ڈاکٹرمہرنگ بلوچ، بلوچستان کی سسی ہے۔۔محمد داؤد خان

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کو دیکھ کر مجھے سچل سرمست کا یہ مقولہ یاد آ جاتا ہے جس میں سچل سرمست کا فقیر نمانو، سچل سے عرض کرتا ہے، “سائیں کیسی گزر رہی ہے؟” تو سچل نمانو فقیر کے چہرے کو دیکھے بغیر جواب دیتا ہے کہ، “دل میں ہزاروں سوراخ سجن کی یاد سے ہو گئے ہیں!” (یہ بات اردو میں ڈھل کر بے روح ہو گئی ہے جب کہ سندھی الفاظ آج بھی کہنے سے یا لکھنے سے رُواں رُواں کانپ جاتا ہے)۔ پر میں وہ روح کہاں سے لاؤں جس روح سے سچل کے یہ الفاظ زندہ ہیں اور ہر اس دکھی دل کو چھو جاتے ہیں جس دکھی دل کی ایسی حالت ہو جس حالت کے لیے بابا فرید نے فرمایا تھا کہ، “درداں دی ماری دلڑی علیل اے!”

سچل کے یہ الفاظ ہر اس آنکھ کو نم کر جائیں گے جس آنکھ نے درد کے آنسوؤں کا ذائقہ چکھا ہو، جس درد بھری آنکھ کے لیے بلھے شاہ نے فرمایا تھا کہ،

میری آنکھیں تو رونے کے بہانے تلاشتی ہیں
ایسے جیسے کسی درخت پہ بارش برس جائے
پھر بارش تھم جائے اور اس درخت پہ کوئی پرندہ آ بیٹھے
پھر وہ بیٹھا پرندہ اُڑنے لگے تو پھر اس درخت سے بارش شروع ہو جاتی ہے
میری آنکھیں تو رونے کے ایسے بہانے تلاش رہی ہیں
مجھے رونے کا بہانہ چاہیے!

سچل کی یہ بات مجھے ڈاکٹر مہرنگ دیکھ کر یاد آئی ہے جس کے سینے میں ویسے ہی ہزاروں سوراخ ہو چکے ہیں!
اس کی آنکھیں بلھے شاہ کی مانند رونے کو بے تاب ہیں
اس کا دل بابا فرید کے ان بولوں کا پتہ پوچھتا ہے کہ،
“درداں دی ما ری دلڑی علیل اے!”
اور خود ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی اپنی ایسی حالت ہے جس کے لیے فرید نے فرمایا تھا کہ،
“کملی کر کے چھڈ گئے اور پئی کھک گلیاں تاں رولاں!”

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی زندگی میں دکھ کا عنصر زیادہ رہا ہے۔ ڈاکٹر مہرنگ جب بچی تھی، تب بھی اس کے ہاتھوں میں بابا کی تصویر تھی اور وہ روڈوں پر تھی۔ اب جب وہ سمجھ بھری (شعوریافتہ) ہو چکی ہے، تب بھی وہ روڈوں پر ہے اور اب اس کے ہاتھوں میں بس اپنے بابا کی تصویر نہیں پر اب اس کے ہاتھوں میں درد کا پورا دفتر ہے جس دفتر میں یہ بات درج ہے کہ،
کس پر کہاں کہاں
اور کیسے کیسے دردوں کے پہاڑ توڑے گئے!

اور ان دردوں، سوُروں کے دفترکو دیکھ کر ڈاکٹر مہرنگ بلوچ ایسا ہی سمجھتی ہے جیسا ایاز محسوس کرتا تھا کہ،
جنھن تے بہ تھیو
جنھن وقت تھیو
سو مون تے ظلم تھیو آھے!

جس پر بھی ہوا
جہاں بھی ہوا
میں سمجھا یہ مجھ پہ ظلم ہوا ہے!

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی یہی کوشش رہی ہے کہ،

جنھن جی بہ گردن جو طوق ٹٹو
مون ائین سمجھو
منھنجی گردن ہلکی تھی!

جس کی بھی گردن کا طوق ٹوٹا
میں نے یہ جانا
میری گردن ہلکی ہوئی!

اگر ایسے نہ ہوتا تو ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اکثر و بیشتر ان مسنگ پرسنز کے کیمپوں میں کیوں نظر آتی جہاں یا تو نظر آتا ہے ماما قدیر یا حوران بلوچ یا وہ مائیں جن کے چاند سے بیٹے گم ہوئے یا وہ بہنیں جن کے سروں کی چادریں گم ہوئیں یا وہ محبوبائیں جن کے پنھوں جت لے گئے پھر وہ پنھوں لوٹے ہی نہیں!

ان اداس کیمپوں میں اور کون جاتا ہے؟
کوئی بلوچستان کا دانشور؟
کوئی بھولا بسرا شاعر؟
کوئی سول سوساٹی کا میمبر؟
کوئی سیاست دان؟
کوئی امیر کوئی کبیر؟
کوئی سیاسی، سماجی رہنما؟
کوئی نہیں!

ان اداس کیمپوں کے پاس تو وہ بھی زیادہ دیر نہیں رُکتے جن کی جیبوں میں پریس کے کارڈ کسی سزا کی مانند پڑے ہوتے ہیں، ان اداس کیمپوں پر نہ تو کوئی شجرِ سایہ دار ہے اور نہ کوئی انسانی حقوق کے کسی چیمپیئن کا کوئی ہاتھ۔ اگر کوئی ہے تو وہی جن کی آنکھیں رونے کو بے تاب اور جن کے دل ایسے جن دلوں کی ترجمانی سچل نے کی۔

پر وہاں وہ ضرور نظر آتی ہے جسے بلوچستان ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کے نام سے جانتا ہے!
جس کے ہاتھ بلند ہیں
جس کے ہاتھوں میں بینر، پمفلٹ اور مائیک ہے
جو بات کرتی ہے اور بس بات کرتی ہے
جو دلیل سے بات کرتی ہے
جسے یار محمد رند برابھلا کہتا ہے
اور جام کمال سرکار بالوں سے گھسیٹتی ہے
وہ جس کے یوں گھسیٹے جانے پر بلوچستان بھر میں دکھ کی لہر دوڑ جاتی ہے

وہ جو اعلان ہے!
وہ جو باغی ہے!
وہ جسے سرکار خاموش کرانے کی ناکام کوشش کرتی ہے
وہ پھر سے بادل بن کر برسنا شروع کر دیتی ہے
وہ جو میت ہے
وہ جو گیت ہے
جس گیت کو بلوچستان اپنے لبوں سے گانے میں فخر محسوس کرے گا!

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ!
بلوچستان کی سسئی ہے
اور اس سسئی کو اپنے پنہوں کی تلاش ہے
اور وہ پنہوں ایسا بلوچستان ہے
جس میں سب آزاد ہوں
سب
اسیروں سے لے کر
محبوباؤں تک
پہاڑوں سے لے کر
سمندر تک
جس آزادی میں
کوئی سی پیک کا ٹارچر سیل نہ ہو
جس میں سیندک کا کوئی عقوبت خانہ نہ ہو
جہاں نیلگوں پانی آزاد ہو
اور ساحل اتنے آزاد ہوں کہ وہاں چلتے پا، نقش ہو جائیں

بلوچستان کی سسئی، ڈاکٹر مہرنگ بس یہی چاہتی ہے،
دھرتی
خوشبو
اور محبت آزاد ہو!

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *