کالم    ( صفحہ نمبر 271 )

جھوٹے مسلمان، جھوٹے پاکستانی۔۔۔۔عطا الحق قاسمی

ایک عیا لدار شخص ایک حاجی صاحب کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ دو ماہ بعد ان کی بیٹی کی شادی ہے، اس نے تین لاکھ روپے شادی کے لئے جمع کئے ہوئے ہیں یہ رقم اپنے پاس امانت←  مزید پڑھیے

ڈراؤنا خواب۔۔۔۔۔حامد میر

یہ ایک ایسے جج صاحب کی کہانی ہے جو کسی زمانے میں بڑے مشہور وکیل ہوا کرتے تھے۔ وکالت کے زمانے میں اُن سے کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہو گئیں جن کا خمیازہ اُنہوں نے جج بن کر بھگتا۔ ان←  مزید پڑھیے

مردم شناسی ۔۔۔۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان

مردم شناسی بہت ہی مشکل کام ہے۔ عموماً اساتذہ، پولیس والے اور عدلیہ کے ارکان اس علم میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں۔ میرے والد مرحوم تقریباً 40سال ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر رہے اور انگریز کے دور میں CPمیں مختلف←  مزید پڑھیے

خوشی کیسے حاصل کی جائے ۔۔۔۔یاسر پیرزادہ

واصف علی واصف ایک درویش صفت آدمی تھے، آزاد منش فلسفی کی سی زندگی انہوں نے گزاری، کوئی لالچ کوئی طمع ان میں نہیں تھی، آپ دل موہ لینے والی باتیں کرتے جنہیں سننے کے لئے لوگ ہر وقت ان←  مزید پڑھیے

غزہ میں شادی اور موت۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ میں اپنی حیات کے تجربوں میں سے کوئی ایک تجربہ جسے میں بیان کر چکا ہوں،اسے پھر سے اپنے کالم کے سپرد کر دیتا ہوں کہ جنوںمیں جتنی بھی گزری اگرچہ بے کار←  مزید پڑھیے

رانا ثناء اللہ سے آخری ملاقات۔۔۔۔۔اعزاز سید

رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے صرف چار دن پہلے کی بات ہے، عمرچیمہ اور میں پارلیمنٹ ہاؤس میں گھوم رہے تھے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور رانا ثناءاللہ سے سرراہ ملاقات ہوگئی۔ ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی←  مزید پڑھیے

ہم اذیت پسند کیوں ہو گئے؟۔۔۔۔۔آصف محمود

ہم اذیت پسند کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟لطیف انسانی جذبات دم توڑ رہے ہیں اور خانہ ویراں میں اہلِ دل اب درو دیوار پر اشک بہاتے ہیں۔وحشت کدے میںہیجان ہے ، نفرت امڈ رہی ہے ، بے زاری ہے ،←  مزید پڑھیے

احمد شاہ ابدالی: حملہ آور یا ہیرو ( ڈاکٹر مبارک علی )۔۔۔۔۔۔۔حمزہ ابراہیم

تاریخی شعور کی کمی کے باعث ہمارے ہاں اب تک حملہ آور اور ہیرو کے درمیان فرق نہیں کیا جا سکا ہے۔ تاریخ کے عمل کو دلیل اور عقل کے بجائے جب جذبات کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تو←  مزید پڑھیے

کرائم اور کریٹیویٹی۔۔۔۔۔حسن نثار

BEHIND EVERY GREAT FORTUNE THERE IS CRIME.”یہ محاورہ نما شہرئہ آفاق جملہ بنیادی طور پر HONRE DE BALZACکا ہے اور یاد رہے کہ بالزاک ایک فرانسیسی ناول نگار تھا لیکن اس جملے کو شہرت ملی MARIO PUZO کے ناول “THE←  مزید پڑھیے

محکمہ زراعت کے مفید مشورے ۔۔۔۔۔سہیل وڑائچ

میرا خاندانی پیشہ کاشت کاری ہے لیکن قلم اور کیمرے کے جھنجٹ میں پھنس کر اسے نظر انداز کرتا رہا۔ بڑوں کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو زمینداری کرنا پڑ گئی۔ ہمارے ملک کے 70فیصد کے قریب لوگ بالواسطہ←  مزید پڑھیے

ہمیں ہندوستان کو بچانا ہوگا۔۔۔۔۔ابھے کمار

آزادی ملنے سے دو سال قبل بمبئی  میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے، دلتوں اور دیگر محروم طبقات کے مسیحا ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے سیاسی جماعت کو یہ نصیحت کی تھی کہ اکثریت حاصل کرنے کا یہ قطعی←  مزید پڑھیے

رانا ثناء اللہ جیت گئے۔۔۔حامد میر

یہ کہانی نئی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے۔ یہ 1997کی بات ہے۔ نواز شریف دوسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد آصف علی زرداری پر نت نئے مقدمات بنوا رہے تھے۔ ایک دن نواز شریف کے بنائے گئے احتساب بیورو کے←  مزید پڑھیے

گلدستہ۔۔۔۔۔حسن نثار

سمجھ نہیں آ رہی کہ کس موضوع پر بات کی جائے اور کسے نظر انداز کر دیا جائے۔ ایسی صورتحال میں بہتر یہی ہو گا کہ ہر موضوع کے ساتھ ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کے بعد اسے ذہین قارئین کی←  مزید پڑھیے

پاکستان میں افغانستان مخالف جذبات کیوں نہیں؟۔۔۔آصف محمود

پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ایک ہی زمین پر غزل کہی جا رہی ہے : کیا معاملہ ہے افغانستان کے شہری ہم سے خفا ہیں؟ اس سوال کے جواب میں کچھ وہ ہیں جو اپنے خبثِ←  مزید پڑھیے

حکومت کی جذباتی اور عناد بھری کاروائیاں بمقابلہ مستقبل قریب کا شُتر کینہ ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

حاجی منگتا نام کا ایک سادہ لوح, غریب اور محنت کش دیہاتی نور پور تھل ضلع خوشاب میں صحرائی میدانوں اور پہاڑی سلسلوں پر مشتمل علاقہ کے ساتھ واقع اپنے گاؤں میں رہتا تھا- اس کے گاؤں میں بسنے والوں←  مزید پڑھیے

تاریخ فہمی اور عام فکری مغالطے۔۔۔نیّر نیاز خان

بہت سارے لوگ تاریخ کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے سمجھنے کی سعی کرتے رہتے ہیں اور کچھ تو فلسفہ تقدیر کی مانند من و عن ہی اسے تسلیم کر لیتے ہیں۔ اکثر اسے ایک خشک اور غبار آلود مضمون←  مزید پڑھیے

آدمیت کی معراج مذہب نہیں ،سائنس ہے۔۔۔۔اسد مفتی

ایک ممتاز سائنس دان نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے دس برس کے اندر اندر ایک مکمل، فعال مصنوعی انسانی دماغ تیار کرلیا جائے گا، ہنری مارکرم جو برطانیہ میں بلیو برین پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ہیں، نے چوہے کے دماغ←  مزید پڑھیے

نقالوں سے ہوشیار رہیں۔۔۔۔یاسر پیرزادہ

جب ہم کسی شخص کو تپتی گرمی میں سیاہ کوٹ میں ملبوس دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ وکیل ہے، کسی شخص کو کلاس روم میں بلیک بورڈ کے سامنے کھڑا دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی←  مزید پڑھیے

مسٹر ٹوبی اور راکا پوشی کے سریلے گدھے۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

میں تذکرہ کر رہا تھا آج سے ساٹھ برس پیشتر کے انگلستان کے شہر مانچسٹر کا جہاں 14باربرا سٹریٹ کے ایک بوسیدہ وکٹورین گھر میں میرا عارضی قیام تھا۔ گھر کے مالک میرے دور پار کے عزیز حلال گوشت کے←  مزید پڑھیے

ہمارے بچے اور پڑھائیاں ۔۔۔ روبینہ شاہین

ان آٹھ پیریڈز میں ایک بریک، اور اس ایک بریک میں اس نے تین کام کرنے ہیں: لنچ ختم کرنا ہے، واش روم جانا ہے، اور کھیلنا ہے۔ شازو نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ تینوں کام ہو جائیں، اکثر اوقات اس سے قبل ہی بریک ختم ہو جاتی ہے۔ سکول سے واپسی پر تھکا ہارا جب گھر پہنچتا ہے، تو ماں کپڑے بدلوا کر کھانا کھلاتی ہے۔ اس کے بعد قاری صاحب سے سیپارہ پڑھنا ہے، ٹیوشن جا کر ہوم ورک کرنا ہے، اور واپس آ کر ابھی جی بھر کر کھیل←  مزید پڑھیے