اور مائیکل ہولڈنگ رو پڑے۔۔عبدالقدوسی قاضی

کرونا وائرس  نے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے وہیں کھیلوں   کی سرگرمیاں اور ان سے منسلک افراد پر بھی بہت گہرا چھوڑا ہے۔ کھیلوں کے مقابلے کئی ماہ تک ملتوی رہنے کے بعد اب بحالی کے مرحلے میں ہیں۔

کرکٹ کا پہلا آفیشل مقابلہ ساوتھمپٹن Southampton میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جا رہا ہے جو کہ چند غیر روایتی سرگرمیوں کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا رہا۔ کھلاڑیوں نے جہاں Covid19 کا مقابلہ کرنے والے ڈاکٹروں اور Medical Staff کے نام کی جرسیاں زیب تن کیں، وہیں Black Lives Matter Movement کے حق میں اور سیاہ فام افراد کے ساتھ ہمدردی کے لیے گھٹنا ٹیک کر جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف اظہار یکجہتی کیا گیا جو حال ہی میں امریکی پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت مارا گیا تھا۔

مائیکل ہولڈنگ کا شمار ویسٹ انڈیز کا مایہ ناز اور لیجنڈری کرکٹرز میں ہوتا ہے۔ مائیکل آج کل Commentator کی حیثیت سے ساوتھمپٹن میں ہیں، جہاں وہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ میں کمنٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس میچ میں بارش کی وجہ سے کھیل میں وقفہ کے دوران مائیکل Sky News کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آبدیدہ ہو گئے تاہم انہوں نے دلائل، تاریخ اور واقعات کا سہارا لیتے ہوئے اپنے جذبات کی بخوبی ترجمانی کی۔ انہوں نے سیاہ فام نسل کے حقوق کے لیے ایک بھر پور آواز اٹھائی اور سفید فاموں کی بیمار ذہنیت پر کھل کر لب کشائی کی۔یاد رہے کہ مغرب میں سفید فاموں کے ہاتھوں سیاہ فام قوموں کے ساتھ نسلی امتیازی سلوک کی وجہ سے سیاہ فام خود کو غیر محفوظ یا پھر پسماندگی کا شکار سمجھتے ہیں ۔ بہت سے ایسے شدت پسند یا انتہا پسند سفید فام بھی ہیں جو باقاعدہ زدوکوب کرتے ہیں اور منظم تحریکیں چلاتے ہیں، تاہم ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو اعتدال اور بھائی چارے پر مبنی مساوات کی بنیاد پر قائم معاشرے کے حامی ہیں، یہی وجہ تھی کہ جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف مظاہرین میں ایک بڑی تعداد سفید فام تھی۔

مائیکل ہولڈنگ نے فلسفیانہ انداز میں ایک ماہر پروفیسر کی طرح دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ نسل پرستی Racism اپنے عروج پر ہے، یہ کچھ لوگوں کا ذہنی مسئلہ ہے  ،جو معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔ آج کے جدید اور پڑھے لکھے معاشرے میں بھی اسے دہرایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب کو پتا ہے کہ بلب Thomas Edison کی ایجاد ہے کیونکہ وہ ایک سفید فام White Origin تھا۔ ہم ساری زندگی کتابوں میں صرف اسی کا نام ہی پڑھتے رہے۔ مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ تھامس ایڈیسن بلب روشن نہیں کر سکا تھا اور بلب میں استعمال ہونے والا کاربن کا Filament جس کی وجہ سے بلب روشن ہوا وہ Lewis Howard Latimer کی ایجاد ہے، جوکہ ایک سفید فام جیمز کا غلام تھا لیکن اس کو دنیا اس لئے نہیں جانتی کیونکہ وہ ایک سیاہ فام Black Origin تھا۔ آپ جب اپنے گھر کسی بلب کو دیکھیں تو آپ جان لیں کہ یہ نسل پرستی Racism کی عظیم مثال ہے کہ بلب تو بن گیا مگر اس کو روشن نہ کیا جاسکا۔ پوری دنیا میں یہ روشنی ایک سیاہ فام نے دی مگر آج اس کا نام لیوا اس لئے کوئی نہیں کیونکہ ہمارا معاشرہ نسل پرستی کا شکار ہے۔

انہوں نے مختلف ممالک آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں خود کے ساتھ پیش آئے مختلف نسل پرستانہ واقعات کا تذکرہ کیا۔ وہ اپنے سیاہ فام اور اپنی پرتگالی سفید فام بیوی کے بہت سارے امتیازی سلوک کے واقعات بتاتے ہوئے بِلک بِلک کر رو پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی سفید فام بیوی کے ساتھ سڑک پر جارہے تھے اور انہوں نے ایک ٹیکسی لینی تھی، ٹیکسی والے نے خالی بتی   آن کی ہوئی تھی کہ میں خالی ہوں اور مسافر کی تلاش میں ہوں مگر جب میں نے آگے ہاتھ دیا تو وہ نہیں رکا بلکہ اس نے خالی بتی کا بٹن بند کر کے Booked والی بتی آن کردی اور جب ٹیکسی والا ہمارے سامنے سے گزر گیا تو دوبارہ خالی بتی کا بٹن آن کر دیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ اپنی سفید فام بیوی کو آگے کریں تو شاید ان کو ٹیکسی مل جائے۔

انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ کے خاندان نے ان کی والدہ سے بات چیت صرف اس کیے بند کر دی تھی کیونکہ ان کے شوہر یعنی مائیکل کے والد ایک سیاہ فام تھے۔

اس کے ساتھ ہی وہ مزید بات چیت نہ کر پائے اور پوری دنیا کے Live Network پر رو دیئے۔ ان کی اس حوصلہ افزائی Motivational Speech نے پوری دنیا کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا۔

ٹی وی اینکرنے مائیکل سے یہ بھی سوال کیا کہ کسی سفید فام کرکٹر کی طرف سے انہیں ایسے متعصانہ یا نسل پرستانہ رویے کا سامنا رہا؟ مائیکل نے کلی رد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی کسی کرکٹر کی طرف سے ایسے رویے کا سامنا نہیں رہا۔

یہ صرف ایک Michael Holding کی کہانی نہیں بلکہ ہر سیاہ فام اس تکلیف سے گزرتا ہے اور صرف رنگ و نسل کی بنیاد پر معاشرتی و معاشی استحصال کا شکار رہتا ہے۔

الحمد لله على نعمة الإسلام!

سرور کونین جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال قبل تمام نسلی امتیازات کا خاتمہ فرما دیا۔ عرب اپنے لسانی عبور اور بہتر و جامع انداز گفتار کی وجہ سے خود کو بالاتر اور دوسری اقوام کو عجم یعنی گونگے کہہ کر پکارتے تھے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصبیت کے بارے میں واضح طور پر فرمایا کہ: “اسے ترک کر دیں، یہ اک قابل نفرت چیز ہے۔”

اپنے آخری خطاب میں انسانی حقوق کا ایک جامع منشور دیا اور تمام تر نسلی تعصب اور معاشرتی امتیازی رویوں Discrimination کی سختی سے تردید فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تمام بنی نوع انسان آدم اور حوا (علیھما السلام) کی اولاد ہیں۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اسی طرح کسی گورے کو کسی کالے اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی برتری حاصل نہیں، ہاں مگر تقوی کی وجہ سے۔

انسان کے ذاتی کردار کو انسان کے پرکھنے کا معیار بنایا گیا اور تمام انسانوں کو برابر قرار دیا گیا۔ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دیا اور ایک دوسرے کی عزت و آبرو حرام قرار دی گئی۔

آئیے نا، اس تفرقہ، عصبیت اور نسل پرستانہ دنیا سے نکل کر مساوات، مواخات اور ہمدردانہ دنیا میں قدم رکھیے، جہاں ایک ہی صف میں کھڑے ہیں محمود و ایاز۔ جہاں اپنے رب تک ایک کالے کو بھی اتنی ہی رسائی ہے جتنی گورے کو۔ جہاں امتیازات کا تعین رنگ و نسل نہیں بلکہ کردار کرتا ہے، جہاں محبت ہی محبت ہے اور حقیقی سکون۔ جہاں قربت کے بعد کوئی غم نہیں، راحت ہی راحت اور ہمیشہ کا سکون۔

قولوا لا اله إلا الله تفلحون!

عبدالقدوس قاضی
عبدالقدوس قاضی
اپنا لکھا مجھے معیوب لگے ۔ ۔ ۔ ۔ وقت لکھے گا تعارف میرا ۔ ۔ ۔ !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *