اگلی نسل کی دنیا (4) ۔ وسائل/وہاراامباکر

ہماری زندگی کا انحصار ان وسائل پر ہے جو قدرت ہمیں فراہم کرتی ہے اور یہ  قدرتی سرمایہ کئی طرح کا ہے۔ اس میں قدرتی اثاثے، قدرتی خدمات اور زمین کا جینیاتی پول آتے ہیں۔

ان میں محدود اثاثے بھی ہیں جیسا کہ ہائیڈروکاربن، معدنیات اور زیرِزمین فوسل پانی۔ اور ری نیو ایبل اثاثے بھی ہیں جیسا کہ دریا، کاشت کے لئے زمین، لکڑی اور جنگلی زندگی۔
قدرتی خدمات میں زندگی کے لئے لازمی پراسس ہیں جیسا کہ فوٹوسنتھیسز، سمندروں کا کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنا، کیڑوں کا فصلوں کو پولینیٹ کرنا۔ اس کے علاوہ ہمیں زمین پر جانداروں کا جینیاتی پول درکار ہے ہے جس کا مطلب زمین پر پائے جانے والے جانداروں میں جینیاتی تنوع ہے۔
اس کو مکمل طور پر سمجھنا آسان نہیں کہ ہمارا ان پر کس قدر زیادہ انحصار ہے۔ فولادی مشینیں تیل کو جلا کر ہماری فصلیں اگاتی اور کاٹتی ہیں۔ کھادیں قدرتی گیس سے بنتی ہیں۔ اور اس طرح ہم اسی زمین سے کئی گنا پیداوار حاصل کر سکتے ہیں جو کسان اور جانوروں کی مدد سے کی جاتی۔
ہمیں جینیاتی کوڈ کا تنوع درکار ہے کیونکہ جاندار وہ بنیادی بلڈنگ بلاک ہیں جن پر ہماری خوراک، بائیوٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل کی صنعت منحصر ہے۔ ہم اپنی عمارتوں میں لکڑی، فولاد اور سیمنٹ لگاتے ہیں۔ ہم پانی کو زمین سے نکالتے ہیں یا اسے ڈیم بنا کر قید کر سکتے ہیں تا کہ صحرا میں کپاس اور گھاس اگائی جا سکے۔ ہمیں ٹرک اور ڈیزل اور دیوہیکل بحری جہاز درکار ہیں تا کہ معدنیات اور مصنوعات اور خوراک کو ان کی پیداوار کی جگہوں سے ان جگہوں تک منتقل کیا جا سکے جہاں ان کی ضرورت ہے۔
تجارت کے اس بہاوٗ نے نئی معیشتیں اور جگمگاتے شہر تخلیق کئے ہیں۔ کوئلہ جلا کر بننے والی بجلی دھات کی تاروں میں اربوں میل سفر کرتی ہے۔ ہماری عمارتیں، موبائل فون، انٹرنیٹ اور برقی گاڑیاں اس طاقت پر منحصر ہیں۔ ہوائی جہاز اور گاڑیاں کب کے مردہ ہو جانے والے جانداروں کی باقیات کو جلانے سے چلتے ہیں۔ اور یہ ہمیں اس دنیا کو دیکھنے کا موقع اور آزادی دیتے ہیں۔
ہمارے مستقبل پر اثرانداز ہونے والی دوسری اہم عالمی فورس انسانوں کی قدرتی وسائل، قدرتی خدمات اور جینیاتی پول سے بڑھتی مانگ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میں کوئی راز کی بات نہیں کہ بیسویں صدی میں آبادی کے پھیلاوٗ، ماڈرنائزیشن، تجارت اور ٹیکنالوجی نے ان سب کی مانگ بڑھا دی ہے۔ اور اس خام مال کی دستیابی کی تشویش 1970 کی دہائی سے لوگوں کے ذہنوں میں جگہ لینا شروع ہوئی ہے۔
ناسا نے پہلا سویلین سیٹلائیٹ “لینڈ سیٹ” بھیجا تھا جس نے زمین کی تصاویر لینا شروع کیں اور اس میں ایمزون بیسن میں صاف ہو جانے والے گھنے جنگل پہلی بار نمایاں نظر آئے تھے۔ آج، دنیا بھر میں خبروں میں تیل کی کمی، پانی کی جنگوں اور اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتوں کا چرچا رہتا ہے۔ کئی پودے اور جانور غائب ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی رہنے کی جگہوں پر ہمارے کھیت اور پارکنگ کے پلازے بن چکے۔ اینٹارٹیکا کو چھوڑ کر زمین کی سطح کا اسی فیصد حصہ براہِ راست انسانی سرگرمیوں کے زیرِاثر ہے۔ اس میں استثنا شمالی ٹنڈرا اور یہاں کے جنگلوں کو، کانگو اور ایمزون کے گھٹتے جنگلوں کے مرکزی حصوں کو اور افریقہ، آسٹریلیا اور تبت کے کچھ صحراوٗں کو ہے۔
کسی قدرتی ریسورس پر اتنا پریشر نہیں جتنا فوسل ہائیڈروکاربن ایندھن کو ہے۔ اس کی مانگ دنیا میں ہر جگہ پر ہے۔ یہ سب سے زیادہ امریکہ میں ہے، اس لئے یہاں پر اس کی تاریخ دیکھتے ہیں۔
fig_4

جب امریکہ نے 1776 میں برطانیہ سے ایک سال جنگ کے بعد آزادی کا اعلان کیا تو یہاں پر توانائی کے ذرائع یا تو لکڑی تھی یا پھر پٹھوں کی طاقت۔ چند ایک جگہوں پر پانی سے آری چلا کر لکڑیاں کاٹی جاتی تھیں یا کوئلے سے لوہے کے اوزار اور ہتھیار بنائے جاتے تھے۔ لیکن زیادہ تر ایندھن لکڑیوں سے حاصل ہوتا تھا۔ یا پھر گھوڑوں، خچروں، بیلوں اور انسانی کمر کا زور تھا۔
انیسویں صدی میں بھاپ کی ٹرین اور پھر مغرب کی طرف پھیلاوٗ نے اس کو بدل دیا۔
سیاہ کوئلہ اب نیا شہزادہ تھا۔ فیکٹری، فاوٗنڈری، ٹرین اور اوون میں جلایا جاتا تھا۔ 1850 میں کوئلے کا استعمال ایک کروڑ ٹن سالانہ تھا جو 1900 میں سوا تین کروڑ ٹن تک پہنچ چکا تھا۔ کوئلے کی کانوں نے نئی بستیاں بسائیں۔
بیسویں صدی میں کوئلہ پیچھے رہ چکا تھا۔ تیل کو سب سے پہلے پینسلوینیا میں 1859 میں نکالا گیا تھا اور کیروسین بنایا گیا تھا جس سے چراغ جلائے جا سکتے تھے۔ ابتدا میں اس نے زیادہ توجہ حاصل نہیں کی۔ پٹرول کو ابتدا میں بے کار بائی پراڈکٹ سمجھا جاتا تھا اور اس کو ضائع کرنے کے لئے دریا میں پھینک دیا جاتا تھا۔ لیکن کسی نے اس سے کمبسشن انجن بنانے کا سوچا اور پھر پٹرول ایندھن کا سپرمین بن گیا۔
تیل کی ایک بیرل میں اتنی توانائی ہوتی ہے جو کسی اوسط شخص کی آٹھ سال کی روزانہ کی مزدوری سے حاصل ہوتی ہے۔ تیل کے کنویں حاصل کرنا دونوں جنگِ عظیم کا ایک سٹریٹجک حدف رہا تھا۔ آذر بائیجان کے باکو ذخائر وجہ تھی جس باعث جرمنی نے روس پر حملہ کیا تھا۔ اور یہاں کا تیل ہی تھا جس نے روسی آرمی کو شمال کی طرف وہ ایندھن دیا تھی کہ اس نے جرمنی کو روک لیا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم کے اختتام تک، گاڑیاں اور ٹرک ریلوے سسٹم سے زیادہ اہمیت لے چکے تھے۔ ٹرین ڈیزل پر چلنے لگی تھی اور مائع ایندھن کی مارکیٹ کا ٹیک آف ہو گیا تھا۔ 1951 میں تیل کی فروخت کوئلے سے بڑھ چکی تھی۔ تیل، گیس اور کوئلے کی فروخت تیزی سے بڑھتی رہی۔ 2000 میں امریکہ نے 1.1 ارب ٹن کوئلہ استعمال کیا جو سو سال پہلے کے مقابلے میں 230 فیصد زیادہ تھا۔ تیل کے 6.6 ارب بیرل استعمال کئے جو سو سال پہلے کے مقابلے میں 16700 فیصد زیادہ تھے۔ جبکہ جلانے والی لکڑی کی مقدار 11.3 کروڑ کورڈ تھی جو سو سال پہلے کے مقابلے میں صرف 12 فیصد زیادہ تھی۔
امریکہ کی آبادی اس اثنا میں 76 ملین سے بڑھ کر 281 ملین ہوئی تھی جو 270 فیصد زیادہ تھی۔ اور یہاں پر اہم نکتہ یہ ہے کہ توانائی کی مانگ میں ہونے والا اضافہ آبادی کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا۔ فی کس کھپت بہت زیادہ بڑھی۔ اکیسویں صدی کے آغاز پر اوسط امریکہ تیل کے چوبیس ڈرم ہر سال خرچ کرتا ہے۔ سو سال پہلے، یہ آدھا ڈرم تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ایسا ہی غیرمعمولی اضافہ دوسرے وسائل کے ساتھ ہوا۔ لوہا، نکل، ہیرے، پانی، سالمن مچھلی، نرم لکڑی ۔۔۔ کسی بھی چیز کے ساتھ ایسا ہے۔ اور یہ صرف امریکہ ہی نہیں، تمام دنیا میں یہ اسی طرح سے ہو رہا ہے۔
ہماری نہ صرف آبادی اس ایک صدی میں بے تحاشہ بڑھی بلکہ ایک فرد کی طرف سے ہونے والا ریسورس کا استعمال بھی۔
اور اس فی کس استعمال کے اعداد میں دنیا میں بہت فرق ہے۔ جیرڈ ڈائمنڈ کی کیلولیشن کے مطابق جاپان، مغربی یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں رہنے والے کا کنزمپشن فیکٹر کینیا میں رہنے والے شخص سے 32 گنا زیادہ ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہاں پر ایک اور ناخوشگوار حقیقت ہے۔ جن علاقوں میں یہ کنزمپشن فیکٹر سب سے کم ہے، وہ دنیا کے غریب ترین اور خطرناک

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

n00185377-bترین مقامات ہیں۔
ہم جس بھی ملک میں رہتے ہوں، ہم سبھی یہ خواہش رکھتے ہیں کہ یہ حالات بہتر ہوں۔ بہت سے لوگ اور خیراتی ادارے اس پر کام کرتے ہیں۔ اس میں حکومتیں، عالمی ادارے، مذہبی تنظیمیں اور مخیر لوگ ملکر کام کر رہے ہیں۔ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک پوری محنت کر رہے ہیں کہ وہاں پر آبادی کا معیارِ زندگی بہتر ہو۔ ہم میں سے کون ایسا چاہے گا کہ یہ کوششیں کامیاب نہ ہوں؟ کون اس دنیا سے غربت، بھوک اور بیماری کا خاتمہ نہیں دیکھنا چاہتا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرض کیجئے کہ آپ کے پاس ایک جادو کا بٹن آ گیا ہے۔ اس کو دبا دیں گے تو دنیا کے تمام ممالک میں وہی معیارِ زندگی مل جائے گا جو شمالی امریکہ، مغربی یورپ، جاپان اور آسٹریلیا میں ہے۔ صرف اس کو دبا دینے سے دنیا میں معاشی مصائب حل کئے جا سکیں گے۔ کیا آپ نے یہ بٹن دبا دیا ہے؟
نہیں!!! اس کو نہیں دبانا تھا۔  آپ نے جو دنیا تخلیق کر دی ہے، وہ خوفناک ہے۔ قدرتی وسائل کے استعمال میں گیارہ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ ویسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھ کر 80 ارب ہو چکی ہے۔ یہ سب گوشت، مچھلی، توانائی، پلاسٹک، دھات اور لکڑی کہاں سے آئے گی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب تصور کریں کہ یہ تبدیلی اچانک نہ ہو بلکہ دھیرے دھیرے اگلی چند دہائیوں میں ہو؟
ڈیموگرافر یہ توقع رکھتے ہیں کہ 2050 تک عالمی آبادی سوا نو ارب کے قریب پہنچ کر بڑھنا بند ہو جائے گی۔ لیکن اگر ان سب کو اسی طرح رہنا ہے جیسے آج کی مغربی دنیا میں رہا جاتا ہے تو اس کا مطلب اتنے وسائل کا بندوبست کرنا ہو گا جتنا ایک کھرب آبادی کے لئے!
اور جب اس روشنی میں اسے دیکھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمی ریسورس پر انسانی پریشر کا تعلق کل آبادی سے بھی زیادہ لائف سٹائل پر ہے۔
ماڈرنائزیشن اور ترقی ۔۔۔ جو یقینی طور پر قابلِ تعریف مقاصد ہیں ۔۔۔ اس دنیا سے ہماری مانگ میں اضافہ کر رہے ہیں۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply