کہانی۔۔۔۔محسن علی

وہ لکھاری صبح یونہی دفتر کو نکلا بسوں کے دھکوں میں آج وہ خود سے سوال کرتا جارہا تھا لوگوں کے چہرے پڑھنا چاہ رہا تھا، مگر اتنی عجلت میں چہرے پڑھے نہیں گئے ،کسی کے چہرے پر خُوشی کسی کے چہرے پر خالی پن ،کسی کا چہرہ    زندگی کی تھکن سے بھرپور، کسی کی آنکھوں میں اُمیدیں، کسی کے  قدم جیسے منزل کی جانب بڑھ رہے ہوں اور کوئی ہنستا ہوا بھی جیسے رورہا ہو، بس سے دیکھنے میں شکلیں واضح  نہیں ہوسکیں، ہاں بس ان سب احساسات کو اُس نے محسوس کیا ،سارے راستے ، پھر سڑکوں پر نظر پڑی تو سوچ میں ڈوبا شخص کہ یہ سڑکیں کیسی ہیں  ۔۔ زندگی کی طرح کسی کو مقصد تک ، کسی کو جُرم تک ، کسی کو احساس ندامت و شرمندگی ، کسی کو فخر کسی کو عظیم بنادیتی ہیں گُزرنے والے کو کبھی ماضی یاد دلاتی ہیں کبھی حال بتلاتی ہیں کبھی جیب میں پیسہ نہیں کبھی مستقبل کی نوید کہ  یہ ساری سڑکیں بنی ہی اس لئے ہیں کہ تُم اس پر دندنانے پھرو ،گاڑیوں اور اسلحہ کے ساتھ اور لوگوں کو حقیر دیکھو جیسے وہ کبھی تُم کو دیکھا کرتے تھے ۔ یہی سب سوچتے سوچتے اُس نے اپنے بیگ سے ایک کتاب نکالی کچھ سطر یں پڑھیں  اور گہری سوچ میں ڈوب گیا ۔

ہاں ایک شاعر کی کہانی اُس کے ذہن نے بننی شروع کی ایک ایسا شاعر جو بچپن میں مسلسل جسے لوگوں نے مذاق بنایا ہو ، جسے تنگ کیا گیا ہو ، جس کو ہمیشہ اکیلا کیا گیا ہو خواہ دوستوں میں یا گھر میں ، اسکول میں اُس کا  جنسی    استحصال کیا گیا ہو۔ تفریح تفریح میں اُسکے اعضاء کو چھوُنا اسکی دوستوں اور بہنوں کے بارے میں نازیبا کلمات کیونکہ وہ کمزور تھا کچھ نہیں کرسکتا تھا مگر آخر اُس نے بھی اپنے گھر ٹیوشن والے بچوں کے ساتھ جنسی تسکین کے کچھ  ذائقے  ایک دو بار  چکھے ۔۔ پھر اُسکو لگا وہ غلط کررہا ہے ۔۔ اُس نے چھوڑ دیا، وقت کا دھکا اور حالات  کے تھپیڑے لگتے رہے ، آخر اُس نے سوچ لیا کہ جن لوگوں نے اُسکا استحصال کیا وہ انہیں ڈھونڈ کر مار ڈالے گا اور اُس نے بارہ سال میں نو قتل کئے اس طرز سے کہ سارے قتل خود کشی لگے اور سب کو کوئی نہ کوئی ایسی دوا لینے پر مجبور کروایا کسی طرح کبھی نوکر کے ذریعے کبھی کسی طرح کہ انکو نزلہ کھانسی کی خوراک بڑھانا پڑے اور بعض کو نیند کی گولی  ، وہ انکی زندگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مختلف پہلووں  کو جاننے کے بعد اُنکو ہمیشہ ایسی جگہ ایسے وقت مارتا جس  جگہ سے قریب ایک شخص اطلاع دے سکے کہ اُس شخص نے خود کشی کرلی مگر وہ انتہائی ہوشیاری سے  اپنے پاس بس تیس سیکنڈ سے دو منٹ کا وقت لیتا  چھپنے  کو اور تقریبا ً تمام نو قتل میں خودکشی کی خبر ادارے یا کسی کو آنے میں کم از کم پندرہ منٹ سے آدھا گھنٹہ لگے اس بات کا خیال رکھتا وہ کبھی بھی قتل کرکے شہر سے باہر نہیں جاتا ہمیشہ چھ سات ماہ تیزی سے جگہیں بدلتا اپنی رہائش کی یہاں تک کہ بعض اوقات فقیر بھی بننا پڑتا تو بن جاتا اور پھر بس سے کبھی ٹرین سے کبھی ہوائی جہاز سے دوسرے شہر نکل جاتا ، اُسکے قتل کئے جانے والے تمام لوگ اپنے پاس کوئی ریوالور یا چھوٹی  بندوق  لازمی رکھتے تھے ۔ ساتھ یہ سب کو قتل کرتے ہوئے وہ ہمیشہ دو ہی گولیاں استعمال کرتا مارنے کے لئے اور شاعری کی دو یا چار لائنیں خود کشی سے پہلے کا نوٹ مرنے والے کی لکھائی میں اُسی کی لکھائی ہو بالکل جیسے اُس کے ہی قلم پر اُس کے نشان ہوتے ۔ جیسے ایک قتل پر  لکھا گیا نوٹ
زندگی بس تماشہ ہے
ہنسنا بھی تماشہ ہے
زندہ ہیں سب لوگ یہاں
مگر خاموش یہاں ایک لاشہ ہے ۔

ایسے ہی دوسرے قتل کئے جانے والے فرد کا لکھا ہوا خط پر نوٹ
زندگیاں رنگینیاں محفلیں
آسائشیں خواہشیں لرزشیں
محبت خون اور بس انتقال
موت کی خبر نہ کوئی مقام

تیسری عورت جس کی خود کشی پر ساتھ لکھے جانے پر الفاظ

رقص کرتی زندگی میں
سانسوں کی زنجیریں ہیں
قید میں ہے جسم سب کے
ہوس کی سب تصویریں ہیں
جینے والے تو جی گئے سب
مرنے کو فقط اُمیدیں ہیں

جب کافی سالوں تک اس شخص کی تلاش میں لوگ ادھر اُدھر اداروں میں بھٹک رہے ہوتے ہیں۔۔۔
یہ گُمنام شاعر اپنی کتاب کو مرنے سے بیس سال پرانی تاریخ کو چھپواتا ہے اور خود وہ خود کشی ایک لائبریری اُس کی جہاں وہ اپنی ہی ریوالور سے مارتا ہے اور کہہ  کر مرتا ہے اپنے نوکر سے وفادار دیکھو تُم اس کو خود کشی نہیں قتل ثابت کرنا اور اس بندوق کو تیزاب میں کہیں دور لے جا کر ڈبودینا اور تُم بس کے راستے چلے جاؤ شہر چھوڑ کر اور ہاں تمھاری میں نے ٹرین کی ٹکٹ کروائی تھی تین ماہ پہلے کی آنے ور جانے کی تمھارے نام سے یہ رکھ لو جیسے تم یہاں سے نکل گئے ہو اور پیسے بھی تُمھیں پہنچادئیے گئے ہیں اور اپنے پاوں کے نشان مٹانے کو یہ شراب کی بوتل دروازے تک گراتے چلے جاو اور یہ کہہ  کر وہ شاعر خود کشی کرلیتا ہے اور لکھتا ہے ۔
ایک قتل جو بیس سال پہلے ہوچکا آج اُسکی اس میز پر لاش ہے قاتل کون یہ سوال رہے گا ۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *