے بچے کی زندگی زیادہ اہم ہے۔
یہ بیوروکریٹ لوگ ہیں ان کا قصور نہیں کہ یہ حکومت کی ہر بات پہ واہ واہ کرتے ہیں اور عام شہریوں پہ الزام لگاتے ہیں، کیوں کہ انکی تمام تر ترقیاں اور مراعات حکمرانوں کی چاپلوسی کی مرہون منت ہوتی ہیں۔
یہ اگر حکومت سے پوچھیں کہ تم نے قوم سے اربوں کا ٹیکس لیکر باہر کیوں منتقل کیا ؟ تم نے آف شور کمپنیاں کیسے بنائیں؟ تو اسی وقت ان کا بوریا بسترگول کر دیا جائے ۔۔ان کی مجبوری ہے بھائی جان۔
مجھے مندرجہ بالا سوالات کے جوابات کوئی دے ؟ اور اس پاکستانی کا پتہ ضرور بتائے جو ٹیکس نہیں دیتا؟؟

Avatar
حامدرضا
پیار اورادب میری پہلی ترجیح ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *