بھارت کا نیا پینترا،آئین کا استعمال۔عبداللہ قمر

بھارت ایک لمبے عرسے سے یہ بے بنیاد اور کھوکھلا دعویٰ کرتا آیا ہے کہ کشمیراس کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس دعوے  کو کشمیری عوام بالکل قبول نہیں کرتے بلکہ یکسر مسترد کرتے ہیں۔ بھارت نے بزور شمشیر ناجائز تسلط جما کر جنت نظیر وادی کو ستم گاہ بنا رکھا ہے، باوجود اس بات کے کہ اس کا قانون بھی ریاست جموں و کشمیر کو علیحدہ حیثیت دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 370 کے مطابق بھارتی حکومت کشمیر کو ضم کر کے کسی صورت بھی اپنے صوبے کا درجہ نہیں دے سکتی۔ مگر جب سے آر ایس ایس کا تربیت یافتہ مودی بر سر اقتدار آیا ہے، بھگوا سرکار نے دفعہ 370 میں نقب لگانا شروع کر دی ہے تاکہ مسلم اکثریت کی بنا پر کشمیر کو جو امتیازی حیثیت حاصل ہے اس کا خاتمہ کیا جاسکے۔

اسی سلسلے میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے واسطے مودی سرکار نے گڈز اینڈ سروسز ٹیکس بل منظور کروا کر مقبوضہ کشمیر کی مالی خود مختاری کو ختم کر دیا ہے اور اب اس کے بعد اگلا ہدف یہ ہے کہ آئین کی شق 35A کو ختم کیا جائے تا کہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کر دیا جائے اور کشمیر سے مسلم اکثریتی شناخت ہی چھین لی جائے جو کشمیریوں  کی تحریک ِآزادی کی بنیاد اور پہچان ہے۔بنیادی طور پر 35A کی وجہ سے ہی دفعہ 370 کے تحت کشمیر کی علیحدہ حیثیت قائم ہے۔ دفعہ 35A کے مطابق کوئی بھی غیر ریاستی باشندہ نہ تو کشمیر میں جائیداد خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل رہائشی بن سکتا ہے۔ خواہ عام شہری ہو یا فوجی افسر، کوئی بھی اس بات کا اہل نہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدے یا پھر مستقل باشندہ بن سکے۔ لیکن گزشتہ ایک عرصے سے وادی کشمیر میں خاموشی سے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا بھیانک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ نریندرا مودی نے مسلم دشمنی کی بنیاد پر اقتدارحاصل کیا اور اس کے بعد پوری توجہ اسی پر مرکوز کر دی۔ بھارتی وزیر اعظم نے قبل از انتخابات ہی یہ بات کہہ دی تھی کہ اقتدار حاصل کر لینے کے بعد وہ مقبوضہ کشمیرکو خاص اہمیت اور حیثیت دینے والی آئینی شق کو ختم کر دیں گے۔

tripako tours pakistan

اس کا مقصد یہ تھا کہ ”کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے” کی راہ میں حائل ایک بہت بڑی رکاوٹ ہٹ جائے گی اور کشمیر کو بھارت میں ضم کرکے اپنا صوبہ قرار دینے کے سلسلے میں ایک بڑی پیش رفت ہو جائے گی۔لیکن 2014 کے انتخابات میں مسلم دشمنی اور تعصب کی بنیاد پر شدت پسند ہندوؤں کے ووٹ لے کر مگر تمام وسائل استعمال کر کے بھی اس قدر اکثریت نہیں حاصل کر سکا کہ تنہا حکومت بنا سکے اور آئین میں ترمیم کر کے کشمیر کا اسلامی تشخص پامال کرسکے۔

2014 میں مودی حکومت بننے کے بعد یہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کے خاتمے کی کوئی پہلی کوشش نہیں۔اس سے پہلے بھی مختلف انداز سے اس کی کوشش کی جا چکی ہے کہ کشمیر میں کسی نہ کسی طریقے سے ہندوؤں کو آباد کر کے آبادی کا تناسب تبدیل کیا جائے۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی حکومت نے ایک سازش رچتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ بھارت فوج جوان اور افسر جو   مقبوضہ کشمیر میں ہلاک ہوئے ان کے گھر والوں کی مدد کے طور پورے خاندان کومقبوضہ کشمیر میں آباد کیا جائے گا اور پھر مقبوضہ کشمیر میں اس کے لیے کالونیاں قائم کی گئیں۔ بیرون کشمیر سے غیر ریاستی باشندوں کو لا کر کشمیر میں بسایا گیا۔ اس کے علاوہ وہ کشمیری پنڈت جو تقسیم ہند کے بعد کشمیر سے چلے گئے تھے اور ہندوستان   جا کر آباد ہو گئے۔ مودی سرکار نے ان پنڈتوں کو بھی خاندان سمیت کشمیر میں بسایا۔ اس کی صرف اور صرف ایک وجہ تھی کہ کشمیر میں مسلم اکثریت کا خاتمہ کیا جائے۔ اس کے بعد جب بی جے پی نے کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ الحاق کیا تو ہندو مہاجر شرونارتھیوں کی فلاح و بہبود کی آڑ میں ان ہندو مہاجر شرونارتھیوں کو بی جے پی کے وزراء نے مستقل شہریت کے سرٹیفکیٹ بھی دیے ۔یہ کام پس پردہ انجام پایا جو مکمل طور پر بھارتی آئین کے خلاف ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بہ دیر آید درست آید کے مصداق آرٹیکل 35A کو ختم کرکے کشمیر کی شناخت چھیننے کی سازش کو بھانپتے ہوئے دہلی کو خبر دار کیا اور کہا ہے کہ ”اگر جموں و کشمیر کے خصوصی درجے یعنی 35A، 370 کو ختم کیا گیا یا اس کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو ریاست میں ترنگے کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ ”اس کے علاوہ سابق اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھی دہلی کو مخاطب کیا اور انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر دفعہ 370 یا سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست جموں و کشمیر کے تینوں حصوں میں نہ صرف طوفان آئے گا بلکہ 2008 کے امرناتھ ایجی ٹیشن سے بھی زیادہ بغاوت چھڑ جائے گی۔ ”آرٹیکل 35A کو 1954ء میں اس وقت کے صدر ہند ڈاکٹر راجندر پرساد کے ذریعے جاری کر دہ ایک ریفرنس کے تحت لاگو کیا گیا ہے۔ یہ آرٹیکل ریاستی اسمبلی کو کچھ خصوصی اختیارات تفویض کرتا ہے۔ آرٹیکل 35A کے خاتمے سے دفعہ 370 کی افادیت ختم ہو جائے گی اورکشمیر کے تمام معاملات میں بھارت سرکار براہ راست مداخلت کر سکتی ہے۔

35A اور 370 مودی سرکار کی آنکھ میں اس کانٹے کی مانند ہیں جو ہرلمحے اس کو درد اور تکلیف کا احساس دلاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2014 میں انتخابی مہم کے دوران دفعہ 370 اور 35A کی معطلی ان کا ایجنڈا رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے انہوں نے عدالت عظمٰی اور پارلیمنٹ کا سہارا لینے کی کوشش بھی کی ہے لیکن خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ حال ہی میں نیشنل کمیشن فارویمن کی ممبر ڈاکٹر چاروولی کھنہ  نے بیرون ریاست خواتین کی شادی کو بنیاد بنا کر بھارت میں آرٹیکل 35A کو چیلنج کیا ہے۔

قارئین کرام! یہ جو کچھ بھی اس وقت کشمیر کے خلاف کیا جا رہا ہے اس کے پیچھے ایک ہی مقصد اور ہدف ہے اور وہ ہدف اور مقصد انتہا پسند ہندو سرکار کی توسیع پسندی کی خواہش اور اکھنڈ بھارت کا قیام ہے۔ اگر اس ساری صورتحال کا بغور مشاہدہ کریں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ مودی بنیادی طور پر آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ مختلف حیلے بہانے اور چور رستے اختیار کر رہا ہے کہ کسی طریقے سے غیر کشمیری ہندوؤں کو وادی میں آباد کیا جائے۔ اس کے لیے کبھی وہ آئین میں ترمیم کی بات کرتاہے کبھی فوجیوں کو وہاں لے جا کر بسانے کی بات کرتا ہے تو کبھی کشمیری پنڈتوں کی آبادی کی بات کرتا ہے ۔

بھارت آبادی کا تناسب اس لیے تبدیل کرنا چاہتا ہے کہ وہ جو قرار دادیں اقوام متحدہ میں استصواب رائے اور کشمیریوں کے حق خودرادیت کے حوالے سے پاس کی گئیں، ان کا کچھ جواب ڈھونڈ سکے اور قبل از ریفرنڈم حالات کو اپنے حق میں سازگار بنا سکے۔ کشمیری قیادت جس بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحاق کی بات کرتے ہیں کہ یہاں مسلمان اکثریت میں آباد ہیں لہٰذا بھارت کا کشمیر پر کوئی حق نہیں ہے، کو جھٹلاسکے لیکن کشمیر کے غیور عوام مودی سرکار کے تمام غیر اخلاقی اور قانونی اقدامات کے خلاف مسلسل سراپا احتجاج ہیں اور کشمیر پر بھارت کا کسی قسم کا کوئی حق تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ساری عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کو مکار بھارت کی اس ساری سازش کا بخوبی اندازہ ہے لیکن اس کے باوجود نظریں چرا رہی ہے۔

Advertisements
merkit.pk

اس ساری صورتحال سے واقفیت کے باوجود غفلت برتنا مجرمانہ فعل ہے۔ بلکہ اگر یوں کہیں تو ہر گز غلط نہ ہو گا کہ امریکہ اور اس کے حواریوں کی جانب سے انڈیا کو پورا پورا موقع دیا جا رہا ہے کہ کشمیر کے اندر آبادی کا تناسب بدل لو۔ یہ بات انسانی حقوق کے علمبرداروں اور اقوام متحدہ کی غیر جانبداریت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ مگر اب کشمیری بھی صحیح معنوں میں میدان عمل میں اتر چکے ہیں اور اب انہیں بھی مغرب کے ایوانوں سے کوئی آس اور امید نہیں بلکہ وہ اب اپنی مدد آپ کی بنیاد پر نکلے ہیں۔ اللہ وادی کشمیر کے غیور، غیرت مند اور با ہمت لوگوں کا حامی و ناصر  ہو اور جلد آزادی ان کا مقدر بنے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Abdullah Qamar
Political Writer-Speaker-SM activist-Blogger-Traveler-Student of Islamic Studies(Eng) at IOU-Interested in International Political and strategic issues.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply