• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • حکومت کی جذباتی اور عناد بھری کاروائیاں بمقابلہ مستقبل قریب کا شُتر کینہ ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

حکومت کی جذباتی اور عناد بھری کاروائیاں بمقابلہ مستقبل قریب کا شُتر کینہ ۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

حاجی منگتا نام کا ایک سادہ لوح, غریب اور محنت کش دیہاتی نور پور تھل ضلع خوشاب میں صحرائی میدانوں اور پہاڑی سلسلوں پر مشتمل علاقہ کے ساتھ واقع اپنے گاؤں میں رہتا تھا- اس کے گاؤں میں بسنے والوں کی بیشتر آبادی شُتربانی کے پیشے سے وابستہ ہے۔ یہ لوگ بھیڑ, بکریاں پالتے ہیں, چنے اور گندم کی کاشت کرتے ہیں اور محدود آمدنی میں اپنی گزربسر کرتے ہیں- حاجی منگتا گزراوقات کے لیے بھیڑ بکریاں پالتا تھا۔ اس نے ایک اونٹ بھی پال رکھا تھا مگر آمدنی کا بنیادی ذریعہ گلہ بانی ہی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایسی ہی شدید گرمیوں کے دنوں میں ایک دن صبح کے وقت حاجی منگتا کے پاس ملاقات کے لیے کچھ قریبی رشے دار آ گئے۔ علاقائی روایت کے مطابق وہ ان کی مہمان نوازی میں جُت گیا۔ بیوی کو کھانا پکانے کی ہدایت کرنے کے بعد وہ مہمانوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہوگیا۔

دوپہر کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد بھی گفتگو کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ باہر غضب کی گرمی پڑ رہی تھی، اس لیے  بیٹھک سے باہر نکلنے کی کسی نے ہمت نہ کی۔ مہمانوں کی خاطر مدارت اور ان سے تبادلۂ خیال کے دوران حاجی منگتا کو قطعی یاد نہ رہا کہ اونٹ رات ہی سے احاطے کے باہر بندھا ہوا ہے۔ اونٹ باندھنے کے طریقہ کے مطابق اونٹ کی ایک ٹانگ کو دوہرا کر کے اس پر رسی باندھ دی گئی تھی تاکہ وہ اُٹھ نہ سکے۔ ’بے چارہ‘ اونٹ کڑکتی دھوپ میں دن بھر بیٹھا رہا (واضح رہے کہ نور پور تھل کے صحرائی علاقوں میں ان دنوں سورج قہر ڈھا رہا ہے اور گرمی نے کئی سالہ ریکارڈز توڑ دیے  ہیں)-

شام کے سائے پھیلنے پر جب حاجی منگتا مہمانوں کو رخصت کرنے باہر آیا تو اس کی نظر اونٹ پر پڑی۔ وہ اپنی بُھول پر افسوس کرتا ہوا فوراً اس کی طرف لپکا مگر اسے کیا خبر تھی کہ وہ اپنی موت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جیسے ہی اونٹ کی ٹانگ رسی سے آزاد ہوئی اس نے شدید غصے کے عالم میں اپنے مالک پر حملہ کر دیا۔ یہ دیکھ کر مہمان اس کی مدد کو آگے بڑھے مگر اونٹ کے غیظ و غضب نے انھیں دور کھڑے رہنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران بپھرا ہوا جانور اپنے مالک کی گردن منہ میں دبوچ کر اسے زمین پر پٹخ چکا تھا اور اسے ٹانگوں سے رگید رہا تھا۔ پھر اس نے ادھ موئے شخص کو دانتوں سے بھنبھوڑنا شروع کردیا۔ اسی اثناء میں گاؤں کے بہت سے لوگ وہاں پہنچ چکے تھے۔ انھوں نے بڑی کوشش اور حکمت عملی سے حاجی منگتا کو اونٹ کی وحشت کا مزید نشانہ بننے سے بچایا، جو اس وقت تک شدید زخمی ہوچکا تھا۔ اس کے سر اور جسم کے کئی حصوں سے خون بہہ رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے دم توڑ دیا۔ غنیمت یہ تھا کہ اونٹ کے گلے کی رسی کھونٹے سے بندھی ہوئی تھی، ورنہ آس پاس کھڑے ہوئے لوگ بھی یقینی طور پر اس کے طیش کی زد میں آ جاتے۔

اونٹ کے اس حملہ کی کیا توجیح  پیش کی جا سکتی ہے مگر اونٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بڑا کینہ پرور اور غصیلا جانور ہے۔ اگر کسی سے بگڑ جائے تو اس کی شکل و صورت اپنی یادداشت میں محفوظ رکھتا ہے اور موقع ملنے پر اس شخص کو نقصان پہنچائے بغیر نہیں رہتا۔ غالباً اسی لیے  بغض و کینہ رکھنے والے شخص کے لئے ’شُتر کینہ‘ (اونٹ جیسا کینہ رکھنے والا) کا محاورہ استعمال کیا جاتا ہے۔ شُتر بانی سے وابستہ لوگ کہتے ہیں کہ اونٹ جس سے بغض باندھ لے اس کی جان کے درپے ہوجاتا ہے، حتیٰ کہ یہ اپنے مالک کو بھی نہیں بخشتا۔

مجھے اس واقعہ نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے- لڑائی تو سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان چل رہی ہے- کبھی اس میں سیاستدان کچھ عرصہ کے لیے  طاقتور نظر آتے ہیں مگر یہ فریب نظر ہی ہوتا ہے- طاقت کا اصلی توازن ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہی رہتا ہے- کرسی اور اختیار کی اس لڑائی میں سیاستدانوں کو حکومت مخصوص شرائط پر ہی ملا کرتی ہے- قیام پاکستان کے ابتدائی دو, چار سال نکال دیجیے  اور اس کے بعد یقین کر لیں کہ جو بھی سول حکمران اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوا, اسے مخصوص شرائط پر ہی کرسی ملی- یہ نظام مسلسل چل رہا تھا اور جب بھی کسی سول حکمران نے خود کو عوام کے ووٹوں سے منتخب شدہ سمجھنے کی “غلطی” کی تو اسے یا تختہ دار پر لٹکا دیا گیا, یا کرپٹ کہہ کر اقتدار سے ہٹایا گیا یا سکیورٹی رسک قرار دے دیا گیا- مجھے جنرل (ر) حمید گل کے وہ متکبرانہ جملے آج بھی یاد ہیں جب اس نے دھاڑ کر کہا تھا کہ “ہاں- نہیں دے سکتے ہم مکمل اختیار ان سیاستدانوں کو- یہ کون ہوتے ہیں ملک کے بارے میں فیصلہ کرنے والے”- اف, توبہ- یہ تکبر دیکھیں اور انداز دیکھیں ایک ریٹائرڈ جنرل کا-

اسٹیبلشمنٹ کا یہ تشکیل دیا گیا نظام چل رہا تھا مگر میثاق جمہوریت کے ذریعہ اسے چیلنج کرنے کی گستاخی سیاستدانوں سے سرزد ہو ہی گئی- نتیجہ کیا ہوا, عالمی سطح کی ایک لیڈر اپنی جان سے گئی اور دوسرا کرپشن کے غیر ثابت شدہ الزامات میں 70 سال سے زائد عمر میں جیل کی کوٹھڑی میں پڑا ہوا ہے-

سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ مگر دو ہاتھی ہیں جو آپس میں ٹکرا سکتے ہیں- ایک دوسرے کو بھگت بھی سکتے ہیں مگر مجھے حیرانگی ان نو آموز اور یوٹرن والوں پر ہوتی ہے جو پرائی لڑائی میں کود پڑے ہیں- انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی  ایماء پر مخالف سیاستدانوں کے خلاف جس طرح پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے اور کیسے کیسے مضحکہ خیز الزامات میں ان کی گرفتاریاں کر رہے ہیں, مجھے کچھ عرصہ بعد ان کے لیے  خیر نظر نہیں آتی- پیپلز پارٹی کے آصف زارداری تو خیر مفاہمت کے بادشاہ ہیں اور کیا معلوم کہ جب ان کے حق میں وقت پلٹے تو وہ موجودہ نام نہاد حکمرانوں کو جمہوریت کے تسلسل کے لیے  درگزر کر دیں- مگر میں جتنا نواز شریف فیملی اور ان کے اردگرد لوگوں کو جانتا ہوں, اس کے حساب سے یہ طے ہے کہ انہیں ‘شُتر کینہ’ کہا جا سکتا ہے- یہ اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جو نہ تو درگزر کریں گے اور نہ ہی بھولیں گے- وقت پلٹنے کی دیر ہے, میری پشین گوئی نوٹ کر لیجیے, یہ موجودہ حکمرانوں کی ہر غلطی, ہر گالی اور ہر مقدمہ کا حساب لیں گے- مجھے 2020ء کی دہائی میں 1990ء کی دہائی کا ایکشن ری پلے صاف نظر آتا ہے مگر اس میں اب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی جگہ نون لیگ اور پی ٹی آئی باہم دست و گریباں ہوں گے-

پس تحریر نوٹ:-
شتر کینہ والے واقعہ میں کردار اور جگہ کا نام بوجوہ تبدیل کر دیا گیا ہے مگر یہ واقعہ ہے بالکل سچا اور اصلی- بالکل ویسے ہی جیسا کہ میری پشین گوئی مستقبل قریب میں سچی ثابت ہو گی-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *