گلدستہ۔۔۔۔۔حسن نثار

SHOPPING

سمجھ نہیں آ رہی کہ کس موضوع پر بات کی جائے اور کسے نظر انداز کر دیا جائے۔ ایسی صورتحال میں بہتر یہی ہو گا کہ ہر موضوع کے ساتھ ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کے بعد اسے ذہین قارئین کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے کہ حتمی نتائج وہ خود اخذ کریں۔شروع کرتے ہیں (ن)لیگ کے رانا ثناءاللہ سے جو آج کل ’’ٹاک آف دی ٹائون‘‘ ہے۔ لائل پور لاہور کے درمیان ’’ہیروئن برآمدگی‘‘ فیم اس کیس کو ان گنت حوالوں سے دیکھا اور بیان کیا جا سکتا ہے لیکن جو بات مجھے مسلسل ہانٹ کر رہی ہے اس پر غیر جانبداری سے غور کرنے والا ہر شخص میری طرح ہی حیران پریشان ہو کر خود سوالیہ نشان بن جائے گا۔ پورا پاکستان جانتا ہے کہ لائل پور المعروف فیصل آباد کے شیر علی اور عابد شیر علی خاندان کا رانا ثناءاللہ سے کس قسم کا رشتہ ہے۔ دونوں لیگیئے اور محاورتاً ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ دونوں کی ایک دوسرے کیلئے شدید نفرت نواز شریف اینڈ کمپنی کیلئے ہمیشہ مسائل کا باعث بنتی رہی ہے کیونکہ ایک طرف شیر علی وغیرہ کے ساتھ ان کی عزیزداری ہے تو دوسری طرف وہ رانا ثناءاللہ کو کھونا بھی افورڈ نہیں کر سکتے اور تمام تر کوششوں کے باوجود وہ ان کے درمیان صلح تو کیا ورکنگ ریلیشن شپ بھی پیدا نہیں کر سکے کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے۔ نتیجہ یہ کہ شیر علی وغیرہ نے رانا ثناءاللہ پر سرعام قتل تک کے الزام لگائے، جس کی فوٹیج بھی دستیاب ہے لیکن ان سیاسی حریفوں نے آج تک رانا ثناءاللہ پر منشیات کے حوالہ سے کبھی انگلی نہیں اٹھائی جبکہ شاید منشیات فروشی ان چند دھندوں میں سے ایک ہے جو چھپائے نہیں چھپتے اور چند مہینوں نہ سہی چند سالوں میں اس کی بدبو دور دور تک پھیل جاتی ہے لیکن کیسا عجیب اتفاق ہے کہ ہر وقت رانا ثناءاللہ کی ٹوہ میں لگے رہنے والا اس کا بااثر ترین سیاسی حریف خاندان جس ’’راز‘‘ کو کبھی نہ پہنچ سکا، وہ ’’مخبر‘‘ کو معلوم ہو گیا جس کے بعد یہ خبر بھی آتی ہے کہ رانا ثناءاللہ سے ہیروئن برآمدگی کی نہ تصویریں موجود ہیں نہ کوئی ویڈیو ہی دستیاب ہے تو حالات حاضرہ کے حق میں دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ ذاتی طور پر مجھے تو اپنی اس نام نہاد جمہوریت میں کبھی کوئی جمہوریت دکھائی نہیں دی لیکن جنہیں یہ نام نہاد جمہوریت، جمہوریت لگتی ہے اور وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ اس کے بینی فشریز ہیں یا رہے ہیں، ان سے میرا ایک بے ضرر سا سوال یہ ہے کہ آج کل جس تیزی سے یہ جعلی جمہوریت ’’قبائلی جنگ‘‘ میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے تو اس کا منطقی انجام کیا ہو گا ؟جہاں تک تعلق ہے (ن) لیگ کے اندر ٹوٹ پھوٹ، شکست و ریخت اور دھڑے بندی کا تو اس کی وجہ PTIہرگز نہیں بلکہ چاچا بھتیجی کے درمیان وہ رسہ کشی ہے جس نے (ن)لیگیوں کے اعصاب برباد کر دیئے ہیں اور انہیں سمجھ ہی نہیں آرہی کہ چاچے بھتیجی میں سے کس کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالیں یا کس کے دربار کی زینت کا سامان بنیں کہ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی اور اقتدار کی آگ جہنم کی آگ سےکم نہیں ہوتی۔ اس کنفیوژن اور اعصاب شکن کھینچا تانی کا نتیجہ یہ کہ لوگوں نے کان لپیٹ کر ادھر ادھر ہونے یا کنارہ کشی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جو زیادہ سیانے ہیں، انہوں نے وقتی طور پر سین سے ہی غائب ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے کہ جب تک اونٹ یا اونٹنی کسی حتمی کروٹ نہیں بیٹھ جاتے یہ غائب رہیں گے۔اک اور انتہائی نازک، حساس اور اہم بات کہ گزشتہ 4ہفتوں میں مار دھاڑ قتل و غارت کی خبروں پر غور کریں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ معاشرہ میں ’’عدم برداشت‘‘ کا گراف خوفناک اور خطرناک حد تک بلند ہوگیا ہے۔ یہاں تین باتوں پر فوکس کرنا ہو گا۔اول: معاشرہ کا ’’معاش‘‘ سے تعلق بہت گہرا ہے یعنی معاشیات انسانی نفسیات پر فیصلہ کن انداز میں اثرانداز ہوتی ہے۔دوم: ’’عدم برداشت‘‘ کے پیچھے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ’’عدم توازن‘‘ کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے اور عدم توازن عدم تعلیم، عدم تربیت، عدم انصاف کی کوکھوں میں جنم لیتا اور انہی کی گودوں میں پرورش پاتا ہے۔سوئم: غور کرنا ہو گا کہ ’’عدم برداشت‘‘ کو جنم دینے والا ’’عدم توازن‘‘ کچھ زیادہ ہی تیزی سے ضربیں تو نہیں کھارہا؟ خصوصاً غربت، مہنگائی، بیروزگاری اور اقتصادی غیر یقینی پن۔ یاد رہے کہ ڈالر کے اتار چڑھائو کا فشارِ خون کی کمی بیشی سے براہ راست اور بہت گہرا تعلق ہے۔ یہاں تک کہ اس آدمی کے بلڈ پریشر کا تعلق بھی ڈالر سے ہے جس نے کبھی ڈالر دیکھا تک نہیں تو حکومت کو اقتصادی حکمتِ عملی طے کرتے ہوئے بصیرت سے بھی کام لینا ہوگا بصورت دیگر عدم برداشت کا دائرہ پھیل بھی سکتا ہے اور اس کا چہرہ بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ یاد رہے یہ تبدیل شدہ چہرہ موجودہ چہرے سے زیادہ ڈرائونا ہوگا۔چلتے چلتے حکومت کو سٹیل مل کے حوالہ سے داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ سٹیل مل کو پرائیویٹائز نہ کرنے کا فیصلہ جرات مندانہ ہونے کے ساتھ ساتھ دانش مندانہ بھی ہے۔ سٹیل مل کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے کے نتیجہ میں ان شاء اللہ کامیابی قدم چومے گی کہ اثاثے بیچ کر عیاشیاں کرنا ناخلف اولاد کی نشانیوں میں سے ایک ہے اور جو ’’کپوت‘‘ نہیں…. سچ مچ ’’سپوت‘‘ ہوتے ہیں وہ اثاثوں میں اضافوں کا سبب بنتے ہیں، انہیں بیچتے نہیں۔

SHOPPING

بشکریہ روزنامہ جنگ

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *