• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کشف والہام کا امکان اور تصوف میں اس کی ادارہ جاتی تنظیم۔۔عمار خان ناصر

کشف والہام کا امکان اور تصوف میں اس کی ادارہ جاتی تنظیم۔۔عمار خان ناصر

ختم نبوت کے بعد ایک شخصی اور انفرادی فضیلت کے طور پر کشف والہام کا کوئی امکان ہے یا نہیں، اور تصوف میں اس کو institutionalize کر کے جو صورت دے دی گئی ہے، اس کی ختم نبوت اور اس کے مقاصد ونتائج کے ساتھ کیا نسبت بنتی ہے؟ زیر نظر سطور میں ہم ان دونوں سوالات کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی کوشش کریں گے۔

سب سے پہلے تو ان دو اصطلاحات کی تنقیح ضروری ہے۔ کشف سے مراد کچھ ایسے حقائق کا انسان کے سامنے آ جانا ہے جن کا ادراک عموما ًحواس ظاہرہ کے ذریعے سے انسان کو نہیں ہو پاتا۔ مبینہ طور پر اس کی نوعیت مادی دنیا کے کچھ واقعات کے منکشف ہو جانے کی بھی ہو سکتی ہے، دوسروں کے خیالات پر مطلع ہونے کی بھی اور کائنات کے کچھ ایسے اسرار کے انکشاف کی بھی جو عام طبیعی ادراک سے ماورا ہوں۔ اس کا حصول ادراکی صلاحیتوں کے تفاوت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے لیے ممکن ہوتا ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے نہیں۔ مختلف جانوروں میں بھی بعض ایسی ادراکی صلاحیتیں مانی جاتی ہیں جو عموما انسانوں کو حاصل نہیں ہوتیں۔ خاص طرح کی ریاضتوں اور مشقوں سے اس صلاحیت کو پیدا بھی کیا جا سکتا ہے اور بڑھایا بھی۔ چنانچہ اکابر اہل تصوف اس پر متفق ہیں کہ یہ ایک کسبی صلاحیت ہے جو کوئی بھی محنت سے پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے لیے نیکی، تقوی حتی کہ ایمان وغیرہ بھی کوئی ضروری نہیں۔ یہ مسلمانوں، ہندووں اور مسیحیوں، سب کو یکساں حاصل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے تصوف میں اسے بزرگی اور ولایت وغیرہ کا معیار نہیں مانا جاتا۔ یہ صلاحیت بعض لوگوں میں خلقی طور پر بھی ہو سکتی ہے، جیسے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک یہودی لڑکے ابن صیاد کے بارے میں (جو بعد میں مسلمان ہو گیا تھا)روایات میں بیان ہوا ہے ۔ جدید سائنس میں ذہن پر جو مختلف تجربات کیے جا رہے ہیں، شاید ان سے بھی اس طرح کی صلاحیتوں کے حصول میں کچھ مدد لی جا سکتی ہے۔ آخری زمانے میں دجال کی شخصیت میں اس نوعیت کی صلاحیتوں کا اعلی ترین ظہور ہوگا، اور اس کی کشفی صلاحیتوں کے سامنے عام قسم کے اہل کشف اور ان کے کشوف پانی بھریں گے۔

الہام، باعتبار نوعیت کشف سے ایک مختلف چیز ہے۔ یہ خلقی یا کسبی نہیں ہے، یعنی انسان کوئی چارہ اور تدبیر کر کے ’’ملہم“ نہیں بن سکتا۔ یہ اللہ تعالی ٰ کی طرف سے کیا جانے والا ایک انتظام ہے۔ اس کی ایک صورت تو سارے انسانوں کے لیے عام ہے، یعنی فرشتے کے ذریعے سے دل میں خیر کی کوئی بات القا کر دیا جانا۔ تاہم اسی نوعیت کا القا کرنے کی طاقت شیاطین کو بھی حاصل ہے جو گناہ کی بات انسان کے دل میں ڈالتے ہیں۔ ان معنوں میں سارے ہی انسان ’’ملہم“ ہو سکتے ہیں۔ البتہ الہام کی ایک دوسری صورت یہ ہے کہ کسی غیبی ذریعے سے انسان کے ساتھ کلام کیا جائے، چاہے وہ فرشتوں کی صورت میں ہو یا غیبی آواز وغیرہ کے ذریعے سے۔ اس میں محض دل میں ایک خیال نہیں ڈالا جاتا، بلکہ انسان باقاعدہ یہ تجربہ کرتا ہے کہ اس کے ساتھ بات کی جا رہی یا کوئی پیغام دیا جا رہا ہے۔

الہام کی یہ دوسری صورت، جیسا کہ واضح کیا گیا، عام نہیں ہے اور اس کے لیے خاص انسانوں کا ہی انتخاب کیا جاتا ہے، ایسے ہی جیسے نبوت ورسالت کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایسے افراد کا نیک اور مقرب ہونا ضروری ہے، لیکن ان کی دینی ریاضت یا اعمال اس کا ذریعہ نہیں بن سکتے، یعنی وہ کسبی طور پر یہ صلاحیت پیدا نہیں کر سکتے کہ فرشتوں وغیرہ سے کلام کر لیں۔ یہ وہبی ہوتا ہے اور اس کا انتخاب ملا اعلی کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ’’محدثون“ (بصیغہ اسم مفعول) کی تعبیر اختیار کی گئی ہے، یعنی جن کے ساتھ عالم غیب سے کلام کیا جائے یا انھیں اس کے لیے منتخب کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے تھے جنھیں نبوت کا منصب تو نہیں دیا جاتا تھا، لیکن اللہ تعالی ٰ ان کی نیکی اور تقرب کی وجہ سے انھیں غیبی تخاطب سے سرفراز فرماتے تھے، چاہے اس کی صورت جو بھی ہو۔ مزید فرمایا کہ اگر میری امت میں ایسا کوئی ’’محدث“ ہوا تو وہ عمر ہوں گے۔
یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا الہام یا مخاطبہ غیبی کی یہ صورت ختم نبوت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں باقی ہے یا ختم کر دی گئی ہے؟
اس ضمن میں دو حدیثیں بطور خاص توجہ کی طالب ہیں۔

پہلی تو وہی جس کا صحیح بخاری کے حوالے سے ذکر کیا گیا، یعنی اگر میری امت میں کوئی ’’ملہم“ ہوا تو عمر ہوں گے۔ برادرم حافظ زبیر صاحب نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ’’اگر“ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت میں کوئی ملہم نہیں ہوگا۔ ہماری رائے میں یہ استدلال بظاہر درست نہیں۔ عربی زبان میں حرف شرط کے طور پر ’’لو“ اور ’’ان“ کے استعمالات بالکل مختلف ہیں۔ اگرکسی امکان کی نفی مقصود ہو، مثلا یہ کہنا ہو کہ اگر میری امت میں کوئی ہوتا تو فلاں ہوتا (لیکن کوئی نہیں ہوگا) تو اس کے لیے ’’لو’’ کا استعمال کیا جائے گا، جیسے مشہور حدیث ’’لو کان بعدی نبی لکان عمر“(اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا) میں ہوا ہے۔ لیکن اگر امکان کی نفی نہیں، بلکہ اثبات مقصود ہو تو اس کے لیے ’’ان“ استعمال کیا جائے گا، جیسے زیربحث حدیث میں ہے۔ گویا اس حدیث کا ترجمہ یہ نہیں کہ ’’اگر میری امت میں کوئی ملہم ہوتا تو عمر ہوتا“ بلکہ یہ ہے کہ ’’اگر میری امت میں کوئی ملہم ہوا تو وہ عمر ہوگا۔“

دوسری حدیث بھی صحیح بخاری ہی میں مروی ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے بعد اب نبوت کے اجزاء میں سے صرف ’’مبشرات“ باقی رہ گئے ہیں، اور صحابہ کے سوال پر آپ نے ’’مبشرات“ کی وضاحت اچھے خواب سے فرمائی۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی رائے میں اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھے خواب کے علاوہ مخاطبہ غیبی کی کوئی صورت اس امت میں باقی نہیں رہی۔ ناچیز کو کافی غور کرنے کے بعد بھی اس تشریح سے اتفاق نہیں ہو سکا۔ میرے خیال میں یہاں مبشرات کا اور اس کی تشریح کے طور پر اچھے خواب کا ذکر حصر کے اسلوب میں نہیں، بلکہ تمثیل کے اسلوب میں ہوا ہے، جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ نبوت اور رسالت تو ختم کر دی گئی ہے، لیکن مبشرات کی نوعیت کی چیزیں باقی رکھی گئی ہیں۔ اس پر مزید روشنی روایت کے اس متن سے ہوتی ہے جو مسند احمد میں نقل ہوا ہے۔ اس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اصلا جو بات کہی، وہ صرف یہ تھی کہ میرے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں ہوگا۔ یہ بات صحابہ پر گراں گزری تو آپ نے ان کی تسلی اور اطمینان کے لیے فرمایا کہ لیکن مبشرات باقی ہیں۔ بدیہی طور پر تسلی کے اس سیاق میں مبشرات کے ذکر کو حصر کے مفہوم میں لینا ناموزوں ہے۔ پھر یہ کہ اگر مبشرات کا ذکر حصر ہی کے لیے ہو تو اس کی تشریح میں اچھے خواب کا ذکر بھی ضروری نہیں کہ حصر ہی کے لیے ہو۔ وہ تمثیل کے طور پر اور زیادہ عام الوقوع صورت کے ذکر کے طور پر بھی ہو سکتا ہے۔

اس وجہ سے ناچیز کے ناقص فہم کے مطابق ان دونوں روایتوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مخاطبہ غیبی کے امکان کی حتمی نفی اخذ کرنا زیادہ مضبوط استدلال معلوم نہیں ہوتا۔
البتہ سیدنا عمر والی روایت میں ’’ان“ کا استعمال جہاں مخاطبہ غیب کے امکان کو بیان کرتا ہے، وہاں اس کے وقوع کی عملی صورت کو بھی واضح کرتا ہے۔ یہاں ’’ان“ اور ’’اذا“ کا فرق سمجھنا مفید ہوگا۔ ’’اذا“ عام الوقوع صورتوں کے بیان کے لیے، جبکہ ’’ان“ نادر صورت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس نکتے کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ قرآن مجید نے قرض کے لین دین کا ذکر ’’اذا تداینتم“ سے جبکہ مقروض کے تنگ دست ہونے کا ذکر ’’وان کان ذو عسرۃ“ سے کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذاتی حالات کی تنگی اور مجبوری کے تحت سود پر قرض لینے کے واقعات عہد رسالت میں نادر تھے اور عام طور پر سودی قرض کھاتے پیتے لوگ ہی لیتے تھے جو ظاہر ہے، تجارتی مقاصد کے لیے ہوتا تھا۔

زیر بحث حدیث میں ’’ان“ کا استعمال اور حدیث کا پورا سیاق بھی یہ واضح کرتا ہے کہ اس امت میں مخاطبہ غیبی اور الہام کی صورت انفرادی اور قلیل الوقوع ہوگی۔ آپ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں تو ایسے لوگ ہوتے تھے، اگر میری امت میں بھی کوئی ہوا تو مثلا عمر ہوگا۔ اگر یہ کوئی عام الوقوع اور معمولا چلنے والا سلسلہ ہوتا تو یوں فرمایا جاتا کہ بنی اسرائیل میں بھی ہوتے تھے اور میری امت میں بھی ہوں گے، بلکہ بہت ہوں گے۔ لیکن حدیث کا اسلوب یہ نہیں ہے، بلکہ اس کی ندرت واضح کی گئی ہے اور سیدنا عمر جیسی شخصیت کا بطور مثال ذکر کرنا اس پہلو کو مزید واضح کرتا ہے۔
اب اس تناظر میں دیکھا جائے تو اکابر اہل تصوف کا یہ دعوی کہ نبوت میں صرف تشریع ختم ہوئی ہے، اور باقی سارے کمالات بشمول کشف والہام نہ صرف اسی طرح قائم ہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی افضلیت کی وجہ سے آپ کی امت اس سے زیادہ فیض یاب ہے، قطعی طور پر معاملے کو الٹ دینے والی بات ہے۔

دوسری بات یہ کہ مخاطبہ غیبی نہ صرف نادر طور پر کچھ منتخب افراد کے ساتھ خاص ہوگا، بلکہ ان کے لیے بھی اس کی نوعیت نادر اور اتفاقا ً ہونے والے تجربے کی ہوگی، نہ کہ ان کے لیے ایک مستقل چینل کھول دیا جائے گا جس میں وہ درجہ بدرجہ محنت وریاضت سے ترقی کرتے رہیں۔

تیسری بات یہ کہ اس سارے معاملے کی نوعیت محض کچھ مقرب افراد کی عزت افزائی کی ہوگی جو ان کے اور خدا کے درمیان ایک معاملہ ہوگا۔ اس کو ایک پورا institutional structure دے دینا جو گویا ملہمین کے لیے ایک نرسری کا کام دے اور ایک مستقل اور متوازی ذریعہ علم کا مرکز سمجھا جائے، کسی بھی طرح اس گنجائش سے کشید نہیں کیا جا سکتا جو حدیث میں بیان ہوا ہے۔ اس استنباط کی نوعیت کم وبیش وہی ہے جو مولانا اصلاحی نے مستشرقین کے انداز استدلال کی بیان کی ہے، یعنی ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھانا۔

آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انفرادی اور اعزازی نوعیت کے مخاطبہ غیبی کے اس امکان سے اس نظریے کا جواز نکالنا تو مبتدعانہ طرز استدلال کی انتہا ہے کہ یہاں مردان غیب کا ایک مستقل نظام ہے جو براہ راست وہاں سے فیض پاتے ہیں جہاں سے انبیاء پاتے ہیں اور وہ انبیاء کی شریعت کی پیروی بھی ظاہرا صرف اس لیے کرتے ہیں کہ انھیں براہ راست ’’وہاں’’ سے اس کی ہدایت کی جاتی ہے۔ یہ نہ صرف ختم نبوت، بلکہ نبوت کے پورے ادارے کی نفی ہے اور قطعی طور پر ضلالت اور گمراہی ہے۔ اگر یہ بھی ضلالت نہیں تو پھر معلوم نہیں، ضلالت کس بلا کا نام ہے۔
یہ نظریہ تمام صوفیاء کا نظریہ ہے یا ان میں سے کچھ بزرگوں کا؟ اسی طرح جن بزرگوں کی عبارتوں میں یہ بات بیان ہوئی ہے، ان کی مراد یہی ہے یا کچھ اور ہے؟ اور یہ ان کا باقاعدہ موقف ہے یا ’’شطحیات“ کی قبیل سے ہے؟ ان سوالات کی تحقیق ہمارا کام نہیں، ان کی وضاحت اہل تصوف کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس دینی موقف کا واضح اور قطعی اظہار ضروری ہے کہ مخاطبہ غیبی اور الہام کو ایک محدود اور انفرادی سطح سے اٹھا کر ادارہ جاتی شکل دے دینا اورطریقت کے خاص مقامات تک پہنچ جانے والے رجال غیب کے لیے الہام کو نبوت کے ہمسر اور متوازی ماخذ علم ماننا اپنی روح کے اعتبار سے ختم نبوت بلکہ نبوت کی نفی ہے، چاہے اس کے ساتھ منصب نبوت کا دعوی شامل نہ ہو اور چاہے تشریع کو ان حضرات کے عمل دخل سے ’’محفوظ“ رکھنے کے لیے کچھ قیود وغیرہ شامل کر لی جائیں۔

ختم نبوت کے تصور نے مسلم معاشرے کو عقل اور نقل کے باہمی تعامل کے لیے ایک واضح اساس فراہم کی تھی جس میں کشمکش کا ایک دائرہ تو موجود تھا، لیکن اس میں یہ ابہام نہیں تھا کہ ’’نقل“ کیا ہے، یعنی یہ بالکل متعین تھا کہ عقل کو اگر کہیں سرنڈر کرنا ہے تو کس کے آگے کرنا ہے اور توفیق وتطبیق پیدا کرنی ہے تو کس سے کرنی ہے اور اگر کہیں نقل کے بالمقابل عقل کو ترجیح دینی ہے تو وہ کون سی ’’نقل“ ہو سکتی ہے۔ نقل وعقل کے اس تعامل سے وہ تمام علوم وفنون اور سیاسی وسماجی سسٹم پیدا ہوئے جن سے اسلامی تاریخ اور تہذیب عبارت ہے۔ چونکہ معاشرہ اور تہذیب نے ان علوم کو اپنی تمدنی ضرورتوں کے لیے پیدا کیا، اس لیے ان تمام علوم کا انسٹی ٹیوشنلائز ہونا بدیہی اور مطلوبہ ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ضروری تھا۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کشف والہام کی انسٹی ٹیوشنلائزیشن نے مسلم معاشرے اور تہذیب کی کون سی ضرورت کو پورا کیا یا کر سکتی تھی یا اب کر سکتی ہے؟ عقل اور نقل پر مبنی علمیات میں اس کا کہیں کوئی کردار نہیں بنتا۔ قرآن کی تفسیر یا حدیث کی صحت کی تحقیق میں کشف یا الہام کی پرکاہ کے برابر حیثیت نہیں۔ کسی فقہی مسئلے میں نتیجے تک پہنچنے کے لیے جو مناہج استدلال علم اصول فقہ میں بتائے گئے ہیں، ان میں کشف اور الہام کا کہیں کوئی گزر نہیں۔ علم کلام تو جو بنیادی مباحث طے کرتا ہے، اس میں سب سے پہلی بات ہی کرتا ہے کہ حق کو جاننے اور حق وباطل میں امتیاز کے لیے الہام کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ روز مرہ معاملات کی انجام دہی میں کشف یا الہام، کسی بھی طرح حجت نہیں ہیں۔ کوئی قاضی ان کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کر سکتا اور کوئی حکمران سیاسی وانتظامی فیصلوں میں کشف اور الہام کو اساس نہیں بنا سکتا۔ یہی صورت حال تجربی علوم کی ہے۔ آج تک کسی ایک سائنسی حقیقت کی دریافت بھی کشف یا الہام کی مرہون منت نہیں اور مسلمان سائنس دانوں نے کبھی کشف والہام کی یہ منت نہیں اٹھائی۔ تو آخر وہ کون سی ضرورت یا داعیہ تھا جس کے تحت ایک بالکل انفرادی، نجی اور موضوعی معاملے کو اٹھا کر ایک پورا ادارہ بنا دیا گیا؟

اہل علم اس کا بہتر جواب دے سکتے ہیں، ہمیں تو اپنے ناقص تاریخی فہم پر پورا بوجھ ڈالنے کے بعد بھی اس کی کوئی وجہ اس کے علاوہ سمجھ میں نہیں آتی کہ عام انسانوں میں to stand in awe of the supernatural کی جو ایک فطری کمزوری ہے، کشف والہام کی انسٹی ٹیوشنلائزیشن سے اس کی تسکین کا بندوبست کیا گیا اور توہم، خوش اعتقادی اور روحانی mediators پر انحصار کے اس کلچر کو اسلامی رنگ وروغن دے دیا گیا جس کا خاتمہ توحید اور ختم نبوت پر مبنی اسلامی تہذیب کا بنیادی مقصد تھا۔ یہ نیک کام کتنے ہی خلوص نیت اور اچھے جذبے سے کیا گیا ہو، بہرحال توحید اور ختم نبوت کے اہم ترین مقاصد کی قیمت پر کیا گیا ہے۔

ادارہ جاتی سطح پر کشف والہام کے کردار کے علاوہ یہ سوال بھی، کچھ کم سہی، لیکن اہم ہے کہ انفرادی سطح پر یہ ان حضرات کے دائرہ علم ومعرفت کو وسیع کرنے کا کتنا قابل وثوق ذریعہ ہے جن کو اس کا تجربہ ہوتا ہے؟ مثال کے طور پر تصوف کی روایت میں ’’حقائق“ کی اصطلاح کائنات کے ان سربستہ رازوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن تک کشف وعرفان ہی کے ذریعے سے رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ تصوف کے اکابر اسی دائرے میں، مثال کے طور پر، ’’ربط الحادث بالقدیم“ جیسے مسائل سے متعلق وحدۃ الوجود جیسے عرفانی وکشفی نظریات پیش کرتے ہیں جو اس سوال کی توضیح کرتے ہیں کہ ایک ازلی اور قدیم ہستی سے یہ حادث کائنات کیسے ’’صادر“ ہوئی؟ابن عربی اور غزالی علیہما الرحمۃ جیسے ارباب حقائق کی اس طرح کی چیزیں پڑھتے ہوئے ایک طالب علمانہ سوال ہمیشہ ذہن میں پیدا ہوا کہ یہ حضرات اپنی کشف وعرفان کی قوت سے کائنات کے آغاز وابتدا جیسے سوالات کی تہہ تک تو جا پہنچتے ہیں، لیکن ان کے ہاں موجودہ کائنات کا جو تصور ملتا ہے، وہ بطلیموسی ہے۔ ان حضرات کے کشف وعرفان کی کوئی تجلی آخر اس پر کیوں نہیں پڑی؟

یہ تو کائناتی اسرار کی معرفت کی صورت حال ہے۔ اس دنیا کے احوال وواقعات کی حقیقت اور مآل کو جاننے اور تدبیر وعمل کے دائرے میں اس کا حال جاننے کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ اور پچھلی صدی میں حضرت سید احمد شہید کی مثال مددگار ہوگی۔ حضرت شاہ صاحب فیوض الحرمین میں خود کو قیوم زمان دیکھتے ہیں، اپنے دور کی پوری تصویر ایک اعلی عرفانی سطح پر ان کے سامنے ہے، وہ براہ راست رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرفتوح سے مسلسل فیض یاب ہوتے ہیں، لیکن یہ ساری ’’رسائیاں“ ان پر یہ منکشف نہیں کر پاتیں کہ جس احمد شاہ ابدالی کو وہ مرہٹوں کی گردن توڑنے کے لیے ہندوستان پر حملے کی دعوت دے رہے ہیں، وہ مرہٹوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی جان ومال کے لیے بھی ایک آفت بن کر آئے گا اور انھی کے خون سے رنگین اور انھی کے مال وزر سے مالامال ہو کر لوٹے گا۔

حضرت سید احمد شہید تو کوئی ایک قدم بھی الہام کے بغیر نہیں اٹھاتے، اور ان الہامات کی صحت پر ان کا یقین اتنا پختہ ہے کہ وہ اس کے لیے مخلص ترین قریبی ساتھیوں کی رفاقت کی بھی قربانی دے دیتے ہیں، لیکن ان کا کوئی الہام انھیں اس انجام کی خبر نہیں دے پاتا جس کی طرف وہ اپنی غیر حکیمانہ پالیسی سے خود کو اور اپنی پوری جماعت کو کھینچ کر لے جا رہے تھے۔
ان وجوہ سے، انفرادی سطح پر کسی نیک اور مقرب بندے کے لیے غیبی مخاطبے کے امکان کو تسلیم کرتے ہوئے بھی، مستقل کشفی والہامی صلاحیتوں کی بنیاد پر کیے جانے والے اس طرح کے دعووں، مکاشفوں اور ’’فتوحات“ وغیرہ کے متعلق ہمارا عمومی تاثر اس سے زیادہ مختلف نہیں جو ہمارے دادا محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز صفدر علیہ الرحمہ نے ایک موقع پر ظاہر فرمایا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ فلاں صوفی سلسلے کے مشائخ اپنے مریدوں کو مراقبے کے ذریعے سے، جس میں حبس دم کرنا پڑتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائیو زیارت کرواتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا، جتنی دیر وہ حبس دم کرواتے ہیں، اتنی دیر میں ویسے بھی کچھ دکھائی دینے لگتا ہے۔
ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

عمار خان ناصر
عمار خان ناصر
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *