سیاسی منظر نامہ ۔۔۔۔۔مجاہد افضل

رانا ثناءاللہ کی منشیات کے کیس میں گرفتاری اور حکومتی اداروں  کی پُھرتیاں ‘اس بات کا واضح ثبوت ہیں  کہ یہ سارا کچھ ایک مکمل منصوبے کے تحت کیا گیا ہے’ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ ایک سیاسی گرفتاری کی حیثیت کا کیس ہے یا پھر رانا ثناءاللہ واقعی منشیات فروشی کے ایک مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔

رانا صاحب کا تعلق  جس پارٹی سے ہے ‘اس سیاسی پارٹی کے کسی بھی گروہ کولوکل لیول پر جانچا اور پرکھا جائے،تو یہ کہنےمیں کسی بھی قسم کی حجت نہیں ہوگی کہ اکثر لوگ جو منشیات فروشی ‘غنڈہ گردی’زمینوں پر ناجائز قبضہ مافیامیں ملوث ہوں گے ‘ان کا تعلق اسی طرح کے لوگوں سے جا ملتا ہے۔حنیف عباسی کا ایفی ڈرین کا کیس کسی سے بھی ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے۔بظاہر انسانی ذہن کے لیے اس بات کو ماننا بہت ہی مشکل ہے کہ ایک زبان دراز اپوزیشن لیڈر،جو صرف رکن قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کا سب سے بڑے صوبے میں سربراہ بھی ہو اور اس نے ٹی وی پر اپنی گرفتاری کے خدشے کا اعلان بھی کر رکھا ہو وہ منشیات کی اتنی بڑی مقدار گاڑی میں رکھ کر سڑکوں پر گھوم رہا ہو گا۔

دوسری دلچسپ بات یہ ہے اگر تو رانا صاحب کا قصور واقعی ہی ثابت ہو جاتا ہے تو ان کے لیے کم سے کم سزا عمر قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے۔ہمارے ملک کی بدقسمتی ملاحظہ کریں چونکہ پچھلے چالیس برسوں میں کسی بھی ادارے کو حکومتی عہدے داروں نے آزادانہ کام کرنے نہیں دیا , سو وہ آج بھی رانا ثنا کی گرفتاری میں اداروں کی قابلیت کو  حقائق کے سامنے آنے سے پہلے ہی حکومت کا سیاسی بدلہ قرار دینے پر بضدنظر آتے ہیں ۔ویسے عام طورپرکوئی بھی انسان دوسروں کے بارے میں رائے اپنے اپنے تجربے کی بنیاد پہ بناتا ہے ۔

دو منٹ کی خاموشی ان لوگوں کے لیے ضرور ہونی چاہیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کو عمران خان نے جیل بھیجا ہے۔ ان سارے لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ نواز شریف کو جیل بھیجنے میں عمران خان کا کردار اتنا ہی ہے جیسے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں نواز شریف کا کردار تھا۔ نواز شریف کے لیے جیل میں گندگی ،غیر صحت مندانہ خوراک اور صحت کی مناسب سہولیات کے نہ ہونے کا رونا رونے والے اپنی آنکھیں اور عقل کے دروازے کھولیں ۔سب سے پہلے اس بات کا ادراک کریں کہ ہم یہ ساری کی ساری چیزیں جن کا شکوہ جیل میں کر رہے ہیں انکو اپنے ملک میں چالیس سالہ دور حکومت میں قائم کرنے میں ناکام رہےہیں اور اس کے لیے ہم قوم سے معافی چاہتے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کوئی بھی مسئلہ صرف تب نظر آتا ہے جب وہ ہمارا مسئلہ ہو گا’اتنے سالوں سے حکومت میں رہنے والی جماعت کو کبھی بھی کوئی مسئلہ اپنا مسئلہ نہیں لگا ‏اس لیے وہ بہت سے عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ تاہم نواز شریف کو اگر ناروے کی جیلوں میں قید کر دیا جائےتو یہ ساری سہولیات با آسانی میسر ہوں گی ۔

ایک بہت ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں اپنا ووٹ تو بعد میں کاسٹ کیا  مگر پریزائڈنگ آفیسر پہلے رہ چکا تھا ۔یہ 2013 کے الیکشن تھے اور مجھے پریزائڈنگ آفیسر کی حیثیت سے سے این اے 106 میں تعینات کیا گیا ‘اس حلقے کے قومی اسمبلی کے امیدوار کی طرف سے مجھے پولنگ اسٹیشن جتوانے پر ایک گاڑی کی آفر بھی کی گئی تھی۔مگر میں نے انکار کر دیا،ایک سیشن کے دوران   ایک طالبعلم نے میرے سے استفسار کیا کہ سرآپ گاڑی لے لیتے آپ کا کیا جانا تھا،میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا اگرمیں گاڑی لے لیتا تو آج یہ بات بھی آپ کو نہ بتا رہا ہوتا اور ضمیر پہ ساری زندگی کے لیے بوجھ رہنا تھا۔ فرق بس اتنا سا ہے کہ جو گاڑی میرے پاس تین چار سال بعد میں تھی،اگر میں  اس سےوہ گاڑی لے لیتا تو تین چار سال پہلے مجھے مل جاتی۔ خیروہ صاحب بعد میں پولنگ سٹیشن سے واقعی ہار گئے تھے ‘ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ امیدوار پاکستان مسلم لیگ نون کا بالکل بھی نہیں تھا۔

عمران خان ایک ایماندار انسان ہیں ‘ مگر انکے کام کرنے کی ترتیب بالکل بھی ایماندارانہ نہیں ہے’ جو کام ان کو بعد میں کرنے چاہئیں وہ پہلے کرنا شروع کر چکے ہیں اور جو کام پہلے کرنا چاہئیں تھے وہ ابھی تک کہیں دور دور تک دیکھنے میں نظر نہیں آتے،کرپشن کے خاتمے کیلئے عمران خان کا موقف بہت واضح تھا،مگر کاروباری حضرات کو ٹیکس چوری جیسی کرپشن سے ڈرا کے آپ نے ان کو کاروبار کرنے سے بھی معذور کرکے رکھ دیا ہے،آپ کو چاہیے تھا ان لوگوں کو دیکھیں،کاروبار کرنے دیں،ایک ایک  کرکے چیزوں اور کاموں کے انداز کو بدلیں تاکہ جب آپ کوئی بڑا فیصلہ کریں اس کے اثرات ملکی سیاست کو   بدحالی کی  طرف نہ لے کر جاتے،میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف کو کونسے جادوگر مل گئے ہیں، جو مغربی ممالک کے ماڈلز کو کاپی کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ نہیں جانتے مغربی ممالک میں جو سسٹم آپ کو دیکھنے میں ملتا ہے اس کے پیچھے کئی سو سالوں کی محنت کارفرما ہوتی ہے ۔
ساری دنیا کے مسلم ممالک ملک کی معاشی اور سیاسی بدحالی سب کے سامنے ہے۔ جس کی بہت سادہ سی وجہ یہ ہے کہ سارے کے سارے عرب ممالک سود دینے یا سود لینے میں کسی نہ کسی طرح سے شامل ہیں۔ مسلم ممالک ایک دوسرے کے جانی دشمن بنتے جا رہے ہیں اور یہودیوں کے قریبی دوست ‘یہ بین الاقوامی سیاست میں یہودیوں کی واقعی ایک بہت بڑی جیت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *