انسانم آرزوست مصنف ڈاکٹر محمد امین/مرتب سخاوت حسین(مجلس9)

ابوالحسن، شہر کے لوگ انجانے خوف میں مبتلا ہیں۔انہیں معلوم نہیں اس کا کیا سبب ہے۔دانش ور، جو کچھ ان کے پاس ہے، اس کے چھن جانے کا ڈر ہے۔حالانکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ہے، جو ان کے پاس ہے۔وہ دوسروں کا ہے اور دوسروں کے لئے ہے۔اگر وہ یہ نقطہ سمجھ جائیں تو پھر کیسا ڈر؟
ابوالحسن! دولت اور طاقت کی ہوس نے انسان کو انسان سے دور کر دیا ہے۔ہر انسان دوسرے انسان سے ڈرتا ہے۔
دانش ور، جس کے پاس طاقت ہے اسی کے پاس دولت ہے۔طاقت اور دولت ایک ہی چیز ہے۔سمجھ لے دونوں کو زوال ہے۔آج ایک کے پاس ہے۔تو کل دوسرے کے پاس ہے۔
دانش ور، دکھ کی بات ہے کہ ذہانت نے ہمیشہ کبھی دولت کبھی طاقت کی غلامی کی ہے۔جو ذہانت ان کی غلامی نہیں کرتی۔وہ امر ہو جاتی ہے۔دانش ور، صبر کو سمجھو۔صبر مرحلہ شکر ہے۔جو نہیں ہے اس کا لالچ نہیں۔جو چھن جائے۔تو اس کا رنج نہیں۔یہی صبر ہے۔یہی شکر ہے۔
یہاں مجلس برخاست ہوئی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *