شیخ جی۔۔۔۔سلیم پاشا

ایک شیخ صاحب گھر میں بجلی کے کرنٹ کا جھٹکا لگنے سے نیچے فرش پر گرگئے،ان کی بیگم اٹھانے کیلئے لپکی تو اسے شیخ صاحب نے راستے میں ہی روک  کر میٹر کی جانب دوڑایا اور کہااوہ بھلی مانس مجھے چھوڑ تو   جلدی سے پہلے جاکے یہ دیکھ میری وجہ سے کتنے یونٹ گرے ہیں؟

اسی طرح ایک اور شیخ صاحب اپنی بلڈنگ کی بارہویں منزل والے فلیٹ کی بالکونی میں کھڑے ریزگاری گن رہے تھے کہ ایک چو ّنی غلطی سے نیچے گری اور رینگتی ہوئی بالکونی سے نیچے گلی میں گرگئی۔شیخ صاحب تیزی سے نیچے کی جانب دوڑے اور لفٹ کا انتظار کئے بغیر سیڑھیوں سے دَگڑ دَگڑ اچھلتے ہوئے بلڈنگ کے باہر پہنچ گئے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کردائیں بائیں،آمنے سامنے دیکھنے لگے تو چو ّنی کہیں بھی نظر نہ آئی۔سر اُٹھا کے اوپر اپنی بالکونی کی جانب دیکھا تو چو ّنی ان کے ماتھے پر آکے زور سے لگی اور نیچے زمین پر گر گئی۔شیخ صاحب سکے سے بھی پہلے نیچے پہنچ گئے تھے۔

یہ دونوں لطیفے ہمیں ایک ایسی شخصیت سے سننے کوملے جونہ صرف شیخ ہونے پر فخر کرتے ہیں بلکہ اپنے اوپر ہنسنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔شیخ قوم کی یہ خوبی ہے کہ یہ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتی۔ہمارے والے شیخ صاحب کاپسندیدہ کاروبار ہوٹل بازی ہے۔اب یہ لفظ ’باز‘ جس بھی پیشے یا ہنر کے ساتھ لگ جائے وہ بدنام سا ہوجاتا ہے۔مثال کے طور پر آپ اس ہوٹل بازی کو ہی لے لیں،کوئی شریف آدمی اسے سن کر کوئی اچھا تاثر نہیں لے گا۔ذکر ہورہا تھا شیخ صاحب کا جنہوں نے گھاٹ گھاٹ کے پانی کے علاوہ ہوٹل ہوٹل کی چائے بھی پی رکھی ہے۔پاکستان میں کوئی ٹانواں ہی ہوٹل ان کے فیضان سے محروم رہا ہوگاجہاں پہ انہوں نے کام نہ کیا ہو۔اس نوکری کی سب سے بڑی برکت وہ یہ گنواتے ہیں کہ ہوٹل کی نوکری اصل میں جوائی والی ہوتی ہے،آپ ہوٹل کے خرچے پرکھاتے پیتے اور عیش کرتے ہیں اور مہینے کے آخر میں تنخواہ بھی جیب میں آجاتی ہے۔

شیخ صاحب کی سیلانی طبیعت انہیں ایک جگہ ٹک کر کام نہیں کرنے دیتی۔اس میں ان کے شوق کا بڑا ہاتھ ہے اور وہ ہے ادب۔نہیں جناب آپ غلط سمت میں چل پڑے ہیں یہ وہ ادب نہیں ہے جو بزرگوں کو دیکھ کر کرنے کو جی چاہتا ہے بلکہ یہاں کتابوں والے ادب کی بات ہورہی ہے۔شیخ صاحب نے تین چار کتابیں بھی لکھ رکھی ہیں جو ان کے ملنے جلنے والے عزیز و اقارب اور قرب وجوار کے دوستوں کے گھروں میں عام ملتی ہیں۔ ایک بار راقم ان کے گھربیٹھا ہوا تھااور شیخ صاحب اپنی دو عدد کتابیں جو ہندوستان میں گرمکھی لپی میں چھپ چکی تھیں،اپنے سامنے دھرے بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا شیخ صاحب یہ کیا معجزہ ہے؟ تو میرے سوال کے جواب میں مسکراتے ہوئے گویا ہوئے،”آپ کو ہماری قدر کہاں لیکن دیکھو ہندوستان میں مجھ پر بہت کام ہورہا ہے“۔میں کہاجی واقعی آپ پر کام تو بہت ہونا درکار ہے اور یہ کسی اکیلے آدمی کے بس کی بات نہیں،زیادہ لوگ ملیں گے تبھی بات سرے تک پہنچے گی۔میں نے کہا کچھ ایسا ہی جملہ فراز صاحب سے بھی منسوب ہے جو کہتے تھے کہ ہندوستان میں میری پوجا ہوتی ہے۔فراز کی بات سن کر کسی دل جلے نے کہا ہندوستانیوں کی بات چھوڑیں جی وہ تو گائے کی بھی پوجا کرتے ہیں۔

شیخ جی نے ادب کو اپنی نوکری کے سامنے دوسری بیوی یعنی سوکن بنا کے رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ کچھ ہی عرصہ بعد خودکام چھوڑ دیتے ہیں یا پھر نکال دئیے جاتے ہیں۔اگر تناسب دیکھا جائے تو آخرالذکر کا پلڑا بھاری دکھائی دے گا۔روز روز کے جھگڑوں اور تلخ کلامیوں سے تنگ آکر شیخ صاحب نے اپنا ہوٹل کھولنے کا کشٹ بھی فرمایا اور یہ تکلف ایک سے زیادہ مرتبہ کیا۔شہر کے مشہور کھابہ مرکز یعنی فوڈ سٹریٹ کی ایک منحوس دی نکڑ میں اپنا ہٹی نما ہوٹل کھول کر براجمان ہوگئے۔ ہوٹل کی تشہیری مہم کی ذمہ داری مجھ ناچیز پر تھوپ دی گئی۔میں نے ہوٹل کا منہ سر اپنے ٹوٹے پھوٹے تخلیقی ہنر سے سنوار دیا۔سائن بورڈ،بینر، تعارفی کارڈاور سب سے بڑھ کر کارِ مسلسل یعنی مینو کارڈ جی کی ڈیزائننگ اور کھانوں کے ناموں کا دخول و خروج روزانہ کی بنیاد پر ہوتا اور پندرہ رنگین پرنٹ میرے پرنٹر سے نکال کر شیخ صاحب اپنے ہوٹل کی جانب رواں دواں ہوتے۔میں اس روزانہ کی مشقت سے اکتا گیا مگر شیخ جی کے حوصلے ہمیشہ جواں رہے۔ایک دن تنگ آکر میں نے پوچھا شیخ صاحب آپ کے ہوٹل کے مینو کارڈ پر پاکستان بھر کے کسی بھی علاقے کی کوئی ایسی ڈش جو اندراج سے رہ گئی ہوتو مجھے بتائیے۔شیخ صاحب معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ بولے پاشا تو دیہاتی ہوکر بھی فصلوں کے ہیر پھیر کی حکمت سے ناواقف ہے۔کھانوں کے ناموں کے اس ہیر پھیر سے ہوٹل کی قسمت پھر بھی نہ پھری جبکہ فوڈ سٹریٹ کے باقی ہوٹل دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے رہے۔

اس منحوس مینو کارڈ میں کھانوں کے اندراج کے اتار چڑھاؤ کیلئے میری جب بھی ان سے ملاقات ہوتی، میرا مورال بلند رکھنے کو یہ ضرور کہتے”پاشا جی کبھی آئیں ناں فیملی کو لیکر ہمارے ہوٹل پر۔میں سمجھ جاتا کہ شیخ صاحب حاتم طائی کی قبرکو لات ماررہے ہیں،اس کا مقصدفقط اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنا مقصود ہے۔ چنانچہ میں ان کی دلجوئی کیلئے حامی بھر لیتا۔ایک دن میں اپنے بیوی اور دو نوں بچوں کے ساتھ ادھر سے گذرا تو گاڑی کا رخ شیخ صاخب کے آستانے کی جانب موڑ دیا۔موصوف ہوٹل کی نکڑ میں تھڑے کے قالین پر براجمان پائے گئے۔ ہمیں اپنی طرف آتا دیکھ کر ہوٹل ملازمین کی باچھیں کھل گئیں جبکہ شیخ صاحب کے چہرے پر خوشی غم کی ملی جلی کیفیت دیکھی جسے کوئی نام نہیں دے سکا۔ملازمین شاید گاہک جان کر خوش ہوئے تھے۔ویسے سارا دن مکھیاں مارنے والوں کااتناحق تو بنتاہے۔لیکن ساتھ والے ہوٹل کا عملہ ہمیں پتہ نہیں کیوں حیرت سے تک رہا تھا۔دل میں سوچا یہ شاید پیشہ وارانہ رقابت کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔جلدی سے ٹھنڈی بوتلیں منگوائیں گئیں۔باتوں باتوں میں شیخ صاحب سے پوچھا جناب آپ کے ہوٹل کی خاص چیز کیا ہے جو کسی اور میں نہیں؟فوراً جواب ملا ”پنجابی پیزا“ میں نے حیران ہوکر اس پیزے کی خصوصیات پوچھیں توشیخ صاحب فخریہ انداز میں بولے”جناب آپ اسے کھائیں گے تو یاد کرتے ہی رہیں گے“۔اچھا تو ایسی کیا خاص کستوری ڈالتے ہیں آپ اپنے پنجابی پیزے میں؟میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔آو میرے ساتھ تاکہ تمہیں پتہ چلے کہ پنجابی پیزا بنتا کیسے ہے،یہ کہہ کر شیخ جی مجھے ہوٹل کے کچن کی جانب لے گئے۔

کچن میں باورچی نے میرے سامنے ایک روٹی کے آٹے کا پیڑا لے کراسے چھنڈ کر روٹی کی طرح میز پر رکھے تھال پرپھیلا لیا۔پھر اس روٹی پر ہلکی سی تہہ بھنے ہوئے قیمے کی پھیلائی،اس کے اوپر تین سلائس ٹماٹر کے چپکا دئیے اور اب اسے تندور نما بھٹی میں پکنے کیلئے رکھ دیا۔چند منٹوں میں باہر لایا گیا تو اسے باقائدہ پیزے کی طرح چار برابر ٹکڑیوں میں کاٹ کر ایک پلیٹ میں رکھ کر ہماری پوری فیملی کے سامنے میز پر رکھ دیا گیا۔تو یہ ہے وہ المشہور پنجابی پیزا جس کی دھوم شیخ صاحب نے اپنے دوستوں میں مچائی ہوئی ہے۔میں نے اپنی گھروالی کی جانب دیکھااور اس نے پہلے میری طرف اور پھر دونوں بچوں کودیکھا،لیکن شیخ صاحب نے ہم سب کو دیکھا اورحکم دینے کے انداز میں کہنے لگے”ادھر ادھر دیکھنے سے بات نہیں بنے گی جناب اسے ختم کرناہی ہوگا“۔لوجی ہم چاروں کے حصے میں ایک ایک ٹکڑی آئی جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالنے  والی بات ہوگئی۔میں نے پیزاچباتے ہوئے مزید معلومات کی غرض سے پوچھا جناب آپ نے اس نایاب آئٹم کی ترکیب کہاں سے حاصل کی؟اس پر شیخ صاحب نے بڑے فخر سے اپنے شانے اچکاکر اور نتھنے پھلاکر اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے فرمایاکہ یہ شاہکار ان کے اپنے ہی تخلیقی ذہن کی پیداوار ہے۔میں نے مسکراتے ہوئے انہیں داد تو دی لیکن اندر ہی اندر ان پر  ڈھیروں بددعائیں کیں،کیونکہ اس ایک روٹی سے ہم سب کی داڑھ بھی گیلی نہیں ہوئی تھی کہ دعوت ختم ہوتی نظر آئی۔میں نے اٹھتے ہوئے رسماً پیسے دینا چاہے تو شیخ صاحب نے اپنی سخاوت کی ایک اور لات گھمائی۔کہنے لگے رہنے دو یار پاشا پیسے ہم اگلی بار لیں گے،آج آپ عیاشی کریں۔میں نے تحیر آمیز نظروں سے شیخ جی کو دیکھا اور اجازت چاہی جو کہ شیخ جی نے بخوشی دیدی توہم نے تیزی سے اس بے برکت جگہ سے واپسی کی راہ لی۔ اس منحوس ہوٹل سے ہم ایسے بھوکے نکلے جیسے کوئی سرکاری افطار پارٹی سے خالی ہاتھ واپس آتا ہے۔راستے میں بیگم کی جھڑکیاں اور بچوں کی ناراض نظروں سے گبھرا کر میں انہیں کالج روڈ کے مشہور مرغ پلاؤ پرلے گیاجہاں سیر ہوکر کھانا کھایا۔

شیخ جی کی جملہ کفایت شعاریوں کی بدولت ہوٹل چل نہیں بلکہ رینگ کر اپنے دن پورے کررہا تھا۔اب جاننے والے اس استھان سے ذرا پرے ہوکر گذرنے لگے مبادا کہیں شیخ جی کی نظر نہ پڑ جائے۔ملازمین کی تنخواہیں نکلنا محال ہوگئیں۔لیکن اس مشکل گھڑی میں شیخ جی کا ادب ہی کام آیا۔انہوں نے اپنے ادیب شاعر دوستوں کی محفلیں یہاں پر منعقد کروانا شروع کردیں۔جہاں پرمفت چائے کی لاجواب پیشکش کی گئی۔ لیکن ان بے چاروں کو یہ علم نہیں تھا کہ چائے کے پیسے باقی آرڈر کی جانے والی اشیاء میں منقسم ہوکریکساں طور پر ڈال دئیے گئے ہیں۔ جیسے واپڈا والے اپنے صارفین سے کرتے ہیں۔شیخ صاحب کے ادبی کارندے محفلوں میں شرکت کے بہانے ٹوہ لگاتے کہ کہیں ادیب لوگ کھانے وغیرہ کا پروگرام بنا رہے ہیں تو یہ مخبر قسم کے لوگ اس قافلے کا رخ شیخ جی کے ہوٹل کی جانب موڑ دیتے،جس پر شیخ صاحب سے یہ نقد انعام بھی پاتے۔لکھاری حضرات کو مفت چائے کی آڑ میں بدمزہ کھانے کھلائے جاتے رہے اور جلد ہی اکثریت نے اس ادبی سازش کی بو سونگھ کر شیخ جی خلاف علم جہاد بلند کردیا۔بعض نے یہ الزامات بھی لگائے کہ اس ہوٹل سے ہمیں گھر کے کھانوں کی بو آتی ہے۔ چنانچہ یہ سلسلہ بھی ختم ہوتا چلا گیا۔

فوڈ سٹریٹ کے احاطے میں ہی کرکٹ سٹیڈیم کے پچھواڑے میں ایک پرنٹنگ پریس والوں سے شیخ جی نے دوستی گانٹھ رکھی تھی۔لیکن اس نئی نویلی دوستی میں بھی شیخ صاحب کی کاروباری ذہنیت نے کام دکھایا۔انہوں نے مالکان کو اپنی باتوں کے شیشے میں اتارکرایک ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ جس کی رو سے پریس کے تمام ملازمین کا دوپہرکا کھانا مذکورہ ہوٹل سے تیار ہوکر جانے لگا۔ہفتے میں چھ دن کا کھانا اب شیخ جی کے ہوٹل سے کیٹرنگ ہوکر آنے لگا۔فہرست کے مطابق دو دن دال،دو دن سبزی اور باقی دو دن گوشت کے طے ہوئے۔ گوشت میں ایک دن بڑا گوشت اوردوسرے دن مرغی کا ہوتا۔مرغی کا بھی وہ حصہ جدھر سے مرغی شروع ہوتی ہے یعنی گردن، اور ونگز وغیرہ۔باقی سارا مرغا شاید شیخ جی کے ہوٹل پر ممنوعہ اشیاء کی فہرست میں آتا تھا۔چھاپہ خانے کے ملازمین کو مرغے کی اخیر یعنی ٹانگ دیکھنا کبھی نصیب نہ ہوئی۔سبزیوں میں بھی وہ پکتی جس کے بھاؤ منڈی میں سب سے نیچے ہوتے یعنی جس کا رُل پڑا ہوتا۔یہ اعزاز بھی شیخ صاحب کے ہوٹل کو ہی جاتا ہے کہ پہلی بار بینگن جیسی شاہی سبزی کو باقائدہ اپنے ہفتہ وار مینو میں شامل کرلیا جس کو دائیں بائیں کے سبھی ہوٹل پتہ نہیں کیوں نظر انداز کیے بیٹھے تھے۔لیکن انہوں نے کریلے جیسے سبزیوں کے مرشدکو کبھی بھی لفٹ نہ کرائی۔شیخ جی کی کچن اصلاحات کی سب سے بڑے متاثرین چھاپے خانے کے ملازمین ہی تھے جو اپنے مالکان کے سامنے بول نہیں سکتے تھے۔

شیخ صاحب نے اپنی دوپہر کی روٹی کا بندوبست بھی یاری دوستی کے کھاتے میں چھاپے خانے کے مالکان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ وہ کھانے کے تھال کے ساتھ خود بھی چلتے پھرتے پریس میں پہنچ جاتے اور پھراپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھاتے۔اس تجربے سے ان کو یہ اندازہ لگانے میں آسانی رہتی کہ کھانا مقدار میں زیادہ تو نہیں بھیجا جارہا۔کچھ دن تو مالکان ان کا منہ دیکھتے رہے پھر ایک روز انہوں نے اپنے ملازمین کی شکایت کا بہانہ بناتے ہوئے اس ڈیل کو منسوخ کردیا۔چنانچہ اس طرح ہوٹل کی آمدن کا واحدذریعہ بھی ختم ہوگیا۔شیخ جی نے ہوٹل بند کیا،عملے کو چھٹی دے دی اور پھر بچے کھچے سازوسامان کیلئے گاہک اور اپنے لئے نئی نوکری تلاش کرنا شروع کردی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *